Islamic Guidance Public School- اسلامک گائیڈنس پبلک سکول

Islamic Guidance Public School- اسلامک گائیڈنس پبلک سکول

Share

Islamic Guidance Public School is a newly established school with the core purpose of preparing new generation for the success of this world and hereafter.

05/06/2021

⁦🗞️⁩*عجیب انٹرویو*📝

🌼🌹👇🌿🌾🍀🌴🌲🌳🌵🌱

بڑی دوڑ دھوپ کے بعد وہ آفس پہنچ گیا _ آج اس کا انٹرویو تھا ۔

وہ گھر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا : اے کاش ، آج میں کامیاب ہو گیا تو فوراً اپنے پشتینی مکان کو خیر باد کہہ دونگا اور یہیں شہر میں قیام کروں گا _ امی اور ابو کی روزانہ کی مغزماری سے جان چھڑا لوں گا ۔!
صبح جاگنے سے لےکر رات کو سونے تک ہونے والی مغز ریزی سے اکتا گیا ہوں ، بیزار ہو گیا ہوں ۔
صبح غسل خانے کی تیاری کرو تو حکم ہوتا ہے :پہلے بستر کی چادر درست کرو پھر غسل خانے جاؤ !
غسل خانے سے نکلو تو فرمان جاری ہوتا ہے: نل بند کردیا _ تولیہ سہی جگہ پر رکھا ہے یا یوں ہی پھینک دیا ؟
ناشتہ کرکے کے گھر سے نکلنے کا سوچو تو ڈانٹ پڑی : پنکھا بند کیا یا چل رہا ہے ؟
کیا کیا سنیں؟؟! یار، نوکری ملے تو گھر چھوڑ دوں گا -

آفس میں بہت سے امیدوار بیٹھے "باس " کا انتظار کر رہے تھے _ دس بج گئے تھے _ اس نے دیکھا ، پیسج کی بتی ابھی تک جل رہی ہے _ امی یاد آگئیں تو بتی بجھا دی ۔ آفس کے دروازے پر کوئی نہیں تھا _
بازو میں رکھے واٹر کولر سے پانی رس رہاتھا ، اس کو بند کردیا _ والد صاحب کی ڈانٹ یاد آگئی _
بورڈ لگا تھا : انٹرویو دوسری منزل پر ہوگا !
سیڑھی کی لائٹ بھی جل رہی تھی _ اسے بند کرکے آگے بڑھا تو ایک کرسی سر راہ دکھائی دی _ اسے ہٹاکر اوپر گیا_ دیکھا ، پہلے سے موجود امیدوار اندر جاتے اور فوراً واپس آجاتے تھے _ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپلیکیشن لے کر کچھ پوچھتے نہیں ہیں ، فوراً واپس بھیج دیتے ہیں ۔

میرا نمبر آنے پر میں نے اپنی فائل مینجر کے سامنے رکھ دی _ تمام کاغذات دیکھ کر مینجر نے پوچھا : کب سے جوائن کر رہے ہو ؟
ان کے سوال پر مجھے یوں لگا ، جیسے آج یکم اپریل ہو اور یہ مجھے 'فول' بنا رہے ہیں -
مینجر نے محسوس کر لیا اور کہا : اپریل فول نہیں ، حقیقت ہے ۔

آج کے انٹرویو میں کسی سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا ہے_ صرف CCTV میں امیدواروں کا برتاؤ دیکھا گیا ہے _ سبھی امیدوار آئے ، مگر کسی نے نل یا لائٹ بند نہیں کی ، سوائے تمھارے _
مبارک باد کے مستحق ہیں تمہارے والدین ، جنہوں نے تمہیں تمیز اور تہذیب سکھائی ہے _
جس شخص کے پاس Self Discipline نہیں ، وہ چاہے جتنا ہوشیار اور چالاک ہو ، مینجمینٹ اور زندگی کی دوڑ میں پوری طرح کام یاب نہیں ہو سکتا _
یہ سب ہو جانے کے بعد میں نے پوری طرح طے کر لیا کہ گھر پہنچتے ہی امی اور ابو سے معافی مانگ کر انہیں بتاؤں گا کہ آج اپنی زندگی کی پہلی آزمائش میں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روکنے اور ٹوکنے کی باتوں نے مجھے جو سبق پڑھایا ہے ان کے مقابل میری ڈگری کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
زندگی کے سفر میں تعلیم ہی نہیں ، تہذیب کا اپنا مقام ہے _ آج ہمارے گھروں اور اداروں کی تعلیمی کاوشوں کا بنیادی نکتہ تہذیب و تربیت کے بجائے صرف عارضی و جھوٹے نمبرات مارکس اور کاغذی سرٹیفیکیٹ و ڈگریوں کے گرد گھوم رہا ہے اور ہم اپنی اولادوں کو اچھے و برے رویے اور اچھے و برے اعمال اور ان کے اثرات و نتائج سکھانے کے بجائے انھیں صرف دنیاوی نفع و نقصان دولت و عہدوں کی پرستش اور حرص و لالچ سکھا رہے ہیں۔ بچوں میں آگے بڑھنے کے لیے شوق و جزبہ بیدار کرنے کے لئے تاریخ سے اعلی مثبت مثالیں اور مثبت سرگرمیوں کے بجائے انھیں دوسروں کو نیچا دکھانے اور فخر و غرور و تکبر جیسی شدید خطرناک برائیوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ملک وملت کے اجتماعی معاملات و مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دینا سکھا رہے ہیں۔ غرض یہ کہ تعلیم و تربیت کا اصل ضروری نصاب جو انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے ہم نے اسے باالکل ہی ترک کیا ہؤا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ دن بدن یہ قوم آگے بڑھنے کے بجائے دین و دنیا ہر معاملے میں بد سے بدتر ہو رہی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارا نظام تعلیم و تربیت درست سمت میں کام نہیں کر رہا۔ ہمیں اگر اپنی حالت بدلنی ہے تو محض پڑھنا لکھنا ، نفع نقصان اور فخر و غرور سکھانے کے بجائے اچھے برے اور حلال و حرام کی تمیز، اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار تہذیب و تمدن محبت و اخوت، ایثار و قربانی، خدمت خلق اور ایسے تمام معاشرتی رحجانات و رویۓ سکھانے کی اشد ضرورت ہے جو کسی قوم کو معاشی، معاشرتی و اخلاقی پستیوں سے نکال کر فخر آدمیت کے باوقار رتبے پر براجمان کرتے ہیں۔
منقول
Focus on character education and attitudes.
⚔️🏹⚔️🏹⚔️🏹⚔️🏹⚔️🏹⚔️

