Information Boxs

Information Boxs

Share

👨‍💻 It's Informative 🌐📱

28/10/2022

💥 ری چیکنگ کیا ہے؟

جواب:
ری چیکنگ کےلیے آپ رزلٹ آنے کے 15 یوم کے اندر متعلقہ یونیورسٹی / بورڈ میں درخواست دے سکتے ہیں۔

ری چیکنگ میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا معروضی سوالات کے نمبر ٹوٹل میں شامل ہیں ؟

دوسرے نمبر پر اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ پیپر کا کوئی کوئی صفحہ miss تو نہیں۔

تیسرے نمبر پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا تمام سوالات چیک ہوۓ ہیں اور ان کے نمبر لگا دیے گئے ہیں۔

آخر میں پیپر ری کاؤنٹ کیا جاتا ہے۔ ری کاؤنٹ میں اگر کسی سوال کے مارکس کاؤنٹگ میں رہ جائیں تو صرف وہی بڑھائے جاتے ہیں۔

اگر کسی سوال کے مارکس آپ کے کم لگے ہیں تو وہ وہی رہیں گے۔ پیپر میں کسی بھی سوال کو دوبارہ چیک نہیں کیا جاتا۔

نوٹ: مارکس بڑھ جانے کی صورت میں ری چیکنگ فیس واپس کر دی جاتی ہے۔

28/10/2022

💥 امپروومنٹ کیا ہے؟

جواب:
امپروومنٹ سے مراد، جس سبجیکٹ/پارٹ میں آپکو نمبرز کم لگتے ہیں تو آپ اپنے نمبرز بڑھانے کےلئے اسکا دوبارہ امتحان دیتے ہیں۔

💫 آپ لوگ امپروومنٹ کےلیے چار آپشنز میں سے کوئی ایک منتخب کر سکتے ہیں
1- پارٹ 1 مکمل
2- پارٹ 2 مکمل
3- پارٹ 1 اور 2 مکمل
اور چوتھا آپشن سبجیکٹ امپروو کرنے کا ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر آپ نے فزکس امپروو کرنی ہے تو فزکس پارٹ 1 اور 2 دونوں کا پیپر دینا ہو گا.

💠 سوال: کیا ہم صرف گیارہویں یا بارہویں کا کوئی سنگل یا 2-3 سبجیکٹ امپروو کرسکتے ہیں؟

✨ جواب: آپ کسی پارٹ کا سنگل سبجیکٹ یا 2-3 سبجیکٹس امپروو نہیں کرسکتے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے سیکنڈ پارٹ کی بائیو اور کیمسٹری امپروو کرنی ہے تو ان سبجیکٹس کا پارٹ 1 بھی داخلہ جائے گا۔

💠 سوال: ہم کب امپروومنٹ کر سکتے ہیں؟
💫 جواب:پارٹ 2 کے رزلٹ کے بعد آپ امپروومنٹ کر سکتے ہیں یہاں آپ کو 2 آپشن دیے جاتے ہیں.
✨ پہلا 40 دن میں سیکنڈ اینول (سپلی) والے طلباء کے ساتھ امپروو کر لیں.
✨ دوسرا اگلے سال سالانہ پیپرز میں امپروومنٹ کا پیپر دے دیں۔

Photos from Information Boxs's post 14/10/2022

💥 شِمشال ...‼️

پاکستان کا وہ دور دراز گاؤں جہاں خدمت خلق کا منفرد نظام موجود ہے

پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں سطح سمندر سے 3100 میٹر بلندی پر واقع ’شمشال‘ پاکستان کا چین کی سرحد کے قریب آخری گاؤں ہے۔ یہ پاکستان کی بلند ترین آبادیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں تک پہنچنے کا واحد راستہ دستیگل سر اور قراکوہ پہاڑوں سے گزرتی بل کھاتی پتھریلی سڑک ہے۔

اس سڑک کو ’شاہراہ وادی شمشال‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کے پُرخطر راستوں میں سے ایک ہے۔

اس سڑک کا زیادہ تر حصہ دریائے شمشال کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے جہاں گہری کھائیاں اور گھاٹیاں موجود ہیں اور اس سڑک کے کنارے حفاظتی بند بھی نہیں بنے ہوئے ہیں۔ سنہ 2003 میں 18 سال کے طویل عرصے بعد تعمیر ہونے والی یہ سڑک شاہراہ قراقرم پر ایک غیر معروف مقام سے مڑتی ہے جس پر صرف فور بائی فور جیپ یا سائیکل کے ذریعے سفر کیا جا سکتا ہے۔

