اللہ سے ھوتا ھے

اللہ سے ھوتا ھے . 🌹📖☝️🕋☝️📖🌹
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

،🌹🌹🌹   !!!صرف" ، نماز ، روزہ  ھی عبادت نہیں         بلکہ لوگوں کی عزتوں پر حملے سے باز رہنا بھی عبادت ھے ؛    پس رات کو ...
05/08/2026

،🌹🌹🌹
!!!
صرف" ، نماز ، روزہ ھی عبادت نہیں

بلکہ لوگوں کی عزتوں پر حملے سے باز رہنا بھی عبادت ھے ؛
پس رات کو قیام کرنے والا اور دن کو روزہ رکھنے والا، اگر اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا تو روز قیامت مفلس ہو گا
💖💖💖

 مفہوم حدیث ھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰه علیہ آلہ  وسلّم ایک قبر کے پاس رکے... پھر فرمایا: یہ قبر اپنے رہنے والے کو دبارہی...
03/08/2026


مفہوم حدیث ھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰه علیہ آلہ وسلّم ایک قبر کے پاس رکے... پھر فرمایا: یہ قبر اپنے رہنے والے کو دبارہی ہے ، اگر کوئی اس سے بچ سکتا تو سعد بن معاذ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنه بچ جاتے۔ ” یہ سن کر صحابہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم کے دل کانپ اٹھے۔

سعد بن معاذ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنه وہ عظیم صحابی تھے جن کی وفات پر اللہ کا عرش بھی ہل گیا تھا، مگر قبر کی سختی سے وہ بھی مکمل محفوظ ، نہ رہ سکے۔

سوچو جب ایک ایسا صحابی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنه جس کے جنازے میں فرشتے شریک ہوئے، اُسے بھی قبر کا پہلا جھٹکا محسوس ہوا، تو ہم جیسے گناہگاروں کا کیا حال ہو گا وہاں؟
قبر صرف مٹی نہیں ... یہ آخرت کا پہلا دروازہ ہے ، جہاں انسان کا مال، شہرت اور طاقت ختم ہو جاتی ہے، اور صرف اعمال اُس کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
💖💖💖

.     💙💕🌹🌸 بسْمِﷲِالرَّحمٰن الرَّحِيم​🌸🌹💕💙   🌻🌺اَلسَّلَامُ عَلَیْڪُــمُ وَرَحْــمَةُ اللّٰــہِ وَبَرَڪَــــاتُہْ🌺🌻      ...
03/08/2026

. 💙💕🌹🌸 بسْمِﷲِالرَّحمٰن الرَّحِيم​🌸🌹💕💙

🌻🌺اَلسَّلَامُ عَلَیْڪُــمُ وَرَحْــمَةُ اللّٰــہِ وَبَرَڪَــــاتُہْ🌺🌻

🇵🇰🗓 ✒آج کا کلینڈر 🌐🇵🇰


🔖*19 صفر۔ 1448ھجری*💎

🔖*18 ساون 2083بکرمی*💎

🔖*03 اگست 2026عیسوی*💎

🌇 *بروز سوموار Monday*🌄

💐🌴ارشاد باری تعالیٰ ھے🌴💐

☝🍂القــــــــــــــــــــــــران الکریم🍂☝

🌷💕🌷اعوذُ بِااللّٰہِ مِنَ الشَیطانِ الرَّجِیم🌷💕🌷
🌹🌹بِسمِ اللّٰــــــــــــــــــہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم🌹🌹

يٰسٓ ۞ وَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَكِيۡمِ ۞ اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَۙ ۞ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍؕ‏ ۞ تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ ۞ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ۞ لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰٓى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞ اِنَّا جَعَلۡنَا فِىۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا فَهِىَ اِلَى الۡاَ ذۡقَانِ فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ۞ وَجَعَلۡنَا مِنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَيۡنٰهُمۡ فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ۞ وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞ اِنَّمَا تُنۡذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ وَخَشِىَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِۚ فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ۞ اِنَّا نَحۡنُ نُحۡىِ الۡمَوۡتٰى وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَاٰثَارَهُمۡؕؔ وَكُلَّ شَىۡءٍ اَحۡصَيۡنٰهُ فِىۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ  ۞

ترجمہ:
یٰس ۞ قسم ہے اس پکے قرآن کی ۞ تو تحقیق ہے بھیجے ہوؤں میں سے ۞ اوپر سیدھی راہ کے ۞ اتارا زبردست رحم والے نے ۞ تاکہ تو ڈرائے ایک قوم کو کہ ڈر نہیں سنا ان کے باپ دادوں نے سو ان کو خبر نہیں ۞ ثابت ہوچکی ہے بات ان میں بہتوں پر سو وہ نہ مانیں گے ۞ ہم نے ڈالے ہیں ان کی گردنوں میں طوق سو وہ ہیں تھوڑیوں تک پھر ان کے سر الل رہے ہیں ۞ اور بنائی ہم نے ان کے آگے دیوار اور پیچھے دیوار پھر اوپر سے ڈھانک دیا سو ان کو کچھ نہیں سوجھتا ۞ اور برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے یقین نہیں کریں گے ۞ تو تو ڈر سنائے اس کو جو چلے سمجھائے پر اور ڈرے رحمن سے بن دیکھے سو اس کو خوشخبری دے معافی کی اور عزت کے ثواب کی ۞ ہم ہیں جو زندہ کرتے ہیں مردوں کو اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے اور ہر چیز گن لی ہم نے ایک کھلی اصل میں۔۞ ؏

