Science Educators

Science Educators

Share

Every child enrols in school
Every child is retained in school
Every child learns and makes progress

08/10/2025

*📢 اساتذہ کی فیلڈ ڈیوٹی یا بچوں کا تعلیمی نقصان؟ — ایک سنجیدہ سوال!*

؟ *📌 PSER سوشو اکنومک سروے میں اساتذہ کی ڈیوٹیوں پر اہم سوالات اٹھ گئے!*

✅ *بہتر متبادل — بے روزگار نوجوانوں کو انٹرن شپ دی جائے!*
🔹 پنجاب میں لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار ہیں
🔹 حکومت ان کو PSER سروے کی تربیت دے کر انٹرن شپ دے سکتی ہے
🔹 اس سے:
✔️ نوجوانوں کو روزگار
✔️ حکومت کو معیاری ڈیٹا
✔️ بچوں کی تعلیم محفوظ

*✍️ پنجاب بھر میں اساتذہ کو PSER (Poverty Scorecard Survey) جیسی غیر تدریسی ڈیوٹیوں پر لگا کر 3 ماہ تک فیلڈ میں بھیجا جا رہا ہے۔*

اس اقدام کے چند سنگین پہلو درج ذیل ہیں:

❌ *بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی*
➤ تین ماہ تک کلاسز کون لے گا؟
➤ پہلے ہی تعلیمی نتائج پر سوالیہ نشان ہے، مزید بوجھ کیوں؟

❌ *اساتذہ پر غیر متعلقہ بوجھ*
➤ ٹیچرز کا اصل کام تدریس ہے، ڈیٹا کلیکٹر نہیں۔
➤ تعلیم کے معیار پر اس کا براہ راست اثر پڑے گا۔

🎯 *مطالبہ:*
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور دیگر اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ:

*"اساتذہ کو تدریس کے لیے اسکول میں رہنے دیا جائے — PSER جیسے سروے کے لیے بیروزگار نوجوانوں کو انٹرن شپ پر رکھا جائے!"*

📢 یہ فیصلہ اساتذہ، طلباء اور نوجوانوں سب کے لیے فائدہ مند ہوگا۔


12/08/2025

گورننس بہتر بنانے کے لیے ان کے اندر قابلیت موجود نہیں۔ان کے پاس ہر چیز کا صرف ایک ہی حل ہے کہ ٹھیکے داروں کو بیچ دو ۔لیکن ان احمقوں کو یہ معلوم نہیں کہ سرکاری ادارے اور ملازمین کسی قوم کا سٹریٹیجک اثاثہ ہوتے ہیں ایک دفاعی لائن ہوتے ہیں۔ہر قسم کی افات میں جب تمام لوگ گھروں کو بھاگے ہوتے ہیں یہ سرکاری ملازمین ہی ہوتے ہیں جو حکومت کے حکم پر ہر قسم کی خدمات فراہم کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔قومی مفاد کے تمام معاملوں میں سرکاری ملازمین ہی حکومت وقت کا بازو ہوتے ہیں ۔لیکن یہ احمق نہیں سمجھیں گے یہ ملک کا حال مشرقی پاکستان والا کرنا چاہتے ۔ ہیں جہاں پر ہندو استادوں نے پوری قوم کی ذہن سازی کر کے اس کو اپنے ہی ملک کے خلاف کر دیا تھا۔یہ بھی اس ملک خداداد میں یہی کرنا چاہتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے استاد ٹھیکے داروں کے غلام ہو جائیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس قوم کی ذہن سازی کر سکیں۔

27/07/2025

ہیڈ شپ ٹیسٹ - پروموشن کا قاتل ؟
جب ایک 16 گریڈ SST اپنی 20 سال سروس کے بعد بطور ریگولر ہیڈ ماسٹر گریڈ 17 میں پروموشن لیتا ہے تو اس کی خالی ہونے والی سیٹ پہ نچلے گریڈ سے ایک EST گریڈ 15 پروموشن حاصل کر کے ایک درجہ اوپر آتا ہے ۔
پھر اس EST کی بھی خالی ہونے والی سیٹ پہ نچلے گریڈ سے ایک PST گریڈ 14 پروموشن حاصل کر کے اوپر گریڈ 15 میں آتا ہے۔
یعنی کہ بطور ریگولر ہیڈ ماسٹر آنے سے پروموشن کا ایک پورا سلسلہ چلتا ہے جس سے تمام لوگ مستفید ہوتے ہیں۔
محکمہ کی 60٪ ہیڈ ماسٹر و ہیڈ مسٹریس کی سیٹ خالی ہیں۔ اگر ان پہ قوانین کے مطابق ریگولر پروموشن کر کے 8 ہزار سکول ہیڈ لائے جائیں تو مطلب ، 8 ہزار SST پروموشن ، 8 ہزار EST پروموشن لیں گے اور 8 ہزار PST اساتذہ پروموشن لیں گے۔
کل 24 ہزار اساتذہ پروموشن سے فاہدہ اٹھائیں گے۔۔ لیکن
صرف 10 ہزار روپے الاؤنس کے لالچ میں کچھ خود غرض افراد خصوصاً AEOs یا جونیئر اساتذہ نے سارے اخلاقی اقدار و قوانین کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفاد کے پیش نظر ہیڈ شپ ٹیسٹ کے لیے اپلائی کیا۔ یعنی کہ 24 ہزار لوگوں کے پروموشن کے سلسلہ کو اپنے 10 ہزار الاونس کے چکر میں روکنے کی کوشش کی۔
اساتذہ سے گزارش ہے کہ خود سے فنڈنگ کر کے تھوڑے تھوڑے پیسے ڈال کر انہیں خود سے 10 ہزار دیں اور ریگولر پروموشن کو سپورٹ کریں جو کہ تمام اساتذہ کا حق ہے۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ انہیں موقع دیا گیا تھا تو انہوں نے اپلائی کرلیا ۔ میرے بھائی اگر چوکیدار بد نظمی کی اجازت دے تو آپ غیر اخلاقی حرکات شروع کردیں گے، لوگوں کے حق میں ڈاکے ماریں گے کہ ہمیں موقع دیا گیا تھا اس لیے ہم نے یہ سب کیا، آپ کو ذمہ داری کو مظاہر کرتے ہوئے چوکیدار کی سرزنش کرنی چاہیے کہ ہمیں یہ موقع نہیں چاہیے بلکہ قوانین کی پاسداری چاہیے جس کے مطابق آپ کی نوکری مستقل اور باقی اساتذہ کی پروموشن ہوگی۔
اپنی رائے کا اظہار کریں ۔

