`سٹاپ گیپ کیس`
تینوں معزز ججز صاحبان نے دورانِ سماعت یہ واضح فرمایا کہ *60 دن کی "ویٹنگ confirm اس کے بعد" جملہ stop gap کے تحت کی گی تقرری عارضی نوعیت کی تھی*، اور اس کا مقصد صرف وقتی طور پر تعلیمی خلاء کو پُر کرنا تھا۔
ساتھ ہی *2024 کی ایجوکیشن پالیسی* کو برقرار رکھتے ہوئے اس پر مکمل عملدرآمد کی حمایت کی گئی۔
یعنی عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ:
- اسٹاپ گیپ (Stop Gap) پر کی گئی تعیناتیاں صرف *عارضی* ہیں،
- اور *مستقل تقرریاں صرف نئی این ٹی ایس پالیسی کے تحت ہی ممکن ہیں۔*
یہ تمام امیدواروں کے لیے ایک *حوصلہ افزا پیش رفت* ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد عدالتی فیصلہ حق و میرٹ کی بنیاد پر سامنے آئے گا۔
PSC AJK
latest updates PSC AJK
11/01/2026
این ٹی ایس ویٹنگ والے اور اینٹی والے آپس میں نہ لڑیں ۔اب فیصلہ کچھ دن میں ہو جائیگا فیصلہ عدالت نے کرنا ھے آپس میں ایک دوسرے سے ناراضگیاں کس لیے مول لیتے ہیں ۔ رزق رب کی ذات نے دینا ہے ۔ اب دو چار دن کی ہی بات ھے فیصلے کا انتظار کر لیں
ایک اہم خوشخبری دینے جا رہا ہوں ایلمنٹری مدرس ٹیکنیکل کیڈر کے حوالہ سے ۔
اس بار جملہ ایلمنٹری مدرس ٹیکنیکل کیڈر کی آسامیاں بھی Nts میں شامل ہوں گئیں ۔
جن کی بھرتی کے لئے تعلیمی قابلیت کم از کم
BA +
ایک سالہ ڈپلومہ ٹیکنیکل بورڈ سے رجسٹرڈ شدہ ہونا ضروری ہے ۔
ایسی مندرجہ بالا تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدوار آج سے ہی کمر کس لیں اور اپنی تیاری شروع کر دیں شکریہ
مظفرآباد (پی۔آئی۔ڈی) 2 دسمبر 2025
ایڈھاک ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے پانچ روز بعد ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیاجائیگا
کابینہ اجلاس کے بعد موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید اور وزیر جنگلات سردارجاوید ایوب کی سینٹرل پریس کلب میں دی گئی بریفننگ
رواں سال تعلیمی بورڈ میرپور کی جانب سے فرسٹ ایئر کے نتائج 29 اکتوبر 2025 کو جاری کیے گئے، مگر یہ نتائج طلبہ، والدین اور اساتذہ کی توقعات کے یکسر برعکس تھے۔ نتیجتاً آزاد کشمیر بھر کے طلبہ نے شدید احتجاج کیا، سڑکیں بند کیں، کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کی۔ طلبہ کے اسی پریشر کے نتیجے میں بورڈ میرپور نے 15 پروفیسرز پر مشتمل ایک مارکنگ کمیٹی تشکیل دی جو 6 سے 9 نومبر تک پیپرز کی دوبارہ پڑتال کرنے کی پابند تھی۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ اگر مسئلہ واقعی شفافیت کا تھا تو اس کمیٹی میں پرائیویٹ سیکٹر کے تجربہ کار اساتذہ کو شامل کرنے سے گریز کیوں کیا گیا؟ کیا غیر جانب داری کے تقاضے یہی ہیں؟
اس کے بعد ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک اور حکومتی کمیٹی بھی بنا دی، جس میں سیکریٹری تعلیم اور سینئر افسران شامل تھے تاکہ بورڈ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ اعلان کیا گیا کہ یہ کمیٹی 10 دن کے اندر اپنا فیصلہ دے گی۔
مگر افسوس، ایک ماہ گزر چکا ہے—نہ تو حکومتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، نہ بورڈ کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آئی، نہ طلبہ کی ری چیکنگ درخواستوں کا کوئی جواب ملا۔ آخر کیوں؟
آزاد کشمیر کے 90 فیصد طلبہ اس وقت فرسٹ ایئر کے ساتھ ساتھ سیکنڈ ایئر کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ کیا کسی طالب علم کے لیے صرف چار ماہ میں دونوں پارٹس کی تیاری ممکن ہے؟ یہ تعلیمی تاریخ کا شاید سب سے غیر منصفانہ بوجھ ہے جو طلبہ پر ڈال دیا گیا ہے۔
اگر دونوں کمیٹیوں نے ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اپنی رپورٹ پبلک نہیں کی تو اس سے شکوک و شبہات مزید بڑھتے ہیں۔ کیا یہ معاملہ بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے جانے کے بعد ہی رپورٹ جاری کرے گا؟ کیا طلبہ کی آواز، ان کی محنت، ان کا مستقبل اتنی کم قیمت رکھتا ہے؟
