محمدﷺآقاﻭﺁﻝِﻣﺤﻤﺪﷺصحابہؓ

محمدﷺآقاﻭﺁﻝِﻣﺤﻤﺪﷺصحابہؓ

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from محمدﷺآقاﻭﺁﻝِﻣﺤﻤﺪﷺصحابہؓ, Tutor/Teacher, Multan.

06/09/2025

رولا دینے والا واقعہ
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔

لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ کلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن
نوجوان ہے۔

آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔

پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ کلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛

اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ کلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛

یا رسول اللہﷺ ، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ کلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟

حضرت دحیہ کلبی فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ، میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔

دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟

میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔

یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ کلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛

اے اللہ کے نبیﷺ! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔

حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔

ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ کلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں

۔ یا رسول اللہﷺ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔

آقا کریمﷺ دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛

بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔

آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔

بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہﷺ میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛

اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔

یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپﷺ اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے

اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔

اتنے میں حضرت جبرائیلؑ حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟

بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں

کتاب" تنبیہات اسلام" سلسلہ نمبر 272 میں واقع ہے،
محمدﷺآقاﻭﺁﻝِﻣﺤﻤﺪﷺصحابہؓ

08/07/2024

حضرت عمر فاروقؓ کے حق میں دعائے نبویﷺ

حضرت #عمرؓفاروقؓ تاریخ ِ انسانی میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ آپؓ کو صحابہ کرام کے درمیان #مرادِرسولﷺ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ یعنی آپ کے لیے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خصوصی دعائیں کیں اور آپ کا نام لے کر کہا: یا اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت پہنچا۔اس وقت تک عمر بن خطاب اسلام کے بدترین دشمنوں کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے مگر انکے لئے اللہ کے نبیﷺ نے دعا کی تھی! آپﷺ کے ہر ہر لفظ کو تائیدِ ربانی حاصل تھی۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی۔ إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوْحٰی۔ (النجم:3 تا 4)

ترجمہ: وہ اپنی خواہشِ نفس سے کچھ نہیں بولتے۔ یہ تو ایک وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔

یہ وہ دور تھا جس میں کفار کی طرف سے صحابہ کرامؓ بلکہ بعض اوقات خود نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جسمانی اذیتیں پہنچانا معمول بن چکا تھا۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات، غلام اور کنیزیں اسلام کی طرف راغب تھے مگر قبولِ اسلام کے بعد ان پر جو قیامت ڈھائی جاتی، اس کا حال پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حضرت #بلالؓ، حضرت خبّابؓ، حضرت عمارؓ،حضرت یاسرؓ، حضرت سیدہ سمیّہؓ، حضرت سیدہ زنیرہؓ اور اسی طرح بے شمار صحابہؓ وصحابیاتؓ بدترین مظالم کا نشانہ بنائے گئے۔ حضرت سمیہؓ تو #مکہ میں ظلم وستم سے شہید کردی گئیں۔ حضرت یاسرؓ بھی مظالم برداشت کرتے کرتے شہید کئےگئے۔ باقی مستضعفین صحابہ کرامؓ کو بھی مار ڈالنے کی کوششیں ہوئیں، مگر اللہ نے انکی حفاظت فرمائی۔

قریش مکہ کی مخالفتیں حد سے گزری تو ان بدبختوں نے نبی اکرمﷺ کو شہید کرنے کے منصوبے بنائے۔ دارالندوہ میں مشورہ ہوا کہ کوئی شیردل نوجوان جائے اور جاکر رسول اللہﷺ کا کام تمام کردے۔ کون یہ کام کرسکتا ہے؟ یہ سوال بڑا اہم تھا۔ کئی نوجوانوں نے خود کو اس خدمت کے لیے پیش کیا مگر سردارانِ قریش نے ہر ایک سے کہا کہ یہ کام اس کے بس میں نہیں ہے۔ آخر بنوعدی کا سجیلا جوان عمربن خطاب کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا: سردارانِ قریش! میں ابھی یہ کام کرکے تم لوگوں کو خوش خبری سناتا ہوں۔ ابوجہل نے کہا: ''ہاں یہ نوجوان یقینا اس قابل ہے کہ اس کٹھن کام کو سرانجام دے سکے‘‘۔ فیصلہ ہوجانے کے بعد عمربن خطاب دارالندوہ سے نکلے۔ انکے ہاتھ میں تلوار تھی، چہرے پر عجیب غصے کی کیفیت کے ساتھ خودکلامی کے انداز میں کچھ کہتے ہوئے وہ چلے جارہے تھے۔