03/05/2021

2ہجری، 17رمضان المبارک جمعہ کا بابرکت دن تھا جب غزوۂ بدر رونما ہوا، قرآنِ مجید میں اسے ”یوم الفرقان“فرمایا گیا۔ (در منثور ،ج4،ص72،پ 10،الانفال تحت الآیہ:41) اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جن کے پاس صرف 2 گھوڑے،70 اونٹ، 6 زرہیں(لوہے کا جنگی لباس) اور 8 تلواریں تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں لشکرِ کفار 1000 افراد پر مشتمل تھا جن کے پاس 100گھوڑے، 700 اونٹ اور کثیر آلاتِ حرب تھے۔ (زرقانی علی المواھب،ج 2،ص260، معجم کبیر،ج 11،ص133، حدیث:11377، مدارج النبوۃ،ج،2ص81)

جنگ سے قبل رات حضورسرورعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےاپنے چند جانثاروں کے ساتھ بدر کے میدان کو ملاحظہ فرمایا اور زمین پر جگہ جگہ ہاتھ رکھ کر فرماتے : یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ راوی فرماتے ہیں: ویسا ہی ہواجیسا فرمایا تھا اور ان میں سے کسی نےاس لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہ کیا۔ (مسلم، ص759، حدیث: 4621) سُبْحٰنَاللہ ! کیا شان ہےہمارے پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی،کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے ایک دن پہلے ہی یہ بتادیا کہ کون کب اور کس جگہ مرے گا۔

اس رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کر دی جس سے ان کی تھکاوٹ جاتی رہی اوراگلی صبح بارش بھی نازل فرمائی جس سے مسلمانوں کی طرف ریت جم گئی اور پانی کی کمی دور ہو گئی۔ ( الزرقانی علی المواہب ،2/271) آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے تمام رات اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور عجزو نیاز میں گزاری (دلائل النبوۃ للبیہقی،3/49)اور صبح مسلمانوں کو نمازِ فجر کے لئے بیدار فرمایا، نماز کے بعدایک خطبہ ارشاد فرمایا جس سے مسلمان شوق ِ شہادت سے سرشار ہوگئے۔ (سیرت حلبیہ، 2/212)

حضور رحمتِ دوعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےپہلے مسلمانوں کے لشکر کی جانب نظر فرمائی پھر کفار کی طرف دیکھا اور دعا کی کہ یا رب! اپنا وعدہ سچ فرماجو تو نے مجھ سے کیا ہے ، اگرمسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو روئے زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ (مسلم، ص750، حدیث:4588ملخصاً)

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے پہلے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے، اس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار ہو گئی۔ (پ 9،الانفال:9۔ پ4،اٰل عمران،124،125)

پیارےآقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ و اٰلہٖ وسَلَّم نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کی طرف پھینکی جو کفار کی آنکھوں میں پڑی۔ (درمنثور ،4/40،پ 9،الانفال ، تحت الآیہ:17) جانثار مسلمان اس دلیری سے لڑے کہ لشکرِ کفار کو عبرتناک شکست ہوئی، 70 کفار واصلِ جہنم اور اسی قدر(یعنی70)گرفتار ہوئے (مسلم ، ص750، حدیث:4588ملخصاً) جبکہ 14مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔(عمدۃ القاری،ج10،ص122)

شہدائے غزوۂ بدر: غزوۂ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں :(1) حضرت عبید ہ بن حارِث(2) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص (3) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو(4) حضرت عاقل بن ابی بکیر (5) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب (6) حضرت صَفْوان بن بیضاء (یہ 6مہاجرین ہیں) (7)حضرت سعد بن خَیْثَمَہ (8)حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر (9)حضرت حارِثہ بن سُراقہ (10)حضرت عوف بن عفراء (11) حضرت معوذ بن عفراء (12)حضرت عمیر بن حُمام (13)حضرت رَافِع بن مُعلّٰی (14)حضرت یزید بن حارث بن فسحم(یہ8 انصار ہیں)رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ (سیرت ابنِ ہشام، ص295)

غزوۂ بدرمیں مسلمان بظاہر بے سروسامان اور تعداد میں کم تھے مگر ایمان و اخلاص کی دولت سے مالامال تھے ، ان کے دل پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے عشق و محبت اور جذبہ ٔاطاعت سے لبریز تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد اور پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی دعائیں ان کے شاملِ حال تھیں۔ یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے اس معرکے کو یاد گار اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ بنادیا۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی محبت اوراطاعت کا جذبہ عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔

13/03/2021

*ڈبل شاہ*

وہ غریب گھرانے میں پیدا ہوا.

ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر بی ایس سی اور بی ایڈ کیا،
اور
وزیر آباد کے قریب نظام آباد کے گورنمنٹ ہائی سکول میں سائنس کا استاد بھرتی ہو گیا۔

غربت زیادہ تھی اور خواب اونچے،
وہ نوکری سے اکتا گیا۔
اس نے چھٹی لی
اور 2004ء میں دوبئی چلا گیا۔

وہ چھ ماہ دوبئی رہا۔
چھ ماہ بعد وزیر آباد واپس آگیا۔

وزیر آباد میں اس نے ایک عجیب کام شروع کیا۔

اس نے ہمسایوں سے رقم مانگی۔
اور
یہ رقم پندرہ دن میں دوگنی کر کے واپس کردی۔

ایک ہمسایہ اس کا پہلا گاہک بنا‘
یہ ہمسایہ جاوید ماربل کے نام سے ماربل کا کاروبار کرتا تھا۔

ہمسائے نے رقم دی
اور ٹھیک پندرہ دن بعد
دوگنی رقم واپس لے لی۔

محلے کے دو لوگ اگلے گاہک بنے‘
یہ بھی پندرہ دنوں میں دوگنی رقم کے مالک ہو گئے‘
یہ دو گاہک اس کے پاس پندرہ گاہک لے آئے۔

اور پھر
یہ پندرہ گاہک مہینے میں ڈیڑھ سو گاہک ہو گئے۔

یوں دیکھتے ہی دیکھتے
لوگوں کی لائین لگ گئی۔

لوگ زیورات بیچتے،
گاڑی، دکان، مکان اور زمین فروخت کرتے،
اور رقم اس کے حوالے کر دیتے۔
وہ یہ رقم دوگنی کر کے واپس کر دیتا۔

یہ کاروبار شروع میں صرف نظام آباد تک محدود تھا۔

لیکن پھر یہ وزیر آباد‘ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک پھیل گیا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے
وہ معمولی سکول ماسٹر ارب پتی ہو گیا۔

یہ کاروبار 18 ماہ جاری رہا۔
اس شخص نے ان 18 مہینوں میں
43 ہزار لوگوں سے
7 ارب روپے جمع کر لئے.