مئی 2017 میں، میں نے اپنے چھ ساتھیوں کے ہمراہ سائیکلوں پر اس سڑک پر سفر کیا تھا۔ ہم نے 56 کلومیٹر کا یہ سفر پاسو کے قریب سے شمشال کی جانب کیا تھا۔ اس سفر کے راستے کے زیادہ تر حصہ میں، میں نے اپنے سائیکل کے ہینڈل کو اتنی مضبوطی سے تھامے رکھا تھا کہ میرے ہاتھ دکھنے لگے تھے۔

سفر کے دوران سارے راستے میں یہ ہی دعا کرتی رہی کہ میری سائیکل کی بریکس جواب نہ دے جائیں۔ اس مشکل اور پُرخطر راستے پر سائیکل چلاتے وقت مجھے لگا تھا کہ میری المونیم سے بنی سائیکل کا ڈھانچہ میرے نیچے سے نکل کر بکھر جائے گا یا کم از کم سائیکل کا کوئی اہم حصہ ہوا میں اڑتا ہوا چٹان سے نیچے کھائی میں جا گرے گا۔

مگر شکر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ میں اپنے ساتھی سائیکلسٹ کی طرح اس پتھریلے راستے پر سائیکل چلاتے وقت زیادہ تیز یا ان کی طرح پُراعتماد نہیں تھی۔ اس لیے میں ان سے پیچھے رہ گئی اور زیادہ تر سفر میں نے آہستہ آہستہ سائیکل چلاتے ہوئے اکیلے ہی طے کیا۔

میں راستے میں اکثر رُک جاتی، چٹان کے اوپر سے دوسری طرف دیکھتی۔ یہاں کہ مناظر مجھے یہ احساس دلاتے جیسے میں کسی اور سیارے پر سائیکل چلا رہی ہوں۔ کیونکہ یہاں دور دور تک کسی انسان یا آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا، اگر کچھ تھا تو پتھر، پہاڑ اور چٹانیں۔

بالآخر ہم سات گھنٹوں کی مسافت کے بعد زندہ سلامت شمشال گاؤں میں پہنچ گئے جہاں سڑک کنارے موجود شرمیلے اور متجسس بچوں نے ہمارا استقبال کیا۔

شمشال گاؤں وادی شمشال کے چار دیہاتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ اس وادی میں فرمان آباد، امین آباد اور خضر آباد نامی گاؤں موجود ہیں۔ یہاں کے باسیوں کو ’واکھی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نسلی گروہ یا برادری ہے جو شمالی پاکستان، افغانستان، چین اور تاجکستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ اور ان کا تعلق اسماعیلی فرقے سے ہے۔

جیسے جیسے ہم راستے سے گزر رہے تھے تو وہاں موجود افراد نے ہمیں اپنے کام چھوڑ کر مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا اور انگریزی زبان میں ہمیں اپنے گاؤں آنے پر خوش آمدید کہا۔

ایک چھوٹی سی پہاڑی پر گاؤں کے سکول کے عقب میں واقع گیسٹ ہاؤس میں رات گزارنے کے بعد ہم نے صبح پیدل شمشال پاس جانے کا ارادہ کیا۔ شمشال پاس وہ جگہ ہے جہاں اس گاؤں کے لوگ اپنے مویشیوں کے ریوڑ خصوصاً یاک کو چروانے لے جاتے ہیں۔ یہ ایک سرسبز چراگاہ ہے۔

تقریباً 35 کلومیٹر کی چڑھائی چڑھنے کے بعد ہم ایک جھولتے ہوئے پُل پر پہچنے جسے تاروں، زنجیروں اور لکڑی کے پھٹوں سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ پُل ایک دریا کو عبور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس پل پر موسمیاتی اثرات سے متاثرہ ایک تختی لگی ہوئی تھی جس پر مٹا ہوا لفظ ’چیچان بیگ‘ لکھا ہوا تھا۔

میں نے سوچا کہ ان الفاظ کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ اس پُل کا نام ہے یا راستے کے اس مخصوص حصے کا نام ہے؟ میرے ساتھ موجود ایک مقامی شخص حسین نے بتایا کہ گاؤں میں ایک شخص ہے جو مجھے اس متعلق سب کچھ بتا سکتا ہے۔