🌷📖✨سورة یایسین 1تا 12 ✨📖🌷
❤🥀🌸❤🥀🌸❤🌸❤🥀🌸❤🥀🌸❤️

معارف الحدیث ۔ کتاب: کتاب الرقاق
باب: موت اور آخرت کی تیاری کرنے والے ہی ہوشیار اور دور اندیش ہیں
حدیث نمبر: 146

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ : اے اللہ کے پیغمبر ! بتلائیے کہ آدمیوں میں کون زیادہ ہوشیار اور دور اندیش ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : وہ جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہے ، اور موت کے لئے زیادہ سے زیادہ تیاری کرتا ہے جو لوگ ایسے ہیں وہی دانشمند اور ہوشیار ہیں ، انہوں نے دنیا کی عزت بھی حاصل کی ، اور آخرت کا اعزاز و اکرام بھی ۔ (معجم صغیر للطبرانی)

»>تشریحتشریح<
جن لوگوں کو آخرت اور حساب کتاب کی کچھ فکر ہوتی ہے ، اور جو اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے ڈرتے ہیں ، وہ کبیرہ یعنی بڑے گناہوں سے بچنے کا تو عام طور سے اہتمام کرتے ہیں ، لیکن جو گناہ ہلکے اور صغیرہ سمجھے جاتے ہیں ، ان کو خفیف اور معمولی سمجھنے کی وجہ سے اللہ کے بہت سے خدا ترس بندے بھی ان سے بچنے کی فکر زیادہ نہیں کرتے ، حالانکہ اس حیثیت سے کہ وہ گناہ ہیں ، اور ان کے کرنے میں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے ، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بھی باز پرس ہونی ہے ، ہمیں ان سے بچنے کی بھی پوری پوری فکر اور کوشش کرنی چاہئے ، اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو یہی نصیحت فرمائی ہے اگرچہ اس کی خاص مخاطب حضرت عائشہ صدیقہؓ ہیں لیکن درحقیقت یہ انتباہ اور یہ ہدایت و نصیحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی امت کے سب مردوں اور عورتوں کے لیے ہے ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص گھر والوں کو بھی اس فکر اور احتیاط کی ضرورت ہے ، تو ہما شما کے لئے اس میں غفلت اور بے پروائی کی کیا گنجائش ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صغیرہ گناہ اگرچہ کبیرہ کے مقابلہ میں صغیرہ ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہونے کی حیثیت سے اور اس حیثیت سے کہ آخرت میں اس کی بھی باز پرس ہونے والی ہے ہرگز صغیرہ اور ہلکا نہیں ہے ، دونوں میں بس اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ زیادہ زہریلے اور کم زہریلے سانپوں میں ہوتا ہے ، پس جس طرح کم زہر والے سانپ سے بھی ہم بچتے ہیں اور بھاگتے ہیں ، اسی طرح ہمیں صغیرہ گناہوں سے بھی اپنے کو بچانے اور محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے ، یہی اس حدیث کا منشا اور مقصد ہے ۔
💦 ⚜💦⚜💦⚜💦

اَللَّهُمَّ صل وسلم و على نبيّنا مُحمد و على محمد

💥شیٸر ضرور کریں💥
اچھی بات دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ھے
💖💖💖
https://www.facebook.com/Allahsehota/

.  💜💕🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌹💕💜          ⛲💦 *بِسمِ اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحِيم* 💦⛲          ...
31/07/2026

. 💜💕🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌹💕💜

⛲💦 *بِسمِ اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحِيم* 💦⛲

🇵🇰 📝 *آج کا کیلینڈر* ✒🌤

🔖 *16 صفر المظفر 1448ھ*💎

🔖 *31* جولاٸی 2026ء*💎

🔖 *15* ساون 2083ب*💎

🌠 *بروز جمعۃ الطیبه Friday * 🌅

🌷💎 اللّٰـــــه تعالی کا پیغام 💎🌷
🌷💕🌷اعوذُ بِااللّٰہِ مِنَ الشَیطانِ الرَّجِیم🌷💕🌷

🌹🌹بِسمِ اللّٰـــــه الرَّحمٰنِ الرَّحِیم🌹🌹

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِىَ لِلصَّلٰوةِ مِنۡ يَّوۡمِ الۡجُمُعَةِ فَاسۡعَوۡا اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَا۟ اۨنْفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا وَتَرَكُوۡكَ قَآئِمًا‌ ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ‌ ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ  ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کی یاد کو اور چھوڑ دو خریدو فروخت یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے ۞ پھر جب تمام ہوچکے نماز تو پھیل پڑو زمین میں اور ڈھونڈو فضل اللہ کا اور یاد کرو اللہ کو بہت سا تاکہ تمہارا بھلا ہو ۞ اور جب دیکھیں سودا بکتا یا کچھ تماشا متفرق ہوجائیں اس کی طرف اور تجھ کو چھوڑ جائیں کھڑا تو کہہ جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے تماشے سے اور سوداگری سے اور اللہ بہتر ہے روزی دینے والا۔۞ ؏

