آخری جواب کی تاریخ: 7 جولائی 2025
سوال نمبر 82: کیا واقعی بابا ریاض احمد جمال باغ والے کا پوتا کسی فراڈ کی وجہ سے روپوش ہے پچھلے چند ماہ سے؟
جواب: جی ہاں بابا جی کا اکلوتا پوتا 60 لاکھ کر فراڈ کے کیس میں دو کیسز میں مطلوب ہے اور اکتوبر 2024 سے فرار ہے۔ اور ڈیرے پہ مشہور کیا ہوا ہے کہ ان کا پوتا دبئ گیا ہوا ہے۔
FIR کے مطابق بابا ریاض کے پوتے نے 574 اور 584 چک کے الہی اور چانڈیو بلوچ خاندان جن کے چوک مونڈا میں موٹر سایئکل اور کاروں کا کاروبار ہے ان سے 37 لاکھ اور دوسرے مدعی سے 22 لاکھ لیے اور ضمانت میں چیک میزان اور فیصل بینک کا دیا جب وہ تاریخ کے مطابق بینک گئے تو اکاونٹ خالی تھا جس پر دونوں مدعیوں نے قانونی کارواِئی کی۔
یہ کوئی اجنبے کی بات نہیں ہے ایسے کئ کہانیاں یا فراڈ بابا ریاض کے مریدوں کے ساتھ ہو چکے ہیں۔ بابا ریاض نے اپنے سگے بھا ئی سے وراثتی زمین ہتھیا لی وہ بے چاروہ عدالتوں اور تھانوں میں کھجل ہوتا رہا۔
بابے ریاض کے اکلوتے بیٹے نے اپنے قریبی دوست اور مرید کا پلاٹ اور کچھ ادھار جو اس نے جیتے ہوے دیے تھے دبا لیے اس مرید کی بیوی کیئ بار ان کے پاس گئ مگر انہوں نے الٹا ڈرا دھمکا کے بھگا دیا۔
اور پیش خدمت ہے تیسری نسل بھی عین اپنے خون کے مطابق اپنی خاندانی وراثتی دھوکہ دہی کا الم بلند کر دیا ہے۔
اب مریدین کے لیے سوچ کا مقام ہے کہ وہ ایک دفعہ رک کر سوچیں اور جس چھلاوے میں بابے ریاض نے ڈال رکھا ہے اس سے باہر آیئں۔ اپنی صحت، مال و دولت اور اولاد کو ایسے فراڈیوں سے محفوظ رکھیں۔
(اگر کسی کو تصویری ثبوت چاہیے ہوں تو میسچ کرے)
نقلی جمال باغ ۔ روحانی درس شریف
اس پیج پرجمال باغ کےگزشتہ مریدین نے اس فتنہ کےجھوٹ اورطریقہ واردات کودنیاکےسامنےلانےکی کوشش کی گیٔ ہے
سوال نمبر 81: جب سے اس پیج نے جمال باغ کی اصلیت لوگوں کے سامنے رکھنی شروع کی ہے تب سے جمال باغ میں کون سی تبدیلیاں رو نما ہویی ہیں؟
سوال نمبر 80: جمال باغ میں بابا ریاض اور ان کے مرید ہر مزہب اور فرقہ کے متعلق مزاق اور لطایٔف سناتےہیں مگر کبھی سکھوں کے متعلق کویٔی مزاق یا لطیفہ نہیں سنا نہ ہی بابا ریاض سے اور نہ ہی کسی اور سے کویٔی خاص وجہ؟
آخری جواب کی تاریخ: 27 ستمبر 2022
سوال نمبر79 : جمال باغ کا نام جمال باغ ہی کیوں ہے؟
متاثرہ مرید کا جواب: بابا ریاض کے مرشد سنت درشن سنگھ (دیدار شاہ) دہلی انڈیا کے رہنے والے ہیں اور درشن سنگھ کے مرشد سنت کرپال سنگھ (جمال)ہیں جو کہ ان کے والد بھی ہیں انہوں نے دہلی انڈیا میں کرپال باغ کے نام سے 1948 میں ڈیرہ بنایا اور اسی کی ایک شاخ یہاں پاکستان میں جمال باغ کے نام سے بنی۔ سنت کرپال سنگھ کا تخلص جمال تھا جس کی وجہ سے جمال باغ والے اکثر اپنے مرشد کا نام شاہ جمال بتاتےہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لاہور والے ہیں حالانکہ لاہور والے شاہ جمال کی نہ ہی کویٔی تعلیمات تھیں اور نہ ہی کویٔی اور شاخ ہے یہ بات بہت سے لوگوں نے شاہ جمال لاہور دربار کی انتظامیہ سے بھی کنفرم کی ہے۔
آخری جواب کی تاریخ: 8 فروری 2022
سوال نمبر 78۔ بابا جی (ریاض احمد) دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے 30 سے زایٗد مریدین جوڑوں کی جمال باغ میں شادیاں کروایؑں مگر کسی کو طلاق نہیں ہویؑی؟ اس دعویٰ میں کتنی صداقت ہے؟
متاثرہ مرید کا جواب: بابا جی فرماتے ہیں کہ ایک خدا ہی خدا کو ملوا سکتا ہے تو خود ہی اندازہ لگا لینا چاہیۓ کے بابا جی (ریاض احمد) اپنے آپ کو خدا سے کم ہر گز نہیں سمجھتے اس لیے بہت سے دعویٰ بھی کرتے ہیں اور بابا جی کے بڑے مرید بابا جی کے کسی بھی دعویٰ کو سچا کرنے میں بھر پور ساتھ دیتے ہیں۔
جہاں تک 30 سے زایٔد شادیاں کروانے کی بات ہے تو ہاں بابا جی نے 30 سے زایٔد اپنے مریدین کی شادیاں کروایٔی ہیں مگر یہ بات غلط ہے کہ طلاق کسی کو نہیں ہویؑی اور سارے جھوڑے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔
بابا جی کا سب سے پہلا ہتھ کنڈا یہ ہے کہ طلاق دینے یا لینے کی صورت میں جس فریق نے پہل کی وہ دوسرے فریق کو 1 کلو سونا دے گی۔ جس کی وجہ سے جتنے بھی حالات خراب ہو جایٔں طلاق کا کویؑی نام نہیں لیتا۔ بابا جی شادی کروانے کی فیس لیتے ہیں دونوں گھروں سے وہ کم از کم 2 لاکھ 25 ہزار ہے اور باقی اگر لڑکی والے جہز بنوانا چاہیں تو اس میں بابا جی خدمات میسر کرتے ہیں اور 4 لاکھ سے لے کے 6 لاکھ تک نقد لیتے ہیں جو کہ متاثرہ مرید بتاتے ہیں کہ 2 لاکھ کا بھی جہیز نہیں ہوتا۔