اس دن شام کو واپس آ کر گیسٹ ہاؤس کے ڈائنگ روم میں ہم سب ایک میز کے گرد اکٹھے ہو گئے اور حسین نے ہمیں اس شخص سے متعارف کروایا۔ ان کا نام عیسیٰ خان تھا جنھوں نے اپنی تمام عمر اسی گاؤں میں گزاری تھی اور وہ اپنی 12 نسلوں تک کے متعلق بتا سکتے تھے۔

عیسیٰ خان نے ہمیں کہا کہ وہ پہلے اپنے خاندان اور پچھلی نسلوں کی تاریخ کے بارے میں بتائیں گے اور پھر اس پُل کے متعلق بتائیں گے۔ عیسیٰ خان کے دادا ایک بڑھئی تھے۔ ایک دن انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شمشال گاؤں کے قریب ایک بنجر علاقے کو کھیت میں تبدیل کر دیں گے۔

انھوں نے زمین کو کھودا اور اسے تیار کیا تاکہ وہاں گندم، جو اور باجرے کی کاشت کی جا سکے۔ اس تمام کام کے لیے ان کے پاس کوئی اوزار نہیں تھے اور انھوں نے تمام کھیت اپنے بیلچے اور ہاتھ سے چلنے والے اوزاروں کو استعمال میں لاتے ہوئے تیار کیے۔ داد کا نام چیچان بیگ تھا۔

یہ فصلیں اس وقت اور آج بھی اس برادری میں روٹی بنانے اور اس دوسرے کے ساتھ لین دین میں استعمال ہوتی ہیں۔

سنہ 1995 میں عیسیٰ خان کے والد محمد باشی نے شمشال کی ایک روایت ’نومس‘ کے تحت اپنے والد کے نام پر ایک پُل تعمیر کیا تھا۔

نومس واکھی زبان کا ایک لفظ ہے جس کا مطلب ’انسان دوستی یا خدمت خلق‘ ہے اور یہ اس برادری کا ایک منفرد معاشرتی خدمت خلق کا طریقہ کار ہے۔ اور یہ وادی شمشال کے سماج کا لازمی جزو ہے۔ بنیادی طور پر، یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں برادری کے امیر افراد کسی رشتہ دار کی یاد (چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ) کی تعظیم اور خدا کی رحمت کے حصول کے لیے وسائل، خوراک یا اپنی محنت فراہم کر کے کوئی عمارت، پل، پگڈنڈی یا دیوار کی تعمیر میں مدد کرتے ہیں۔

اس رواج کے تحت اگر کسی شخص نے اپنی دولت سب کے مفاد کے لیے عطیہ کر دی ہے تو اس کے بدلے میں لوگ اس کی پراپرٹی کی دیکھ بھال اور رکھوالی کرتے ہیں۔ شمشال کے باسی ’نومس‘ کی روایات کو اپنی عمر بھر کی ذمہ داری سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے افراد جنھوں نے برادری کے لیے خدمات انجام دیں اُن کی تعریف میں گیت بھی لکھے جاتے ہیں۔

مگر یہ رواج وادی شمشال سے باہر آپ کو کہیں نہیں ملتا اور کوئی اس بارے میں نہیں جانتا کہ اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا۔ مگر شمشال میں یہ رواج اس وقت سے ہے جب سے یہاں کے بسنے والوں کو یاد ہے۔

شمشال میں رہنے والے جتنے بھی لوگوں سے میں نے بات کی وہ اپنی کئی نسلوں کی تاریخ اور آباؤ اجداد کے بارے میں جانتے تھے۔ ان کی یادداشت بہت پرانی ہے اور وہ اس وقت کو بھی جانتے ہیں جب ان کی پچھلی نسلوں کی زندگی بہت مشکل تھی اور جب وہ ہنزہ کے میر کے غلام تھے۔ جو ان کی مویشوں کو پالتے اور یہاں کے راجا کے لیے سامان اٹھانے کا کام کرتے تھے۔

ہنزہ کبھی ایک شاہی ریاست ہوا کرتی تھی۔ یہ سنہ 1892 سے سنہ 1947 تک برطانوی ہندوستان کے ساتھ ایک ذیلی اتحاد اور سنہ 1947 سے سنہ 1974 تک پاکستان کی ایک شاہی ریاست کے طور پر قائم تھی۔