القرآن - سورۃ نمبر 62 الجمعة.. آیت نمبر 9-11
💜💕💐💜💕💐💜💕💐💜💕💐💜

معارف الحدیث .. کتاب: کتاب الصلوٰۃ
باب: جمعہ کے دن کا خصوصی وظیفہ درود شریف
حدیث نمبر: 706

حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جمعہ کا دن افضل ترین دنوں میں سے ہے ، اسی میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی ، اسی میں ان کی وفات ہوئی ، اسی میں قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور اسی میں موت اور فنا کی بیہوشی اور بے حسی ساری مخلوقات پر طاری ہو گی ۔ لہذا تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو ، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے اور پیش ہوتا رہے گا “ ۔صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! (آپ کے وفات فرما جانے کے بعد) ہمارا درود آپ پر کیسے پیش ہو گا ، آپ کا جسد اطہر تو قبر میں ریزہ ریزہ ہو چکا ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے جسموں کو زمین پر حرام کر دیا ہے ۔ (یعنی موت کے بعد بھی ان کے اجسام قبروں میں بالکل صحیح سالم رہتے ہیں ، زمین ان میں کوئی تغیر پیدا نہیں کر سکتی) ۔ (سنن ابی داؤد ، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ ، مسند دارمی ، دعوات کبیر للبیہقی)

تشریح
فرمایا گیا ہے کہ اس مبارک اور محترم دن میں درود زیادہ پڑھنا چاہئے ، گویا جس طرح رمضان المبارک کا خاص وظیفہ تلاوت قرآن پاک ہے اور اس کو رمضان المبارک سے خاص مناسبت ہے اور جس طرح سفر حج کا خاص وظیفہ تلبیہ لبيك اللهم لبيك...... ہے ، اسی طرح جمعہ کے مبارک دن کا خاص وظیفہ اس حدیث کی رو سے درود شریف ہے ، جمعہ کے دن خصوصیت سے اس کی کثرت کرنی چاہئے ۔

وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی پیشی اور مسئلہ حیات انبیاءؑ
درود شریف کی کثرت کا حکم دیتے ہوئے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا انتظام ہے کہ امت کا درود میرے پاس پہنچایا جاتا ہے اور میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور یہ انتظام اس دنیا سے میرے جانے کے بعد بھی اسی طرح قائم رہے گا (بعض دوسری حدیثوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتے پہنچاتے ہیں) اس پر بعض صحابہ کرامؓ کے دل میں یہ سوال پیدا ہو ا کہ اس وقت تک جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رونق افروز ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملائکہ کا آنا اور درود وغیرہ پہنچانا اور پیش کرنا معلوم ہے اور سمجھ میں آتا ہے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں دفن کر دئیے جائیں گے اور عام طبعی قانون کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک زمین کے اثر سے ریزہ ریزہ ہو جائے گا تو پھر درود شریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کیسے پیش کیا جا سکے گا ؟ انہوں نے یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ کے خاص حکم سے پیغمبروں کے اجسام ان کی وفات کے بعد قبروں میں جوں کے توں محفوظ رہتے ہیں ، زمین ان پر اپنا عام طبعی عمل نہیں کر سکتی ، یعنی جس طرح دنیا میں خاص تدبیروں اور دواؤں سے موت کے بعد بھی اجسام کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت اور خاص حکم سے پیغمبروں کی وفات کے بعد ان کے جسموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قبروں میں محفوظ کر دیا ہے اور وہاں ان کو ایک خاص قسم کی حیات حاصل رہے گی (جو اس عام کے قوانین کے مطابق ہو گی) اس لئے درود کے پہنچنے اور پیش کئے جانے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا ۔
💚🌼💐🌻🌼🌺💚🌺💐🌻🍀🌼💚

معارف الحدیث .. کتاب: کتاب الصلوٰۃ . حدیث نمبر: 708
باب: نماز جمعہ کی فرضیت اور خاص اہمیت

طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہر مسلمان پر لازم اور واجب ہے ۔ اس وجوب سے چار قسم کے آدمی مستثنیٰ ہیں : ایک غلام جو بے چارہ کسی کا مملوک ہو ، دوسرے عورت ، تیسرے لڑکا جو ابھی بالغ نہ ہوا ہو ، چوتھے بیمار ۔ (سنن ابی داؤد)

🎋🍄🌾🌺🎋🍄🌾🌺🎋🍄🌾🌺🎋

معارف الحدیث .کتاب: کتاب الصلوٰۃ . حدیث نمبر: 712
باب: نماز جمعہ کا اہتمام اور اس کے آداب