جہاں تک طلاق کی بات ہے بڑی معزرت کے ساتھ تو بابا جی نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ بابا جی کی بیٹی کو طلاق ہویؑی تھی اور وہ بھی ایک بڑے قریب کے مرید کے ہاتھوں۔ اب ایک طرف بابا جی کی بیٹی تھی اور دوسری طرف سالہاسال کا مرید اب اللہ ہی پہتر جانتا ہے کہ کیا معملات ہوےؑ کہ کیسے بابا جی کی نظر دھوکہ کھا گیؑ یا پھر بابا جی کی بیٹی کے مقافات ہی ایسے تھے۔
دوسرا جن کی طلاق نہیں ہوتی ان میں سے کم از کم پچھلے 10 سال میں 2 ایسے کیس ہیں جن میں لڑکی نے تنگ آ کے خود کشی کر لی کیونکہ ان کے گھروں میں ہمیشہ جھگڑا رہتا تھا اولاد نافرمان تھی اور جمال باغ میں بابا جی نے سختی سے منا کیا تھا کہ کویؑی بھی ان واقعات کا زکر نہیں کرے گا اور یہ وہ دو گھر ہیں جو کہ بابا جی کے بہت قریب ہیں اور وہ پچھلے 30 سال سے بابا جی کے مرید ہیں تو روحانی تعلیمات کی ہر گز کمی نہیں ہے اب تک تو بابا جی کی تعلیمات کو کم از کم ان کو انسان بنا دینا چاہیے تھا۔
اسی طرح جو طلاق بھی نہیں دے سکتے اور خود کشی بھی نہیں کر سکتے وہ لوگ اپنی بیویوں کو جانوروں سے بد تر سلوک سے نوازتے ہیں اور مارتے ہیں۔ ابھی 1 سال پہلے ہی بابا جی کے انتہایؑی قریب صاحب نے اپنی بیگم کی انگلی توڑ دی تھی وجہ کیا ہے کہ وہ مرد بابا جی کی تعلیمات پہ چلتا رہا اور بوڑھا ہو گیا 45 سال کی عمر میں بابا جی نے ایک جوان مرید لڑکی کی ایک اور جگہ سے طلاق کروا کے اپنے بوڑھے مرید سے پیسے لے کر اس جوان لڑکی سے شادی کروادی اپ اس بوڑھے مرید کو اندر جب بھی احساس کمتری ہوتا ہے تو وہ اپنی بیوی پہ نکالتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اس کی بیوی مر جاۓ اور وہ بابا جی کی سنت کو پورا کرے دوسری شادی کر کے۔
آخری جواب کی تاریخ: 21 میٔ 2022
سوال نمبر 77۔ کیا پوری دنیا میں صرف نقلی جمال باغ والوں کو ہی جمال باغ کی اصلیت نظر آیی ہے اور اگر یہ اتنا ہی اسلام کے خلاف ہیں تو پھر کیا اللہ نے بھی ان کی رسی دراز کی ہویؑی ہے؟ (ضمنی سوال)
متاثرہ مرید کا جواب: ایسا ہر گز نہیں ہے۔ جمال باغ میں بابا جی (ریاض احمد) ہرمنفی کام میں سے بھی مثبت پہلو نکال لیتے ہیں اور اسی ڈگر پہ بابا جی کے تمام مرید بھی لگے ہوے ہیں۔ بابا جی بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کے دادا ابو ان کی دادی امی کو گوشت نہ کھانے پہ مارا کرتے تھے اور ان کو نیچے گرا کے ان کے منہ میں گوشت ڈالتے تھے مگر وہ نہیں کھاتی تھیں اب دادا جی جانتے تھے کہ یہ غیر اسلامی ہے مگر دادی کا دماغ پوری طور پہ اس وقت کے مرشد پاکستان میں عبدالسلام چشتی تھے اور انڈیا میں کرپال سنگھ (شاہ جمال) نے برین واش کردیا ہوا تھا اور وہ بھی جمال باغ کے مریدین کی طرح خدا سے ملنے کی خواہاں تھیں چاہے اس کے لیے انہیں کسی سکھ کو ہی مرشد کیوں نہ بنانا پڑے۔ دادا کے بعد بابا جی کے والد بھی ان تعلیمات کے سخت خلاف تھے جس کی وجہ سے انہوں نے بابا جی اور ان کے بھایٔی جو انڈیا جایا کرتے تھے ان کو جایٔداد سے عاق کردیا تھا اور اخبار میں بھی نوٹس چھپا تھا مگر بابا جی کہتے ہیں کہ فقیروں پہ ایسی آزمایٔشیں آتی رہتی ہیں۔
جب بابا جی نے جمال باغ میں خلافت سنبھالی اس کے کچھ سال کے اندر ہی بابا جی کا جوان بیٹا ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گیا مگر اس پر بھی بابا جی نے کہا کہ یہ شیطان کی چال ہے وہ نہیں چاہتا کہ بابا جی مالک کی روحوں کو ان سے ملواہیں۔ پھر بابا جی اور بابا جی کے بھایٔوں کے درمیان عدالت میں پراپرٹی کو لے کے کیس چلے وہ یا تو چھپاۓ جاتے رہے یا پھر بابا جی نے مشہور کیا کہ بابا جی کے بھایٔی میری ڈیوٹی لگنے سے جلتے ہیں اس لیے وہ لوگ کیس کر رہے ہیں جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔
2017 اور 2018 میں لگا تار دو سال جس دن بڑا درس جس کا نام اب بڑا میلاد شریف رکھ دیا گیا ہے شدید آندھی اور طوفان عین اس وقت آیا جس وقت تمام تیاریاں ہو چکی تھیں ٹینٹ جو کے اتنی مضبوط اور وزنی تھی وہ قدرت نے اکھاڑ کے پھینک دیے جو دکھانے کے لیے 8 ضرب 8 فٹ کی مسجد بنایٔی گیٔ ہے وہ گر گیٔ مگر مرشد اپنی کوٹھی میں رہے اور پھر جب سارا طوفان تھم گیا تب بابا جی نے نکل کہ مسکراتے ہوے کہا کہ یہ شیطان نہیں چاہتا کہ میں خدا سے ملنے ملانے والا درس دوں اس لیے اس نے یہ سب درہم برہم کردیا ہے۔
ایسے اور بھی سینکڑوں واقعات ہیں جو جمال باغ میں مرید جانتے ہیں مگر بابا جی نے سب کو ڈرا رکھا ہے کہ اگر کسی نے جمال باغ کی بات باہر کی یا مرشد کے خلاف بات کی یا سنی بھی تو اس کے گھر کے گھڑے کا پانی تک سوکھ جاےؑ گا سادہ لوح مرید ڈرتے ہیں اور جو مرضی جمال باغ میں ہو جاےؑ سب کو آزمایش اور شیطان کا وار سمجھ کہ مرشد کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کیونکہ مرشد نے ان سے وعدہ کررکھا ہی کہ ان کا یہ آخری جنم ہے اور ان کے تمام اعمال سے مرشد نے ان کی جان چھوڑوا دینی ہے اور انہوں نے بغیر حساب کتاب کے واصل بحق ہو جانا ہے۔
اور جہاں تک نقلی جمال باغ کی بات ہے بابا جی کے بیٹے، پوتے اور خاص مریدین نے قتل کی دھمکیاں اور گالم گلوچ کیا مگر ہم نے خاموشی رکھی۔ پھر جب کچھ نہ بن پڑھی تو بابا جی نے درس میں کہا کہ مرشد سب جب جانتے ہیں وہ ہی جو چاہیں گے کریں گے ۔بھایٔی اگر یوں تھا تو 2018 میں مفتی حضرات کو کیوں کہا تھا کہ ہمارے خلاف جو جاےؑ گا ہم اس کے خلاف قانونی کاروایٔی کریں گے اور اس کی ویڈیو بھی ابھی یوٹیوب پہ پڑی ہے یہ دھمکی اس لیے تھی کیونکہ مٖفتی لوگ بابا جی کی اصلیت نہیں جانتے تھے ہم ساری جانتے ہیں اور اگر بابا جی میں دم ہے تو آیٔں کسی بھی عدالت میں اور دیں سارے سوالات کے جوابات وگرنہ پھر بددعایٔں دیں اور مریدوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایٔ رکھیں اور پیچھے مڑ کے دیکھنے والے کو ڈرایٔی رکھیں۔
03/01/2022
آخری جواب کی تاریخ: 10 میٔ 2022
سوال نمبر 76۔ کیا کویٔی مرید بابا جی (ریاض احمد) کی تمام روحانی تعلیمات جانتا ہے؟
متاثرہ مرید کا جواب: پہلے بھی کیؑ متاثرہ مرید بتا چکے ہیں کہ جمال باغ میں بابا جی (ریاض احمد) کی تعلیمات بدلتی رہتی ہیں بابا جی پیشہ کے اعتبار سے ایک لوہار دکاندار ہیں اور اپنے روحانی سلسلے میں بھی دکان داری کا رنگ نظر آتا ہے جیسے جو بکتا ہے بابا جی وہ اپنی تعلیمات میں شامل کرلیتے ہیں یا نکال باہر کرتے ہیں۔
2015 سے پہلے کی تعلیمات:
1. نےؑ مرید صرف کسی کی معرفت سے آسکتے ہیں۔
2. انجان نۓ مرید صرف اکتوبر والے بڑے درس پہ ہی آسکتے ہیں۔
3. اسم اعظم لینے کے لیے ضروری:
3.1. مرید نے 4 سے زایؑد درس لیےہوں۔
3.2. مرید کی عمر 12 سال سے زایدٔ ہو۔
3.3. مرید نے تاخیات تمام قسم کے گوشت اور انڈے سے پرہیز کرنی ہے
3.4. تمام قسم کی نشہ آور اشیا سے پرہیز کرنی ہے۔
3.5. کسی صورت بھی مرید کسی کا خون نہیں لگوا سکتے۔
3.6. کویٔی مرید کسی رشتہ دار کے گھر سے یا بازار سے لے کے کچھ نہیں کھا سکتا۔
3.7. جہاں تک ہو سکے لوگوں سے بات چیت کم کریں اور چھونے سے گریز کریں اور اس میں سب سے زیادہ غیر مرید انسانوں سے بچنے کی تلقین کی جاتی تھی۔
4. بابا جی کھلا چیلنج کیا کرتے تھے کہ اگر کویؑی بغیر چلے کیے اور لمبھی عبادتیں کروایٔے خدا سے ملواتا ہے تو بے شک اس کے پاس چلے جاؤ ورنہ میں حاضر ہوں۔
5. مرید اسم لینے کا بعد روزانہ 2 گھنٹے صبح اور 1 گھنٹہ شام کو مراقبہ کرے گا اور پاؤں کے بھل بیٹھ کے آواز سنے گا۔
6. جمال باغ میں صرف ہفتہ کی شام کو مغرب اور عشاہ کی نماز اور اتوار کو صبح کی نماز ادا کی جاتی تھی اس کے علاوہ کویٔی نماز نہیں ہوتی تھی۔
7. بابا جی اکثر کہا کرتے تھے کہ روح کی بندگی کرنے والوں کو وضو اور قبلہ رخ ہونے کی کویٔی ضرورت نہیں ہے۔
8. بابا جی نے سینکڑوں دفعہ مریدین کا روزہ دوپہر کو افطار کروایا اور کہا مریدین کا ایک ہی روزہ ہے جو کہ اسم لیتے ہوے اس نے رکھا تھا گوشت اور کسی سے نا کھانے والا روزہ۔
9. لڑکے کو لڑکی کی کپڑے پہنا کہ مجرا کروانا اور مجرا کے لیے گانے اپنے موبایٔل سے لگایا کرتے تھے مرشد اور مرید پیسوں کی برسات کیا کرتے تھے۔
10. کسی قسم کی تصویریں کھینچنا یا ریکارڈنگ کرنا سختی سے منع تھا۔
11. درس کے وقت موبایٔل کینٹین میں جمع کروانا لازمی تھا۔
12. پہلے بابا جی کے سیکڑی نۓ آنے والے مریدین کو ساری تعلیمات دیا کرتے تھے اور پھر بابا جی کو بتایا کرتے تھے کون سا مرید کام کا ہے کون سا نہیں۔
