Eco-Friends AJK

Eco-Friends AJK Eco-Friends is an AJK-based student-led organisation dedicated to raising awareness of environmental and ecological issues of the state.

Eco-friends is a student group which aims to spread awareness about ecology and environmental issues in masses of the state of AJK.

آزادکشمیر کے مالی حقوق و فرائض کے حوالے سے صحافی فرحان علی خان کی تحقیقاتی رپورٹ کل ایسی ہی ایک رپورٹ جناب دانش ارشاد صا...
11/06/2026

آزادکشمیر کے مالی حقوق و فرائض کے حوالے سے صحافی فرحان علی خان کی تحقیقاتی رپورٹ کل ایسی ہی ایک رپورٹ جناب دانش ارشاد صاحب نے بھی پیش کی تھی:
——

مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر نے تقریباً 71 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا۔ اگر اس میں نان ٹیکس آمدن بھی شامل کر لی جائے تو مجموعی مقامی آمدن تقریباً 119 ارب روپے تک پہنچتی ہے۔

اگر پاکستان کے کسی ایک صوبے کے اعداد و شمار کے ساتھ اس کا موازنہ کریں تو صورتحال بڑی دلچسپ رہتی ہے۔

مثلا اسی سال خیبر پختونخوا کی اپنی صوبائی آمدن تقریباً 83 ارب روپے کے قریب رہی۔ جب آزاد کشمیر اور کے پی کے دونوں کا تقابلی جائزہ آبادی کے ساتھ کیا جائے تو فرق اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 85 لاکھ ہے جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً 45 لاکھ کے قریب ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کا فی کس ٹیکس بوجھ پاکستان کے کسی بھی انتظامی یونٹ سے زیادہ ہے۔

مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر کا مجموعی بجٹ 224 ارب روپے تھا جس میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ 105 ارب روپے شامل تھی۔ یہی وہ رقم ہے جسے اکثر سبسڈی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ کسی غیر رسمی امداد کا حصہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ مالیاتی ڈھانچے کے تحت دی جاتی ہے۔ 2018 میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک مالیاتی معاہدہ ہوا جس پر دونوں طرف کے اعلیٰ مالیاتی حکام کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدے کے مطابق وفاقی ٹیکس پول سے آزاد کشمیر کو 3.64 فیصد حصہ دینے کا اصول طے کیا گیا۔ یہ ٹیکس پول فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مجموعی وصولیوں سے بنتا ہے جو 11,740 ارب روپے تک رپورٹ کی گئی ہیں۔

اس فارمولے کے مطابق آزاد کشمیر کا حصہ 427 ارب روپے بنتا ہے۔ لیکن عملی طور پر اسی مد میں تقریباً 105 ارب روپے دیے گئے۔ اس فرق کو 322 ارب روپے کے قریب شمار کیا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر میں نیلم جہلم و منگلا سمیت متعدد منصوبے موجود ہیں جن سے تقریباً 2400 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوتی ہے۔
اس کے بدلے میں خطے کو رائلٹی کے بجائے صرف واٹر یوز چارجز کی صورت میں تقریباً 1 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں دیگر پن بجلی منصوبوں، خاص طور پر پنجاب میں غازی بروتھا جیسے منصوبے پر تقریباً 82 ارب روپے سالانہ رائلٹی دی جاتی ہے۔ اگر اسی حساب کو بنیاد بنایا جائے تو آزاد کشمیر کا ممکنہ رائلٹی حق تقریباً 130 ارب روپے سالانہ کے قریب بنتا ہے۔

بیرون ملک ترسیلات زر بھی اس تصویر کا اہم حصہ ہیں۔ اندازاً 1.5 ملین کشمیری بیرون ملک مقیم ہیں جو سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں (پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم دو ارب ڈالر ہے) ۔ یہ رقم ملک کی مجموعی ترسیلات زر کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی بینکاری نظام میں کشمیری شہریوں کے تقریباً 670 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں جو مالیاتی نظام کی گردش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر 3.64 فیصد NFC فارمولے کے مطابق 427 ارب روپے اور پن بجلی رائلٹی کے تقریباً 130 ارب روپے شامل کر لیے جائیں توآزاد کیشمیر کا مجموعی مالیاتی حجم موجودہ 224 ارب روپے کے بجٹ سے بڑھ کر تقریباً 650 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
۔۔۔۔

سیاحت صرف خوبصورت جگہوں پر گھومنے اور تصاویر بنانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ان جگہوں اور وہاں کے بسنے والے لوگوں سے ایک احترام...
11/06/2026