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے اور جہاں تک ہو سکے صفائی پاکیزگی کا اہتمام کرے ، اور جو تیل خوشبو اس کے گھر ہو وہ لگائے ، پرھ وہ گھر سے نماز کے لئے جائے اور مسجد میں پہنچ کر اس کی احتیاط کرے کہ جو دو آدمی پہلے سے ساتھ بیٹھے ہوں ان کے بیچ نہ بیٹھے ، ھر جو نماز یعنی سنن و نوافل کی جتنی رکعتیں اس کے لئے مقدر ہوں وہ پڑھے ، پھر جب امام خطبہ دے تو توجہ اور خاموشی کے ساتھ اس کو سنے ، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کی اس کی ساری خطائیں ضرور معاف کر دی جائیں گی ۔ (صحیح بخاری)

💦 ⚜💦⚜💦⚜💦⚜💦

🌹✨🤲✨🌹
اے اللہ ہم تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتے ہیں جس کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سوال کیا اور ہر اس چیز سے پناہ مانگتے ہیں جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے پناہ مانگی، تو ہی مدد گار ہے، تو ہی خیر و شر پہنچانے والا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی ہمت بھی صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے

🌹💐آمین یارب کریم💐🌹
❤🌹❤🌹❤

اللَّهُمَّ صل وسلم و على نبيّنا مُحمد و على محمد

💥شیٸر ضرور کریں💥
اچھی بات دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ھے
💖💖💖

.  💜💕🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌹💕💜          ⛲💦 *بِسمِ اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحِيم* 💦⛲          ...
29/07/2026

. 💜💕🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌹💕💜

⛲💦 *بِسمِ اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحِيم* 💦⛲

🇵🇰 📝 *آج کا کیلینڈر* ✒🌤

🔖 *14 صفر المظفر 1448ھ*💎

🔖 *29* جولاٸی 2026ء*💎

🔖 *13* ساون 2083ب*💎

🌠 *بروز بدھ Wednesday * 🌅

🌷💎 اللّٰـــــه تعالی کا پیغام 💎🌷
🌷💕🌷اعوذُ بِااللّٰہِ مِنَ الشَیطانِ الرَّجِیم🌷💕🌷

🌹🌹بِسمِ اللّٰـــــه الرَّحمٰنِ الرَّحِیم🌹🌹

القرآن - سورۃ نمبر 68 القلم
آیت نمبر 42-52

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّيُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَۙ ۞ خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ ؕ وَقَدۡ كَانُوۡا يُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ وَهُمۡ سٰلِمُوۡنَ ۞ فَذَرۡنِىۡ وَمَنۡ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ‌ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَۙ ۞ وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡ‌ؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ ۞ اَمۡ تَسۡئَـلُهُمۡ اَجۡرًا فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ‌ۚ ۞ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ ۞ فَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنۡ كَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ‌ۘ اِذۡ نَادٰى وَهُوَ مَكۡظُوۡمٌؕ‏ ۞ لَوۡلَاۤ اَنۡ تَدٰرَكَهٗ نِعۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُوۡمٌ‏ ۞ فَاجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞ وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ‌ۘ ۞ وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ  ۞

ترجمہ:
جس دن کہ کھولی جائے پنڈلی اور وہ بلائے جائیں سجدہ کرنے کو پھر نہ کرسکیں ۞ جھکی پڑتی ہوں گی ان کی آنکھیں چڑھی آتی ہوئی ان پر ذلت اور پہلے ان کو بلاتے رہے سجدہ کرنے کو اور وہ تھے اچھے خاصے ۞ اب چھوڑ دے مجھ کو اور ان کو جو کہ جھٹلائیں اس بات کو اب ہم سیڑھی سیڑھی اتاریں گے ان کو جہاں سے ان کو پتہ بھی نہیں ۞ اور ان کو ڈھیل دیئے جاتا ہوں بیشک میرا داؤ پکا ہے ۞ کیا تو مانگتا ہے ان سے کچھ حق سو ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ۞ کیا ان کے پاس خبر ہے غیب کی سو وہ لکھ لاتے ہیں ۞ اب تو استقلال سے راہ دیکھتا رہ اپنے رب کے حکم کی اور مت ہو جیسا وہ مچھلی والا جب پکارا اس نے اور وہ غصہ میں بھرا تھا ۞ اگر نہ سنبھالتا اس کو احسان تیرے رب کا تو پھینکا گیا ہی تھا چٹیل میدان میں الزام کھا کر ۞ پھر نوازا اس کو اس کے رب نے پھر کردیا اس کو نیکوں میں ۞ اور منکر تو لگ ہی رہے ہیں کہ پھسلا دیں تجھ کو اپنی نگاہوں سے جب سنتے ہیں قرآن اور کہتے ہیں وہ تو باؤلا ہے ۞ اور یہ قرآن تو یہی نصیحت ہے سارے جہاں والوں کو۔۞

💜💕💐💜💕💐💜💕💐💜💕💐💜
معارف الحدیث
کتاب: کتاب الفتن
باب: دولت تعیش اور حب دنیا کا فتنہ
حدیث نمبر: 1940

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْهِ إِلاَّ بُرْدَةٌ لَهُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَى لِلَّذِي كَانَ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالَّذِي هُوَ الْيَوْمَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَى وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَى الْمُؤْنَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ. (رواه الترمذى)