جب کاروبار پھیل گیا
تو اس نے اپنے رشتے داروں کو بھی شامل کر لیا۔

یہ رشتے دار سمبڑیال‘ سیالکوٹ‘ گجرات اور گوجرانوالہ سے رقم جمع کرتے تھے۔
پانچ فیصد اپنے پاس رکھتے تھے،
اور باقی رقم اسے دے دیتے۔

وہ شروع میں پندرہ دنوں میں رقم ڈبل کرتا تھا۔
یہ مدت بعدازاں ایک مہینہ ہوئی۔
پھر دو مہینے
اور آخر میں 70 دن ہو گئی۔

یہ سلسلہ چلتا رہا۔
لیکن
پھر اس کے برے دن شروع ہوگئے۔

وہ خفیہ اداروں کی نظر میں آ گیا۔

تحقیقات شروع ہوئیں
تو پتہ چلا وہ شخص
*"پونزی سکیم"*
چلا رہا ہے۔

پونزی مالیاتی فراڈ کی ایک قسم ہوتی ہے ،
جس میں رقم دینے والا گاہکوں کو ان کی اصل رقم سے منافع لوٹاتا رہتا ہے۔
شروع کے گاہکوں کو دوگنی رقم مل جاتی ہے۔
لیکن
آخری گاہک سارے سرمائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

مجھے چند برس قبل امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
انٹرویو کرنے والے نے ان سے سوال کیا:
"آپ کو اگر اپنی عملی زندگی دوبارہ شروع کرنی پڑے تو آپ کون سا کاروبار کریں گے ”؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا:
”میں نیٹ ورکنگ کا کاروبار کروں گا۔“

میرے لئے یہ کاروبار نیا تھا‘
میں نے تحقیق کی،
پتہ چلا نیٹ ورکنگ بھی پونزی سکیم جیسا کاروبار ہے۔

اس کاروبار میں بھی گاہک کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دے کر سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔
یہ سرمایہ بعد ازاں میگا پراجیکٹس میں لگا دیا جاتا ہے
اور ان میگا پراجیکٹ کا منافع گاہکوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
نیٹ ورکنگ نسبتاً اچھی پونزی ہوتی ہے،
لیکن دونوں میں شروع کے گاہک فائدے اور آخری نقصان میں رہتے ہیں۔

یہ وزیرآبادی شخص بھی اپنے گاہکوں کے ساتھ پونزی کر رہا تھا۔

یہ لوگوں کو لالچ دے کر لوٹ رہا تھا۔

خفیہ اداروں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا.

اس دوران *”ڈیلی نیشن“* میں اس کے خلاف خبر شائع ہوگئی۔

گوجرانوالہ ڈویژن میں کہرام برپا ہوا۔
اور
یہ شخص اپریل 2007ء میں گرفتار ہو گیا۔

جی ہاں
۔آپ کا اندازہ درست ہے
یہ شخص تھا
*سید سبط الحسن
عرف ڈبل شاہ*

وہ ڈبل شاہ
جس کا شمار پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیوں میں ہوتا تھا۔

اس نے صرف ڈیڑھ سال میں
تین اضلاع سے سات ارب روپے جمع کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

آپ اب اس شخص کی چالاکی ملاحظہ کیجئے۔

یہ 2007ءمیں نیب کے شکنجے میں آ گیا۔

نیب نے اس کی جائیداد‘ زمینیں‘ اکاﺅنٹس اور سیف پکڑ لئے‘

یہ رقم تین ارب روپے بنی،
اور اس نے یہ تین ارب روپے
چپ چاپ اور بخوشی نیب کے حوالے کر دیئے.

ڈبل شاہ کا کیس چلا.

اسے یکم جولائی 2012ءکو 14 سال قید کی سزا ہو ئی.

جیل کا دن 12 گھنٹے کا ہوتا ہے
چنانچہ
ڈبل شاہ کے 14 سال عملاً 7 سال تھے.

عدالتیں پولیس حراست‘ حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں.

ڈبل شاہ 13 اپریل 2007ءکو گرفتار ہوا تھا‘
وہ عدالت کے فیصلے تک پانچ سال قید کاٹ چکا تھا‘
یہ پانچ سال بھی
اس کی مجموعی سزا سے نفی ہو گئے‘
پیچھے رہ گئے دو سال‘

ڈبل شاہ نے محسوس کیا
چار ارب روپے کے عوض دو سال قید مہنگا سودا نہیں،

چنانچہ
اس نے پلی بارگین کی بجائے
سزا قبول کر لی.

جیل میں اچھے چال چلن‘ عید‘ شب برات اور خون دینے کی وجہ سے بھی
قیدیوں کو سزا میں چھوٹ مل جاتی ہے.

ڈبل شاہ کو یہ چھوٹ بھی مل گئی.

چنانچہ
وہ عدالتی فیصلے کے 23ماہ بعد
جیل سے رہا ہوگیا.

ڈبل شاہ 15مئی 2014ءکو
کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوا،
تو ساتھیوں نے گیٹ پر اس کا استقبال کیا.

یہ لوگ اسے جلوس کی شکل میں وزیر آباد لے آئے.

وزیر آباد میں
ڈبل شاہ کی آمد پر آتش بازی کا مظاہرہ ہوا.

پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیئے کو
ہار پہنائے گئے.
اس پر پھولوں کی منوں پتیاں برسائی گئیں،
اور اسے مسجدوں کے لاﺅڈ سپیکروں کے ذریعے مبارک باد پیش کی گئی.

وہ ہر لحاظ سے کامیاب ثابت ہوا.

وہ سکول ٹیچر تھا.
وہ معاشرے کا تیسرے درجے کا شہری تھا.

اس نے فراڈ شروع کیا
اور 18 ماہ میں سات ارب روپے کا مالک بن گیا.