جب پاکستانی حکومت نے ہنزہ کی شاہی ریاست کا درجہ ختم کیا تو شمشال کے باسیوں نے اپنے تمام تر توجہ اپنی برادری کی ترقی اور بہتری پر مرکوز کر دی۔ انھیں اپنی خودمختاری پر فخر تھا۔

ان کا ماننا ہے کہ خود انحصاری ہی اپنے معاملات کو حل کرنے اور ان پر اختیار رکھنے کا بہترین طریقے ہے۔ اور وہ اپنے لوگوں اور زمین کا اچھے سے خیال رکھنا جانتے ہیں۔ اور اس کی بنیاد ان کی روایت ’نومس‘ ہے جس کا مقصد اپنی برادری کی فلاح و بہبود ہے اور وہ ہی ان کے اس یقین کا اہم جزو ہے۔

میں نے عیسیٰ خان اور حسین سے پوچھا کہ وہ اس روایت کے متعلق کیا جانتے ہیں۔ ان دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شمشال بہت عرصے تک دوسری دنیا سے کٹا رہا ہے (جب تک کہ سنہ 2003 میں وادی شمشال شاہراہ کمل نہیں ہوئی) اور شاید اس کے باعث نومس کی روایت نے یہاں جنم لیا۔

شمشال کے باسیوں کو اپنا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا راستہ تلاش کرنا تھا۔ وہ اس قدر دور دراز اور الگ تھلگ آباد تھے کہ برادری سے باہر کسی سے مدد کی توقع نہیں کر سکتے تھے۔

عیسیٰ خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انھیں شک ہے کہ نومس کی روایت سو سال یا اس سے بھی پرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'پرانے وقتوں میں جس کے پاس زیادہ بھیڑ بکریاں ہوا کرتی تھیں وہ کچھ جانور برادری میں تقسیم کر دیا کرتا تھا تاکہ سب کا بھلا ہو سکے اور اس کے بدلے میں برادری اس کے مویشیوں کو چروانے میں مدد کرتی تھی۔‘

شمشال میں زیادہ تر انفراسٹرکچر کی ترقی جس میں پُلوں کی تعمیر، گاؤں کے لگ بھگ 250 گھروں پر سولر پینلز کی تنصیب، موبائل اور بجلی کے کھمبوں کی تنصیب، گاؤں کی سڑک کنارے پتھروں کی دیوار کی تعمیر، اور شمشال پاس کے ساتھ ساتھ مٹی اور پتھر سے بنے گھر یہ سب کچھ اسی نومس نامی روایت کا ثمر ہیں۔

یہاں ایک کمیونٹی کے زیر انتظام شمشال نیچرل ٹرسٹ بھی قائم ہے جو علاقے کی دیکھ بھال اور یہاں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے۔ (یہ دلچسپ معلوماتی تحریر واٹس ایپ گروپ "منتخب تحریریں گروپ" سے لی گئی ہے۔ اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے واٹس ایپ نمبر ''صفر تین صفر صفر چار پانچ چھ ایک تین چار نو'' پر ایڈ لکھ کر سنڈ کریں) یہاں تک کہ وادی شمشال شاہراہ کا قیام بھی صرف اس وقت عمل میں آیا جب یہاں کے مقامی افراد نے رضا کارانہ طور پر پاکستانی حکومت اور آغا خان ٹرسٹ کے ساتھ مل کر سڑک کی تعمیر کے لیے افرادی قوت فراہم کی۔

شمشال کے باسیوں کو اس حقیقت پر فخر ہے کہ انھوں نے اپنے گھروں اور اپنے گاؤں کی تعمیر خود کی ہے۔

عیسیٰ خان کے والد محمد باشی 2000 کی دہائی کے اوائل میں فوت ہو گئے تھے۔ اور اب عیسیٰ خان چیچان بیگ پل کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2004 میں اسے سیلاب میں بہہ جانے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا تھا۔

چیچان بیگ کی نسل اس پل کی دیکھ بھال تب تک کرتی رہے گی جب تک یہ یہاں قائم رہتا ہے۔ اور یہاں ہمیشہ چیچان بیگ کا نام لکھا رہے گا اور اسے چیچان بیک پل کے نام سے ہی پکارا جائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ تصور کیا جاتا ہے کہ آپ اپنے آباؤ اجداد کی یاد کی تعظیم نہیں کر رہے اور آپ پر خدا کی رحمت نازل نہیں ہو رہی ہے۔