ترجمہ:
محمد بن کعب قرضی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک ایسے صاحب نے مجھ سے بیان کیا جنہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہٗ سے خود (یہ واقعہ) سنا تھا کہ ہم لوگ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر (رضی اللہ عنہٗ) اس حالت اور ہیئت میں سامنے آ گئے کہ ان کے جسم پر بس ایک (پھٹی پرانی) چادر تھی جس میں کھال کے ٹکڑوں کے پیوند لگے ہوئے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو (اس حالت اور ہیئت میں) دیکھا تو آپ کو رونا آ گیا ان کا وہ وقت یاد کرکے جب وہ (اسلام لانے سے پہلے مکہ میں) عیش و تنعم کی زندگی گزارتے تھے اور ان کی (فقر و فاقہ کی) موجودہ حالت کا خیال کرکے ..... اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا کہ (بتلاؤ) اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی اور کیا حال ہوگا جب (دولت اور سامان تعیش کی ایسی فراوانی ہوگی کہ) تم میں کے لوگ صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلیں گے اور شام کو دوسرا جوڑا پہن کر، اور (کھانے کے لئے) ان کے آگے ایک پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے مکانوں کو اس طرح لباس پہناؤ گے جس طرح کعبۃ اللہ پر غلاف ڈالا جاتا ہے (آپ کے اس سوال کے جواب میں حاضرین مجلس میں سے کچھ) لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت ہمارا حال اس وقت آج کے مقابلے میں بہت اچھا ہوگا ہمیں اللہ کی عبادت کے لیے پوری فراغت اور فرصت حاصل ہوگی (معاش وغیرہ کے لئے) محنت و مشقت اٹھانی نہیں پڑے گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں! تم آج (فقر و فاقہ کے اس دور میں عیش و تنعم والے) اس دن کے مقابلہ میں بہت اچھے ہو۔ (جامع ترمذی)

تشریح
حدیث کے راوی محمد بن کعب قرضی تابعی ہیں جو علم قرآن اور صلاح و تقوی کے لحاظ سے اپنے طبقہ میں ممتاز تھے انہوں نے اس راوی کا نام ذکر نہیں کیا جنہوں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے یہ واقعہ ان کو سنایا تھا لیکن ان کا اس طرح روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ راوی انکے نزدیک ثقہ اور قابل اعتماد ہے۔
مصعب بن عمیرؓ کی صحابہ کرامؓ میں ایک خاص شان اور تاریخ تھی وہ بڑے ناز پروردہ ایک رئیس زادے تھے ان کا گھرانہ مکہ کا بڑا دولت مند گھرانہ تھا اور یہ اپنے گھر کے بڑے لاڈلے چہیتے تھے اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی زندگی امیرانہ اور عیش و تنعم کی زندگی تھی پھر اسلام لانے کے بعد زندگی کا رخ بالکل بدل گیا اور وہ حال ہوگیا جو اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ایک پھٹی پرانی چادر ہی جسم پر تھی جس میں جابجا چمڑے کے ٹکڑوں کے بھی پیوند تھے ان کو اس حالت اور ہیئت میں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے ان کی عیش و تنعم والی امیرانہ زندگی کا نقشہ آ گیا اور آپ کو رونا آگیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے ان سے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس یعنی میری امت کے پاس عیش و تنعم کے سامان کی فراوانی ہو گی ایک آدمی صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلے جا اور شام کو دوسرا جوڑا اسی طرح دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوا کریں گے بتلاؤ تمہارا کیا خیال ہے وہ وقت تمہارے لیے کیسا ہوگا؟ کچھ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت وہ وقت اور وہ دن تو بہت ہی اچھا ہوگا ہمیں فراغت اور فرصت ہی فرصت ہو گی بس اللہ کی عبادت کیا کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا یہ خیال صحیح نہیں ہے آج تم جس حال میں ہو یہ آئندہ آنے والے عیش و تنعم کے حال سے بہت بہتر ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت بیان فرمائی تھی اس وقت تو “ایمان بالغیب” ہی کی طور پر اس پر یقین کیا جاسکتا تھا لیکن پہلے بنو امیہ اور بنو عباس کے دور حکومت میں اور بعد کی اکثر دوسری مسلم حکومتیں کے دور میں بھی اور آج کی ان مسلم حکومتوں میں جن کو اللہ تعالی نے عیش و تنعم کا سامان انتہائی فراوانی سے دے رکھا ہے یہ حقیقت آنکھوں سے دیکھ لی گئی ہے اور دیکھی جا رہی ہے بلاشبہ یہ اور اس طرح کی تمام پیشنگوئیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل میں سے ہیں۔
۔
💚🌼💐🌻🌼🌺💚🌺💐🌻🍀🌼💚

معارف الحدیث
کتاب: کتاب الفتن
باب: دولت تعیش اور حب دنیا کا فتنہ
حدیث نمبر: 1941

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا. فَقَالَ قَائِلٌ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ. فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهَنُ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ. (رواه ابوداؤد والبيهقى فى دلائل النبوة)