13. درس والے حال میں جانے کے لیے سیکورٹی مشین میں سے گزارا جاتا تھا اور دو دفعہ ہاتھ سے تلاشی لی جاتے تھی کسی قسم کی لوہے کی چیز حال میں لے کے جانے کی اجازت نہیں تھی۔
14. فنکشن پہ جوان عورتیں اور لڑکیاں بابا جی کو عشقیہ گانے سنایا کرتے تھے اور نعت سنانے والے کا مزاق اڑایا جاتا تھا کیونکہ بابا جی کہاکرتے تھے کہ عاشق وہ ہے جو محبوب کے لیے گنگناۓ۔
2015 سے بعد کی تعلیمات:
1. تمام مریدین جب جمال باغ میں ہوں 5 وقت کی نماز ادا کریں اور رمضان میں کسی کے سامنے نہ کھایں پیں۔ خاص طور پر جب نۓ لوگ آۓ ہوں۔
2. ناچ گانے پہ سختی سے پابندی لگا دی گیٔ۔
3. مریدین مجبوری کی صورت میں کسی رشتہ دار یا بازار سے لے کے کھا سکتے ہیں۔
4. تمام قسم کے گوشت پر پابندی ہے۔
5. کوشش کریں کے نشہ آور چیزوں کو ترک کر دیں یا کم کر دیں۔
6. ہفتہ شام اور اتوار صبح مراقبہ پہ سختی کی گیٔ۔
7. بابا جی نے عشق اور خالص اپنے مرشد سنت کرپال سنگھ (شاہ جمال) کی تعلیمات کی بجاۓ اب درس قرآن اور حدیث میں سے دینا شروع کر دیا۔ مگر آیات اور حدیث کا ترجمہ اپنے مرشد کی تعلیمات کے مطابق ہی کرتے ہیں۔
8. بابا جی پہلے اپنے دادا مرشد حضرت شاہ جمال (سنت کرپال سنگھ) کے خطوط کی تشریح کرکے سنایا کرتے تھے وہ سلسلہ یک سر ختم کردیا۔
9. بابا جی نے بڑے درس کا نام بدل کے بڑا میلاد شریف رکھ دیا۔
10. میلاد کے بعد دردوسلام پڑھنا 2017 میں شروع کیا گیا۔
11. درس میں موبایٔل لے جاسکتے ہیں مگر بند کرکے اور ریکارڈنگ کرنے کی صورت میں موبایٔل لے لیا جاتا تھا اور بعد میں واپس کردیا جاتا تھا۔
12. بابا جی نے اپنے سیکڑی کو سختی سے منع کر دیا کہ وہ اب کسی کو تعلیم نہیں دے گا جو بھی سوال ہو گا بابا جی خود اس کا جواب دیا کریں گے۔
13. سیکورٹی مشین میں سے تو گزارا جاتا ہے مگر اب ہاتھ سے تلاشی نہیں لی جاتی ویسے زبان سے کہا جاتا ہے کہ ساری چیزیں باہر چھوڑ کے جایؑں۔
14. عورتوں اور لڑکیوں کو خاص تربیت دی گیٔ کہ وہ کیسے نعت پڑھیں گے اور گانے پہ سختی سے پابندی لگا دی گیٔ۔
15. لوگوں کو دکھانے کے لیے کسی کو سفید تو کسی کو سبز اور کسی کو کالی دستار اور ٹوپیاں پہنوایٔی جاتی ہیں تا کہ ہر قسم کے لوگوں کو گیرا جا سکے۔
16. مرد مریدین کو بابا جی نے خود تربیت دی کہ جب نعت پڑھی جا رہی تو کیسے تعریف میں واہ واہ کرنی ہے اور اس سارے ڈرامے کی پہلے ریہرسل یا مشق کی جاتی ہے۔
2019 میں جب کچھ علماءسے مزاکرہ ہوا تو بابا جی صاف مکر گۓ کہ میں نے تو کبھی کسی کو نہیں کہا کہ گوشت نہیں کھاؤ باباجی آپ نے کہا نہیں تو یہ مرید وںکو کیا خواب آیا کہ گوشت نہیں کھانا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے اور یہ ہی کام بابا جی کے رشتہ دار اور قریبی مرید بھی کرتے ہیں جب پھنسو تو مکر جاؤ اور جھوٹ کا سہارا لے کے اپنی جان بخشی کروا لو۔
ایسی اور بھی سینکڑوں تبدیلیاں ہیں جو بابا جی نے کیں اپنی دکانداری چمکانے کے لیے۔ ایسا کویٔی ایک بھی مرید نہیں ہے جس کو خدا ملا ہو پچھلے 30سال میں اور 70 فیصد وہ مرید ہیں جنہوں نے کبھی ایک جگنو کی بھی روشنی نہیں دیکھی وہ صرف اسی بات پہ خوش ہیں کہ وہ بابا جی کے مطابق اسی رستے پہ چل رہے ہیں جس پہ انبیاء اور اولیاء اللہ چلتے تھے۔ مگر یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہیے جس کہ مرید شکار ہیں بابا جی کی دن بدن بڑتی دولت سے ہی ہمیں اندازہ لگا لینا چاہیٔے کہ بابا جی کتنے مادیت سے پاک ہیں۔ مرید جیسے پیدا ہوے تھے ویسے ہی مرتے ہیں اور مریں گے جب کے مرشد کی کوٹھی کل جو پلستر بھی نہیں تھی آج مہنگے ماربل سے آراستہ ہے مرید آج مشکل سے موٹر سایٔکل تک پہنچا ہے جب کی مرشد 15 سال میں سایٔکل سے 45 لاکھ کی گاڑی پہ۔
اس لیے مریدوں سے گزارش ہے کہ تھوڑا رک کے دیکھ لیں کہ:
1. وہ لوگ کدھر کو جارہے ہیں
2. اپنی صحت اور مال و دولت کو دیکھیں
3. اپنی زہنی حالت کو دیکھیں، کیا ہم اخیر قسم کے مغرور نہیں ہیں جن کو اس وہم میں ڈال دیا گیا ہے کہ ان جیسا کویٔی بھی نہیں ہے اور ساری انسانیت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتےہیں۔
4. تاکہ کویٔی آپ کو برا بھلا نہ بتا سکے سگی اولاد اپنے ماں باپ سے دور کردی گیٔ ہے رشتہ دار تو پہت دور کی بات ہے۔
