29/12/2023
آج لٹریری سوسائٹی جامعہ کشمیر لٹریری سرکل کی پہلی نشست ہوئی جس میں موضوع انتہاپسندی،وجوہات اور اس کا حل، پر بحث کی گئی۔
معاشرے میں انتہا پسندی ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہے۔
ہمارا معاشرہ بارود کے ڈھیر پر پہنچ چکا ہے۔
لاپروائی کی ذرا سی تیلی اس کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتی ہے۔
اس روز افزوں انتہا پسندی کی درج ذیل وجوہات ہیں:
* وسائل کی غیر مساوی تقسیم
* غیر اخلاقی طرزسیاست
* مذہبی جتھوں کا راج
* مسلکی منافرت کی آزادی
* سیکولر اپروچ کی عدم دستیابی
* جمہوری قدروں کا فقدان
* غیر معیاری نظام تعلیم
من درج بالا عناصر کی وجہ سے معاشرے کے افراد ایک ذہنی بے چینی اور مالیخولیا کا شکار ہیں۔
چڑچڑاہٹ مزاج کا اجتماعی حصہ بن چکی ہے۔
حصول اقتدار کے لیے سیاسی رہنما خود ہی اپنے اپنے پجاریوں کو شدت پسندی پر اکساتے ہیں
اور لوگوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے منتشر رکھنے والے مختلف دھڑوں میں تقسیم کر کے آپس میں لڑاتے ہیں تاکہ ہم ایک قوم کی بہ جائے بے ہنگم جھتوں کا اہک ہجوم بن جائیں۔
اس سب کے تدارک کے لیے سخت حکومتی پالیسی بنانا ہو گی۔
انتشار افزوں طاقتوں اور عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا۔
منافرت انگیز تقریریں کرنے والوں کو لمبے عرصے تک جیل میں بھیجنا ہو۔
یکساں تعلیمی پالیسی بنانا ہو گی۔
ملائیت کے جبر کو لگام دینا ہو گی۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔
اور سب سے بڑھ کر ان جمہوری روایات کو فروغ دینا ہو گا جن پر چل کر مغربی معاشرے ترقی کے بام پر ٹہل رہے ہیں اور ہم ان کی اترن ملنے کی آس میں جی رہے ہیں۔