اچانک راستے میں نعیم بن عبداللہ سے آمنا سامنا ہوگیا۔ نعیمؓ کا تعلق بھی بنوعدی عمر بن خطاب کے قبیلے ہی سے تھا۔ وہ اسلام لاچکے تھے، مگر ابھی تک اپنے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا۔ قبولِ اسلام میں ان کا دسواں نمبر ہے۔ نعیمؓ نے پوچھا: ''عمر! کیا بات ہے؟ بڑے غصے میں نظر آرہے ہو؟‘‘۔ عمر نے کہا: '' ہاں میں آج اس شخص کو قتل کرنے جارہا ہوں جس نے ہمارے باپ دادا کا دین بگاڑ دیا ہے‘‘۔ نعیمؓ بن عبداللہ نے بڑی حکمت کے ساتھ کہا: ''اچھا اگر یہ بات ہے تو پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور تمہارا بہنوئی سعیدؓ بن زید بھی آبائی دین کو چھوڑ کر ''صحابی‘‘ بن چکے ہیں‘‘۔

اس خبر نے عمر کے غصے کو اور بھڑکادیا۔ اب دارِ ارقم جانے کے بجائے بہن کے گھر کی راہ لی۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ اندر سے کسی چیز کے پڑھنے کی آواز آرہی ہے۔ نبی اکرمﷺ پر انہی دنوں سورۂ طٰہٰ نازل ہوئی تھی۔ اسی کی تلاوت اور حفظ کی مشق کی جارہی تھی۔ حضرت خبابؓ بن ارت جو نبی کریمﷺسے قرآنِ مجید سن کر یاد کرلیا کرتے تھے، وہ بھی گھر میں موجود تھے۔ عمر ابن خطاب کی آہٹ اور آواز سنتے ہی انہیں خاموش رہنے کہا گیا۔ عمر نے بہن اور بہنوئی سے پوچھا: تم کیا پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ اس پر ان کا غصہ بھڑک اٹھا۔ بہنوئی سے لڑائی شروع ہو گئی، بہن بچانے کیلئے آئیں تو انہیں بھی بہت مارا پیٹا یہاں تک کہ وہ لہولہان ہوگئیں۔ اس موقع پر فاطمہؓ بنت خطاب نے اپنے بلند جذبۂ ایمانی سے بڑی جرأت اور استقامت سے کہا: ''عمر! سن لو ہم مسلمان ہوچکے ہیں، (یعنی لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ چکے آخری سچے نبی و پیغمبرﷺ کوسچا مان چکے ہیں) ہم نے شرک اور بت پرستی کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ تم جو کچھ کرنا چاہو کرلو، ہماری ہڈیاں توڑ سکتے ہو، جان سے مار سکتے ہو، مگر اسلام سے ہرگز نہیں ہٹا سکتے۔‘‘

صاحبِ استقامت بہن کی زبان سے یہ سننا تھا کہ عمر کے دل پر چوٹ لگی اور وہ زمین پر بیٹھ گئے۔ پھر کہا: مجھے وہ صحیفہ سناؤ جو تم پڑھتے ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس صحیفے کی توہین برداشت نہیں کرسکتے، نہ ہی کسی مشرک کو دے سکتے ہیں کیونکہ اسے صرف پاکیزہ لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا: اچھا مجھے خود سناؤ، تو میں اس کی کوئی توہین نہیں کروں گا۔ اس وعدے کے بعد حضرت قاری خبابؓ کو اندر سے باہر بلایا گیا اور انہوں نے سورۂ طٰہٰ کی آیات کی تلاوت کی۔ چھوٹی چھوٹی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اتنا مؤثر پیغام سمودیا ہے کہ اعجازِ قرآنی پر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافہ پیدا ہوتاجاتا ہے۔ قرآنِ حکیم پورے دل سوز کے ساتھ پڑھا جارہا تھا اور عمر کے دل کی دنیا میں عظیم الشان انقلاب برپا ہورہا تھا۔

قرآنِ مجید تو ہے ہی کتابِ انقلاب، فرد سے لے کر معاشرے تک اس کے پیدا کردہ انقلاب کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ نے آیات ِقرآنی سنیں اور پھر خاموشی سے گھر سے باہر نکل گئے۔ اب بھی منزل دارِ ارقم ہی تھی، مگر ارادہ بدل چکا تھا۔ یہ وہ عمر نہیں تھا جو دارالندوۃ سے نکلا تھا، یہ وہ عمرؓ تھا جس کے حق میں نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں دربارِ ربانی میں قبول ہوچکی تھیں۔ قرآنِ مجید کی اثرآفرینی کے ساتھ بہن کی استقامت نے بھی کفر کو مات دی تھی۔