سیاحت صرف خوبصورت جگہوں پر گھومنے اور تصاویر بنانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ان جگہوں اور وہاں کے بسنے والے لوگوں سے ایک احترام کا رشتہ ہے۔ اگر آپ نے کشمیر کے قدرتی حسن سے لطف اٹھایا ہے، اگر یہاں کی مہمان نوازی نے کبھی آپ کے دل کو چھوا ہے، تو آج کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے آواز اٹھانا آپ پر فرض ہے۔

کشمیر کے پرامن لوگ کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کر رہے—وہ صرف بہتر ماحول، صحت کی بنیادی سہولیات اور اپنے جائز سیاسی حقوق مانگ رہے ہیں۔ لیکن اس کے بدلے ان پر پنجاب رینجرز کی طرف سے بدترین کریک ڈاؤن اور تشدد کیا جا رہا ہے، راولاکوٹ اور کوٹلی میں معصوم شہریوں کا خون بہایا گیا ہے۔
کشمیر کے حسن کا حقیقی احترام یہ ہے کہ جب یہاں کے لوگوں پر ظلم ہو، تو آپ خاموش نہ رہیں۔

ہم تمام سیاحوں اور قدرت کے دلدادگان سے اپیل کرتے ہیں:
> آزاد کشمیر میں جاری اس ظلم اور تشدد کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
سوشل میڈیا پر اس پیغام کو عام کریں۔
> ثابت کریں کہ آپ کو صرف کشمیر کے پہاڑوں سے نہیں، بلکہ یہاں کے انسانوں سے بھی محبت ہے۔
> کشمیر کے لوگوں کے لیے کھڑے ہو کر، یہاں کے قدرتی حسن کو سچائی سے سلام کریں۔

07/06/2026

Prayers for Rawalakot, AJK.

“کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں” پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ نے سنہ 2017 میں ایک رپورٹ پیش ک...
06/06/2026

“کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں”

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ نے سنہ 2017 میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے کُچھ تجاویز پیش کی گئی تھیں، جن میں سر فہرست کشمیر کے بڑے ندی نالوں پر چھوٹے بند تعمیر کر کے پانی کی مینیجمنٹ کو 2020 تک ترجیحی بُنیادوں پر حل کرنے کا پلان وضع کیا گیا تھا۔ آٹھ سال گُزر گئے، دو حکومتیں جا چُکی، موسمیاتی تبدیلی نے اپنے اثرات دکھانا بھی شروع کر دیے مگر کسی بڑے نالے پر بھی کوئی ڈیم تعمیر نا ہوا۔ اربوں روپے کا جو بجٹ مختص ہوا تھا، اُسے وزیروں اور افسروں کی لگژری گاڑیوں ، مراعات، بیرون ملک عیاشی، اور اللے تللوں میں اُڑا دیا گیا۔ اور جو بچ رہا وہ حکومت پاکستان کو واپس دے دیا گیا کہ ہم سے یہ خرچ نہیں ہو سکتا۔

اب ایسے حالات میں اگر کوئی کشمیری اپنی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آبپاشی ںظام کی درستگی کی جائے یا عیاشیاں ترک کر کے ترقیاتی بجٹ کو عوام پر خرچ کیا جائے تو پاکستانی میڈیا اُسے بھارتی ایجنٹ قرار دیتا ہے۔

کشمیر کے اضلاع سری نگر اور گاندربل میں پینے کے پانی کے معیار پر کی گئی ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے انتہائی تشویشناک انکشاف...
05/06/2026

کشمیر کے اضلاع سری نگر اور گاندربل میں پینے کے پانی کے معیار پر کی گئی ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے انتہائی تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ اس مطالعے کے دوران جب پانی کے 200 نمونوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا گیا، تو مجموعی طور پر 90 فیصد سے زائد نمونے قومی اور بین الاقوامی سائنسی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔ تحقیق کے مطابق، شہری دباؤ اور سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے سری نگر میں 94 فیصد اور گاندربل میں 88 فیصد پانی 'کولی فارم بیکٹیریا' سے آلودہ پائے گئے، جو پانی میں فضلے کی آمیزش اور ٹائیفائیڈ و ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔ سب سے زیادہ آلودگی قدرتی چشموں اور زیرِ زمین پانی میں دیکھی گئی، جبکہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس سے سپلائی ہونے والا پائپوں کا پانی بھی مکمل محفوظ نہیں پایا گیا۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمِ خزاں میں یہ آلودگی مزید بڑھ جاتی ہے، اور اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف روایتی کلورین پر انحصار کافی نہیں ہے؛ بلکہ واٹر سپلائی انفراسٹرکچر کی فوری مرمت اور پانی کی صفائی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔

محققین: میر روحی نیلوفر و دیگر
شعبہ ماحولیاتی سائنس، کشمیر یونیورسٹی، سری نگر، کشمیر

Link:
https://link.springer.com/article/10.1007/s10661-026-15527-3

31/05/2026

سرو کا درخت ایک قدرتی سموگ فلٹر ہے۔ سردیوں میں جب درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں تو سرو ہی ہوا صاف کر سکتا ہے۔ مظفرآباد میں اس کی شجرکاری ترجیحی بنیادوں پر ہونی چاہئے۔

30/05/2026

کاربن ڈائی آکسائیڈ بھاری ہونے کے سبب وادیوں کے نشیب میں جمع ہو کر گرمی کو trap کرتی ہے۔ اور اس کا واحد حل نشیبی علاقوں میں سدابہار جنگلات کا قیام ہے۔

قربانی کے بعد گائے کی آلائشوں کو کھلے عام سڑنے کے لیے چھوڑنا نہ صرف تعفن پھیلاتا ہے بلکہ ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچاتا...
27/05/2026

قربانی کے بعد گائے کی آلائشوں کو کھلے عام سڑنے کے لیے چھوڑنا نہ صرف تعفن پھیلاتا ہے بلکہ ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
ایک گائے کی آلائش سے نکلنے والی میتھین گیس 84 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO_2eq) کے برابر ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کاربن اثر کو ختم کرنے کے لیے 4 درختوں کو پورا 1 سال یا 1 درخت کو 4 سال درکار ہوتے ہیں!

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

آلائشوں کو کھلے مقامات پر پھینکنے کے بجائے مٹی میں گہرا دبا دیں یا بائیو گیس پلانٹ میں منتقل کریں۔ اپنی عبادت کو ماحول دوست بنائیے اور صفائی کا خاص خیال رکھیے۔

مظفرآباد کے ندی نالوں کو "قدرتی فلٹر" بنائیے!جب سیوریج کا گندا پانی اوور فلو ہو کر ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریائے نیلم اور...
26/05/2026

مظفرآباد کے ندی نالوں کو "قدرتی فلٹر" بنائیے!
جب سیوریج کا گندا پانی اوور فلو ہو کر ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریائے نیلم اور جہلم میں گرتا ہے، تو یہ آبی حیات، اور پینے کے پانی کے لیے تباہ کن بن جاتا ہے۔

اس کا قدرتی حل بھی ہے!

نالوں کے کناروں پر بینسھ (Willow)، سفیدے یا چنار جیسے پودے لگائیں۔ ان کی جڑیں پانی سے نائٹروجن، فاسفورس اور زہریلے مادے جذب کر لیتی ہیں۔

یا پھر نالوں میں ریت، بجری اور سرکنڈوں کا قدرتی نظام بنا کر جراثیم کے ذریعے گندگی کو ختم کیا جائے۔

اور نالوں پر چھوٹے بند بنا کر پانی کا بہاؤ سست کریں تاکہ گدلا پن نیچے بیٹھ سکے اور پودوں کو صفائی کا وقت ملے۔
آئیے مل کر اپنے شہر اور دریاؤں کو پاک صاف رکھیں!

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک عام 100 cc موٹر سائیکل اگر سال میں 10,000 کلومیٹر چلے، تو فضا میں تقریباً 400 کلوگرام کاربن ڈائی...
25/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک عام 100 cc موٹر سائیکل اگر سال میں 10,000 کلومیٹر چلے، تو فضا میں تقریباً 400 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافہ کرتی ہے؟
اس نقصان کو کیسے پورا کیا جائے؟
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ چند درخت لگا دینا کافی ہے، لیکن سائنسی حقیقت یہ ہے کہ کاربن کا یہ اخراج سالانہ بنیادوں پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم نے اسی سال کے اندر اس کاربن کو فضا سے مستقل طور پر صاف (Fix) کرنا ہے، تو ہمیں زمین پر 18 سے 20 بالغ چیڑھ (Pine) کے درختوں کا ایک مستقل گروپ درکار ہوگا، جو ہر سال اس اخراج کو جذب کرتا رہے۔

Address

Eco-Friends
Muzaffarabad
13100

Telephone

923361155405

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Eco-Friends AJK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Eco-Friends AJK:

Shortcuts

Share