18/03/2026
اگر صرف ایک ٹیسٹ ہی سب کچھ طے کرے گا تو پھر ڈگریاں لینے کا کیا فائدہ؟ لوگ کیوں لاکھوں روپے خرچ کریں، چار چار سال یونیورسٹی میں پڑھیں، اسائنمنٹس، ریسرچ، امتحانات دیں—جب آخر میں ایک ہی دن کا پیپر سب کچھ فیصلہ کرے؟ پھر تو بہتر ہے بندہ شروع سے ہی تعلیم کو سائیڈ پر رکھے، کوئی کام دھندا کرے، پیسے بچائے، اور آخر میں ایک سال لگا کر صرف ٹیسٹ کی تیاری کرے اور نوکری حاصل کر لے۔
مزید یہ کہ تعلیم صرف نمبرز کا نام نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی انسان کی سوچ، اس کی اسکلز، اس کی شخصیت، ٹیم ورک، اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بناتی ہے۔ اگر ان سب کو نظر انداز کر کے صرف ایک ٹیسٹ کو معیار بنایا جائے گا تو یہ میرٹ نہیں بلکہ “شارٹ کٹ کلچر” کو فروغ دے گا۔
حقیقی میرٹ تب آتا ہے جب مسلسل کارکردگی (اکیڈمک ریکارڈ) اور ٹیسٹ دونوں کو بیلنس کیا جائے۔ صرف ایک دن کی پرفارمنس پر پوری زندگی کا فیصلہ کرنا نہ انصاف ہے اور نہ ہی عقلمندی۔