جب عمرؓبن خطاب دارِ ارقم پہنچے تو ایک صحابی نے انکے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر نبی کریم ﷺکے پاس آکر سرگوشی کے انداز میں کہا: ''یارسول اللہﷺ عمربن خطاب باہر کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں تلوار ہے‘‘۔ حضرت حمزہؓ‘ جو صرف تین دن پہلے مسلمان ہوئے تھے‘انھوں نے بھی یہ بات سن لی اور فرمایا: اللہ کے بندے اسے آنے دو۔ اگر وہ نیک ارادے سے آیا ہے تو سرآنکھوں پر اور اگر اس کا کوئی اور ارادہ ہے تو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں اس کا سر اُسی کی تلوار سے قلم کردوں گا۔، عمراندر آئے، سیدھے نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے۔ آپﷺ نے ان کی چادر پکڑ کر کھینچا اور کہا عمر! کیسے آئے ہو؟ عرض کیا اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر کلمۂ شہادت پڑھا اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ کی زبانِ مبارک سے تکبیر کا نعرہ بلند ہوا۔ سبھی صحابہؓ نے بھی آپ کی تقلید میں اللہ کی کبریائی کا اعلان کیا اور دارِارقم تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا۔

کئی مہینوں سے نبی اکرمﷺ مسلسل دعا فرما رہے تھے: اَللّٰہُمَّ انْصُرِالْاِسْلَام بِاحَدِ عُمَرَیْنِ۔ یعنی اے اللہ (مکہ کے) دوعمروں میں سے کسی ایک عمر کو اسلام کا مددگار بنادے۔ یعنی عمربن خطاب کو اسلام کی آغوش میں لے آ، یا عمرو بن ہشام(ابوجہل) کو ایمان کی توفیق بخش دے۔ آپﷺ کی دعا کے یہ الفاظ بھی نقل کیے گئے ہیں۔ اَللّٰہُمَّ أَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِأَبِیْ جَہْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابٍ۔ (صحیح بخاری، جامع ترمذی) اے اللہ! ان دو مردانِ کار، ابوجہل اور عمربن خطاب میں سے جو بھی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت وقوت عطا فرما۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے عمرؓبن خطاب کے بارے میں دعائے نبویﷺ کو شرفِ قبولیت بخشا۔ اللہ کو محبوب عمر عمربن خطاب تھے، آپﷺ کی اس دعا میں یقینا بڑی حکمت ہے۔

آپﷺ کا ارشاد ہے: خِیَارُکُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُکُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِہُوا۔ یعنی تم میں سے جو لوگ جاہلیت میں اگلی صفوں میں کام کرتے ہیں، قبولیتِ اسلام کی توفیق مل جائے تو خدمتِ اسلام میں بھی وہ اگلی صفوں ہی میں ہوں گے اگر دین کا صحیح فہم حاصل کر لیں۔ (متفق علیہ، روایت: عبدالرحمن بن صخر)۔ ابوجہل اور عمرؓبن الخطاب آپس میں ماموں بھانجا تھے۔ یہ دونوں شخصیات اپنی بہادری اور جرأت نیز فہم وفراست اور اوصافِ قیادت میں نمایاں تھیں۔ ابوجہل بدبخت وبدنصیب ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے کفر پر اتنا مضبوط تھا کہ دنیا کا کوئی فرعون ونمرود مشکل ہی سے اس کی مثال پیش کرسکتا ہے۔

قبولِ اسلام کے بعد حضرت عمرؓ نے خاتم الانبیآءمحمدرسول اللہﷺسے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: یقینا ہم حق پر ہیں۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ جب مسلمان ہوۓ نماز کا وقت ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا صحابہؓ تیاری کرو نماز کی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا.. آقا نماز کہاں پڑھیں گے ؟ #آقاﷺ نے فرمایا کسی کونے میں چھپ کے پڑھتے ہیں، عمر فاروق نے کہا یارسول اللہﷺآپکے قدموں پہ میرے ماں باپ قربان، آگر اب بھی چھپ کے نماز پڑھیں تو عمر کے مسلمان ہونے کا کیا فائدہ ؟ عمر فاروق نے کہا یارسول اللہﷺآج نماز کعبتہ اللہ میں پڑھیں گے. نبی کریمﷺنے فرمایا عمر کفار کا بڑا غلبہ ہے ۔ اس پر عرض کیا: پھر ہمیں دارِ ارقم کے بجائے بیت اللہ شریف میں جا کر نماز پڑھنی چاہیے؛ چنانچہ اس روز مسلمان دارِ ارقم سے دو صفیں بنا کر نکلے۔ ایک صف کے آگے آگے حمزہؓ بن عبدالمطلب اور دوسری صف کے آگے #عمرؓبن_خطاب تھے۔ مسلمان اس شان کے ساتھ حرم شریف میں آئے اور وہاں نماز پڑھی اور حضرت عمرؓ نے سردارانِ قریش کو متنبہ کردیا کہ وہ اسلام میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس خبر سے قریش کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ یوں اہلِ علم کے نزدیک سیدنا عمربن خطابؓ مرادِ رسولﷺ ہیں۔

عمر فاروق گھوڑے پے سوار ہوۓ مکہ کے چوکوں پے جا کر.. گلیوں میں جا کر.. اپنے گھوڑے پے سوار ہو کر.. چلتے ہوۓ یہ اعلان کیا کہ مکے والو..! آجاؤ.. آج میں کلمہ پڑھ کے محمّد مصطفیٰ ﷺ کا غلام بن کر آیا ہوں، آج ہم کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے جارہے ہیں، اگر کسی نے اپنی بیویاں بیواہ کروانی ہوں اگر کسی نے اپنے بچے یتیم کروانے ہوں تو آجاۓ عمر کے راستے کو روک کر دکھا دے۔