5. بابا جی اکثر کہا کرتے ہیں کہ دکاندار گیلامال نیچے کرکے اوپر سوکھا ڈال کے بیچتے ہیں غور کریں جمال باغ میں کہیں ایسا ہی تو نہیں ہو رہا۔
6. ایک سڑک پہ تماشا لگانے والے کی طرح اکثر تماشایٔی اس کے اپنے ہی ہوتے ہیں جو واہ واہ کرتے ہیں تاکہ اس بہروپیے نے جو فراڈ کرنا ہے وہ کرے اور کسی کو شک بھی نہ ہو غور کریں جمال باغ میں بھی کہیں ایسا ہی تو نہیں ہورہا۔
7. جو جمال باغ میں جا کہ آپ کی عقل پہ ڈر اور مرشد کے راز کی ایک چادر ڈال دی گیؑ ہے اس کو تھوڑا سا سرکا یا ہٹا کر دیکھیں کہ آپ کدر جا رہے ہیں۔
8. اسم ملتے ہی 90 فیصد لوگ بھاگ جاتے ہیں کیونکہ انہیں ایک جگنو کی روشنی یا آواز مرشد اندر نہیں دکھا یا سنا پاتے۔ باقی 9 فیصد 5 سال میں مرشد کو خدا خافظ کہہ جاتے ہیں باقی 1 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں یا تو جمال باغ میں رشتہ داری بنا رکھی ہے یا ان کا روزگار کسی طریقے سے جمال باغ میں چل نکلا ہے۔ غور کریں۔
9. اگر صرف 10 فیصد کو روشنی یا آواز کا تجربہ ہوتا ہے تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ یہ ان لوگوں کی پہلے کی عبادت تھی جس کی وجہ یہ ہوا وہ لوگ پرہیز نہ بھی کرتے اور کسی مسلمان سلسلے میں جا کے مرید ہوتے تو تب بھی یہ تجربہ ہونا تھا کیونکہ وہ مرتبہ وہ لوگ پہلے ہی حاصل کرچکے تھے اور ایسے کیٔ متاثرہ مرید ہیں جو تہجد گزار تھے اب اسم لینے کے بعد وہ ایک وقت کی نماز بھی پڑھنے سے عاری ہیں ایسا نشہ ہے مرشد کی تعلیمات کا۔
10. ایسے کیٔ مرید ہیں جن کے بابا جی کے پاس جانے سے پہلے روحانی معاملات تھے مگر بابا جی کہ پاس جانے کے بعد جب انہوں شرعی عبادت کو حقیر سمجھنا شروع کیا سب عبادت ضایٔع ہو گیٔ اور بہت سے تو کہتے ہیں جب بابا جی سے آنکھیں ملایٔں اس کے بعد اندر سب خالی ہو گیا۔ اس لیے غور کریں۔
11. جمال باغ میں سب سے زیادہ اس بات پہ زور دیا جاتا ہے کہ یہ کام عقل کا نہیں ہے اسلۓ وہاں عقل کی بات کرنے والے کوحقارت سے دیکھتے ہیں اور مرشد پاک کے کامل ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کے مرید عقل کو کہیں کام میں نہیں لاتے۔ بابا جی اگر عقل اتنی ہی غیر ضروری تھی تو اللہ کو کیا ضرورت تھی اس کے بنانے کی اور اگر عقل کے بغیر ہی روحانی ترقی ہونی ہے تو اس طرح تو جانور تو سب سے بڑے اولیاء ہونے چاہیٔں تھے۔
فیصلہ آپ کا ہے کیونکہ زندگی آپ کی ہے اور یقیں مانےؑ قبر بھی آپ کی اپنی ہی ہو گی بابا جی یا کویٔی اور آپ کے ساتھ نہیں ہوگا اس لیے قرآن کی تعلیمات کے مطابق تھوڑا سا ہوش سے کام لیں اور غور کریں۔ شکریہ۔
آخری جواب کی تاریخ: 21 میٔ 2022
سوال نمبر 75۔ کیا نقلی جمال باغ کے چلانے والوں نے کبھی بابا جی (ریاض احمد) سے ان سوالات کے جوابات طلب کرنے کی کوشش کی؟ (ضمنی سوال)
ہمارا جواب: ہاں جی ہم نے بابا جی (ریاض احمد) کے دیے ہوے نمبر پہ رابطہ کیا تھا مگر نمبر مستقل بند جا رہا ہے۔ پھر ہم لوگوں نے بابا جی (ریاض احمد) کی دکان جو کہ جمال مارکیٹ چوک سرور شہید میں ہے اس پہ رابطہ کیا تھا مگر پتہ چلا کہ نہ ہی بابا جی اور نا ہی بابا جی کے بیٹے اب دکان پہ بیٹھتے ہیں سارا دکان کا لین دین بابا جی کے پوتے کے حوالے کرکے بابا جی اور بابا جی کے بیٹا اب دکان پر نہیں پیٹھتے۔
مزید بابا جی کے پوتے نے بتایا کہ ان کے والد جو کہ بابا جی کے اکلوتے بیٹے ہیں وہ کچھ ماہ سے بیمار ہیں اس لیے دکان پر نہیں آتے جب کے ہمیں اطلاع ملی ہے کہ بابا جی کے بیٹے پے چوری کی گاڑی بیچنے کا کیس چل رہا ہے جس کی وجہ سے وہ دکان پر نہیں بیٹھتے۔
مزید ہم نے رابطہ کرنے کی کوشش کی بابا جی کے بھایؑی سے جن کی دکان بھی چوک سرور شہید میں ہے تو پتہ چلا کہ بابا جی کے بھایؑی بھی دکان پر نہیں بیٹھتے۔
ان سوالات کے جوابات نہ تو بابا جی نے دیے اور نہ ہی ان سوالات کے جوابات کی تردید کی ہاں ہی ہوا کہ پہلے بابا جی نے یوٹیوب درس پر رکھنے بند کیے اور مریدوں کو بتایا کہ آپ لوگوں کو مرشد کی قدر نہیں ہے اس لیے اب درس ہوٹیوب پر نہیں آےؑ گا۔ پھر چند ماہ بعد یوٹیوب سے سارے درس ہٹا دیے گےؑ اور جہاں تک فیسبک کے پیج کی بات ہے جو کہ بابا جی کہ اکلوتے پوتے چلاتے ہیں۔ یہ ہر اس بندے کو بلاک کر دیتے ہیں جو بھی جمال باغ کے خلاف کمنٹ کرتا ہے۔