نیب نے اسے گرفتار کر لیا‘
وہ گرفتار ہو گیا‘
نیب ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود
اس سے چار ارب روپے نہیں نکلوا سکا.

سزا ہوئی،
اور وہ بڑے آرام سے
سزا بھگت کر باہر آ گیا.

اس نے قید کے دن بھی جیل کے ہسپتال اور سیکنڈ کلاس میں گزارے‘

اسے جیل میں تمام سہولتیں حاصل تھیں.

چنانچہ وہ جب رہا ہوا،
تو وہ مکمل طور پر کلیئر تھا.

اس نے اب کسی کو کچھ ادا کرنا تھا،
اور نہ ہی پولیس اور نیب اسے تنگ کر سکتی تھی.

یہ چار ارب روپے اب اس کے تھے.
یہ اس رقم کا بلا شرکت غیرے مالک تھا

ایک سابق سکول ٹیچر کےلئے
چارب ارب روپے کی رقم
قارون کے خزانے سے کم نہیں تھی.

وہ وزیرآباد سے لاہور شفٹ ہوا،
اور دنیا بھر کی سہولیات کے ساتھ شاندار زندگی گزارنے لگا.

لیکن اب
*اللہ کا نظام بھی ملاحظہ کیجئے*

سید سبط الحسن شاہ عرف ڈبل شاہ
کو رہائی کے 16 ماہ بعد
اکتوبر 2015ءمیں لاہور میں ہارٹ اٹیک ہوا.

یہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا‘
اس کی طبیعت تھوڑی سی بحال ہوئی‘
یہ گھر آیا،
لیکن
پھر یہ شخص
30 اکتوبر 2015ءکو انتقال کر گیا.

یہ شخص
چار ارب روپے کا مالک ہونے کے باوجود
دنیا سے چپ چاپ رخصت ہو گیا.

ڈبل شاہ کی
ساری بے نامی جائیداد‘ خفیہ اکاﺅنٹس‘ کیش رقم‘ فیکٹریاں اور پلازے
دنیا میں رہ گئے،
اور وہ خالی ہاتھ
اگلے جہاں چلا گیا.

وہ جائیداد‘ وہ رقم‘ وہ پلازے اور وہ خفیہ اکاﺅنٹس آج کہاں ہیں؟

دنیا کا مال دنیا کے کتے چاٹ گئے۔

یہ کیا ہے؟
یہ ہماری زندگی‘ ہمارے نہ ختم ہونے والے لالچ
اور ہماری لامتناہی حرص کی اصل حقیقت ہے

ہم انسان اپنے گرد لالچ کی وسیع دیوار بناتے ہیں‘
ہم مال جمع کرتے ہیں‘
ہم دوسروں کی عمر بھر کی کمائی لوٹتے ہیں
اور قارون کی طرح خزانے بناتے ہیں.

لیکن آخر میں
ہم چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں.
اور یہ مال
دوسروں کے کام آ جاتا ہے.

نورجہاں کا مقبرہ
نشئیوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے.

اور شاہ جہاں کے تاج محل میں
انگریزوں کے گھوڑے باندھے جاتے ہیں.

ہم انسان
ان چیونٹیوں سے بھی بدتر ہیں
جو عمر بھر اپنے جثے سے بڑے دانے کھینچتی رہتی ہیں،
انہیں کھینچ‘ دھکیل کر بلوں تک لاتی ہیں،
اور جب دانوں کا انبار لگ جاتا ہے،
تو وہ ان کے سرہانے گر کر مر جاتی ہیں.
اور پھر
ان کی عمر بھر کی جمع پونجی
چوہوں کا نوالہ بن جاتی ہے.

ہم میں سے زیادہ تر لوگ چونٹیاں ہیں.

ہم لوگ
ڈبل شاہ ہوں یا مشتاق رئیسانی
یا پھر
ان کے حکمران ہوں
ہم سب چیونٹیاں ہیں.

سرے محل کس کا تھا
اور کیا اس کے مالک کو اس میں رہنا نصیب ہوا؟

آپ المیہ دیکھئے
سرے محل سرے میں سڑتا رہا
اور اس کا مالک پاکستانی جیلوں میں
عبرت ناک زندگی گزارتا رہا۔

میں اکثر حیران ہوتا ہوں.

ہم انسان جانتے ہیں
*ہم خسارے کے سوداگر ہیں.*
لیکن
ہم اس کے باوجود
خسارے کی فیکٹریاں لگاتے ہیں،
ہم ان سے مزید خسارا پیدا کرتے ہیں،
اور پھر
ہم عمر بھر
خسارا بیچتے اور خریدتے رہتے ہیں.

کیوں؟
آخر کیوں؟

*ہم انسان آخر*
*ڈبل شاہ کی موت کیوں پسند کرتے ہیں؟*

*ہم لوگ*
*دولت کے انبار میں کیوں دفن ہونا چاہتے ہیں؟*

*مجھے آج تک*
*اس سوال کا جواب نہیں ملا۔*
آپ کے پاس اگر ہو تو ضرور آگاہ فرمایۓ۔

Photos from ‎Islamic Guidance Public School- اسلامک گائیڈنس پبلک سکول‎'s post 14/02/2021

*"حدیث مبارکہ"*

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:
إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ، فَنُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ ، فَنُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ ، فَنُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الْإِسْلَامِ.

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اﷲ تعالیٰ جب کسی بندے کی ہلاکت کا فیصلہ فرماتا ہے تو (سب سے پہلے) اس سے شرم و حیا چھین لیتا ہے،پھر اس سے امانت چھین لی جاتی ہے،پھر اس سے رحمت بھی چھین لی جاتی ہےاور پھراس کی گردن سے اسلام کا پٹہ نکال لیا جاتا ہے (اور اسے اسلام سے عار آنے لگتی ہے)۔

(اخرجہ ابن ماجه، فی السنن، کتاب الفتن، باب ذهاب الأمانة، 2 : 1347)

*اے بنتِ حوّا...!*
ان گلابوں کی فریب دہ سُرخی پہ نا جانا، یہ محبت کے نام پر ہوس کے پجاریوں کا دامِ خوش رنگ ہے...!

*اے آدم کی بیٹی...!*
یہ بات ذہن نشین کرنا کہ مرد و عورت کی محبت تو بس نکاح کے بعد ہی حلال و پاکیزہ ہوتی ہے...!

