20/05/2026
تربیت۔۔۔ بچّوں کا اوّلین حق ہے۔
اگر آپ کا بیٹا دس بارہ سال کا ہو چکا ہے تو۔۔۔
آپ ان میں سے کون سے کام اسے سکھا رہے ہیں؟
▪️گاڑی کا ٹائر بدلا جا رہا ہے تو اسے سکھائیں۔
▪️سائیکل میں ہوا بھری جا رہی ہے تو اس کو بھی سکھائیں۔
▪️مارکیٹ سے سامان لانا ہے تو اسے ساتھ لے کر جائیں اور بتائیں کہ جائیں فلاں فلاں چیزیں لیں اور ساتھ ساتھ سمجھاتے رہیں۔
▪️گھر میں کوئی میکینک آ گیا ہے تو اسے چوکنا کر کے پاس کھڑا کریں تاکہ وہ دیکھے کہ کاریگر کام کیسے ہوتا ہے؟
▪️دس سال کے بچے کو measurements tape دیں اور اسے بتائیں کہ حقیقت میں پیمائش کیسے کرتے ہیں، رقبہ کیسے نکالتے ہیں؟
دس بارہ سال کے بچے کو پتا ہونا چاہیے کہ۔۔۔
▪️آلو پیاز اور پھل سبزیوں کی قیمت کیا ہے؟
▪️قریبی دکان کہاں پر ہے؟
▪️فلاں کا گھر کون سا ہے؟
▪️کون سا مکینک اچھا کام کرتا ہے؟
▪️گھر آئے مرد مہمانوں کا کیسے استقبال کرنا ہے؟
▪️اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو اپنے کپڑے استری کرنا،
▪️اپنا بستر خود بنانا،
▪️ضرورت کے وقت اپنے لیے کھانا گرم کرنا اور انڈہ چائے بنانا،
▪️اپنا سبق وقت پر یاد کرنا،
▪️وقت پر سونا اور وقت پر جاگنا،
▪️واش روم کا صحیح استعمال اور صفائی کا انتظام کیسے کرنا ہے؟
یہ صرف کرنے کی باتیں نہیں ہیں اس پر مکمل عمل بھی کرنا ہے۔
دس بارہ سال کا بچہ اب ایک عشرہ آگے آچکا ہے، اب اسے کچھ نیا کرنے کو دل کرتا ہے، اب اس کے لیے صرف ماں باپ کا پیار کافی نہیں ہوتا ہے۔
▪️🚲 اسے سائیکل لے کر دیں تاکہ وہ اسے سپورٹس کے طور پر چلائے اور ورزش کرے اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے شہر، گاؤں اور علاقے کے راستوں کو پہچان اور سمجھ سکے اور ٹریفک سینس پیدا کر سکے۔
▪️ اگر ہو سکے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں اسے کسی ادارے سے یا کسی اچھے انسٹرکٹر کی نگرانی میں تیراکی بھی سکھا دیں۔ اس سے بہتر کوئی ورزش ہو نہیں سکتی ہے۔
▪️اگر وقت مل جائے تو اسے کسی سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں ضرور لے کر جائیں تاکہ اس کے اندر خدمت، محبت، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہو سکے اور وہ کم ازکم مرہم پٹی کرنا اور بنیادی طبی تربیت حاصل کر سکے۔
یہ بنیادی تربیت مستقبل میں اس کے گھر کے افراد اور اہل محلہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔
▪️اسے خود اپنی نگرانی میں کسی جیل اور کچہری کا وزٹ کروائیں تاکہ اسے پتا چلے کہ لمحوں کی غلطی سالوں تک بھگتنا پڑتی ہے۔
▪️اسے دادا دادی اور گھر کے بزرگوں کے کچھ کام سونپ دیئے جائیں تاکہ وہ ان کی خدمت کرنا سیکھے، ان کی ادویات کا خیال رکھے اور ان کے کمرے، جوتے اور کپڑوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے۔
▪️اسے درخت 🌳 لگانا اور کچن گارڈننگ سکھائیں۔ اس طرح وہ اپنی مٹی اور سبزہ سے عشق کرے گا اور پھولوں سے محبت کرے گا اور اپنی زندگی میں بھی 🌹 پھول ہی اگائے گا۔
▪️اسے اپنے شہر یا آس پاس کی لائبریری کا وزٹ ضرور کروائیں بلکہ اسے وہاں چند گھنٹے بیٹھ کر کتاب پڑھنے دیں اور یوں اسے سکول کی کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں سے بھی جوڑ دیجیے ، اس طرح وہ اپنی تہذیب ، کلچر اور زبان سے جڑا رہے گا اور کتاب سے عشق ساری زندگی اس کی تربیت کرنا جاری رکھے گا۔۔۔ جی ہاں کتابوں محبت۔۔۔ علم سے عشق!
▪️صرف اسکول کے امتحانوں میں اچھے نمبرز لے لینا ہی اس کی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اس نے اس معاشرے کے ہوشیار ترین لوگوں سے نباہ کرنا بھی سیکھنا ہے، اس نے اپنی بات کو وزن دار بنانا بھی سیکھنا ہے۔ اس سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ والد یا دادا یا گھر کے سربراہ کے نائب کے طور پر کام کرنا شروع کر دے۔
▪️ آج اپنے بچے کی تربیت کریں گے تو کل وہ آپ کو اس کی افادیت ضرور لوٹائے گا اور اگر صرف کھانے پینے پر دھیان دیں گے تو پھر چیختے چلاتے رہ جائیں گے کہ ہم نے تم پر خرچ کیا ہے، پڑھایا لکھایا ، لیکن ان پر اثر نہیں ہوگا ، اس لیے ان کو وقت دیں، نیندیں قربان کریں۔
یہ کام مشکل ہے، بالکل آسان نہیں ہے، لیکن ہر حال میں یہ کرنا ہے اگر آپ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور والدین کے رتبے پر فائز کیا ہے تو جان مت چھڑائیں، اس عہدے اور ذمہ داری کا پاس رکھیں۔
اچھی تربیت کرنے سے ہی یہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور ممکنہ طور پر پرہیزگاروں کی رہنما بن سکتی ہے۔
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إمَامًا۔
[ al-Furqan, 25 : 74 ]
اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دے۔
O our Lord, grant us coolness of eyes in our wives and our children, and make us leaders of the Godfearing people.
آمین یا رب العالمین۔
بشکریہ تربیہ