جب بابا جی حق پہ ہیں تو پھر بابا جی، بابا جی کا بیٹا اور بھاٰیٔی کیوں چھپتے پھر رہے ہیں۔ جب بابا جی کی تعلیمات عین اسلام کے مطابق ہیں تو پھر درس کیوں ہٹا دیے ہیں یوٹیوب سے یا نۓ درس کیوں نہیں رکھ رہے۔ اور اگر کویٔی وقت کا مرشد اور خدا اپنا فیسبک کو پیج نہیں سنبھال سکتا تو وہ روحیں کیسے سنبھالے گا اور کل کو خشر کے دن کیسے ہمیں جہنم سے بچاےؑ گا۔
اس لیے تمام مریدین سے گزارش ہے کہ جمال باغ میں ہونے والی تبدیلیوں پہ غور کریں اور اپنے حال پہ ترس کھایںٔ اور اپنے متعلق سوچیں کہ کہیں احمقوں کی جنت میں تو نہیں رہ رہے۔
16/12/2021
آخری جواب کی تاریخ: 15 دسمبر 2021
سوال نمبر 74۔ بابا جی سے جب بھی دعا کے لیے کہا جاےؑ تو بابا جی کہتے ہیں مالک کرم کریں گیں؟ کیا مالک خدا کا زاتی نام ہے کیونکہ یہ اسم اعظم میں تو نہیں ہے؟
متاثرہ مرید کا جواب: کہنے کو تو بابا جی خدا والی گتھی سلجھا رہے ہوتے ہیں مگر بابا جی مریدین کو مزید الجھا دیتے ہیں تاکہ وہ لوگ تعلیمات پہ ریسرچ نہ کریں اور بابا جی کہ مرشدوں کے متعلق کھوج نا نکالیں۔
بابا جی کی دادی مرید تھیں سنت کرپال سنگھ مہاراج(شاہ جمال) کی جب تک وہ پاکستان میں تھے جب وہ انڈیا چلے گےؑ تب پھر پاکستان میں مشن کو بڑھانے کی ڈیوٹی لگی عبدالسلام چشتی کی وہ بہاولپور میں درس دیا کرتے تھے اور اپنے مریدین کو انڈیا میں دہلی بھی لے جایا کرتے تھے بابا جی (ریاض احمد) کی لگن کو دیکھتے ہوے آگے ڈیوٹی بابا جی کی لگایؑی گیؑ اور بابا جی کی ٹریننگ سنت کرپال سنگھ (شاہ جمال)کے بیٹے سنت درشن سنگھ مہاراج (دیدار شاہ) نے کی جو کہ شاعر تھے (جن کے شعر بابا جی اکثر درس میں سناتے ہیں) اور درشن کا پاکستانی نام دیدار شاہ ہے بابا جی کے ساتھ ہی بابا جی کی پہلی بیوی کی بھی ٹریننگ کی گیؑ اور پھر ان دونوں میاں بیوی نے مشن کو جمال باغ چوک منڈا میں بھیلانا شروع کیا۔
پہلے پہل تو بابا جی نے بہاولپور جا کے درس دیتے رہے تا کہ عبدالسلام چشتی (مرحوم) کے مرید بابا جی کو نیا مرشد مان لیں اور پھر بابا جی نے جمال باغ چوک منڈا میں درس دینا شروع کیا۔ اب بابا جی کے مرشد خانہ کو شجرہؑ نصب کچھ یوں بنتا ہے۔
1. عبدالسلام چشتی (بہاولپور)
2. دیدار شاہ (سنت درشن سنگھ) (دہلی انڈیا)
3. شاہ جمال (سنت کرپال سنگھ) (دہلی انڈیا)
4. ساون شاہ (سنت ساون سنگھ) (دہلی انڈیا)
موجودہ سارے مشن (سایؑنس آف سپرچوالٹی) کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں وہ سنت راجندر سنگھ مہاراج ہیں جن کو جمال باغ میں راجن شاہ کہا جاتا ہے۔
بابا جی کی تعلیمات کے مطابق 7 مقامات ہیں جن میں سے پہلے 5 کا اسم اعظم دیا جاتا ہے۔ ہر ایک اسم اس مقام کی طاقت کا نام ہے اور زاتی نام ہے نہ کے صفاتی اور وہ نام یہ ہیں۔
پہلا مقام: ملکوت
طاقت کا زاتی نام: اللہ
دوسرا مقام: جبروت
طاقت کا زاتی نام: اللہ ھو
تیسرا مقام: ھوت
طاقت کا زاتی نام: ھو
چوتھا مقام: ھوت الھوت
طاقت کا زاتی نام: انا ھو
پانچوان مقام؛ مقام حق
طاقت کا زاتی نام: حق
مندرجہ بالا فہرست میں قابل غور بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے خدا کو پہلے مقام کی طاقت کہا گیا ہے اور چوتھے مقام کا جو اسم ہے انا ھو اس کا مطلب ہے کہ میں خدا ہوں جو کہ نام تو نہیں ہے یہ تو دعویٰ ہے۔ اور پانچوں مقامات کی طاقت الگ الگ ہے تو پھر تو خدا بھی پانچ یا سات ہوے تو پیارے مسلمان بھایؐو بابا جی سراسر شرک سکھارہے ہیں۔
اب آجاتے ہیں سوال کی طرف نہ تو مالک بابا جی کے مرشدوں میں سے ہیں اور نہ یہ خدا کہ زاتی ناموں میں سے ہے تو پھر یہ کیا ہے اس کا جواب تو بابا جی ہی دے سکتے ہیں مگر یہ بات یاد رکھیں کہ بابا جی کبھی نہیں کہتے کہ اللہ نے یہ کیا بابا جی یا تو کہیں گیں کہ میرے مرشد نے کیا یا پھر کہیں گے مالک نے یہ کیا۔
نیچے دی گیؑ تصویر میں Be Good, Do Good, Be One سنت کرپال سنگھ (شاہ جمال) کا قول پڑھا جا سکتا ہے اور Science of Spirituality Center یعنی سایٔنس آف سپرچوالٹی مرکز بھی پڑھا جا سکتا ہے یہ فلیکس درس والے حال میں جمال باغ میں لگا ہوا تھا۔ اور یہ تصویر باباجی (ریاض احمد) کے جشن ولادت کی ویڈیو میں سے لیا گیا ہے جو کہ جمال باغ کے یوٹیوب چینل پہ ہے۔
10/12/2021
آخری جواب کی تاریخ: 15 دسمبر 2021