خدا کی قسم جب عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمان ہوۓ تو مکے کے کافروں نے گلیوں میں نکل کر ماتم کیا کے ہاۓ آج آدھا مکہ ہم سے چھینا گیا ۔ عمر فاروق واپس آئے حضور ﷺ سے کہا اے میرے حضور..!! آپ آگے چلیں میں آپ کے پیچھے چلتا ہوں بیت اللہ میں نماز پڑھیں گے، میں دیکھتا ہوں کس کافر کی جرات ہوتی ہے جو ہمارا راستہ روکے. با سلامت بیت اللہ خانہ کعبہ پہنچے تو میرے نبی ﷺ نے خوشی میں نعرہ تکبیر خود بلند کیا،، اللہ اکبر کی صدا مکے میں پہلی بار یوں گونجی کے کفر کے ایوان بھی گھبرا گئے بیت اللہ میں مسلمانوں نے کھلے عام عبادت کی، اسلام کو طاقت ملی ۔ اور جب اللہ نے نبیﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم دیا. کفار مکہ نے مکہ مکرمہ کی سرحدوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی۔ کہ کہیں کوئی نبی کریم ﷺ جانثار صحابہ ؓ مدینہ منورہ نہ چلے جائیں۔اس کڑے وقت میں عمرفاروقؓ نے سب سے انوکھی اور انتہائی بہادری سے ہجرت کی.

ایک دن سب مشرکین کعبہ کے گرد بیٹھے اپنے روزمرہ کی باتوں میں مشغول تھے کہ انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز سنی جو ان سب کو مخاطب کرکے اپنی طرف بلا رہے تھے۔
جب تمام لوگ متوجہ ہوگئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یوں گویا ہوئے،
"اے مکہ والو! تم میں سے جو یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے روئے، اس کے بچے یتیم ہوں اور اس کی بیوی بیوہ ہو تو وہ مکہ مکرمہ سے باہر آکر مجھے روکے کیونکہ میں مدینہ جارہا ہوں۔"
اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کعبہ کے صحن میں دو نفل ادا کیے اور بیس یا تیس کمزور مسلمانوں کو جو مشرکین کے ڈر سے ہجرت نہیں کرسکتے تھے ساتھ لیکر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب تشریف لے گئے۔
مکہ مکرمہ میں سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ مکہ سے باہر جاکر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو روکیں۔جب ہجرت کرنے کاحکم آیا تو تمام صحابہ کرام ؓ نے اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے مصلحت کے تحت رات کے وقت ہجرت کی مگر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے پہلے اعلان کرایا کہ ” میں یعنی ابنِ خطاب ؓ آج دن کے وقت ہجرت کر کے مدینے جا رہا ہوں آقا ﷺ کے پاس! جس نے بیوی کو بیوہ ، اور بچوں کو یتیم کرانا ہو آ کر عمر کا رستہ روک لے “ اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ عمر ؓ نے دن کی روشنی میں تلوار لہراتے ہوئے مکہ سے مدینہ کی طرف رخت سفر باندھا ۔ اس وقت بھی عمر فاروق نے ہجرت سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر گھوڑے پے سوار ہوۓ اور مکے کی گلیوں میں اعلان کیا کے آج میں ہجرت کر کے جارہا ہوں مدینہ اپنے محبوب محمّد مصطفیٰ ﷺ کے پاس! اگر کسی کافر میں جرات ہے تو عمر کے راستے کو روکے ۔حضرت سیِّدُنا علیؓ ارشاد فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمؓ کے سوا کسی نے اعلانیہ ہجرت نہیں کی۔

حضرت عمر فاروقؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انکی ایک بیٹی ام المومنین سیدہ حفصہؓ کا نکاح خاتم الانبیآءمحمدرسول اللہﷺکے ساتھ ہوا.

ام المومنین سیدہ حفصہؓ کی والدہ حضرت عمر فاروق کی پہلی بیوی کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق کا نکاح حضرت علی المرتضٰی ؓ نے اپنی بیٹی حضرت حسن و حسینؑ کی بہن سیدہ ام کلثومؓ سے کردیا.


