24/05/2026
Modern Institute of Information Technology Multan
Campus based and Online Educational Coaching and Professional IT,Languages Courses & many more at affordable cost.
24/05/2026
Online and home tutors required any subject Fresh can also apply
21/05/2026
اگر کسی پاکستانی والدین کو اچانک کینیڈا کے اسکول سسٹم میں ڈال دیا جائے…تو پہلے چند دن وہ یہی پوچھتے رہیں گے:
“یہاں بچے پڑھتے کب ہیں؟ خوش بہت لگ رہے ہیں!” 🙂 اور اگر ہمارے حاجی صاحب کو وہاں بھیج دیا جائے…تو وہ پہلے ہفتے ہی حیران ہوکر للچائی ہوئی نظروں سے کہیں گے
“کیا مطلب… پانچ بچوں کی فیس بھی نہیں؟اور اسکول وین کے الگ پیسے بھی نہیں؟ پھر اسکول چلتا کیسے ہے بھائی؟ میری تو آدھی تنخواہ اسی میں کھپ جاتی ہے ، لگتا ہے میں تو کماتا ہی اسکول چلانے کو ہوں !” 🙂
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلیمی نظام صرف مختلف نہیں… بلکہ دونوں کی پوری سوچ، ترجیحات اور ماحول الگ ہیں۔
پاکستان میں بچہ تین چار سال کا ہوا نہیں کہ گھر میں ایمرجنسی لگ جاتی ہے:
“اچھے اسکول میں داخلہ نہ ملا تو مستقبل خراب ہوجائے گا!” 🙂
پھر شروع ہوتا ہے:
فارمز، ٹیسٹ، انٹرویوز، سفارش، ڈونیشن، اور بعض جگہ والدین کا بھی انٹرویو۔
جبکہ کینیڈا میں زیادہ تر بچوں کا داخلہ سیدھا علاقے کے سرکاری اسکول میں ہوجاتا ہے۔
آپ جس علاقے میں رہتے ہیں، بچہ عموماً اسی اسکول میں جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا دنیا کے بہترین تعلیمی نظام رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
او ای سی ڈی اور مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق کینیڈا مسلسل دنیا کے بہترین تعلیمی ممالک میں شامل رہتا ہے۔
کینیڈا کی شرحِ خواندگی تقریباً ننانوے فیصد ہے جبکہ پاکستان میں دو ہزار تئیس کی مردم شماری کے مطابق یہ تقریباً ساٹھ فیصد کے قریب ہے۔
پاکستان میں اچھے پرائیویٹ اسکول کی فیس بعض اوقات کسی یونیورسٹی جیسی محسوس ہوتی ہے۔
اور اگر بچوں کی تعداد زیادہ ہو تو واقعی حاجی صاحب کی بات درست ہے کہ بعض والدین کی آدھی تنخواہ صرف: فیس، اسکول وین، کتابوں، یونیفارم، اور سالانہ چارجز میں چلی جاتی ہے۔ 🙂
بقول حاجی صاحب کے:
“بچوں کی فیسیں اور وین والے نے تو ہمیں قسطوں پر زندہ رکھا ہوا ہے!” 🙂
کینیڈا میں زیادہ تر سرکاری اسکول ٹیکس سسٹم کے تحت مفت ہوتے ہیں، اور کئی جگہ کتابیں، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر اسکول بس سسٹم…
کینیڈا میں بہت سی جگہوں پر بچوں کے لیے زرد رنگ کی محفوظ اسکول بسیں ہوتی ہیں جو مقررہ وقت پر بچوں کو گھر کے قریب سے لیتی ہیں اور واپس چھوڑتی ہیں۔
زیادہ تر علاقوں میں یہ سہولت مفت ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاں اگر اسکول بس رک جائے تو پوری ٹریفک رک جاتی ہے۔ قانون اتنا سخت ہے کہ کوئی گاڑی بس کے پاس سے تیزی سے نہیں نکل سکتی۔
پاکستانی والدین یہ منظر دیکھ کر اکثر حیران ہوجاتے ہیں۔ 🙂
پھر آتا ہے یونیفارم کا دلچسپ فرق…پاکستان میں یونیفارم بھی ایک مکمل “پروجیکٹ” ہوتا ہے۔
گرمی الگ، سردی الگ، جوتے الگ، اسپورٹس ڈریس الگ۔ 🙂
جبکہ کینیڈا میں بہت سے سرکاری اسکولوں میں یونیفارم سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ بچے عام، آرام دہ اور موسم کے مطابق کپڑوں میں اسکول آجاتے ہیں۔ وہاں زیادہ توجہ آرام اور اعتماد پر ہوتی ہے۔
ایک اور دلچسپ فرق ہوم ورک کا ہے… پاکستان میں بعض اوقات بچہ اتنا ہوم ورک لے آتا ہے کہ لگتا ہے پوری فیملی نے پانچویں کلاس میں داخلہ لے لیا ہے۔ 🙂
جبکہ کینیڈا میں ابتدائی جماعتوں میں نسبتاً کم ہوم ورک دیا جاتا ہے۔
وہاں زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ بچہ سمجھے، سوال کرے، اعتماد سے بات کرے، اور عملی زندگی سیکھے۔
پاکستان میں اب بھی “رٹا سسٹم” مضبوط ہے:
“یہ سوال یاد کرلو… یہی آئے گا!”