طلبہ کے دو بالکل جائز مطالبات
1. تین دن کے اندر کمیٹی کی رپورٹ پبلک کی جائے۔
رپورٹ چاہے طلبہ کے حق میں ہو یا نہ ہو، اسے چھپانا خود شفافیت پر سوال ہے۔ تعلیم کی دنیا میں جواب دہی سب سے پہلا اصول ہے۔
2. سیکنڈ ایئر کے امتحانات ایک ماہ تاخیر سے لیے جائیں۔
طلبہ نے جو دو ماہ ذہنی و تعلیمی نقصان برداشت کیا ہے، اس کا ازالہ ضروری ہے۔ انہیں برابر تیاری کا حق دیا جائے۔
اگر تین دن میں رپورٹ جاری نہیں ہوتی تو طلبہ کا سیکنڈ اینول بائیکاٹ کرنا بھی ایک جائز اور آئینی احتجاج ہو گا، کیونکہ انصاف کے بغیر امتحان لینا مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر جناب فیصل راٹھور کے دورۂ ہجیرہ کے دوران بھی یہ معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ طلبہ اپنی آواز نہیں دبائیں گے، کیونکہ رپورٹ مانگنا، شفافیت مانگنا اور انصاف مانگنا ہر تعلیمی ادارے کا بنیادی حق ہے—چاہے رپورٹ ان کے حق میں ہو یا نہ ہو، مگر اس کا سامنے آنا لازمی ہے۔
Share it
ملک اشفاق (پرنسپل سٹار کالج ہجیرہ)
یورپ میں استاد عدالت میں جائے تو جج اپنی کرسی سے احتراماً کھڑا ہو جاتا ہے،
اور ہمارے ہاں استاد اپنے طلبا و طالبات سمیت سڑک پر کھڑے ہوکر سیاست دانوں کا استقبال کرتے ہیں۔
یہ صرف تہذیب کا فرق نہیں..... یہ سوچ کا فرق ہے۔
باغ آزاد کشمیر کے نکی کیر جیسے ادارے کی عمارت تک موجود نہیں، مگر اسی ادارے کی معصوم بچیوں اور خواتین اساتذہ کو پروٹوکول کے لیے لائن میں لگا دیا گیا۔
یہ استقبال نہیں، استاد اور طالب علم دونوں کی تذلیل ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں استاد کو علم کا محافظ نہیں بلکہ تبادلوں اور نوکری کے خوف میں رکھا جاتا ہے۔
اور جب استاد خوفزدہ ہو جائے تو وہ علم نہیں دے پاتا ...صرف حکمرانوں کے آگے جھکنے کا سبق دیتا ہے۔
بچوں کو ابتدا سے ہی یہ پیغام ملتا ہے کہ طاقتور کے آگے جھکنا پڑتا ہے،
یوں تعلیم کے نام پر ذہنی غلامی کی تربیت ہوتی ہے۔
جن ہاتھوں میں کتاب ہونی چاہیے تھی، وہاں تالیاں تھیں؛
جن چہروں پر روشنی ہونی چاہیے تھی، وہاں بے بسی تھی۔
تعلیم جب سیاست کی خدمت میں لگ جائے
تو قومیں اندھیرے میں چلی جاتی ہیں۔
*اس پوسٹ كو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں شکریہ☝️*
تمام نوتقرر شدہ ایڈہاک لیکچررز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ کل سے اپنی حاضری رپورٹس بنام ناظمِ اعلیٰ تعلیم کالجز، درج ذیل مقامات پر جمع کروائیں:
ڈویژن میرپور
میرپور ڈویژن سے متعلقہ تمام نوتقرر شدہ لیکچررز اپنی حاضری رپورٹس نظامتِ کالجز، میرپور میں جمع کروائیں۔
ڈویژن پونچھ
پونچھ ڈویژن سے متعلقہ تمام نوتقرر شدہ لیکچررز اپنی حاضری رپورٹس پرنسپل صاحب، گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج، راولاکوٹ کے دفتر میں جمع کروائیں۔
ڈویژن مظفرآباد
مظفرآباد ڈویژن سے متعلقہ تمام نوتقرر شدہ لیکچررز اپنی حاضری رپورٹس نظامتِ اعلیٰ تعلیم کالجز / نظامتِ تعلیم کالجز، مظفرآباد ڈویژن میں جمع کروائیں
ایڈجسٹمنٹ / اسٹیشن الاٹمنٹ کا مرحلہ بھی جلد طے کرلیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں مزید استفسار سے گریز کریں۔
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو
*ایڈہاک لیکچرر اپڈیٹ*
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے منظوری صادر فرما دی۔
آرڈز جلد ہوں گے۔ کل مورخہ 28 نومبر 2025 کو آرڈز متوقع۔
آرڈرز ڈویژن وائز ہوں گے۔
( وزیر تعلیم کالجز)
*ایڈہاک لیکچرر اپڈیٹ*
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے منظوری صادر فرما دی۔
آرڈز جلد ہوں گے۔
آرڈرز ڈویژن وائز ہوں گے۔
( وزیر تعلیم کالجز)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
PSC Office
Muzaffarabad