*🚫ʙᴏʏᴄᴏᴛᴛ ᴠᴀʟᴇɴᴛɪɴᴇ's ᴅᴀʏ•❌*

19/01/2021

فخرِ پاکستان ڈاکٹر شہناز لغاری بلو چ(دنیا کی پہلی باحجاب پائلٹ)۔

"جب جنرل مشرف نے مجھے باحجاب دیکھا"
’’میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہاں حجاب لباس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سو شروع ہی سے حجاب لیا. ہاں شعوری طور پر حجاب کی سمجھ آج سے پندرہ سال پہلے آئی جب خود قرآن کو اپنی آنکھوں سے پڑھنا اورسمجھنا شروع کیا. ہم جس ماحول میں پروان چڑھے وہاں حیا اور حجاب ہماری گھٹیوں میں ڈالا گیا تھا۔ سو الحمدللہ کبھی حجاب بوجھ نہیں لگا. حجاب کی وجہ سے کبھی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہیں آئی بلکہ میرا تجربہ قران کی اس آیت کے مترادف رہا۔
’’تم پہچان لی جاو اور ستائی نہ جاو‘‘
الحمدللہ! حجاب نے میری راہ میں کبھی کوئی مشکل نہیں کھڑی کی بلکہ میں نے اس کی بدولت ہرجگہ عزت اور احترام پایا. اک واقعہ سنانا چاہوں گی، پرویز مشرف دور میں پاک فوج کی ’ایک دفاعی صنعتی نمائش ایکسپو2001‘ منعقد ہوئی تھی، یہ ایک بڑی گیدرنگ تھی۔ اس کی تقریب میں واحد باحجاب میں ہی تھی، کچھ خواتین ( آفیسرز کی بیگمات ) نے اشاروں کنایوں میں احساس دلایا کہ ایسی جگہوں پر حجاب کی کیا ضرورت!! میں مسکرادی، کچھ دیر میں جنرل مشرف خواتین سے سلام کرنے لگے، خواتین جاتیں، ان سے ہاتھ ملاتیں، ان کے ساتھ لگ لگ کر تصاویر بناتیں.. میں کچھ اندر سےگھبرائی ہوئی تھی، اسی اثنامیں جنرل مشرف میری جانب مڑے، مجھے حجاب میں دیکھا تو اپنے دونوں ہاتھ کمر پر باندھ لیے اور جاپانیوں کے طریقہ سلام کی طرح تین بار سر جھکا کر سلام کیا۔ خواتین کا مجمع میری جانب حیرت سے تک رہا تھا... میری آنکھوں میں نمی اور فضاوں میں میرے رب کی گونج سنائی دے رہی تھی...
"تاکہ تم پہچان لی جاو اور ستائی نہ جاو"..

ڈاکٹر شہناز لغاری

20/12/2020

” تھامس ایڈیسن مشہور عالم سائنسدان تھا..
اپنے بچپن میں بخار کے باعث وہ قوت گویائی سے محروم ہو گیا تھا.
جب وہ چھوٹا تھا.
تو ایک دن وہ سکول سے آیا اور ایک سر بمہر لفافہ اپنی والدہ کو دیا کہ استاد نے دیا ہے کہ " اپنی ماں کو دے دو ."

ماں نے کھول کر پڑھا.
اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.

پھر اس نے با آواز بلند پڑھا.

” تمھارا بیٹا ایک جینئس ہے، یہ سکول اس کے لئے بہت چھوٹا ہے، اور یہاں اتنے اچھے استاد نہیں کہ اسے پڑھا سکیں سو آپ اسے خود ہی پڑھائیں. “
اس کے بعد اس کو پڑھانے کی ذمہ داری اس کی والدہ نے لے لی.

سالوں بعد جب تھامس ایڈیسن ایک سائنسدان کے طور مشہور عالم ہو گیا تھا.

اور اس کی والدہ وفات پا چکی تو وہ اپنے خاندان کے

پرانے کاغذات میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا کہ اسے وہی خط ملا.

اُس نے خط کو کھولا تو پر اس پر لکھا تھا.

” آپ کا بیٹا انتہائی غبی ( کند ذہن ) اور ذہنی طور پہ ناکارہ ہے... ہم اسے اب مزید اسکول میں نہیں رکھ سکتے.“

اسی دن ایڈیسن نے اپنی ڈائری میں لکھا.

” تھامس ایلوا ایڈیسن ایک ذہنی ناکارہ بچہ تھا
پر ایک عظیم ماں نے اسے صدی کا سب سے بڑا سائنسدان بنا دیا. “

(ماں نسلوں کو سنوار دیتی ہے )

17/12/2020

سقوط ڈھاکہ: پاکستان کے بعض تعلیمی اداروں میں کیا پڑھایا جارہا ہے؟
ڈاکٹر خولہ علوی

آج صبح ناصرہ اپنی بیٹی ہادیہ کے کالج گئی تھی جہاں اس نے کالج کی پرنسپل کو ہادیہ کی انگریزی کی استاد میم رضوانہ کی شکایات پہنچانے کا کٹھن اور نازک کام کرنا تھا۔ جن کی وجہ سے ہادیہ اور وہ کئی روز سے پریشان اور متفکر تھیں۔

سوچ سوچ کر ناصرہ کے ذہن میں اس مسئلے کا یہی حل آیا تھا کہ پرنسپل صاحبہ تک یہ شکایات خود کالج جاکر ان سے بات کرکے ان تک پہنچائی جائیں تاکہ انہیں صورت حال کے سنگینی کا احساس ہو۔ اسے یہ بات بہت مشکل لگ رہی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی استاد کی شکایت کرے۔ لیکن پرنسپل کو حالات کا ادراک کروانے کے لیے یہ کام ناگزیر تھا۔

ہادیہ لاہور کے ایک مقامی مہنگے پرائیویٹ کالج کی طالبہ تھی جس کی فیس ہزاروں روپے ہر ماہ وصول کی جاتی تھی۔ اور جس کی برانچز پورے صوبے میں جا بجا پھیلی ہوئی تھیں۔ لیکن یہ بڑی تشویش ناک بات تھی کہ پڑھائی کے دوران اسلام مخالف اور پاکستان مخالف نظریات بھی پڑھائے جارہے تھے۔ اور ان کا زہر نوجوانوں کے دل ودماغ میں اتارا جا رہا تھا۔

کالج میں جب ناصرہ نے پرنسپل صاحبہ تک اپنے دل کی آواز پہنچائی تو جہاں دیدہ پرنسپل نے ناصرہ کی گفتگو توجہ سے سنی اور شکایات حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

