24/05/2026
علم کی دنیا میں کچھ شخصیات محض نام نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک روشن فکر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب بھی انہی درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم کے چراغ محض روشن ہی نہیں کیے بلکہ ان کی روشنی کو نسلوں کے دل و دماغ تک منتقل کیا۔ وہ درس و تدریس کے اس سفر کے مسافر رہے جن کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں تھی بلکہ کردار سازی، فکری آبیاری اور انسانی اقدار کا ایک روشن منشور بھی تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے صرف ایک کامیاب معلم اور محقق کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ ایک مدبر اور دور اندیش منتظم کے طور پر بھی اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کی انتظامی حکمتِ عملی میں نظم و ضبط، اعتدال، شفافیت اور ادارے کی ترقی کے لیے بے لوث وابستگی نمایاں رہی۔
آج جب وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں تو حقیقت میں وہ ادارے سے نہیں بلکہ صرف ایک منصب سے جدا ہو رہے ہیں، کیونکہ علم بانٹنے والے لوگ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، وہ اپنی فکر، اپنے شاگردوں اور اپنی روایات میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کے لیے دعا ہے کہ آنے والا وقت ان کے لیے راحت، صحت، عزت اور مزید کامیابیوں کی نوید لے کر آئے۔
23/05/2026
شعبۂ اردو کی چار پی ایچ ڈی سکالرز کے مجلسی دفاع نیز (آن لاٸن) زبانی امتحان کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ضروری تفصیل ملاحظہ فرماٸیں👇
مقالہ نگار-صدف منیر
عنوانِ مقالہ" اردو کے مرد و خواتین خاکہ نگاروں کا تقابل :تہذیبی سیاق میں " نگران:ڈاکٹر فرزانہ کوکب
*مقالہ نگار-سعدیہ رضی عنوانٍ مقالہ:انتقادِ خطباتِ اقبال اردو(پاکستان میں انتقادِ خطباتِ اقبال اردو کا تجزیاتی مطالعہ)
نگرانِ مقالہ:ڈاکٹر محمد آصف
مقالہ نگار :نسرین روبی
عنوانِ مقالہ:اردو ناول میں ہندی معاشرت
نگرانِ مقالہ:ڈاکٹر محمد خاور نوازش
مقالہ نگار:راشدہ پروین
عنوانِ مقالہ:پاکستانی اردو ناول : ماحولیاتی تناظر میں
نگرانِ مقالہ: ڈاکٹر محمد خاورنوازش
بیرونِ ملک ممتحنین : ڈاکٹر داٶد شہباز اورڈاکٹر آٸی کت کسمیر(انقرہ یونیورسٹی ، ترکیہ)
ڈاکٹر محمد راغب دیش مکھ اور ڈاکٹر ندیم احمد(انڈیا)
اندرونِ ملک ممتحنین :ڈاکٹر سعید احمد اورڈاکٹر رابعہ سرفراز (گورنمنٹ کالج یونیورسٹی،فیصل آباد)
ڈاکٹر ریحانہ کوثر (گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی ، لاہور)
بھرپور مجلسی دفاع اور زبانی امتحان کے بعد ممتحنین نے سکالرز کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کرنے کی پرزور سفارش کی۔نیز مقالات کے موضوعات اور کام کے معیار کو سراہتے ہوٸے مقالہ نگاروں ، نگران صاحبان اورصدرِ شعبہ کو مبارک باد پیش کی۔
شعبۂ اردو تمام ممتحنین کا شکرگزار ہے اور تمام مقالہ نگاروں کو کامیابی پر مبارک باد پیش کرنے کے ساتھ مزید کامیابیوں کے لٸے دعاگو ہے۔
16/05/2026
ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا کا “خود شناسی" کی طرف سفر دراصل علمِ طب سے علمِ ذات تک کا سفر ہے۔اور "جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا".
