The Orchard Education System

The Orchard Education System

Share

The Orchard education system is educational institute in chatter klas that offers quality education

04/10/2025

بچے کی نہیں والدین کی تربیت ضروری ہے ۔۔۔۔!!!!
ایڈیٹوریم میں کئیرئیر کونسلنگ کا سیشن جاری تھا ۔۔۔!!
وہ سترہ یا اٹھارہ سالہ اسٹوڈنٹ آج بھی کرسی پر انتہائ بے ہودا انداز میں نیم دراز تھا ، چھے فٹ کے قد کے ساتھ اس نے اپنی ٹانگیں انگریزی کے “V” کی طرح انتہائ نا زیبا انداز میں کھول رکھیں تھیں، اور وہ لیکچر دینے والی خاتون کو انتہائ عجیب سی نظروں سے گھور رہا تھا اور ساتھ ساتھ اسکی اپنے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی جاری تھی کبھی وہ اپنے کلاس فیلو کی گردن دبوچ لیتا تو کبھی اسکی کلائ مڑوڑ نے لگتا، میری ڈسپلن کی ڈیوٹی تھی اور وہ مسلسل اپنے اردگرد کے اسٹوڈنٹس کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا تھا
۔
دو دفعہ میں نے اسے تمیز کے دائرے میں اپنی ٹانگیں سمیٹ کر انسانوں کی طرح بیٹھنے کو کہا وہ الٹا انتہائ بے باکی سے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
“ میم کیا مسئلہ ہے میرے بیٹھنے کے اسٹائل میں ۔” ؟
میں نے تحمل سے جواب دیا “ یہ کلاس روم ہے آپکا بیڈ روم یا گھر نہیں اس لیے تمیز سے بیٹھیں ۔ “
اس پر رتی برابر بھی اثر نہیں ہوا ۔
میں نے پھر اسے غصے سے کہا کہ آپکو سنائ نہیں دے رہا کہ میں کیا کہہ رہی ہوں ۔”
وہ ڈھٹائ سے الٹا مجھے گھورنے لگا اور میرے ضبط کا پیمانہ لبریر ہوا اور میں نے ایک ہلکا سا تھپڑ اسکے کندھے پر دے مارا جسکی اسے توقع نہیں تھی ۔
اس کے بعد چند سیکنڈ میں اسکی ٹانگیں بھی سمٹ گئیں اور وہ انسانوں کی جون میں واپس آگیا اور پھر پورے لیکچر میں تہذیب کے دائرے میں بیٹھا رہا ۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ “مار نہیں پیار “ کے سلوگن کو تھوڑا تبدیل ہونا چاہیے ، کیونکہ بعض دفعہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور سزاکا خوف کسی حد تک لازمی ہونا چاہیے زیادہ مار اور زیادہ پیار دونوں ہی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں
اور آجکی جنریشن کو زیادہ پیار بگاڑ رہا ہے ۔
مجھے آج بھی یاد ہے بچپن میں بہن بھائیوں میں سے کوئ ایک شرارت کرتا تو پھینٹی سب بہن بھائیوں کو پڑتی تھی ، امی کے جوتے ، جھاڑو اور وائپر کے ڈر نے ہمیں ہمیشہ صراط مستقیم پر چلنے پر مجبور کیا اور مار کے خوف نے زندگی میں بہت کچھ غلط کرنے سے روکے رکھا اور امی کی طرف سے ابو کو بتانے کی دھمکی ہماری راتوں کی نیند حرام کر دیتی تھیں کیونکہ ہمارے دور میں والدین میں سے کسی ایک کا رعب لازمی ہوتا تھا اور ہمارے اوپر تو دونوں کا ہی تھا۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ ان “ فرینڈلی “والدین نے تو بچوں کی شخصیت کونکھارا کم اور بگاڑا زیادہ ہے ، بچے والدین سے نہیں ، والدین بچوں سے ڈرنے لگے ہیں کہ کہیں بچہ خفا نہ ہوجائے۔