پھر انہوں نے میم رضوانہ کو اپنے آفس میں بلایا اور ناصرہ کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتایا۔
"یہ خاتون خود آکر اور اس سے پہلے دیگر کئی طالبات کی مائیں موبائل کالز پر پڑھائی میں آپ کی عدم توجہ کی شکایت کے ساتھ ساتھ آپ کے اسلام مخالف اور پاکستان مخالف نظریات کی شکایات کررہی ہیں۔ خصوصاً انڈیا اور بنگلہ دیشیوں کی بےجا حمایت اور پاکستان کی بھرپور کھلی مخالفت۔ ایک استاد کے ذمہ دار مقام پر فائز ہونے والوں کو اسلام اور پاکستان کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔
چند سال پہلے جب میں ڈھاکہ گئی تھی تو میں نے دیکھا، جانا اور سمجھا تھاکہ آج بھی بنگلہ دیشیوں کے دل میں پاکستان بستا ہے اور پاکستانیوں کے دل میں بھی مشرقی پاکستان سے علیحدگی کا غم تازہ رہتا ہے۔ ہر سال 16 دسمبر کا دن اس دکھ اور تکلیف کو نئے سرے سے تازہ کر دیتا ہے۔"
ع یہ نصف صدی کا قصہ ہے، دوچار برس کی بات نہیں

"پھر پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصوں کا دولخت ہوجانا دنیا کا ایک ایسا انوکھا واقعہ تھا، جس کے شدید نفسیاتی اثرات عوام الناس کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ پاکستانی حکومت اور فوج پر بھی موجود رہے ہیں۔ اور اس پر امت مسلمہ بھی بے چینی و اضطراب کا شکار رہی ہے۔ تو پھر ان باتوں کو طالبات کو غلط طریقے سے پڑھانے اور بتانے کے کیا مقاصد ہیں؟" ناصرہ پرنسپل صاحبہ سے بولی

"مس رضوانہ! براہ کرم ان شکایات پر آپ خصوصی توجہ کریں ورنہ یہ آپ کے لیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔" پرنسپل صاحبہ نے رضوانہ کو کافی سمجھایا بجھایا اور ناصرہ کی تسلی کروائی۔

"استاد کا مقام ومرتبہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کو تعلیم کے ساتھ ساتھ دین و ایمان اور سادگی و قناعت سکھائے۔ فیشن میں تو طلبہ ہمیشہ آگے ہوتے ہیں بلکہ استادوں کے بھی استاد ہوتے ہیں۔ اساتذہ کا کام تو ان کو سادگی سکھانا اور عمل پسند بنانا ہوتا ہے نہ کہ ان کی یہ عملی تربیت ہو کہ وہ بس فیشن کی دوڑ میں شامل ہوکر اس بے مقصد کام میں وقت اور زندگی کا ایک قیمتی حصہ ضائع کریں۔ اور آزاد خیالی، غلط نظریات و تعلیمات کو اپنائیں۔
اسی طرح دوقومی نظریے کو طلبہ و طالبات کے دل ودماغ میں راسخ کردینا ایک اچھے، سچے اور محب وطن مسلمان استاد کے لیے نہایت ضروری ہے۔" ناصرہ نے پرنسپل صاحبہ کے سامنے زخمی دل کا احساس اجاگر کیا تھا۔ پرنسپل صاحبہ کی باتیں اس کے دل میں اتر رہی تھیں۔ اسی لیے اس نے بھی یہ بات ان کے سامنے بڑے وقار سے کہہ دی تھی۔

"جی بالکل۔ آپ کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ ان شاءاللہ۔" پرنسپل صاحبہ نے ناصرہ کو آفس سے اٹھ جانے کا اذن دے دیا تھا۔
"یہ آپ کے لیے آخری چانس ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی طالبات کی مائیں آپ کے ان رویوں اور آزاد خیال نظریات کی شکایات کر چکی ہیں۔" پرنسپل صاحبہ نے ناصرہ کے آفس سے چلے جانے کے بعد میم رضوانہ کو کڑی تنبیہ کی۔
"حتیٰ کہ ان وجوہات کی بنا پر آپ کو ملازمت سے بھی خارج کیا جا سکتا ہے۔ اور آپ کی جاب ختم ہو سکتی ہے۔" پرنسپل نے رضوانہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا۔

ناصرہ کو میم رضوانہ کو دیکھتے ساتھ ان کی شخصیت اور ذہنیت کے بارے میں آگاہی حاصل ہو گئی تھی۔
"جدید تراش خراش کے انتہائی فٹنگ والے لباس میں ملبوس، سٹیپ کٹنگ میں کھلے بالوں کے ساتھ بڑے نازو ادا سے وہ actions کے ساتھ ہاتھوں اور آنکھوں کے اشاروں سے گفتگو کرتی ہیں۔ بالوں کو بار بار جھٹکنا انکا سٹائل ہے۔ میم رضوانہ اپنے حلیے سے ایک استاد سے زیادہ ماڈل گرل دکھائی دیتی ہیں۔" ہادیہ بیٹی کا ٹیچر کے بارے میں بتایا گیا حلیہ اور ادائیں ناصرہ کے ذہن میں تازہ تھیں اور ٹیچر کو دیکھتے ساتھ اسے ان کے بارے میں معلوم ہوگیا تھا کہ یہی ہادیہ کی انگلش ٹیچر ہیں۔

پرنسپل صاحبہ سے گفتگو کرتے ہوئے بھی ان کے یہی انداز اور اطوار تھے۔

"یہ ٹیچر اپنی طالبات کو تعلیم دیتے ہوئے ان کی کیا تربیت کرتی ہوں گی؟ ایک انگریزی زبان کی بے مقصد تعلیم، دوسرا ایسی اساتذہ کی تدریس تو "نہلے پہ دہلا" ثابت ہوتی ہو گی۔" ناصرہ نے بعد میں رات کو اپنی سوچ اپنے پروفیسر شوہر کے سامنے واضح کی تھی۔

ناصرہ کے شوہر کیمسٹری کے پروفیسر تھے۔ اور گھر میں اس قسم کے "پروفیشنل" اور لبرل، دین بیزار قسم کے لوگوں کاتذکرہ پہلے بھی کرتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ ناصرہ کی اچھی تعلیم و تربیت اور مطالعہ کے شوق نے بھی ان باتوں کے لیے راہ ہموار کی ہوئی تھی۔ اور وہ ان باتوں پر خصوصی توجہ دیتی تھی۔