ترجمہ:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قریب ہے (ایسا زمانہ) کہ (دشمن) قومیں تمہارے خلاف (جنگ کرنے اور تم کو مٹا دینے کے لیے) ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں جس طرح کھانے والی جماعت کے آدمی کھانے کی لگن (تشت) کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں کسی عرض کرنے والے نے عرض کیا کہ کیا اس دن ہماری تعداد کی قلت کی وجہ سے ایسا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (نہیں) بلکہ تم اس وقت بڑی تعداد میں ہوگے لیکن تم سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح (بے جان اور بےوزن) ہوگے اور اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے دل سے تمھاری ہیبت نکال دے گا اور (اس کے برعکس) تمہارے دلوں میں “وہن” ڈال دے گا کسی عرض کرنے والے نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ “وہن” کا کیا مطلب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی محبت اور موت کی کراہت۔ (سنن ابی داود دلائل النبوۃ للبیہقی)

تشریح
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد نقل ہوا ہے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرمایا ہوگا اس وقت بلکہ اس کے کئی صدی بعد تک بھی حالات ایسے رہے کہ بظاہر دور دور تک اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا تھا کہ کبھی آپ صلی للہ علیہ وسلم کے امت کا ایسا حال بھی ہوگا اور وہ دشمن قوموں کے مقابلہ میں ایسی کمزور اور بے جان ہو جائے گی اور ان کے لیے نرم نوالہ بن جائے گی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا وہ واقع ہو کر رہا اور بار بار وقوع میں آیا اور آج بھی اس کے مظاہرے آنکھوں کے سامنے ہیں اور اس انقلاب حال اور انحطاط و زوال کا بنیادی سبب جیساکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہی ہے کہ اس دنیا اور یہاں کی زندگی سے ہم کو عشق ہو گیا اور موت (راہ خدا کی موت بھی) ہمارے لیے کڑوا گھونٹ بن گئی خدا کی قسم بلاشبہ ہماری اس حالت نے ہم کو دشمنوں کے لیے تر نوالہ بنا دیا ہے جیسا کہ اوپر عرض کیا جاچکا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی صرف پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ امت کو آگاہی ہے کہ “وہن” (یعنی حب دنیا اور کراہیت موت) کی بیماری سے قلوب کی حفاظت کی جائے۔

🎋🍄🌾🌺🎋🍄🌾🌺🎋🍄🌾🌺🎋

معارف الحدیث
کتاب: کتاب الفتن
باب: دولت تعیش اور حب دنیا کا فتنہ
حدیث نمبر: 1942

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهْرُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا وَإِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلاَءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا. (رواه الترمذى)

ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب (حالت یہ ہو کہ) تمہارے حکمران تم میں کے نیک لوگ ہیں اور تم میں کے دولت مندوں میں سماحت و سخاوت کی صفت اور تمہارے معاملات باہم مشورہ سے طے ہوتے ہیں تو (ایسی حالت میں) زمین کی پشت تمارے لیے اس کے بطن (پیٹ) سے بہتر ہے اور (اس کے برعکس) جب حالت یہ ہو کہ تمہارے حکمران تم میں کے بدترین لوگ ھوں اور تمہارے دولت مندوں میں (سماحت کے بجائے) بخل اور دولت پرستی آجائے اور تمہارے معاملات (بجائے اہل الرائے کی مشاورت کے) تمہاری عورتوں کی رایوں سے چلے تو (ایسی حالت میں) زمین کا بطن (پیٹ) تمہارے لئے اس کی پشت سے بہتر ہے۔ (جامع ترمذی)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کیا گیا تھا کہ امت کا حال ایک زمانے تک یہ رہے گا کہ ان کے حکمران اور عمال حکومت نیک اور اچھے لوگ ہونگے اور ان میں کے دولت مندوں میں سماحت کی صفت ہوگی یعنی وہ اللہ تعالی کی عطا فرمائی ہوئی دولت کو اخلاص و خوش دلی سے اچھے مصارف میں صرف کریں گے ان کے معاملات خاص کر حکومتی اور اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے ہوا کریں گے (یہ تین حالتیں اس بات کی علامت ہیں کہ امت کا اجتماعی حال اور مزاج اللہ و رسول کے احکام اور مرضیات کے مطابق ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امت کے لئے یہ زمانہ خیریت کا ہوگا اور اس دور کے یہ اہل ایمان اس کے مستحق ہونگے کہ اس دنیا میں اور اس زمین کی پشت پر رہیں خیر امت ہونے کی حیثیت سے دنیا کی ہدایت و قیادت کی ذمہ داری سنبھالیں اسی کے ساتھ آپ پر منکشف کیا گیا تھا کہ پھر ایک زمانہ آئے گا کہ امت کا حال اس کے بالکل برعکس ہو جائے گا۔
حکومت کی باگ اور سارا حکومتی نظام بدترین لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے گا اور مسلمانوں میں کے دولت مند لوگ سماحت و سخاوت کے بجائے دولت کے پجاری ہوجائیں گے اور اہم معاملات بجائے اسکے کے اہل الرائے کے باہمی مشورے سے طے کئے جائیں گھروالوں کی خواہشات اور ان کی رائے کے مطابق طے کیے جانے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروفساد کے اس زمانے کے بارے میں فرمایا کہ اس وقت یہ بگڑی ہوئی امت زمین کے اوپر چلنے اور رہنے بسنے سے زیادہ اس کے مستحق ہو گی کہ ختم ہو کر زمین کے پیٹ میں چلی جائے اور اس میں دفن ہوئے۔
جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا یہ حدیث شریف بھی صرف ایک پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ اس میں امت کو بڑی سخت آگاہی ہے کہ میری امت کو اللہ تعالی کی اس زمین پر رہنے اور چلنے پھرنے کا حق اس وقت تک ہے جب تک اس میں “خیر امت” والی ایمانی صفت رہیں لیکن جب وہ ان صفات سے محروم ہوجائے اور اسکی زندگی میں شر و فساد آ جائے تو وہ اس کی مستحق ہوگی کی ختم ہو کر زمین میں دفن ہو جائے۔