عیسیٰ خان کہتے ہیں کہ ’اگر میرے بچے میرے لیے کچھ بنانا چاہتے ہیں میں یقیناً میں اس پر خوش ہوں گا۔ لیکن اس کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ کیا وہ جو میرے نام پر تعمیر کریں گے اس کی مستقبل میں دیکھ بھال بھی کر سکتے ہیں یا وہ اس کی دیکھ بھال کریں گے جو میں نے اپنے والد کے لیے تعمیر کیا جنھوں نے اپنے والد کے لیے کچھ بنایا تھا۔ میں اس میں بھی خوش ہوں۔

14/10/2022

💥 خلائی مخلوق کی تلاش
دس دلچسپ حقائق ...‼️

اس کائنات میں ہمارے علاوہ کیا کوئی ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب انسان نے صدیوں معلوم کرنے کی کوشش کی ہے اور سائنسدان اس کے مناسب جواب کی تلاش میں لگے رہے ہیں۔

لیکن اب ایک چیز جان لیں، اگر خلا میں کوئی مخلوق ہے، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ ’سازگار خطے‘ میں ملے گی۔ سازگار خطہ کسی ستارے کے گرد اس علاقے کو کہا جاتا ہے جہاں نہ بہت گرمی ہو اور نہ بہت ٹھنڈ۔

1 چاند کے باسی

خلائی مخلوق کی زندگی کے ساتھ ہماری دلچسپی گلیلیو کی نئی دوربین کے بعد شروع ہوئی جس سے ہمیں 17 ویں صدی کے آغاز میں آسمانوں میں دیکھنے کی سہولت ملی۔

شروع میں چاند پر نظر آنے والے دھبوں کو سمندر سمجھا گیا! اور یہ خیال کیا جاتا رہا کہ شاید ان میں جاندار پائے جاتے ہیں۔

لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ یہ دھبے سمندر نہیں ہیں بلکہ چاند کی سطح پر شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے وجود میں آنے والے گڑھے ہیں۔

2 طویل قامت مریخی باشندے

ماہر فلکیات ولیم ہرشل نے سنہ 1870 کی دہائی میں کہا تھا کہ سرخ سیارے یعنی مریخ پر رہنے والے مریخی باشندے انسانوں کے مقابلے میں طویل ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے زیادہ طاقتور دوربینوں کو استعمال کرتے ہوئے مریخ کے حجم کے ساتھ ساتھ اس کے موسم اور دنوں کی لمبائی کا تخمینہ لگایا۔

ولیم ہرشل کا کہنا ہے کہ سرخ سیارہ ہمارے سیارے کے مقابلے میں چھوٹا ہے، چنانچہ اس میں کم کشش ثقل ہے، جس کا مطلب ہے کہ مریخ کے باسیوں کے قد لمبے ہوں گے۔

3 برتر زحل

مشہور جرمن فلاسفر ایمانوئل کانٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ خلائی مخلوق کی ذہانت کا تعلق اس کے سورج سے فاصلے پر منحصر ہے۔ چونکہ عطارد سورج سے قریب ہے اس لیے اس کے باسی احمق جب کہ زحل (کانٹ کے زمانے میں دریافت شدہ سب سے دور سیارہ) کے باشندے انتہائی ذہین ہوں گے۔

4 خلائی مردم شماری

سکاٹ لینڈ کے ایک پادری اور سائنس کے استاد ٹامس ڈک نے سنہ 1848 میں نظام شمسی کے اندر رہنے والی خلائی مخلوق کی تعداد کا حساب لگانے کی کوشش کی۔

انھوں نے پیش گوئی کی کہ اگر نظامِ شمسی کے تمام سیارے اتنے ہی گنجان آباد ہوں جتنا اس وقت کا انگلستان تھا، تو 280 افراد فی مربع میل کے حساب سے شمسی نظام کی کل آبادی 22000 ارب ہونی چاہیے۔

5 چاند پر زندگی

نظام شمسی میں زندگی کو تلاش کرنے کے لیے بہترین جگہ ممکنہ طور پر مریخ جیسے قریبی سیاروں پر نہیں ہو سکتی بلک دور بسنے والے ایسے چاندوں پر ہو سکتی ہے جیسے کہ یوروپا (جو مشتری کے گرد گھومتا ہے) اور اینسلاڈس (زحل کا ایک چاند)۔

ان دونوں چاندوں پر مائع سمندر پایا جاتا ہے۔

ممکنہ طور پر وہاں اندرونی حرارت پیدا کرنے کا کوئی نظام پایا جاتا ہے جس سے یہ سمندر اندر سے مائع حالت میں ہیں۔