سوال نمبر 73۔ Be Good, Do Good, Be One نیک بنو، نیکی کرو، ایک بنو یہ کس کا قول ہے؟
متاثرہ مرید کا جواب: اگر Be Good, Do Good, Be One کو گوگل Google پے سرچ کیا جاےؑ تو سب سے اوپر آےؑ گا کہ یہ سنت کرپال سنگھ مہاراج کا قول یا Quotation ہے یہ قول بابا جی نے درس والے حال میں اپنے پیچھے لگے ہوے فلیکس پہ لکھوا رکھا ہے اور پہت سے مریدوں نے اپنی گاڑیوں پر بھی لکھوا رکھا ہے۔ یاد رہے کرپال سنگھ کو جمال باغ میں شاہ جمال کہا جاتے ہے۔
نیچے دیا گیا ڈیوٹی کارڈ ہے جو کہ جس کی بھی ڈیوٹی لگتی ہے اس کو دیا جاتا ہے اس پہ بھی کرپال سنگھ کا قول واضح دیکھا جا سکتا ہے۔
آخری جواب کی تاریخ: 15 دسمبر 2021
سوال نمبر 72: بابا جی (ریاض احمد) کی کوٹھی کے اوپر بڑا بڑا لکھا ہوا ہے حق ڈیرہ شاہ جمال یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے ہے یا واقعی بابا جی اور مرید بھی حق بات کرتے ہیں؟
متاثرہ مرید کا جواب: حق کا مطلب ہوتا ہے سچ یا سب سے بڑا سچ جبکہ پہلا جھوٹ یا سب سے بڑا جھوٹ اسی نام میں ہے جو کوٹھی کے اوپر لکھا گیا ہوا ہے۔ شاہ جمال بابا جی کے مرشد کا نام ہے اور اگر بابا جی سے پوچھا جاےؑ یہ کون ہیں تو بابا جی کہتے ہیں شاہ جمال لاہور والے ہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے اور اس بات کی تصدیق ہم نے لاہور میں موجود دربار شاہ جمال سے بھی کی ہے شاہ جمال لاہور والے ایک پکے مسلمان تھے اور شریعت کے پابند تھے اور انہوں نے کہیں بھی گوشت کھانے سے منع نہیں کیا اور نہ ہی باقی تعلیمات جو بابا جی (ریاض احمد) دیتے ہیں وہ دیں۔ بابا جی کے مرشد کا اصلی نام سنت کرپال سنگھ مہاراج ہے جو کہ سکھ مزہب سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان بننے سے پہلے مری میں ایک سرکاری ملازم تھے اور بعد میں انڈیا میں منتقل ہو گےؑ تھے ان کا تخلص جمال ہے جس کو جمال باغ والے اسلامی لبادہ اوڑھنے کے لیے شاہ جمال کہتے ہیں۔
حدیث مبارکہ ﷺ ہے کہ منافق جب بھی ہولے گا جھوٹ ہی ہولے گا اس سے ملتا جلتا حساب بابا جی (ریاض احمد) اور ان کے مریدوں کا ہے یہ لوگ گوشت نہیں کھاتے کہ کہیں کسی جانور کو دکھ نہ پہنچے مگر بابا جی کی تعلیمات کے مطابق جھوٹ بول لیتے ہیں کیونکہ بابا جی خود کہتے ہیں کہ جس جھوٹ سے کسی کو نقصان نہ ہو وہ بول لینا چاہیے اس طرح تمام مریدین کو بھی ایک چور رستہ مل جاتا ہے جھوٹ ہولنے کا اوریوں سب مرید بھی حق و باطل کی پہچان بھول جاتے ہیں۔
بابا جی نے کیؑ درسوں میں فرمایا کے خاتمنبین کا مطلب حضرت محمد ﷺ پر نبوت کے خاتمے کا مطلب ایسے ہی ہے جیسے کہا جاےؑ کہ فلاں انسان پہ فلاں کام کی کاری گری ختم ہے اب اس سے بابا جی کا موقف صاف ظاہر ہو جاتا ہے مگر جب مفتی اور کچھ لوگ 2020 میں بابا جی سے مزاکرہ کرنے آےؑ تو بابا جی جب دیکھا کہ وہ پھنس گےؑ ہیں تو فورا جھوٹ کا سہارا لیا اور کہا کہ میرا ختم نبوت پے پورا یقین ہے۔
اسی طرح کے سینکڑوں جھوٹ آپ کو جمال باغ میں ملیں گے یہ لوگ اپنے مشن کے لیے جتنا چاہیں جھوٹ بولیں گے اور بابا جی کی تعلیمات کے مطابق ان کا ضمیر ان کو اس لیے ملامت نہیں کرے گا کیونکہ یہ جھوٹ بول کے لوگوں کو مشن میں شامل کرکے ان کے خدا کے قریب کر رہے ہیں جبکہ خود منافق بن جاتے ہیں جو اوپر سے کچھ اور ہیں اور اندر سے کچھ اور۔
آخری جواب کی تاریخ: 17 نومبر 2021
سوال نمبر 71۔ کیا لڑکیوں اور عورتوں کو جمال باغ میں جانا چاہیۓ؟
متاثرہ مرید کا جواب: ابھی تک جتنے سوال وجواب اور متاثرہ مریدوں سے بات ہویؑی ہے ان سے یہ ہی تاثر ملتا ہے کہ مریدوں کو اپنی عورتوں کو جمال باغ قطعا نہیں لے کے جانا چاہیۓ۔
بابا جی نے اپنی دوسری شادی 63 سال کی عمر میں اپنی ایک23 سالہ مریدنی سے کی جو کہ بابا جی کی پہلی بیوی کی دیکھ بھال کرتی تھی اور وہ وحد لڑکی تھی جس کو بابا جی کی کوٹھی میں جانے کی اجازت تھی. بابا جی کی بہنیں، سالیاں، بہو اور بیٹی کسی کو بھی کوٹھی میں جانے کی اجازت نہیں تھی صرف موجودہ دوسری بیوی کو کوٹھی میں جانے کی اجازت تھی اور جب بابا جی نے دوسری شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تو بہت سے مریدوں نے بابا جی کو اپنی بیٹیاں یا بہنوں کی پیشکش کی مگر بابا جی کی نظر کہیں اور تھی اور بابا جی نے ایک لڑکی کو اپنے ساتھ شادی کی دعوت دی مگر وہ لڑکی بابا جی کو مرشد مانتی تھی اور اس نے جمال باغ آنا چھوڑ دیا اسی طرح بابا جی نے ایک شادی شدہ اور بچوں والی مریدنی کو کہا کہ تمہارا شوہر کہیں باہر کسی لڑکی کے ساتھ تعلق میں ہے تم اس سے طلاق لے کے میرے ساتھ شادی کر لو اور تم سونے کے پنجرے میں رہو گی۔ جب بابا جی کا سکا نہیں چلا تو پھر بابا جی نے اپنی دیکھ بھال کرنے والی مریدنی سے ہی دوسری شادی کرلی۔
