Iqra Dar ul Atfal

Iqra Dar ul Atfal Iqra dar ul atfal Lilyani Main feroozpur road kasur Panjab Pakistan

24/04/2026

23/04/2026

"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ ❤️
آج کثرت سے درود شریف پڑھیں 🤲
👉 آمین لکھیں اور آگے شیئر کریں"

جمعۃ کے مبارک دن میں کرنے کے مبارک کام ۔
23/04/2026

جمعۃ کے مبارک دن میں کرنے کے مبارک کام ۔

04/04/2026
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ جل شانہ قیامت کے دن اس کی پردہ پو...
04/04/2026

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ جل شانہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے ۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ دری کرتا ہے اللہ جل شانہ اس کی پردہ دری فرمائیں گے ۔ حتیٰ کہ گھر بیٹھے اس کو رسوا کر دیتے ہیں ۔ ( رواہ ابن ماجہ )

08/02/2024

نیک و صالح حکمران کےلیے دعا مانگ لیجیئے۔
÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
لَا تُسَلِّط عَلَینَا مَن لَّایَرحَمُنَا (ترمذی)
اے اللہ! ہم پر ایسے حکمران مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کر یں ۔ آمین

08/02/2024

نیک و صالح حکمران کےلیے دعا مانگ لیجیے
÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
لَا تُسَلِّط عَلَینَا مَن لَّایَرحَمُنَا (ترمذی)
اے اللہ! ہم پر ایسے حکمران مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کر یں ۔