"باقی رہی سہی کسر ماڈل گرل بنی استاد کی ظاہری شخصیت (personality) سے پوری ہوجاتی ہوگی جس پر عصر حاضر کی کچی عمر کی فیشن کی دلدادہ طالبات دل و جان سے فدا ہوتی ہیں۔ہادیہ! کیا ان کی مختلف کلاسوں میں اسی طرح کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے؟" ناصرہ نے بات کرتے ہوئے ہادیہ سے پوچھا۔
"جی امی جان! تقریباً یہی صورتحال ہے۔" ہادیہ نے جواب دیا۔

ناصرہ کو استاد کے عملی کردار کا بہت زیادہ احساس ہوا۔ اور اسے اپنی ایک ٹیچر کی بات یاد آگئی جو کہتی تھیں کہ:
"اگر استاد کے ہاتھ میں بائبل ہو لیکن وہ چاہے تو طلباء و طالبات کو قرآن مجید پڑھا سکتا ہے اور اگر استاد کے ہاتھ میں قرآن ہو لیکن وہ چاہے تو قرآن کے نام پر طلبہ وطالبات کو بائبل پڑھا سکتا ہے۔" ناصرہ نے یہ بات دہرائی تو اس بات کی سچائی اس پر مزید آشکار ہوگئی۔

"طلبہ کی صلاحیتوں کا ارتقاء اور قومی ترقی کا راز ان کی اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت میں مضمر ہے۔ جس کے لیے والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ کیونکہ علم بغیر عمل کے بیکار ہوتا ہے۔ جس علم پر عمل کیا جائے، وہ انسان کے لیے نہایت سود مند ثابت ہوتا ہے۔ " گھر میں ناصرہ کی زبانی صورت حال سن کر پروفیسر صاحب نے کہا تھا۔

"اور پھر تربیت کی صرف زبانی کلامی باتیں نہ ہوں بلکہ عملی طور پر بچوں اور نوجوانوں کو دین کے ہر حکم، ہر معاملے، اور ہر ادب پر عمل پیرا ہونے کی تربیت دی جائے۔ والدین بھی رول ماڈل بنیں اور اساتذہ بھی۔ تو پھر ان کے ہاتھوں میں پرورش پانے اور تعلیم و تربیت حاصل کرنے والی اولاد اور طلبہ معاشرے کے لیے رول ماڈل بنتے ہیں۔" ناصرہ نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا۔

"انگریزی زبان کے کئی ایسے لیکچراروں اور پروفیسروں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو لبرل, آزاد خیال، سیکولر بلکہ کمیونسٹ ذہن کے مالک ہیں۔" پروفیسر صاحب نے کہا۔

"اس نقطہ نظر کا حامل پڑھا لکھا طبقہ تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کو پڑھاتے ہوئے اور انکی تربیت سازی کرتے ہوئے انکو دین بیزار خیالات اور نظریات سکھا رہا ہے۔ نہ صرف دین بیزار تعلیمات بلکہ نظریہ پاکستان کے خلاف بھی نفرت انگیز خیالات و نظریات بڑے آرام سے وہ طلباء طالبات کے ذہن میں منتقل کر دیتے ہیں۔" پروفیسر صاحب نے کہا تھا۔

"میم رضوانہ کی طالبات اس قسم کی باتیں کرتی نظر آتی ہیں کہ
"آخر پاکستان بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ پاکستان اور انڈیا کی جغرافیائی سرحدیں الگ نہ ہوتیں اور دونوں ملکوں کے لوگ اکٹھے ہی رہتے تو کتنا اچھا ہوتا اور کتنا مزا آتا؟"
کبھی اس بات پر خوش ہوتی ہیں کہ اچھا ہوا۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان علیحدہ ہوگئے تھے۔ لیکن مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ انہیں اس بات سے کیا حاصل ہوتا ہے؟" ہادیہ نے بتایا۔
"اس قسم کے اعتراضات کرنے والے دو قومی نظریہ بھول جاتے ہیں۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں آتا کہ پاکستان لاکھوں قربانیاں دے کر قائم ہوا تھا۔" ناصرہ نے بڑے کرب سے کہا۔

"اور "جیےبنگلہ" اور "سنار بنگلہ" اور "ادھر ہم، ادھر تم" کے نعرے لگانے والے سمجھتے ہیں کہ ہم بنگلہ دیشیوں نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے کے ان کی غلامی سے نجات حاصل کر لی ہے۔ لیکن 16 دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ کے بہت تلخ اثرات امت مسلمہ اور دونوں اسلامی ممالک پر مرتب ہوئے ہیں۔خود بنگلہ دیشیوں نے اس کے بڑے تلخ نقصانات اٹھائے ہیں۔" پروفیسر صاحب نے کہا تھا۔

"16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول کے معصوم پھولوں جیسے بچوں پر دشمنوں کا حملہ اور بہت سی معصوم جانوں کو قتل کر دینا بھی ہمارے لیے بہت الم ناک حادثہ تھا۔" ناصرہ نے یاد کروایا۔
"جی۔ یہ پاکستانی تاریخ کا ایک نہایت دردناک واقعہ تھا۔" ہادیہ نے جھرجھری سی لے کر کہا۔

"یہ چھوٹی سی ایک جھلک تھی جس میں دین بیزار پڑھے لکھے طبقے کی سوچ کی عکاسی نظر آتی ہے۔ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو پڑھنے اور پڑھانے اور ان پر فدا ہونے والے دین بیزار طبقے کے یہی معاملات ہوتے ہیں۔" ناصرہ نے گزشتہ بات کا سلسلہ دوبارہ جوڑا تھا۔ علامہ اقبال نے کس طرح
ہمارے نظام تعلیم کی کتنی واضح حقیقت
بیان کی تھی۔
ع یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروّت کے خلاف

"یہ تو ایک معاملہ تھا جس کو ذمہ دار پرنسپل نے بروقت کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے لیکن تب تک بھی یہ ٹیچر جانے کتنے نوجوان ذہنوں میں زہر گھول چکی تھی؟
باقی اکثر اوقات اس طرح کے معاملات کو کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہوتا اور معاشرے میں رفتہ رفتہ ذہنیتیں اسلام بیزار بن چکی ہوتی ہیں اور مغربی معاشرے اور تہذیب و تمدن پر قربان ہو چکی ہوتی ہیں۔" پروفیسر صاحب نے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کی عملی صورت حال بیان کی تھی۔