بچہ ایک ٹائم کاکھانا نہیں کھاتااور والدین کے اپنے حلق میں نوالہ اٹکنے لگتا ہے ان کی سانس رکنے لگتی ہے جیسے انکے بچے کے ایک وقت کے نہ کھانے سے خدانخواستہ قیامت آجائے گی یا کوئ جنگ عظیم چھڑ جائے گی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں میں نے “ٹینڈے “ کھانے سے انکار کر دیا تو امی نے کہا ،کھانا ہے تو کھاؤ ورنہ بھوکی رہو ۔
کچھ گھنٹوں کی بھوک ہڑتال کے بعد وہی ٹینڈے مجھے مرغ مسلم لگنے لگے ، کیونکہ انکے علاوہ کوئ اور آپشن موجود نہیں تھا ۔ ویسے بھی دنیا کی سب سے بڑی سفاک حقیقت بھوک ہے اور بھوکے انسان کو پھر اس چیز سے کوئ غرض نہیں ہوتی کہ کھانا پسندیدہ ہے یا نہیں ۔؟تب صرف پیٹ کی آگ بجھانے کی فکر ہوتی ہے
اب ماؤں کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ بچے کھانا نہیں کھاتے اور مجبوراً وہ انکے لیے فاسٹ فوڈ ، پزا یا پاستا آن لائن آرڈر کر دیتی ہیں
اپنے سترہ سالہ ایجوکینشل کیرئیر میں ، میں نے یہی اخذ کیا ہے کہ موجودہ دور میں بچوں کی نہیں والدین کی تربیت کرنے کی اشد ضرورت ہے انہوں نے “فرینڈ لی “اور “ کول “ بننے کے چکروں میں ایک انتہائی خود سر ، خو د غرض اور شتر بے مہار جیسی فوج تیار کر لی ہے جنکی نظر میں کسی رشتے کی کوئ اہمیت نہیں ، بچے کو اپنی پرسنل اسپیس چاہیے ، اپنی پرائیویسی میں مداخلت اسے گناہ عظیم محسوس ہوتی ہے وہ ماں باپ کو ایسے پلٹ کر جواب دیتا ہے جیسے انہوں نے ایسے پیدا کرکے بہت بڑا گناہ کر دیا ہو ، اور معذرت کے ساتھ خواتین چاہے ورکنگ ہو یا نان ورکنگ کسی کے پاس بھی اولاد کی تربیت کا وقت نہیں ۔ ورکنگ وومن کو جاب کے مسائل اور گھریلو خواتین کو ڈومیسٹک پالیٹکس سے ہی فرصت نہیں ۔ ماں باپ کو لگتا ہے کہ یہ تعلیمی اداروں کا کام ہے اور تعلیمی اداروں میں موجود اساتذہ کو لگتا ہے کہ والدین نے انکو کچھ نہیں سیکھایا ۔
سچ بات تو یہ ہے کہ بچہ اپنی عمر کے پہلے پانچ دس سال میں جو سیکھتا ہے وہ چیزیں اسکی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں ۔
بچہ کسی بھی گھر کی وہ “پروڈکٹ “ہوتی ہے جسے دیکھ کر پورے خاندان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، کبھی کبھی کسی اسٹوڈنٹ کے انتہائ مہذب انداز پر میرا دل چاہتا ہے کہ انکے والدین سے ملوں جنہوں نے واقعی اپنے بچے پر ٹائم انویسٹ کیا ہے اور بعض بچوں کی خودسری ، بدتمیزی اور انتہائ نامناسب اور غیر اخلاقی روئیوں کو دیکھ کر انکے ماں باپ پر غصہ بھی آتا ہے اور ترس بھی ۔ جنہوں نے اپنے بچوں کو خود رو پودوں کی طرح بڑھنے دیا اور انکی کوئ کانٹ چھانٹ نہیں کی اور وہ کانٹوں سے بھری جھاڑیاں معاشرے کے حوالے کر دیں ۔
خدارا اپنی اولاد کی تربیت کرنا سیکھیں اور اس سے پہلے خود والدین بننے کی تربیت بھی ضرور لیں ، بچہ پیدا ہی نہیں کرنا ہوتا اسے ایک مفید فرد بھی بنانا ہوتا ہے اس ضمن میں والدین اور اساتذہ سب کو اپنے اپنے فرائض سمجھنے کی ضرورت ہے ورنہ کل کو آپکا بچہ بھی ٹانگیں پھیلائے کسی کے ضبط کا امتحان لے رہا ہوگا اور زمانے کے تھپڑ کھا رہا ہوگا

10/04/2025
Photos from The Orchard Education System's post 26/02/2025

Flavours, textures and love in every bite!

Photos from The Orchard Education System's post 25/02/2025

Hands-on learning, Real world application

Photos from The Orchard Education System's post 07/01/2025

Throwback to MOTHER'S DAY cards Activity 🌼🌷


Photos from The Orchard Education System's post 06/01/2025

Coloring Activity ✨



Photos from The Orchard Education System's post 05/01/2025

RED FRUITS Activity Day ✨
🍓🍒🍎




Photos from The Orchard Education System's post 30/12/2024

Color Theory ✨


Mixing Primary colors to form Secondary colors 🎨🖌️

Photos from The Orchard Education System's post 30/12/2024

Plant Pot Activity by Grade 4



PLANT A TREE, GROW THE LEGACY ✨🌴

Photos from The Orchard Education System's post 23/12/2024

THROW-BACK TO MOTHER'S DAY 🌸✨🌸



Photos from The Orchard Education System's post 22/12/2024

ACTIVITY :
LEAF PRINTING ☘️🌿🌱


LET'S PLAY WITH PAINTS 🌿🎨🖌️


Photos from The Orchard Education System's post 21/12/2024

HAND PRINTING ✨



Hand impressions with paints🖐️


Want your school to be the top-listed School/college in Muzaffarabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Chisht Nagar
Muzaffarabad
13100

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 14:00
Saturday 08:00 - 14:00