02/12/2025
پروفیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ سٹاف میٹنگ
گورنمنٹ بوائز ہائیَر سیکنڈری سکول گوجرہ، مظفرآباد
تاریخ سیشن: 29 نومبر 2025ء
ادارہ ہذا میں ایک انتہائی مفید، پرجوش اور یادگار پروفیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ سٹاف میٹنگ کا انعقاد ہوا جس کی صدارت ادارہ کے قابلِ احترام سنئیر پرنسپل جناب سعید اختر اعوان نے کی۔ سیشن کے تمام مراحل کو منظم انداز میں چلانے کی ذمہ داری اسٹاف سیکرٹری جناب علی اصغر بخاری نے احسن طریقے سے نبھائی۔
سیشن کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت محترم قاری طیب صاحب نے حاصل کی، جبکہ نعتِ رسولِ مقبولﷺ کی سعادت معزز سنیر استاد جناب فیصل فاروق نے حاصل کی۔
اس کے بعد محترم پرنسپل صاحب نے تفصیلی اور ولولہ انگیز سیشن لیا۔ آپ کا سیشن دو اہم موضوعات پر مشتمل تھا:
سیشن اول: پروفیشنل ڈیولپمنٹ اس سیشن میں جناب نے اساتذہ کو سیکھ کر سکھانے کی ترغیب دی۔علاوہ ازیں موصوف نے paradigm shift پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم پرانے روایتی نظام سے نکل کر ایک بالکل نئے، تخلیقی اور طالب علم محور نظام کی طرف گامزن ہیں۔
اس نئے نظام کے اہم نکات یہ ہیں:
• اب طالب علم محض علم کا متلاشی اور رٹا لگانے والا نہیں رہے گا بلکہ وہ خود علم کا موجد اور دریافت کنندہ (Inventor of Knowledge) بنے گا۔
• استاد کا کردار اب صرف “لیکچر دینے والا” نہیں رہے گا بلکہ وہ ایک سہارا دینے والا، راہ دکھانے والا اور سہولت مہیا کرنے والا (Facilitator) بنے گا۔
• سکول اب صرف اینٹوں گارے کی عمارت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک زندہ و جاوید “سیکھنے والی کمیونٹی” (Learning Community) بنے گا۔
اس کے بعد جناب نے کسی بھی تبدیلی کے تین مراحل پر گفتگو کی۔
تبدیلی کے تین مراحل اور ان کی سادہ وضاحت:
1. Freeze → موجودہ روایتی نظام کو مکمل روک دیں اور اس کا گہرا جائزہ لیں کہ کیا اچھا چل رہا ہے اور کیا تبدیل کرنا ہے۔
2. D- Freeze → پرانے منفی رویوں اور پرانے فرسودہ طریقوں کو چھوڑنے میں جو تکلیف محسوس ہو اس کو برداشت کرنا ہوگا بندھے ہوئے ذہنوں کو توڑیں، نئے خیالات اور طریقوں کے
لیے دل و دماغ کو کھلا چھوڑ دیں۔
3. Re-Freeze → جو نئےاور
مثبت طریقے ہم اپنائیں اس پر قائم رہیں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور پائیدار بنیں تاکہ یہ ہمارا نیا مستقل نظام بن جائے۔
آخر میں پرجوش نعرہ: “Impossible کو توڑ کر کہو: I am possible!” ہاں ہم کر سکتے ہیں اگر لگن سے جذبے سے کوئی بھی کام کریں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں.
سیشن دوم
سٹاف میٹنگ
اس سیشن میں پرنسپل صاحب نے اساتذہ کو مزید بہتر کام کرنے کا حوصلہ دیا اور
اساتذہ کی کارکردگی کو خوب سراہا، باہمی تعاون کی تعریف کی ٹیچرز کے رویے کی تعریف کی اور ان کی ٹیم ورک کے جذبے کو خوب سراہا کہ جو بھی اساتذہ کو مزید حوصلہ درج ذیل خوبصورت اشعار کے مصداق دیا-
اُٹھو! کہ اب قوم کے ننھے مسیحاؤں کو
تیری ضرورت ہے، ترے ہاتھ کی چھاؤں کو
وہ بجلیاں جو تیرے سینے میں چھپی ہیں اب تک
انہیں جگا دے، جلا دے، زمانے کو دکھا دے
جو بچہ آج تیری کلاس میں بیٹھا ہے خاموش
وہی کل سائنسدان، شاعر، لیڈر بنے گا شاید
تیرے ایک لفظ سے اُس کی تقدیر بدل سکتی ہے
تو شمع ہے، تو چراغ ہے، تو دیپک جلتا رہنا
نہ تھک، نہ ہار، نہ رُک، نہ جھک، نہ ڈر، نہ گھبرا
یہ بچوں کی آنکھوں میں جو خواب ہیں سوئے ہوئے
انہیں جگا دے، اُڑا دے، آسمانوں پہ پہنچا دے
کہ معلم ہی تو ہے جو ناممکن کو ممکن کرتا ہے!
پرنسپل صاحب کی طرف سے اساتذہ کرام کے لیے اہم عملی تجاویز بھی دی گئی چند ایک درج ذیل ہیں
ہر استاد اپنے مضمون کو کتاب تک محدود نہ رکھے بلکہ طلبہ کو تحقیق، تجربات، پروجیکٹس اور نئے آئیڈیاز کی طرف لے کر جائے۔
ہر ہفتے کم از کم ایک کلاس کو “Open Discussion” یا “Learning Community” کی شکل دیں جہاں طلبہ آزادانہ سوالات کریں اور ایک دوسرے سے سیکھیں۔
مختلف مضامین کے اساتذہ مل کر مشترکہ سرگرمیاں، گروپ پروجیکٹس اور انٹرکلاس مقابلے منعقد کریں۔
فارم مدرسین ہر دن والدین سے واٹس ایپ یا فون کال پر براہِ راست رابطہ کریں اور طالب علم کی حاضری، کارکردگی، رویے اور بہتری کے لیے تجاویز سے مکمل آگاہ کریں
بچوں کا واٹس ایپ گروپ بنائیں تاکہ ہر دن کی رپورٹ والدین تک پہنچائی جا سکے۔
پرنسپل صاحب نے فرمایا:
“یہ کچھ بنیادی تجاویز اگر دل سے نافذ ہو جائیں تو ہمارا ادارہ بہت جلد حقیقت کا روپ اختیار کر لے گا، ان شاء اللہ۔”
آخر میں دعا کے بعد تمام اساتذہ کرام کے لیے گرم گرم چائے، بسکٹ کا اہتمام کیا گیا۔ اساتذہ نے ایک دوسرے کے ساتھ خوب گپ شپ کرتے ہوئے چائے پی اور نئے عزم و حوصلے کے ساتھ روانہ ہوئے۔
یہ میٹنگ نہ صرف فکری و تدریسی اعتبار سے بلکہ اخوت، محبت اور حوصلہ افزائی کے لحاظ سے بھی نہایت کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔
والسلام,زاہد فضل ایلیمنٹری ٹیچر