سیدنا عمر فاروق ؓ نے مختلف مقامات پر نبی کریم ﷺ کے مشورہ طلب فرمانے پر اپنی ذہانت فطانت سے مفید مشورے دیے اللہ تعالیٰ نے وہی مشورہ بطور وحی خاتم الانبیآءمحمدرسول اللہﷺ پر نازل فرمایا اور آج بھی وہ قرآن کریم میں موجود ہے،

حضرت عمرفاروقؓ کی بہادری اور ذہانت کیساتھ اسلام کو بہت عزت ملی جب کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کیساتھ جنگ کی اسلام کا پہلا معرکہ جو بدر میں پیش آیا حضرت عمرفاروقؓ نے مشورہ دیا جنگ باہر نکل کر کرنی زیادہ بہتر ہے. اسی طرح قیدیوں کے معاملے میں بھی کمال بصیرت سے مشورہ دیا اسی طرح نبی کریم ﷺحکم کے مطابق ہر ہر جنگ میں احد، میں خندق، حنین، تبوک میں ساتھ رہے اور مظلوموں کی مدد فرماتے رہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کےساتھ ملکر مساجد کی تعمیر کی لوگوں کو سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہر وقت مصروف عمل رہتے.

نبی کریم ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے. انکے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، حضرت عمر فاروق ؓ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے، حضرت عمرفاروقؓ کے خاص ساتھی حضرت #علیؓ رضی اللہ عنہ اور باقی جلیل القدر صحابیؓ رسولﷺ ہر وقت آپکے ساتھ رہتے اور اسلام کو پوری دنیا میں باحفاظت پہنچانے کی فکر میں رہتے،لیکن منافقین یہود ہر طرف اسلام کے پھیلنے میں سازشیں رکاوٹیں پیدا کرتے، اسلام پھر بھی پھیلتا رہا جس میں صحابہؓ کے قیمتی رازدارانہ مشورے اور کوششیں شامل تھیں روم جیسی سلطنت فتح ہوئی ہزاروں سالوں پر محیط مجوس سلطنت فارس ایران کو شکست فاش ہوئی. مسلمانوں نے فارس پر فتح حاصل کرکے وہاں اسلامی حکومت قائم کی.

حضرت عمر فاروقؓ بدھ 26 ذوالحجہ کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے‘ دوران نماز ابو لُؤْلُؤَہ فیروز جو ایک ایرانی مجوسی تھا، اس نے دو دھاری خنجر سے آپؓ پر حملہ کیا۔ اس نے آپ پردوران نماز پے درپے وار کیے۔ جس وقت مجوسی نے آپ ؓپر قاتلانہ حملہ کیا آپ اس وقت نماز پڑھا رہے تھے، اُن میں سے ایک وار آپؓ کے زیرِ ناف لگا تو آپ گر پڑے۔ اس دوران آپؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو نماز میں اپنا نائب بنایا۔ پھر وہ مجوسی قاتل بھاگا کہ یہاں بھاگ جاؤں، مسجد نبوی سے باہر نکل جاؤں ‘ راستے میں جو آیا‘ اُن پر وار کرتا گیا حتیٰ کہ اُس نے تیرہ اشخاص پر ضرب لگائی‘ اُن میں سے چھ شہید ہو گئے۔ فیروز اصلاً ایرانی تھا‘ پھر حضرت عبداللہ بن عوفؓ نے اُس پر کمبل ڈالا تو اس ملعون نے خودکُشی کر لی۔ حضرت عمرؓ کو اٹھا کر ان کے گھر لے گئے‘ اُن کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ یہ طلوعِ آفتاب سے پہلے کا واقعہ ہے۔ پھر آپؓ کبھی بے ہوش ہو جاتے اور کبھی ہوش میں آ جاتے۔ جب ہوش میں آتے تو آپؓ کو نماز یاد دلائی جاتی‘ وہ کہتے: ہاں! جو نماز چھوڑ دے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے‘ پھر اپنے وقت پر نماز پڑھتے۔ انہوں نے پوچھا: انہیں کس نے قتل کیا ہے۔ لوگوں نے بتایا: مغیرہ بن شعبہ کے غلام اَبو لُؤْلُؤَہ نے‘ تو انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میری موت کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہیں ہوئی۔ پھر کہا: اللہ اُس کا برا کرے‘ ہم نے تو اسے اچھی بات کا حکم دیا تھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے اپنا جانشین منتخب کرنے کیلئے ایسے چھ اصحاب پر مشتمل کمیٹی بنائی کہ رسول اللہﷺ اپنی وفات تک اُن سے راضی تھے اور وہ تھے: ''حضرات عثمان‘ علی‘ طلحہ‘ زبیر‘ عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم‘‘حضرت عمرؓ کو ہمیشہ شہادت کی آرزو رہتی تھی. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت اور دیارِ رسول میں موت عطا فرما‘‘

آج بھی روضہ رسولﷺ میں خاتم الانبیآءمحمدرسول اللہﷺکے ساتھ خلیفۂ بلافصل حضرت ابوبکر صدیق ؓ کیساتھ آپ قبر مبارک ہے، نبی کریم ﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ فرمایا ہم قیامت میں ایسے ہی اٹھائے جائیں گے.