💦 ⚜💦⚜💦⚜💦⚜💦

اے اللہ ، مجھے گناہ اور خطا سے پاک فرما ، اے اللہ مجھے اس سے پاک کردے جیسے ایک سفید لباس گندگی سے پاک ہو ، اے اللہ مجھے برف اور اولے اور ٹھنڈے پانی سے پاک کردے
🌹💐آمین یارب کریم💐🌹
❤🌹❤🌹❤

اللَّهُمَّ صل وسلم و على نبيّنا مُحمد و على محمد

💥شیٸر ضرور کریں💥
اچھی بات دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ھے
💖💖💖

.  💜💕🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌹💕💜          ⛲💦 *بِسمِ اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحِيم* 💦⛲          ...
27/07/2026

. 💜💕🌹اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌹💕💜

⛲💦 *بِسمِ اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحِيم* 💦⛲

🇵🇰 📝 *آج کا کیلینڈر* ✒🌤

🔖 *12 صفر 1448ھ*💎

🔖 *27* جولاٸی 2026ء*💎

🔖 *10* ساون 2083ب*💎

🌠 *بروز سوموار Monday * 🌅

🌷💎 اللّٰـــــه تعالی کا پیغام 💎🌷
🌷💕🌷اعوذُ بِااللّٰہِ مِنَ الشَیطانِ الرَّجِیم🌷💕🌷

🌹🌹بِسمِ اللّٰـــــه الرَّحمٰنِ الرَّحِیم🌹🌹

قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا مَنۡۢ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَاۘؔ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ۞ اِنۡ كَانَتۡ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ۞ فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡــئًا وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞ اِنَّ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ الۡيَوۡمَ فِىۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ‌ۚ ۞ هُمۡ وَاَزۡوَاجُهُمۡ فِىۡ ظِلٰلٍ عَلَى الۡاَرَآئِكِ مُتَّكِــئُوۡنَ ۞ لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ‌ ۞ سَلٰمٌ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ۞ وَامۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:
کہیں گے اے خرابی ہماری کس نے اٹھا دیا ہم کو ہماری نیند کی جگہ سے یہ وہ ہے جو وعدہ کیا تھا رحمن نے اور سچ کہا تھا پیغمبروں نے ۞ بس ایک چنگھاڑ ہوگی پھر اسی دم وہ سارے ہمارے پاس پکڑے چلے آئیں ۞ پھر آج کے دن ظلم نہ ہوگا کسی جی پر ذرا اور وہی بدلہ پاؤ گے جو کرتے تھے ۞ تحقیق بہشت کے لوگ آج ایک مشغلہ میں ہیں باتیں کرتے ۞ وہ اور ان کی عورتیں سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہیں تکیہ لگائے ۞ ان کے لئے وہاں ہے میوہ اور ان کے لئے ہے جو کچھ مانیں ۞ سلام بولنا ہے رب مہربان سے ۞ اور تم الگ ہوجاؤ آج اے گنہگاروں ۞

🍂📖💐سورةیسین 36آیت نمبر52تا 59 💐📖🍂
💜💕💐💜💕💐💜💕💐💜💕💐💜
معارف الحدیث
کتاب: کتاب الایمان
باب: جنت میں دیدارِ الہٰی
حدیث نمبر: 127

عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى القَمَرِ لَيْلَةَ البَدْرِ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا القَمَرَ، لاَ تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلاَةٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَافْعَلُوا ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ». (رواه البخارى ومسلم)

