13/04/2026
روداد انعقاد آگاہی سیشن ۔
حسبِ ہدایت ناظمِ اعلیٰ تعلیم کالجز آزاد جموں و کشمیر،گورنمنٹ بوائز انٹر کالج کیل نیلم میں Counter Terrorism and State Security کے موضوع پر ایک باوقار اور فکر انگیز آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی نشست نے طلبہ کے اذہان کو بیدار کرنے اور قومی شعور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔اور دہشت گردی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
تقریب کی صدارت سربراہ ادارہ پروفیسر محمد اشرف صاحب نے کی ، جبکہ معزز مقررین میں جناب پروفیسر ڈاکٹر مفتی رفیق صاحب جناب پروفیسر لعل حسین کاشف صاحب ، جناب پروفیسر شاہد لطیف صاحب جناب پروفیسر مولانا محمد شریف صاحب،جناب پروفیسر ساجد قیوم صاحب،جناب پروفیسر غلام حسن بٹ صاحب ,جناب پروفیسر عبدالرحمن صاحب، جناب پروفیسر علی زمان صاحب ،جناب پروفیسر چودری محمد اقبال صاحب، جناب پروفیسر محمد رفیق لون صاحب، جناب پروفیسر خلیق الرحمن مغل صاحب،لیب اسسٹنٹ جناب نزیر احمد صاحب اور لیب اسسٹنٹ جناب عتیق نزیر صاحب شامل تھے۔ اساتذہ اور طلبہ کی بھرپور شرکت نے تقریب کو مزید وقار بخشا جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر خلیق الرحمان صاحب نے انجام دیے۔
محفل کا آغاز روح پرور تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت طالب علم صابر کیانی کلاس فرسٹ ایئر کو نصیب ہوئی، جبکہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کا شرف طالب علم شفیق الرحمن کلاس فرسٹ ایئر نے حاصل کیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں سربراہ ادارہ نے موجودہ دور کے پیچیدہ چیلنجز، خصوصاً دہشت گردی، مذہبی منافرت اور ملک دشمن عناصر کی سازشوں پر مدلل روشنی ڈالی۔ انہوں نے قومی سلامتی کے اداروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ حب الوطنی کے جذبے کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں اور اپنے گرد و پیش میں ہونے والی مشکوک سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں، تاکہ ملک کی سلامتی کے محافظ بن سکیں۔
مذہبی سکالر جناب پروفیسر مفتی ڈاکٹر محمد رفیق صاحب نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں دہشت گردی کی تعریف، اس کے اسباب، جہاد اور دہشت گردی کے مابین باریک فرق کو نہایت سلیقے سے واضح کیا۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن، اعتدال اور رواداری کا پیغام عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے طلبہ کے کردار کو نمایاں کیا۔
دیگر معزز مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قومی سلامتی کو درپیش خطرات اور دہشت گردی کی مختلف جہتوں کا عمیق جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، جو محبت، برداشت اور انسانیت کی فلاح کا درس دیتا ہے۔ مقررین کے مطابق دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس کی جڑیں غیر منصفانہ عالمی نظام، طاقت کے بے جا استعمال، کمزور ریاستی ڈھانچوں، تعلیم کی کمی اور عدم برداشت میں پیوست ہیں۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھتے ہوئے اعتدال، علم اور شعور کے راستے کو اختیار کرے۔ اسلام ہر قسم کی انتہا پسندی اور نفرت کو مسترد کرتا ہے اور ایک پرامن، متوازن معاشرے کے قیام کی تلقین کرتا ہے۔
اور اس کے بعد ملٹی میڈیا پریزنٹیشن کے ذریعے دہشت گردی کی وجوہات اور اس کی روک تھام کے لیے بچوں میں اگاہی فرام کی گئی
آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں گے، اور علم و آگہی کے ذریعے امن کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔
تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی اور افواج پاکستان کے لیے خصوصی دعا فرمائی گئی جس کا شرف پروفیسر مولانا محمد شریف صاحب نے حاصل کیا۔۔۔۔