بابا جی عورتوں کے گورے رنگ کے دیوانے ہیں اور اکثر چیٹی چمڑی کو بابا جی زیادہ پروٹوکول دیتے ہیں اور بابا جی کو روکھی سوکھی بغیر میک اپ کے مرید عورتیں بلکل پسند نہیں ہیں اور بابا جی اکثر ان کو ڈانٹتے بھی ہیں اور سج سنور کے رہنے کی تلقین بھی کرتے ہیں اور بابا جی کا سب سے پسندیدہ مشغلہ مرید عورتوں سے عشقیہ گانے سننا ہے۔ ظاہری سی بات ہے کہ ہر مرید لڑکی یا عورت عشقیہ گانے سنے گی تا کہ وہ مرشد کو سنا سکے اور مرشد کی نظر کرم اس پہ ہو اور ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل جوان لڑکے اور لڑکیوں کی سب سے زیادہ بگاڑ کی وجہ یہ ہی فحاشی سے بھرے ہوے گانے اور فلمیں ہیں۔
جب بھی کویؑی فنکشن ہوتا ہے تو جمال باغ میں وہ بیخودہ مزاق کیے جاتے ہیں کہ عام انسان تو کبھی بھی اپنی جوان بیٹی، بہن یا ماں کے ساتھ نہ سن یا دیکھ سکے مگر مرشد تو سب موہ مایؑع سے آزاد ہیں ان کو خوش کر نے کے لیے سب کرکے دکھایا جاتا ہے اور جو اسلامی کلام ہیں ان کو خوب مزاق اڑایا جاتا ہے ایک شاہ صاحب ہیں جو پیر نصیر الیدین نصیر شاہ صاحب کا کلام کتھے مہر علی کتھے تیری سناء کا مزاق اڑاتے ہیں اور کلام میں مرشد کی جگہ اپنی بیوی کے حسن کی تعریف کرتے ہیں اور مرشد اس سے بہت خوش ہوتے ہیں ایسی محافل میں صرف اسم یافتہ مرید ہی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی مکمل برین واشنگ ہو چکی ہوتی ہے اور بہت زیادہ ڈرایا جاتا ہے کہ مرشد کی کویؑی بات کسی نے نہیں کرنی نہیں تو مرشد ناراض ہو جاہینگے۔
اسی طرح بابا جی کے اکلوتے بیٹے کی بھی شادی ایک مریدنی سے کی گیؑ اور اسی طرح بابا جی کے اکلوتے پوتے کی بھی شادی ایک مریدنی سے کی گیؑ۔ کچھ مصدقہ متاثرین کے مطابق بابا جی کے بیٹے اور پوتے کی پسند کی شادیاں تھیں مطلب ان لوگوں کی پہلے سے اپنی ہونے والی دلہنوں پہ نظر تھی اور صحیح وقت آتے ہی شادی کر دی گیؑ اب کسی بھی مرید باپ یا بھایؑی جو خدا سے ملوانے والے مرشد اور وقت کے خضر کا سسر یا سالا بن جاےؑ تو اس سے بڑی کیا بات ہو سکتی ہے۔
اسی طرح بابا جی ہر سال بڑے درس یا بڑے میلاد شریف پہ سیکورٹی کی ڈیوٹی لگاتے ہیں تو سیکورٹی میں کچھ لوگوں کو بابا جی نے ڈانٹا کہ وہ لوگ مرید عورتوں راہ جاتا نہ صرف تاڑتے تھے بلکہ جملے بھی کستے تھے۔
جمال باغ میں ایسی بہت سی طلاق یافتہ ہیں جن کو طلاق اس لیے ہوگیؑ کیونکہ جب ان کی شادی ہویؑی اور نےؑ گھر گیؑں وہ گوشت نہیں کھاتی تھیں ان میں سر فہرست بابا جی کی بیٹی ہے جس کو بھی اسی وجہ سے طلاق ہو گیؑ تھی اس لے سوچ سمجھ کے اپنی بہنوں یا بیٹیوں کو اس میں جھونکیں۔ طلاق سے لڑکی کے ماتھے پہ تو کلنک لگ ہی جاےؑ گا مگر مرشد کو بہت فایؑدہ ہو گا کیونکہ 1 تو اپ وہ لڑکی آرام سے جمال باغ میں شادی کے لیے مان جاےؑ گی دوسرا مرشد اکثر کسی اللے تللے یا بوڑھے مرید سے اس کی شادی کردیں گیں اور لڑکے سے منہ مانگے پیسے لے لیں گے کیونکہ بابا جی نے اس کی شادی کی جب کہ اس لڑکے کی بھی شادی اسی لیے نہیں ہویؑی تھی کیونکہ وہ بابا جی کی تعلیمات میں عمل کرتے ہوےؑ اپنے ماں باپ اور فیملی سے دور ہوگیا تھا۔ بابا جی کے لیے جیتا ہوا اگر لاکھ کا ہے تو مراہوا سوا لاکھ کا بن جاتا ہے۔
ایک استاد جو اپنے شاگردوں سے شادی کرلے تو عام تو یہی سوچا جاتا ہے کہ اس کی نظر شاگردوں کے متعلق ٹھیک نہیں تھی اور جب وہ اپنے بیٹے اور پوتے کو بھی اچھی اچھی پیاری لڑکیوں سے کرے تو پھر تو اس بات میں کویؑی شبہ نہیں ہے کہ ان کی نظر مرید عورتوں کے لیے کیسی ہے۔ تو ہمارا تو یہ ہی مشورہ ہے کہ مرد خضرات پہلے خود خدا کو مل لیں جب ان کو مل جاےؑ پھر اپنی عورتوں کو خدا سے ملوانے جمال باغ لے کے جایؑں وگرنہ ان لڑکیوں کی زندگی خراب نہ کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jamal Bagh, Chak # 560, Chowk Sarwar Shaheed
Muzaffargarh