6 دور کی دنیائیں

خلائی ماہرین کا تخمینہ ہے صرف ہماری کہکشاں میں زمین جیسے 40 ارب سیارے موجود ہو سکتے ہیں۔ اب تک ان میں سے 3800 کے قریب سیارے دریافت کیے جا چکے ہیں، تاہم اگر آپ پوری کہکشاں کی پیمائش کریں گے تو اس میں اربوں سال لگ سکتے ہیں۔

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پائے جانے والے سارے کے سارے سیارے بنجر نہیں ہو سکتے اور کہیں نہ کہیں زندگی موجود ہونے کا امکان ہے۔

7 زندگی کے آثار

لیکن دوربین سے دور دراز واقع سیاروں پر موجود زندگی کے آثار کیسے معلوم کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ دوربینیں اتنی طاقتور نہیں ہیں کہ دوسرے نظام ہائے شمسی کے سیاروں کی تصویر لے سکیں؟

ایک طریقہ ایسی گیسوں کا کھوج لگانا ہے جو جاندار پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کی فضا میں پائی جانے والی میتھین کا بڑا حصہ جانوروں کا پیدا کردہ ہے۔

8 سازگار خطہ

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زندگی کی تلاش کے لیے کسی ستارے کے گرد گھومنے والے ان سیاروں پر توجہ مرکوز کی جائے جو ایسے سازگار خطے میں آتے ہیں جو نہ زیادہ گرم ہو اور نہ زیادہ ٹھنڈا۔ ہماری زمین سورج کے گرد ایسے ہی خطے میں گردش کر رہی ہے۔

سائنس دانوں نے ہم سے قریب ترین ستارے پراکسیما سینٹوری کے گرد ایک ایسے ہی مدار کا پتہ چلایا ہے جہاں ایک سیارہ گھوم رہا ہے۔

9 شمسی بادبان

خلا میں طویل سفر کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ ایک انوکھا منصوبہ شمسی بادبان والے انجن کا ہے جو سورج سے خارج ہونے والی شمسی ہواؤں کے زور پر اسی طرح سے اڑ سکتا ہے جیسے بادبانوں والے بحری جہاز سمندر میں سفر کرتے ہیں۔

ایسے انجن والے جہاز اپنی رفتار بتدریج تیز کرتے رہتے ہیں اور بالآخر روشنی کی رفتار کے 20 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔

شمسی بادبان والے خلائی جہاز کو نزدیک ترین ستارے پروکسیما سینٹوری تک پہنچنے تک 20 سال لگیں گے، تاہم یہ ستارہ چونکہ زمین سے چار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، اس لیے وہاں سے ایک طرف کا سگنل آنے میں چار سال کا وقت درکار ہو گا۔

10 ذہین خلائی مخلوق

یہ تو عین ممکن ہے کہ کائنات میں کہیں نہ کہیں زندگی موجود ہو، لیکن اکثر ماہرین کے مطابق یہ زندگی بہت ابتدائی اور سادہ شکل میں ہو گی، جیسے زمین پر جراثیم وغیرہ۔

لیکن کیا کہیں انسان کی طرح یا انسان سے زیادہ ذہین خلائی مخلوق کا وجود ہو سکتا ہے اور اگر ہوا تو وہ کس ہیئت میں ہوں گے؟

زمین پر انسان کی ثقافت کی عمر دس ہزار برس سے زیادہ نہیں ہے، جب کہ جدید سائنس کی ابتدا صرف چند صدیاں قبل ہوئی۔ لیکن اگر کائنات میں کہیں ذہین مخلوق موجود ہوئی تو وہ ممکنہ طور پر انسانوں سے لاکھوں یا کروڑوں برس زیادہ ترقی یافتہ ہو گی۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ حیاتیاتی وجود پر انحصار نہ کرتے ہوں اور مکمل طور پر روبوٹوں کا روپ دھار چکے ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر انھیں کسی سازگار خطے میں رہنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

البتہ توانائی حاصل کرنے کے لیے پھر بھی انھیں کسی ستارے یا پھر بلیک ہول کے قریب رہنے کی ضرورت پڑے گی۔

08/10/2022

Parts of a Flowering Plants

>Roots
>Stem
>Leaves
>Flowers
>Fruits
>Seed

>Roots
The most important and underground part of a plant, which are collectively called the root system. They are the major part that anchors the plant firmly in the soil. They absorb water and minerals from the soil, synthesise plant growth regulators, and store reserve food material. The apical part of the root is covered by the root cap that protects the root apex.
The direct elongation of radicle leads to the formation of primary roots that grow inside the soil in dicots. It bears lateral roots that are known as secondary and tertiary roots.
In monocots, the primary root is replaced by a large number of roots because it is short-lived. In some plants such as Banyan tree, the roots arise from the parts of the plant and not from the radical. Such roots are known as adventitious roots.
A few plants that grow in swampy areas have roots growing vertically upwards to get oxygen for respiration. Such roots are known as pneumatophores.