ترجمہ:
جریر بن عبداللہ بجلی سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ (ایک رات کو) ہم رسول اللہ ﷺ کے پس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے چاند کی طرف دیکھا ، اور یہ چودھویں رات تھی (اور چودھویں کا چاند پوری آب و تاب کے ساتھ ، اور بھرپور نکلا ہوا تھا) پھر آپ نے ہم سے مخاطب ہو کر فرمایا ، کہ : ”یقیناً تم اپنے پروردگار کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے کہ اس چاند کو دیکھ رہے ہو ، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی کشمکش نہیں کرنی پڑے گی ، اور کوئی زحمت نہ ہو گی ، پس اگر تم یہ کر سکو ، کہ طلوع آفتاب سے پہلی نماز ، اور غروب آفتاب سے پہلی والی نماز کے مقابلے میں کوئی چیز کبھی تم پر غالب نہ آئے (یعنی کوئی مشغلہ اور کوئی دلچسپی اور آرام طلبی ان نمازوں کے وقت میں تمہیں اپن
ی طرف متوجہ نہ کر سکے) تو لازماً ایسا کرو (پھر ان شاء اللہ دیدارِ حق اور نظارہ جمالِ الہٰی کی نعمت ضرور تم کو نصیب ہو گی) اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی : “وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا” ۔ (اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو (یعنی اس کی تعریف بیان کرنے کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرو) سورج کے نکلنے سے پہلے ، اور اس کے ڈوبنے سے پہلے“۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
دنیا میں جب کسی حسین و جمیل چیز کے دیکھنے والے لاکھوں کروڑوں جمع ہو جائیں اور سب اس کے دیکھنے کے انتہائی درجہ میں مشتاق ہوں ، تو ایسے موقعوں پر عموماً بڑی کشمکش اور بڑی زحمت ہوتی ہے ، اور اس چیز کو اچھی طرح دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے ، لیکن چاند کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو مشرق و مغرب کے آدمی بغیر کسی کشمکش اور زحمت کے ، اور پورے اطمینان سے بیک وقت دیکھ سکتے ہیں ، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کی مثال سے سمجھایا ، کہ جنت میں حق تعالیٰ کا دیدار اسی طرح بیک وقت اس کے بے شمار خوش نصیب بندوں کو نصیب ہو گا ، اور کسی کو کشمکش اور زحمت سے سابقہ نہیں پڑے گا ، سب کی آنکھیں بڑے سکون و اطمینا سے وہاں جمالِ حق کے نظارہ کی لذت حاصل کریں گی ۔ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ ۔
آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے عمل کی طرف بھی توجہ دلائی جو بندہ کو اس نعمت (دیدارِ حق) کا مستحق بنانے میں خاص اثر رکھتا ہے ، یعنی فکر و عصر کی نمازوں کا خصوصیت سے ایسا اہتمام ، کہ کوئی مشغولیت اور کوئی دلچسپی ان نمازوں کے وقت میں اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے ، اگرچہ فرض تو پانچ نمازیں ہیں ، لیکن نصوص کتاب و سنت ہی سے مفہوم ہوتا ہے کہ ان دو نمازوں کو خاص اہمیت اور فضیلت حاصل ہے ،رسول اللہ ﷺ نے قرآنی آیت : “وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا” پڑھ کر ، ان دو نمازوں کی اسی خصوصیت اور فضیلت کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔
۔
💚🌼💐🌻🌼🌺💚🌺💐🌻🍀🌼💚

معارف الحدیث
کتاب: کتاب الایمان
باب: جنت میں دیدارِ الہٰی
حدیث نمبر: 128

عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ بَلَى قُلْتُ وَمَا آيَةُ ذَالِكَ ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ قَالَ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ» (رواه ابو داؤد)

ترجمہ:
ابو رزین عقیلی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا قیامت میں ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو اکیلا (بغیر بھیڑ بھاڑ اور کشمکش کے) دیکھ سکے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! دیکھ سکے گا ، میں نے عرض کیا : اور کیا اس کی کوئی نشانی اور مثال (ہماری اس دنیا میں بھی ہے) آپ نے فرمایا : اے ابو رزین ! کیا چودھویں رات کو تم میں سے ہر ایک چاند کو بجائے خود اور اکیلا بغیر بھیڑ بھاڑ کے نہیں دیکھتا؟ میں نے عرض کیا کہ : ہاں بے شک چاند کو تو ہم سب ہی اسی طرح دیکھتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ : وہ تو اللہ کی مخلوق ہے ، اور اللہ تو بڑی جلالت والا اور نہایت عظمت والا ہے (پھر اس کے لیے کیا چیز مشکل ہے) ۔ (ابو دؤد)

🎋🍄🌾🌺🎋🍄🌾🌺🎋🍄🌾🌺🎋
💦 ⚜💦⚜💦⚜💦⚜💦

اے اللہ! میری حفاظت فرما اسلام کے ساتھ کھڑے ہونے کی حالت میں اور بیٹھے ہونے کی حالت میں (یعنی میں کھڑے، بیٹھے اور سوتے ہر حال میں ایمان و اسلام کے ساتھ محفوظ رہوں) اور میرے دشمنوں اور حاسدوں کو تیرے کسی فیصلہ سے شماتت کا موقع نہ ملے اے اللہ! تیرے ہاتھ میں خیر کے جو خزانے ہیں میں تجھ سے ان کو مانگتا ہوں اور تیرے قبضہ میں جو شر ہے اس سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں
🌹💐آمین یارب کریم💐🌹
❤🌹❤🌹❤

اللَّهُمَّ صل وسلم و على نبيّنا مُحمد و على محمد

💥شیٸر ضرور کریں💥
اچھی بات دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ھے
💖💖💖

Address

Muzaffar
32400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اللہ سے ھوتا ھے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share