میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے
وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
Young Chemists By MG
Abdul Majid Khan
اہل اقتدار کا ذکر هو تو مجھے بے اختیار “ کوبے بیف ” یاد آجاتا ھے –
کوبے جاپان کا مشہور شہر ہے جہاں سے بڑا گوشت سوغات کے طور پر دسادر بھیجا جاتا ھے –
یہ گوشت اس بیل کا ہوتا ھے جسے پیدائش سے لے کر ذبح هونے تک پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جاتا –
اس کی پرورش بڑے اہتمام سے ہوتی ھے ، دودھ چھڑاتے ہیں تو شراب پر ڈال دیتے ہیں –
وہ تمام عمر پانی کے بجائے شراب پیتا رہتا ہے –
اس کی بد مستی قابل دید ھوتی ھے بہکی بہکی نظر ، بوجھل بوجھل پلکیں ، ڈگمگاتے قدم –
پینے والے اس پر رشک کرتے ہیں اور کھانے والے اسے دیکھ کر منہ میں پانی بھر لاتے ہیں
یہ بیل کب تک خیر مناتا بالآخر ذبح کیا جاتا ھے –
اور اس کے پارچے خوش خور لوگوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں –
اہل اقتدار کی صورتحال اور قسمت بسا اوقات اس بیل کی طرح ہوتی ھے –
اقتدار کی سرمستی ، اختیار کا نشہ ، قوت کا غرور اور سرور ان کے رگ و پے میں سما جاتا ھے –
عقل اور آنکھوں دونوں پر پردہ پڑ جاتا ھے –
ان کے چرچے بھی هوتے ہیں اور کم نظر ان پر رشک بھی کرتے ہیں –
یہاں تک کہ مقررہ وقت آن لگتا ھے – ان کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ھے –
اور لوگ ہیں کہ ان کی بوٹیاں نوچ لیتے ہیں –
مشہور ہے کہ حضرت لال شہباز قلندر سہون کے ایک محلے میں اکثر بیٹھا کرتے تھے - اس محلے میں ایک مشہور ہندو خاندان رہتا تھا - یہ لوگ پردے کے سخت پابند تھے -
اس خاندان کی ایک عورت حضرت لال شہباز قلندر سے بیحد عقیدت رکھتی تھی -
جب آپ اس گلی سے گزرتے تو وہ آپ کو دیکھنے کے اشتیاق میں کھڑکی میں چلی آتی تھی -
آپ ہمیشہ سر جھکا کے چلتے تھے اس لئے وہ عورت آپ کوپوری طرح دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہی -
ایک روز اس عورت کی وحشت اتنی بڑھی کہ آپ کا روئے تاباں دیکھنے کے اشتیاق میں اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی -
اس نے ایک نظر حضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور دنیا سے رخصت ہو گئی -
اس کے مرتے ہی حضرت قلندر نے اپنی چادر اس کے جسم پر ڈال دی-
ہر طرف شور مچ گیا اس عورت کے رشتےدار بھی جمع ہو گئےلوگوں نے اس کی لاش اٹھانے کی کوشش کی - لیکن لاش اتنی وزنی ہو گئی تھی کہ کوشش کے باوجود نہ اٹھ سکی -
" اگر تم پورے شہر کے ہندوؤںکو جمع کر لو گے تب بھی یہ لاش نہیں اٹھ سکے گی - " حضرت قلندر نے فرمایا !
" اس سے ایسا کیا گناہ سر زد ہو گیا ہے مائی باپ ! "
لڑکی کے رشتےداروں نے پوچھا -
" اس عورت کی قسمت میں جلنا نہیں ہے - " حضرت نے فرمایا -
" ہمارا مذھب تو جلانے کی ہی تاکید کرتا ہے - "
" اگر تم اسے دفن کرنے کا وعدہ کرو تو لاش اٹھ جائے گی " حضرت نے فرمایا -
ہندوؤں کو آپ کی یہ شرط ماننی پڑی - ہندو عورت کی ارتھی نہیں بلکہ جنازہ اٹھا اور مسلمانوں کے طریقے سے دفن کیا گیا -
آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر اس خاندان کے بیشتر افراد آپ کے دست مبارک پر ایمان لے آئے -
عرس کے موقع پر جو مہندی اٹھتی ہے اس عورت کی قبر سے اٹھائی جاتی ہے اور مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی لال شہباز کی درگاہ پر آتی ہے -
حضرت لال شہباز قلندر کو دنیا سے پردہ کے ہوئی آٹھ سو سال سے زیادہ ہو گئے لیکن آپ کا فیض روحانی اب بھی جاری ہے -
آپ کی یادگاریں اب بھی تابندہ و زندہ ہیں -
اولیاء الله کی یہی شان ہوتی ہے -
میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو تب بھی سپاہی نے کہا کہ یار پہلے گاڑی والے کو چھوڑ دیا ہے تو اس موٹر سائیکل والے کو بھی جانے دو۔
(اب میں وہاں کھڑا تماشہ دیکھ رہا ہوں) پھر جب تیسرا سکاؤٹ کوئی شکایت لے کر آیا تو میں نے سپاہی سے آ کر کہا یار تُو تو باکمال اور چودھری قسم کا سارجنٹ ہے سب کو چھوڑ رہا ہے اور یہ ساری سکاؤٹ تمہیں سیلوٹ مار رہے ہیں۔
وہ کہنے لگا کہ یہ سارے ایچی سن کالج کے لڑکے ہیں، ان کے گھر والے انہیں گاڑیوں پر چھوڑ گئے ہیں اور لعنت ہے کہ تین دن ہو گۓ ہیں ایک پیسہ کسی سے نہیں لے سکا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس وجہ سے کہ یہ سارے آپ کے سر پر کھڑے ہیں۔ آپ پیسے لیں یہ بھلا آپ کو روکتے ہیں۔ تو کہنے لگا کہ نہیں سر اس وجہ سے نہیں کہ یہ میرے سر پر کھڑے ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ آ کر مجھے سیلوٹ کرتے ہیں اور “سر“ کہتے ہیں۔ کہتا ہوں اگر ایک بھی پیسہ لوں تو میں لعنتی ہوں کیونکہ ان کا سیلوٹ مجھے ایک معزز شخص بنا دیتا ہے اور معزز آدمی رشوت نہیں لیتا۔ ان نے کہا کہ اس کی بیوی رشوت کے پیسے نہ لانے کے باعث ناراض ہے اور یہ آٹھ دن سے اس کو سیلوٹ کۓ جا رہے ہیں۔ وہ سپاہی کہنے لگا کہ سر میں سوکھی روٹی کھاؤں گا اور جب تک یہ مجھے سر کہتے ہیں اور سیلوٹ کرتے ہیں رشوت نہیں لوں گا۔
04/04/2018
08/05/2016
30/03/2016
Hydrogen Wave Function
29/03/2016
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Muzaffarabad
13100