>Stem
The stem is the part of the plant which is found above the ground. The bark of trees are brown in colour and younger stems are green in colour. It forms the basis of the shoot system and bears leaves, fruits and flowers. The region where the leaves arise is known as the node and the region between the nodes is known as the internode.
Stems arise from the plumule, vertically upwards to the ground. Initially, stems are usually weak and cannot stand straight. It eventually grows to become the toughest part of the plant called the trunk. The trunk is covered by a thick outer covering known as the bark. Overall stem provides a definite framework and structure to a plant, which later develops into a tree.
The stem provides support to the plant. They also protect the plant and help in vegetative propagation. A few underground stems such as potato and ginger are modified to store food.

The important functions of a stem include:
• A stem carries out a number of functions essential for various processes such as photosynthesis.
Provides a definite framework and structure to a plant which later develops into a tree.
• Support: Primary function of the stem is to hold up buds, flowers, leaves, and fruits to the plant. Along with the roots, a stem anchors the plants and helps them to stand upright and perpendicular to the ground.
• Transportation: It is the part which transports water and minerals from the root and prepared food from leaves to other parts of the plant.
• Storage: Stems are one of the storerooms of plants where the prepared food is stored in the form of starch. The stems of a few plants in the desert areas, such as Opuntia, get modified into thick, fleshy structures that store food and prevent excessive water loss due to transpiration.
• Reproduction: A few stems help in reproduction through vegetative propagation and also help to bear flowers and to produce fruits.

>Leaves
Leaves are the most important part of a plant. They contain chlorophyll that helps the plants to prepare their food using sunlight, carbon dioxide and water. A leaf consists of three main parts- petiole, leaf base and lamina.
The petiole keeps the leaf blade exposed to wind and cools the leaf.
The leaf base is a protruding part of a leaf.
The lamina of the leaf contains veins and veinlets that provide rigidity to the leaf blade and help in the transport of mineral nutrients.

Primarily, leaves have three main functions:

• Photosynthesis:
Green leaves prepare food for plants by using water and carbon dioxide in the presence of sunlight. This process is called photosynthesis.
• Transpiration:
Other than photosynthesis, leaves play a crucial role in the removal of excess of water from plants through tiny pores called stomata. This is the process of transpiration.
• Reproduction:
Leaves of some plants helps in reproduction also. For e.g. leaves of Bryophyllum give rise to a new Bryophyllum plant.

>Flowers
Flowers are the most beautiful and colourful part of a plant. They are the reproductive part of a plant. A flower has four major parts, namely,

>Petals
It is the colourful part of a flower which attracts insects and birds.
Sepals: Sepals are green leafy parts present under petals and protect the flower buds from damage.
Stamens: This is the male part of the flower consisting of anther and filament.
Pistil: This is the female part of the flower consisting of stigma, style and o***y.

>Fruits
Fruits are the main features of a flowering plant. It is a matured o***y that develops after fertilisation. Some fruits are developed without fertilization and are known as parthenocarpic fruits and the process is known as Parthenocarpy.

>Seed
Seed refers to the fertilized, matured ovule that contains an embryonic plant, stored material and a protective coat or coats.

22/09/2022

💥SOME IMPORTANT LINKS FOR PMDCAT👩🏻‍⚕️👨🏻‍⚕️

👉🏼 *Check Out The Given Link and Download The Desired Material🤗*

*FOR MOST TRUSTED SERIES FOR NMDCAT CHECK OUT LINKs*

*Step 2021 books*
https://drive.google.com/folderview?id=1OuRxn8IfJqCrzDdVM3GmwuXDv6fQkK8r

*Kips 2021 Books*
https://drive.google.com/folderview?id=1NLHWGrvHnZtweegiHDcVHe_vA5TbaEt3

*Kips Old Books*
https://drive.google.com/folderview?id=1mR3_CqmpFXnjLainb4fXB3-rLAYlpVqt

