21/09/2025
Oxford School & College lower plate MZD
my school page
21/09/2025
ضرورت برائے سٹاف
ریاضی۔ سائنس
0333.5984678
WE ARE HIRING
*SCHOOL COORDINATOR* at Oxford school and college lower plate Muzaffarabad
*Qualification*. Masters / M phill degree in science subjects
*Experience*.Previous experience in academic coordination, curriculum development and educational administration.
(Freshers can also apply)
Send your resume at
*03335984678* or visit Oxford school and college lower plate Muzaffarabad
* *We are hiring*
* Female Teachers for the following posts
# SCIENCE TEACHER
# ENGLISH TEACHER
# COMPUTER TEACHER
# COORDINATOR
Send your resume at 03335984678 or visit at Oxford school and college lower plate
27/08/2024
ماشاء اللہ
🚨🚨اعلانِ لا تعلقی
آج کل بڑھتی ہوئی سائبر وارداتوں کے پیشِ نظر میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ کسی شخص کی فیسبک آئی۔ڈی کسی بھی وقت ہیک ہوسکتی ہے، اگر میری آئی۔ڈی سے کوئی بھی غیر اسلامی، غیر شرعی، فحش یا توہین آمیز مواد شائع ہو یا کوئی پیسوں کی ڈیمانڈ کرے تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ جزاک اللہ
13/07/2024
OXFORD SCHOOL AND COLLEGE MZD
اسلام علیکم!
بہت عرصہ سے ایک مخصوص طبقہ پرائیویٹ سیکٹر اور گورنمنٹ ادارہ جات کے مابین باہمی چپقلش کا خواہاں دکھائی دے رہا ہے.اس بات کے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوۓ چند گزارشات قارئین کی نظر کرنا مطلوب ہے.
1. راقم سمیت پرائیویٹ ادارہ جات چلانے والے اکثر پرنسپل صاحبان و صاحبات گورنمنٹ اداروں سے فارغ التحصیل ہیں.اور کوئی بھی ذی شعور آدمی اپنے مادر علمی کے بارے میں منفی سوچ رکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا.اور گورنمنٹ اداروں طلبہ کے لیے شمع علم روشن کرنے والے محترم اساتذہ کرام پرائیویٹ سیکٹر کی کاوشوں کو بھرپور اعتماد اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کا واضح ثبوت بیشتر اساتذہ کرام کے نونہلان کا پرائیویٹ سیکٹر میں بالواسطہ یا بلاواسطہ زیر تعلیم ہونا ہے.
قارئین کرام کسی بھی تعلیمی سیکٹر کی کاوشوں اور خدمات کی بہترین جانچ "بورڈ" نامی ایک ادارے کی مرہون منت ہوتی ہے جہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا ایک لازمی امر ہے.
پرائیویٹ سیکٹر اپنے انتہائی محدود وسائل کو بروۓ کار لاتے ہوۓ الحمد اللہ ریاست بھر میں اپنے بہترین نتائج سے اپنی خدمات کا لوہا منوا رہے ہیں. ایلیمنٹری نتائج سے لے کر انٹر میڈیٹ کے گزشتہ 10 سالوں کے نتائج پرائیویٹ ادارہ جات کا ریاست کی تعلیمی خدمات میں بھرپور حصہ داری کی مضبوط دلیل ہیں جس سے انکار سورج کو انگلی کے پیچھے چھپانے کے مترادف ہو گا.
محترم قارئین اکثر یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ پرائیویٹ ادارہ جات کمائی اور انتہائی بھاری فیسوں کا گڑھ ہیں تو اس ضمن میں عرض کرتا چلوں کہ اکثر ادارہ جات کی اوسط فیس 1200 سے 1500 کے درمیان ہے جس میں ان ادارہ جات کو بلڈنگ کا کرایہ , مرمت, بجلی و پانی کے کمرشل بلات , اساتذہ کی تنخواہیں اور فرنیچر وغیرہ کے معاملات چلانے ہوتے ہیں.اور ان تمام ةنتظامی امور سے نبردآزما ہونے کے بعد کچھ انکم ہوتی ہے تو یہ کیوں بھلا دیا جاتا ہے کہ ان ادارہ جات کا مالکان بھی ریاست کے شہری ہیں ان کے پیٹھ پیچجے بھی ایک پورا خاندان ہے جن کی کفالت ان کے ذمہ ہوتی ہے.ان کی اولاد بھی ضروریات سے خالی نہیں ہے. معاشرے کے اندر پائی جانے والی خوشی غمی ان کے لیے بھی اتنی اہمیت کی حامل ہے جیسی ایک سرکاری ادارے میں کام کرنے والے فرد کے لیے ہے.
پھر انڈومنٹ کے نام پر کبھی رجسٹریشن تجدید کے نام پر کبھی ایک A4 کاغذ پر چھاپے گۓ 4رجسٹریشن کارڈ کے نام پر کبھی 8 پرچہ جات کے لیے 1500-1700 روپے کبھی ایک مضمون کی سپلی کے لیے بھی1500-1700 روپے کی وصولی کے نام پر کثیر رقم وصول کرنے کے باوجود سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا ہے.آخر کیوں?????
ریاست میں مختلف فرنچائزز کے زیرِ انتظام چلنے والے درجنوں ادارہ جات کے لیے علیحدہ قانون کیوں?????یہ کون ہے جو قوم کو تین طبقاتی نظام تعلیم شکار کر رہا ہے??? یہ کون ہے جس نے پہلے گورنمنٹ سیکٹر کے ادارہ جات کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا اور اب وہی طبقہ آۓ روز پرائیویٹ سیکٹر کے ادارہ جات کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے. جو والدین میں یہ بدگمانی پھیلا رہا ہے کہ پرائیویٹ سکولز میں طلبہ سے 2,000 فیس وصول کی جا رہی ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ گورنمنٹ کو سرکاری سکول کا ایک بچہ اوسطا". 3500 سے 4000 میں پڑ رہا ہے جو پرائیویٹ سکولز میں لی جانے والی فیسوں کا تذکرہ تو بڑھا چڑھا کر کرتا ہے لیکن ان فیسوں کے عوض ان کی خدمات (جو کسی بھی بورڈ میں بہترین نتائج اور پوزیشنز کی شکل میں ہیں) کا تذکرہ کرتے ہوۓ بخل سے کام لیتا ہے.
خدا را اپنی صفوں میں ان تعلیم دشمن لوگوں کو پیچانیں اور نکال باہر کریں. سب مل.کر ریاست کے اندر تعلیمی کاوشوں کو اجاگر کرنے میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں.بقول شاعر
چلو یہ سوچیں ہم آج مل کر
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے
وہ عہد کیا ہم نبھا رہے ہیں????
یہ کون ہیں جو ہمی میں رہ کر
ہمارے گھر کو جلا رہے ہیں????
اشفاق احمد عباسی
پرنسپل آکسفورڈ سکول اینڈ کالج مظفرآباد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Muzaffarabad
13100