لیکن آج کل بعض حضرات نے یہ بحث چھیڑ رکھی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت یکم محرم الحرام نہیں تھا۔ اول تو یہ ایک لایعنی بحث ہے‘ کیونکہ یہ کہیں بھی لازم نہیں ہے کہ یومِ شہادت اُسی دن منایا جائے‘ جس دن شہادت واقع ہوئی۔ پوری امت امام عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جمیع شہدائے کربلا‘ امامِ عالی مقام کے اہلبیتِ اطہار اور اعوان و انصار رضی اللہ عنہم کا یومِ شہادت دس محرم الحرام کو مناتی ہے‘ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُس سے پہلے یا بعد میں نہیں منایا جا سکتا۔ امام عالی مقامؓ کی مجالسِ شہادت تو چہلم تک جاری رہتی ہیں۔ اسی طرح میلاد النبیﷺ کی مجالس سارا سال جاری رہتی ہیں۔ نیز ایسے تاریخی شواہد بکثرت دستیاب ہیں کہ اَبُو لُؤْلُؤَہ فیروز مجوسی نے سیدنا عمرؓ کو زہر آلود دو دھاری خنجر سے ذوالحجہ کے آخری ایام میں فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے زخمی کیا اور اُسی کے نتیجے میں آپؓ کی شہادت یکم محرم الحرام کو واقع ہوئی اور آپؓ کی تدفین عمل میں آئی۔

''حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمرؓ کو 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو (قاتلانہ حملے میں) زخمی کیا گیا اور یکم محرم الحرام 24 ہجری کی صبح آپؓ کی تدفین ہوئی۔ پس آپؓ کی خلافت دس سال پانچ ماہ اور اکیس دن رہی.

#عمرفاروق #عمرؓفاروقؓ #شہیدِمسجدنبویﷺ #محرم #محرم١٤٤٦هـ

اس عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ پر سلام بے شمار۔۔۔ 💖سبحان اللہ ایسی ایمان کو تازہ کرنے والی پوسٹ کو تو دس گرپوں میں شیئر کرنی چاہیئے میں نے بھی کی ھے آپ بھی کر دیں تاکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو پتہ چلے کہ ھمارے صحابہ رض کتنے بھادر تھے