امیدواثق ہے کہ یہ سفر کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچا ہوگا۔
14/05/2026
ڈاکٹر مختار احمد ظفر کا نام علمی و ادبی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اُن کا شمار اُن معتبر اور باوقار اہلِ قلم میں ہوتا ہے جن کی ذات ملتان کی علمی، تہذیبی اور ادبی شناخت کا روشن استعارہ بن چکی ہے۔ اُن کی شخصیت کے متعدد پہلو ہیں اور ہر پہلو اپنی جگہ وقعت، وقار اور اعتبار رکھتا ہے۔
وہ ایک صاحبِ بصیرت نقّاد، وسیع المطالعہ محقّق، دُور اندیش تجزیہ نگار اور ہمہ جہت دانش ور کی حیثیت سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہتے ہوئے اُنہوں نے نہ صرف اپنی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ علم و ادب کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے ممتاز اہلِ علم و ادب نے اُن کی علمی، تحقیقی اور تنقیدی خدمات کا برملا اعتراف کیا ہے۔ اُن کی تحریروں میں تخلیقی شعور، تحقیقی گہرائی اور تنقیدی بصیرت پوری توانائی کے ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔
خصوصاً ملتان کی تہذیبی، تاریخی اور ادبی روایت کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر مختار احمد ظفر کی تصانیف بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اُن کی کتب ملتان کی روح، ثقافت اور علمی روایت کا معتبر حوالہ ہیں۔ اُن کی بے مثال اور ناقابلِ فراموش خدمات کے اعتراف میں حکومتِ وقت کی جانب سے اُن کے گھر کے دروازے پر لوحِ اعزاز کی تنصیب اُن کی علمی عظمت کا ایک روشن اعتراف ہے۔
اب تک اُن کی دو درجن سے زائد کتب منظرِ عام پر آچکی ہیں اور ہر تصنیف اپنے موضوع، مواد اور اسلوب کے اعتبار سے نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔
شعبۂ اردو اس امر پر ڈاکٹر مختار احمد ظفر صاحب کا تہِ دل سے شکر گزار ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ شعبۂ اردو تشریف لائے اور اپنی نایاب و گراں قدر کتب نہ صرف شعبۂ اردو کے کتب خانے کے لیے عطیہ فرمائیں بلکہ طلبہ و طالبات میں بھی تقسیم کیں۔ یہ علمی و ادبی فیاضی یقیناً اہلِ علم کے لیے ایک قابلِ تقلید روایت ہے۔
13/05/2026
شعبہ اردو کی طرف سے مبارکباد ۔۔۔۔۔
11/05/2026
ہمیں یہ جان کر بے حد اطمینان ہے کہ طلباء اپنے اساتذہ کے لئے گہرے احترام اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں اور وہ اپنے اساتذہ کے ساتھ محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔
11/05/2026
محترمہ پروفیسر فرزانہ کوکب سربراہ شعبہ اردو بہاالدین زکریا یونیورسٹی کا شعبہ اردو گورنمنٹ گرائجوائٹ کالج کوٹ ادو کا بسلسلہ Comprehensive Exam دورہ۔ پروفیسر ڈاکٹر کامران اقبال ، پروفیسر قیصر عباس اور پروفیسر ڈاکٹر سیف اللہ اور باقی انتظامیہ ۔
10/05/2026
بھارت میں اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کیلئے مقابلے کا امتحان 22 زبانوں میں دیا جاسکتا ہے جن میں پاکستان کی قومی زبان اردو بھی شامل ہے. اردو والے کئی بار پوزیشنیں بھی لے چکے ہیں.
بھارتی آئین کےشیڈول VIII میں یہ 22 تسلیم شدہ زبانیں درج ہیں:
1. Assamese 2. Bengali
3. Gujarati 4. Hindi
5. Kannada 6. Kashmiri
7. Manipuri 8. Malayalam
9. Konkani 10. Marathi
11. Nepali 12. Oriya
13. Punjabi 14. Sanskrit
15. Sindhi 16. Tamil
17. Telugu 18. Urdu
19. Santhali 20. Bodo
21. Maithili 22. Dogri
سرائیکی کو بھی آئین کی تسلیم شدہ زبانوں میں شامل کرنے کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں آسام کے گورنر پروفیسر جگدیش مُکھی نے ہوم منسٹر راج ناتھ سنگھ کو خط لکھا ہوا ہے۔ پروفیسر مُکھی داجل میں پیدا ہوئے تھے۔
07/05/2026
عزت افزائی کے لٸے شکریہ اور کامیابی کے لٸے نیک تمناٸیں🙏