05/02/2024

5 فروری : یوم یکجہتی کشمیر
:::: مسئلہ کشمیر کا واحد حل ::::
ازقلم: مولانا زاہدالراشدی صاحب
ہم 5 فروری کو ایک بار پھر قومی سطح پر ”یوم یک جہتی کشمیر” منا رہے ہیں۔ یہ دن کشمیری بھائیوں کی حمایت اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کے اظہار کے لیے ایک عرصہ سے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن سرکاری تعطیل ہوگی، جلسے جلوس ہوں گے، اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ جبکہ اس دن حسن اتفاق سے جمعة المبارک ہے، علماء کرام خطبات جمعہ میں کشمیری بھائیوں کی حمایت اور آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کریں گے اور اجتماعات میں آزادیٔ کشمیر کے لیے دعائیں کی جائیں گی۔
کشمیر کو اپنے حسن، آب و ہوا اور سبزہ زاری کی وجہ سے جنت نظیر کہا جاتا ہے اور ایشیا کے سوئٹرزلینڈ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ خطہ جو صدیوں جموں و کشمیر اور اس کے ملحقات کے عنوان سے وحدت سے بہرہ ور تھا اب عملاً انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے، ایک حصہ پاکستان کے زیر انتظام ”آزاد ریاست جموں و کشمیر” کے نام سے اپنی حکومت، اسمبلی اور خود مختار عدالت رکھتا ہے، جبکہ تیسرا حصہ جو گلگت، بلتستان، سکردو اور ہنزہ وغیرہ پر مشتمل ہے، پاکستان ہی کے انتظام کے تحت انتظامی صوبہ کے طور پر اپنے الگ تشخص سے بہرہ ور ہو چکا ہے۔
یہ تینوں حصے بین الاقوامی دستاویزات و معاہدات کی رو سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بارہا اس خطہ کے عوام کا یہ حق تسلیم کر چکی ہے کہ انہیں استصواب رائے کے ذریعہ اپنے مستقبل کا اپنی آزادانہ رائے کے ساتھ خود فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ بلکہ اقوام متحدہ نے یہ استصواب رائے اپنی نگرانی میں کرانے کا وعدہ بھی کر رکھا ہے مگر اس بین الاقوامی معاہدہ اور عالمی وعدہ کو ساتواں عشرہ مکمل ہونے کے قریب ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔
کشمیری عوام اس وعدہ کی تکمیل اور اپنا یہ مسلمہ جائز حق حاصل کرنے کے لیے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر مسلسل مصروف پیکار ہیں۔ ہزاروں نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور اس جدوجہد میں اب چوتھی نسل آگے بڑھتی نظر آرہی ہے، لیکن اقوام متحدہ اور عالمی رائے عامہ کے وعدے سلامتی کونسل کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں اور اقوام متحدہ کی جس سلامتی کونسل نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں عوامی ریفرنڈم کرا کے انہیں الگ ریاستیں بنوانے میں عملی دل چسپی کا مظاہرہ کیا ہے، کشمیری عوام کو آزادانہ ریفرنڈم کا حق دلوانے میں اسے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ عالمی راہ نمائوں کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ کشمیری عوام کو یہ حق دینے میں سوسائٹی کی مذہب کی بنیاد پر تقسیم کا رجحان بڑھے گا، جبکہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی تقسیم انہی عالمی راہ نمائوں کی نگرانی میں مذہبی بنیادوں پر ہوئی ہے، اور یہ دونوں ریاستیں مسیحی اکثریت کی بنیاد پر دنیا کے نقشے کا حصہ بنی ہیں۔
کشمیری عوام کی بد نصیبی کا آغاز اس دن ہوگیا تھا جب برطانوی استعمار نے اس خطہ کو چند ٹکوں کی خاطر ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا۔ اور دنیا کی آئیڈیل جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے برطانیہ نے نہ صرف اس خطہ کے لاکھوں عوام کو خطہ سمیت ایک راجہ کے ہاتھ فروخت کیا تھا بلکہ جنوبی ایشیا سے رخصت ہوتے وقت بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کشمیری عوام کو حق دینے کی بجائے راجہ کے شخصی فیصلہ کو سپورٹ کر کے کشمیری عوام کے مستقبل کو اس کے حوالے کر دیا تھا۔ آج بعض برطانوی دانش ور کہتے ہیں کہ کشمیر کا تنازعہ پیدا کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ مگر تاریخ کے صفحات سے ان حقائق کو کیسے کھرچا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی کے وسط میں برطانیہ نے یہ خطہ پچھتر لاکھ روپے کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ کو فروخت کیا تھا اور اس کے ایک سو سال بعد اسی برطانیہ نے رخصت ہوتے وقت کشمیر کے بارے میں راجہ کے شخصی فیصلے پر آنکھیں بند کر کے اسے ریاست کے عوام کی غالب اکثریت کے علی الرغم اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں مدد دی تھی۔ بہرحال تب سے جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ بھارت کے جارحانہ قبضہ میں ہے اور وہ کشمیری عوام کو اپنی آزادانہ رائے کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا مسلمہ حق دینے کی بجائے فوجی طاقت کے زور پر وہاں اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام نے جن میں مقبوضہ کشمیر، آزاد ریاست جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کے علاقوں کے عوام شامل ہیں، آزادانہ رائے کے ذریعہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ 1947ء میں پاکستان کے قیام اور بھارت کی تقسیم کے موقع پر جن ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا حق دیا گیا تھا، ان میں جموں و کشمیر کی ریاست بھی شامل ہے اور اس کے راجہ نے اپنی ریاست کے عوام سے رائے لیے بغیر بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا کشمیری عوام کا کام ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان میں سے کون سے ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ چنانچہ بھارت ڈوگرہ راجہ کے جس فیصلہ کو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی بنیاد قرار دیتا ہے اسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسترد کر چکی ہے۔ اور اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو تسلیم کرنے کے بعد بھارت کے پاس بھی راجہ کے فیصلے کو الحاق کا جواز قرار دینے کا کوئی حق باقی نہیں ہے۔
کشمیر کے مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ اقوام متحدہ اپنے فیصلے کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب رائے کا آزادانہ حق دے اور خود اپنی نگرانی میں ریفرنڈم کرا کے جنرل اسمبلی کے فیصلے پر عملدرآمد کا اہتمام کرے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا کشمیری عوام کی جدوجہد جاری رہے گی اور دنیا کے ہر منصف مزاج شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حمایت کرتا رہے۔
(روزنامہ اوصاف، 5 فروری 2016ء)
(کاپی پیسٹ)

Address

Main Ferozpur Road Mustafabad Kasure
Mustafabad

Telephone

+923016807693

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqra Dar ul Atfal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Iqra Dar ul Atfal:

Shortcuts

Share