*Dogars books*
https://drive.google.com/folderview?id=1j-RieJ-FYDy2uI7xJQvrM_zwjEc4cxm8

*Stars*
https://drive.google.com/folderview?id=1QFjwzpWm02qxGda2ZPbj6pADAU7A3T4J

*Grip books*
https://drive.google.com/folderview?id=1MHTdyUn5Rg4iYliiGSDWKF-GOq7YePbj

*Grip 12000 mcqs question bank*
https://drive.google.com/folderview?id=19Y3JHta29PW6E12dT_xJq0voxOcKAiIz

*Books by anees Hussain*
https://drive.google.com/folderview?id=14WP4PFHXhzDJL-SqJAqkl36V_oxLlIzf

*AKU material*
https://drive.google.com/folderview?id=1syRnqyWH__bML5-87c3HvawGFQN64L55

*AIDE notes*
https://drive.google.com/folderview?id=16kapOowxJmaUT3OHF975yWnbOUvSbU7a

*BOM series*
https://drive.google.com/folderview?id=1eFJZjPlQmFfbfJrGENx2rCXMgIYMei8x

*Champion series*
https://drive.google.com/folderview?id=1X-dxIor4_pIZpYjNdotYzStXmhAQZa7Q

*Era books*
https://drive.google.com/folderview?id=1-rQjtjIDc8nAXQEJNk7DrRxVO2aqYyhi

*Genius series*
https://drive.google.com/folderview?id=12SEf2OX8hHmd3WU3Rrtk0oN8yrpc02PF

*Golden series*
https://drive.google.com/folderview?id=1mEXATg4xKnRV5N96KZ6PRuEYRmzEMhKQ

*ICA books*
https://drive.google.com/folderview?id=1rpNh2g13HiOvVUjWgm4TuV_-eub1BJZB
Mm academy books
https://drive.google.com/folderview?id=1Bd2XU6Qnn7DQUJtBhsGy10qRDqnKOBiO

*Nearpeer books*
https://drive.google.com/folderview?id=16OqqcPwDRYaQOvhyFNb7O1MtjJ5Bb8CP

*NUMS*
https://drive.google.com/folderview?id=1n-y2aAvP72LRbADmyDL55UvKlGiRr-Pl

*Qca books*
https://drive.google.com/folderview?id=1zU2PoxljVPUvejm_Z01rdqUfn1jpP3wq

*Past papers*
https://drive.google.com/folderview?id=1Trl0sQp5OHIImQDdYAr5yqO3eRVGH9sS

*Redspot books*
https://drive.google.com/folderview?id=1GciozSGWWWsO8r6NM_fLYRtCWxlTaAt6
Books by Salman ul Waheed
https://drive.google.com/folderview?id=1Y7w8FNxDFW4NXAIeD3ilv0KXPZvCr6

22/09/2022

*👨🏻‍💻علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کی ویب سائٹ کے لنکس درج ذیل ہیں انکو نوٹ کرلیں کسی بھی مسئلہ کی صورت میں ان لنکس کو استعمال کریں! 👇🏻🔥

💁🏻‍♀️Some Useful Links For AIOU Students😊

1. Main Website

https://aiou.edu.pk

2. Admission Confirmation

https://aiou.edu.pk/Admission.asp

3. Admission Objections

http://adms.aiou.edu.pk/objections/ssearch.php

4. Book Dispatch Status

http://adms.aiou.edu.pk/mlg/

5. Application Tracking System

http://adms.aiou.edu.pk/gen_search.php

6. Tutor Information

https://aiou.edu.pk/ProcessTutor.asp

7. Workshop Schedule

https://aiou.edu.pk/Workshop.asp

8. Results

http://result.aiou.edu.pk

9. Date Sheet

https://aiou.edu.pk/datesheet.asp

10. Roll Number Slip

https://aiou.edu.pk/rollnoslip.asp

11. Assignment Marks

http://result.aiou.edu.pk/Assignments.asp

12. Provisional Certificate

http://result.aiou.edu.pk/Completer.asp

13. Degree Tracking System

http://dts.aiou.edu.pk

14. Assignment Schedule

https://aiou.edu.pk/Tutorial%20Schedules.asp

15. Assignment Question Paper

https://aiou.edu.pk/assg.asp

16. Change Of Workshop Center

https://aiou.edu.pk/

Want your school to be the top-listed School/college in Muzaffarabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Muzaffarabad
13100