03/08/2026
مفہوم حدیث ھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰه علیہ آلہ وسلّم ایک قبر کے پاس رکے... پھر فرمایا: یہ قبر اپنے رہنے والے کو دبارہی ہے ، اگر کوئی اس سے بچ سکتا تو سعد بن معاذ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنه بچ جاتے۔ ” یہ سن کر صحابہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم کے دل کانپ اٹھے۔
سعد بن معاذ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنه وہ عظیم صحابی تھے جن کی وفات پر اللہ کا عرش بھی ہل گیا تھا، مگر قبر کی سختی سے وہ بھی مکمل محفوظ ، نہ رہ سکے۔
سوچو جب ایک ایسا صحابی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنه جس کے جنازے میں فرشتے شریک ہوئے، اُسے بھی قبر کا پہلا جھٹکا محسوس ہوا، تو ہم جیسے گناہگاروں کا کیا حال ہو گا وہاں؟
قبر صرف مٹی نہیں ... یہ آخرت کا پہلا دروازہ ہے ، جہاں انسان کا مال، شہرت اور طاقت ختم ہو جاتی ہے، اور صرف اعمال اُس کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
💖💖💖