"ہمارے معاشرے کے لیے یہ فکر انگیز صورت حال ہے۔ اگر اس طرح کی ذہنیت کے حامل اساتذہ اور انکے رویوں کو کنٹرول نہ کیا گیا اور انکے بارے میں کوئی مستقل پالیسی اختیار نہ کی گئی تو رفتہ رفتہ خدانخواستہ کہیں کوئی ایسی صورت حال نہ پیدا ہو جائے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پیش آئی تھی۔
سقوط مشرقی پاکستان ایک ایسا المناک سانحہ ہے جو پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے ایک رستے ہوئے زخم کی طرح ہے۔" پروفیسر صاحب نے کہا تھا۔

"بابا جان! سانحہ مشرقی پاکستان کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کی علیحدگی پسند ذہنیت رکھنے والوں کو حکمت ومصلحت سے اپنے ساتھ ملانا بھی تو ضروری ہے۔" ہادیہ نے ایک اور اہم بات یاد دلائی تھی۔
"جی بیٹی! زندہ قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں۔ وہ ان کو یاد کرکے صرف افسوس نہیں کرتیں بلکہ اپنے مستقبل کی ایسی منصوبہ بندی کرتی ہیں کہ اس طرح کے سانحات دوبارہ پیش نہ آئیں۔" پروفیسر صاحب بولے۔

"اسی طرح جنت نظیر کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اسکو آزاد کروانے اور تکمیل پاکستان کے مقاصد کو پورا کرنا بھی بہت اہم اور بنیادی کام ہے۔ اس کی آزادی کی جدوجہد کی اہمیت وضرورت لوگوں کے سامنے واضح کیا جانا بھی ضروری ہے۔" پروفیسر صاحب نے کہا تھا۔

متعصب مسلمان بنگلہ دیشیوں کے ساتھ اہل کلیسا کا نظام تعلیم اور متعصب ہندو اساتذہ کی غلط تعلیم اور تربیت نے بھی طلبہ اور عوام کے لیے سقوط ڈھاکہ کی راہ ہموار کی تھی۔" ناصرہ نے سوچ میں ڈوبے ہوئے کہا۔
"ہمارے نظام تعلیم کی اصلاح، اسلامی ذہنیت کے حامل اساتذہ کو ترجیحاً منتخب کرکے آگے لانا اور اساتذہ کے لیے پروفیشنل ریفریشر کورسز کے ساتھ ساتھ دینی ریفریشر کورسز کا اہتمام بھی اس قسم کے سانحات سے بچاؤ کے لیے لازم ہے۔" پروفیسر صاحب نے اصلاح اساتذہ کے حوالے سے چند مفید تجاویز پیش کیں۔

"اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے اساتذہ کو اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرنے اور انبیاء کرام کی وراثت کے اس مشن کو بخوبی نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین" ناصرہ نے حالات میں بہتری کی امید اور توقع رکھتے ہوئے دل سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

24/06/2020

*اُردُو زُبان کا خون کیسے ہوا ؟*
*اور ذمہ دار کون ہے؟*

یہ ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔
لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے،
مثلا":
ہیڈ ماسٹر،
فِیس،
فیل،
پاس وغیرہ
"گنتی" ابھی "کونٹنگ" میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور "پہاڑے" ابھی "ٹیبل" نہیں کہلائے تھے۔

60 کی دھائی میں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھروں میں "خدا حافظ" کی جگہ "ٹاٹا" سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے "ٹاٹا" کہلوایا جاتا۔
زمانہ آگے بڑھا، مزاج تبدیل ہونے لگے۔
عیسائی مشنری سکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی (پرائیوٹ) سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔
سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی (پرائیویٹ) سکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری سکول میں پرچے ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاد کو سر کہا جانے لگا- اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔
پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔

اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہوگئی- اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔

ہمیں بخوبی یاد ہے کہ 50 اور 60 کی دھائی میں؛ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم، جماعتیں ہوا کرتی تھیں، اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔
پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا-
اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔
تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔

گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی جگہ سمر ویکیشن اور وِنٹر ویکیشن آگئیں۔
چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے پریکٹس ورک ہو گیا ۔
پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔
امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے-
ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں-
اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ سٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن سینٹر جاتے ہیں۔
قلم،
دوات،
سیاہی،
تختی، اور
سلیٹ
جیسی اشیاء گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل، جیل پین اور بال پین آگئے- کاپیوں پر نوٹ بکس کا لیبل ہوگیا-

نصاب کو کورس کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔
ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔
اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئی- انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی- اسی طرح طبیعیات، فزکس میں اور معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے-

پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔
پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔
اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔

داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔.... اول، دوم، اور سوم آنے والے طلبہ؛ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹ بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔
بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔
یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے

اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔

زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔

باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔

مکانوں میں پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔
دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا، پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی۔
کمرے روم بن گئے۔ کپڑے الماری کی بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے۔

"ابو جی" یا "ابا جان" جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ "امی" یا امی جان "ممی" اور مام میں تبدیل ہو گیا۔

سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی" میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔

ساری عورتیں آنٹیاں، چچا زاد،
ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔

نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھیں اب بھی ماسی ہی ہیں۔

گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے، آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نےخریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں روڈز بن گئیں۔
کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا گیا۔
کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا،
نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔

ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں،
بابو کلرک اور چپراسی پِیّن بن گئے۔
پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا-

سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ طوائفیں آرٹسٹ بن گئیں
اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے۔

کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔

اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-

اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں

وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟
دوسروں کا کیا رونا روئیں، ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔
بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔

*روکیے، خدا را روکیے،*
*ارود کو مکمل زوال پزیر ہونے سے روکیے۔*

اگر آپ مناسب سمجھیں تو قوم کو بیدار کرنے کی خاطر اس تحریر کو شیئر کریں.

*ملاحظہ: قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بند اصول ہے۔ جاپان اور چین اس کی زندہ مثال ہیں ۔

اردو میری زبان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*༺࿐࿔࿑🎗࿑࿐࿔༻*
📚 *دلچسب اردو تحریریں*
*༺࿐࿔࿑🎗࿑࿐࿔༻*

Want your school to be the top-listed School/college in Muzaffarabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Muzaffarabad