اور کینیڈا میں جب بچے سوال کرتے ہیں تو ٹیچر اسے سوچ پر ابھارتے ہیں کہ “تم بتاؤ تمہاری اپنی رائے کیا ہے؟”
پھر آتے ہیں اوقات اور روزمرہ روٹین…پاکستان میں صبح سویرے اسکول، پھر ٹیوشن، پھر ہوم ورک،
پھر ٹیسٹ کی تیاری۔ 🙂
جبکہ کینیڈا میں بچوں پر نسبتاً کم ذہنی دباؤ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔کھیل، آرٹ، عملی سرگرمیاں، اور اعتماد سازی پر کافی توجہ دی جاتی ہے۔
چھٹیوں اور تعطیلات کا فرق بھی دلچسپ ہے… پاکستان میں گرمیوں کی چھٹیوں کا انتظار بعض بچوں کو مارچ سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ 🙂
اور پھر ہوم ورک والی کاپیاں الگ سے دے دی جاتی ہیں تاکہ چھٹیوں میں بھی سکون نہ ملے۔ 🙂
کینیڈا میں بھی گرمیوں کی چھٹیاں کافی لمبی ہوتی ہیں، لیکن وہاں سردیوں کی تعطیلات، بہار کی چھٹیاں، اور مختلف لمبے ویک اینڈز بھی بچوں کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔
برف پڑے تو کبھی کبھی “سنو ڈے” بھی ہوجاتا ہے… یعنی آج اسکول بند۔ 🙂
یہ چیز پاکستانی بچوں کو کسی خواب جیسی لگتی ہے۔
تعلیمی اعداد و شمار بھی دلچسپ ہیں…
• کینیڈا اپنی مجموعی قومی آمدنی کا تقریباً پانچ اعشاریہ پانچ فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔
• پاکستان کی تعلیم پر سرکاری اخراجات حالیہ برسوں میں تقریباً دو فیصد کے قریب رہے ہیں۔
• کینیڈا میں پرائمری اسکول میں استاد اور بچوں کا تناسب تقریباً پندرہ سے سترہ بچوں پر ایک استاد ہے، جبکہ پاکستان میں بعض اوقات یہ چالیس بچوں سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔
• کینیڈا میں سیکنڈری اسکول میں داخلے کی شرح نوے فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح کافی کم ہے۔
لیکن ایک بات بہت اہم ہے…
پاکستان کے بچوں میں محنت،
برداشت، اور مقابلے کی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اور کینیڈا کے بچوں میں اعتماد،
آزادانہ کام کرنا، اور عملی زندگی کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے۔
میرے خیال میں اصل کامیابی شاید دونوں چیزوں کے درمیان کہیں ہے…
ایسی تعلیم…
جو صرف نمبر نہ دے،
بلکہ انسان بھی بنائے…
بااعتماد،
سخت جان،
اور محنتی انسان۔ ❤️
copied
18/05/2026
اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔
دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے، جب سلیم 10 سال کا تھا۔
لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے "جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔" کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔
رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، "سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔"
سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، "جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟"
سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔
18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، "بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔"
سلیم نے کہا، "امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔"
یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔
گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی — صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔
لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، "سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔"
5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔
آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔
سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، "بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔"
لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔
سلیم کہتا ہے، "نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے
ہم نے ڈگریاں تو لے لیں، مگر ضمیر کو نہیں جگایا۔
علم بڑھا، لیکن عمل گرا۔
ہمیں بتایا گیا کیا پڑھنا ہے، مگر یہ نہیں سکھایا گیا کیسے جینا ہے۔
تعلیم کاغذ پر چھپتی ہے، تربیت کردار میں جھلکتی ہے۔
آپکی زندگی کی اچیومنٹ کیا تھی؟
اچیو کر لی یا ابھی کوشش جاری ہے؟؟؟؟؟
کمنٹ میں بتائیں 👇👇👇👇
15/05/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Near Eat On Bosan Road
Multan