25/04/2022

*بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم*

‘‘محمد از تو می خواہم خدارا خدایا از تو عشق مصطفیؐ را ایمانِ ما اطاعتِ خلفاء راشدینؓ اسلامِ ما محبتِ آلِ محمد است یعنی ’’اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق مانگتے ہیں۔ خلفائے راشدینؓ کی اطاعت ہمارا ایمان ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آلؓ سے محبت کرنا ہمارا اسلام ہے۔‘‘ پھر فرماتے :یہ خالص مذہبی ، اسلامی ، اصلاحی، دینی وتبلیغی ، تعلیمی اور خیرخواہی کا پروگرام ہے، جس کی غرض وغایت رضائے الٰہی ہے۔ضروریاتِ دین کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اللہ کے دربار میں وہ نیکی قابل قبول نہیں جو اللہ کے دین کی تعلیم کے مطابق نہیں۔ آج کے دور میں اکثر لوگ اپنے دل و دماغ، خواہش وخیال کی پیروی کررہے ہیں، اس لئے ملک میں بڑا انتشار ہے، کئی فرقے ہیں، کئی جماعتیں ہیں، کئی گروہ ہیں۔ آپ حضرات کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات دیکھ لیں گے کہ تفرقہ مستقل اللہ کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب مقدس میں فرمایا: میں جس قوم پر ناراض ہوتا ہوں، اس پر آسمان سے پتھر برساتا ہوں، یا زمین میں دھنسا دیتا ہوں یا گروہ گروہ اور پارٹیاں پارٹیاں بنادیتا ہوں۔ یہ فرقہ، تفرقہ، فتنہ وفساد ، بغض وعناد اللہ کا عذاب ہے۔ میرے مشائخ کی یہ کوشش ہے کہ ملک میں اتحاد ہو، یگانگت ہو، محبت وپیار ہو، اتحاد واتفاق ہو، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:’’وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلَاتَفَرَّقُوْا‘‘۔(آل عمران: ۱۰۳) ’’اللہ (کے دین اسلام )والی رسی کو تھام لو، اور تفرقہ نہ کرو‘‘۔ میں باشندگانِ پاکستان کو یہ درخواست کرتا ہوں کہ بھائی بھائی بن کر پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر آئیں، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا علاج معالجہ کرائیں۔ میرے پیارے عزیزو!ہماری نجات ، ہماری کامیابی، ہماری سرخروئی پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے۔ میرے پیارے عزیزو!مومن کا دین مولوی یا وزیر کا بنایا ہوا نہیں، مومن کا دین کسی گورنر و صدر کا بنایا ہوا نہیں ، مومن کا دین علماء واولیاء کا بنایا ہوا دین نہیں، مومن کا دین انبیاء علیہم السلام کا بنایا ہوا نہیں، مومن کا دین خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا نہیں۔مومن کا دین وہ ہے جو اللہ نے بنایا ہے۔ میرے پیارے عزیزو!ہمارا دین دماغ انسانی کا بنایا ہوا نہیں، ہمارا دین خواہشاتِ نفسانی کا بنایا ہوا نہیں، ہمارا دین وہ ہے جو وحی ربانی سے حاصل ہوا۔ ہمارا دین وہ قواعد واصول ہیں جو اللہ تعالیٰ نے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کئے، جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عطا کئے۔ نہ مجھے علمیت کا دعویٰ، نہ میرے اندر زہد وتقویٰ اور ریاضت ہے، میں مسلمانوں میں سے ادنیٰ درجہ کا مسلمان ہوں، میری جماعت تنظیم اہل سنت والجماعت کی کوشش ہے کہ ہر گھر میں پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آجائے۔ میری کوشش یہ ہے کہ آپ بھائی بھائی بن کر پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر آئیں، جناب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلہ پر اپنی گردن جھکائیں۔ ہم ہر نیک کے قائل ہیں، ہر نیکی کے قائل ہیں،لیکن ایک بات ہے کہ ہر مسئلے کو اس طرح تسلیم کریں گے، جس طرح پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا اور سکھا گئے ہیں۔ ہمارے اس دور میں اکثر لوگ اس کوشش میں ہیں کہ دین ہمارے تابع ہو۔ میری یہ بات یاد رکھ لیں، دین ہمارے تابع نہیں، ہم دین کے تابع ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہمارے تابع نہیں، ہم شریعت کے تابع ہیں۔ اللہ کا قرآن ہمارے تابع نہیں، ہم قرآن کے تابع ہیں۔ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے تابع نہیں، ہم نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہیں۔ دل مانے یا نہ مانے، دماغ تسلیم کرے یا نہ کرے، مومن کی شان یہ ہے کہ پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلہ پر گردن جھکادے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد ہمیں سوچ وبچار کا کوئی حق نہیں۔ آپ حضرات آج کے بعد یہ عہد کریں کہ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد اپنی خواہش اور خیال کے پیچھے نہیں جائیں گے، اپنے دماغ کے پیچھے نہیں جائیں گے، پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلیں گے۔ میری تحقیق یہ ہے کہ اگر میری معروضات پر عمل کرلیا جائے تو سارا مذہبی انتشار ایک دن میں ختم ہوجائے گا۔ ہم دنیا میں امتحان کے لئے آئے ہیں، تھوڑی دنیا کے لئے تھوڑی محنت کریں، بڑی زندگی کے لئے بڑی محنت کریں۔ یہ مسئلہ یاد کرلو، اپنے بچوں کو سکھا دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ۷۲؍ ٹولے جہنم میں جائیں گے، ایک ٹولہ جنت میں جائے گا، وہ ٹولہ ’’ماأنا علیہ وأصحابیؓ‘‘جس راستہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت گئی ہے، وہ راستہ جنت کا راستہ ہے، وہ راستہ بہشت کا راستہ ہے۔ سارے جھگڑے ختم ہوجائیں گے ، کوئی دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکار نہیں کرے گا۔جناب رحمۃٌ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدینؓ‘‘۔ ’’میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے خلفائے راشدینؓ کے طریقے کو لازم پکڑو‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خیرالقرون قرنی ، ثم الذین یلونہم ، ثم الذین یلونہم ‘‘۔ ’’میری جماعت سب سے بہترین جماعت ہے، پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے آئیں، پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے آئیں‘‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کی بہتری کی گواہی دی ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں ہمارے گھر میں وہی دین ہو جو بہترین لوگوں کے گھر میں تھا۔ یہ سارا دین ہے، یہ میرا سارا مذہب ہے، یہ میرے سارے مسئلے ہیں، ہر آدمی کو اگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فیصلے لمحہ بالمحہ یاد رہیں تو کوئی فرقہ آپ کو گمراہ نہیں کرسکے گا۔ قرآن کریم میں ہے: ’’لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘۔ (الاحزاب:۲۱) ’’رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجودہے‘‘۔ ’’قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ‘‘۔ (آل عمران:۳۱) ’’اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے گا‘‘۔ ’’وَالسَّابِقُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ‘‘۔ (التوبہ:۱۰۰) ’’سبقت کرنے والے مہاجرین وانصار اور وہ لوگ جو اخلاص سے اُن کی اتباع کرنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی‘‘۔ انتشار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان فیصلوں پر لوگوں کی نگاہ نہیں، ہر آدمی اپنے دل ودماغ ، خواہش وخیال کی پیروی کررہاہے۔ باقی کوئی مسئلہ آجائے، آپ ماہرین شریعت کے پاس جائیں۔ دنیاوی کام کے لئے دکان ومکان کے کیس کے لئے آپ حضرات ماہر وکیل تلاش کرتے ہیں، اسی طرح دین سیکھنے کے لئے ماہرین دین کے پاس جائیں‘‘۔ یہ حضرت تونسویؒ کی تقریر اور بیان کے چند اقتباسات ہیں، جس کے ہر ہر جملہ میں اتحادِ امت کا درس، فرقہ اور تفرقہ سے نفرت کا اظہار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کی سنت کی پیروی سے دوری کے اسباب کو بہت ہی کھلے اور واضح الفاظ میں بیان فرمایاگیا ہے۔ کاش! کہ امت مسلمہ اس مردِ درویش اور مردِ قلندر کی آواز پر کان دھرتی اور اپنے اندر موجود خامیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا علاج حضرت تونسویؒ کے ان فرمودات میں ڈھونڈتی۔ مجھے یاد پڑتا ہے غالباً ۱۹۸۵ء یا چھیاسی میں حضرت تونسویؒ نے دورانِ تقریر فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں ، تمہارا دشمن جب تم پر حملہ آور ہوگا، وہ تم سے مسلک نہیں پوچھے گا کہ تم دیوبندی، بریلوی ہو، سنی ، شیعہ یا اہل حدیث ہو، وہ صرف یہ جانتا ہے کہ تم کلمہ ایک پڑھتے ہو، تمہارا رسول ایک ہے، تمہاری کتاب ایک ہے، وہ تمہیں تقسیم در تقسیم کرکے کمزور کرے گا اور پھر وہ تم سب کو ملیا میٹ اور تباہ وبرباد کرکے رکھ دے گا، اس لئے میں کہتا ہوں کہ ملک میں تفرقہ نہ کرو، بھائی بھائی بن جاؤ اور قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجاؤ تو بچ سکوگے ۔

23/05/2021

مائیكل ہارٹ نے اپنى كتاب’’ سو عظيم شخصيات‘‘ كو لكھنے ميں 28 سال كا عرصہ لگايا ، اور جب اپنى تاليف كو مكمل كيا تو لندن ميں ايك تقريب رونمائى منعقد كى جس ميں اس نے اعلان كرنا تھا كہ تاريخ كى سب سے ’’عظيم شخصيت‘‘ كون ہے؟
جب وہ ڈائس پر آيا تو كثير تعداد نے سيٹيوں ، شور اور احتجاج كے ذريعے اس كى بات كو كاٹنا چاہا، تاكہ وہ اپنى بات كو مكمل نہ كرسكے۔۔۔
پھر اس نے كہنا شروع كيا:
ايك آدمى چھوٹى سى بستى مكہ ميں كھڑے ہو كر لوگوں سے كہتا ہے ’’مَيں اللہ كا رسول ہوں‘‘ ميں اس ليے آيا ہوں تاكہ تمہارے اخلاق و عادات كو بہتر بنا سكوں، تو اس كى اس بات پر صرف 4 لوگ ايمان لائے جن ميں اس كى بيوى، ايك دوست اور 2 بچےتھے۔
اب اس كو 1400 سو سال گزر چكے ہيں۔۔۔ مرورِ زمانہ كہ ساتھ ساتھ اب اس كے فالورز كى تعداد ڈيڑھ ارب سے تجاوز كر چكى ہے۔۔۔ اور ہر آنے والے دن ميں اس كے فالوروز ميں اضافہ ہورہا ہے۔۔۔ اور يہ ممكن نہيں ہے كہ وہ شخص جھوٹا ہے كيونكہ 1400 سو سال جھوٹ كا زندہ رہنا محال ہے۔ اور كسى كے ليے يہ بھى ممكن نہيں ہے كہ وہ ڈيڑھ ارب لوگوں كو دھوكہ دے سكے۔ ۔۔
اور ۔۔۔۔۔۔
اتنا طويل زمانہ گزرنے كے بعد آج بھى لاكھوں لوگ ہمہ وقت اس كى ناموس كى خاطر اپنى جان تك قربان كرنے كے ليے مستعد رہتے ہيں اسکے دیوانے انجام کی پرواہ کیے بغیر اسکی اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں جو اس شخص کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو مر مٹنے کیلئے ہمہ وقت ہر لمحہ تیار بیٹھے ہیں سب سے بڑھ کر اس شخص کو اعلی سے اعلی ترین پایا ہے ۔۔۔ كيا ہے كوئى ايك بھى ايسا مسيحى يا يہودى جو اپنے نبى كى ناموس كى خاطر حتى كہ اپنے رب كى خاطر جان قربان كرے۔۔۔۔؟
بلا شبہ تاريخ كى وہ عظيم شخصيت ’’ حضرت خاتم الانبیآء محمد رسول اللہﷺ‘‘ ہيں، جو میری سو عظیم شخصیات میں پہلے نمبر پر ہے جس نے اپنی ساری زندگی اپنی امت کی بھلائی اور بخشش کیلئے روتے ہوئے گزار دی
اس كے بعد پورے ہال ميں اس عظيم شخصيت اور سيد البشر ﷺ كى ہيبت اور جلال ميں خاموشى چھا گئى۔۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Multan