23/07/2025

بے فکر رہیں۔۔اس ریشنیلائزیشن کے عمل نے سارے نظام کا کٹھا چٹھہ کھول کر رکھ دیا ہے ۔۔۔اب سمجھ نہیں ا رہی کہ اساتذہ کو کہاں لے کر جائیں یا اساتذہ کہاں سے لائیں۔۔کیونکہ سکولز میں سر پلس اساتذہ کی تعداد اساتذہ کی ضرورت سے کئی گنا کم ہے۔۔مثلا۔۔پنجاب بھر میں 888 ایس ایس ٹی سرپلس ہیں۔۔اور ضرورت 8544 اساتذہ کی ہے۔۔اب ای ایس ٹی اور پی ایس ٹی اساتذہ اس بوجھ کو اٹھائے ہوئے تھے جو ریشنلایزیشن کے بہانے ریکارڈ سامنے آگیا۔
ایک طرف PST کی فوراً پروموشن کر کے EST بنا کر رش لگا دیا، دوسری جانب EST اساتذہ کی بطور SSTپروموشن نہیں کی جارہی، زبردستی سرپلس ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی اور نتیجتاً سارا نظام اپنی خامیوں کے ساتھ سامنے آکھڑا ہوا ہے۔

20/07/2025

اچھے خاصے چلتے چلاتے سرکاری پرائمری سکولوں کو ٹھکیداری نظام کے ماتحت کرکے کروڑوں روپئے مالیت کے انفراسٹرکچر کو صرف اس لئے برباد کرکے کھنڈرات میں بدل دیا کہ سکولوں میں پڑھانے کیلئے اساتذہ کی کمی ہے اوراب وہی سرمایہ جس سے ہزاروں اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کی بھرتی ہوسکتی تھی تعلیم کے نام پر کھیل تماشوں پر خرچ کیاجارہا ہے محکمہ صحت اور چلتے چلاتے تعلیمی ادارے برباد کرکے ان ڈرامہ بازیوں پرٹیکس دہندگان کا سرمایہ جھونکا جارہا ہے۔جن تعلیمی اداروں میں بچے پڑھنے کیلئے خود آتے ہیں وہاں پڑھانے کیلئے اساتذہ بھرتی نہیں کئے جارہے جبکہ آن ویل ہسپتال سکول لائیبریریاں بناکر سڑکوں پر دکھلاوا کیا جارہا ہے بنے بنائے مراکزصحت اور تعلیمی ادارے ٹھیکوں پر دیکر یہ عوام کی کیسی خدمت کی جارہی ہے چند ماہ/چند سال بعد نہ یہ ویل نظر آئیں گے نہ سکول اور موبائئل ہسپتال اور لائئبریریاں یہ صرف مقروض ملک اور ٹیکس دہندگان کے سرمایہ کا ضیاع ہے

13/07/2025

تمام سرکاری سکول میں ہر ماہ مانیٹرنگ آفیسر کا خفیہ چھاپہ، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کا 2 مرتبہ تفصیلی وزٹ، چیف ایگزیکٹو آفیسر کا ماہانہ وزٹ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا سرپرائز وزٹ اور اسسٹنٹ کمشنر کا سرپرائز وزٹ ہوتا ہے۔
اتنی سخت نگرانی کے باوجود بھی 2 سال سے الزامات لگ رہے ہیں کہ اساتذہ کئی سال تک بغیر سکول آئے تنخواہ لے رہے ہیں۔ لیکن کاروائی بھی نہیں ہورہی اور سامنے بھی نہیں آرہے۔، چیکنگ کے اتنے آفیسرز کیا کام کر رہے ہیں؟
اب وقت ہے کہ ان افراد کو سامنے لایا جائے جن کی بنیاد پہ پنجاب بھر کے اساتذہ کی ساکھ خراب کی جارہی ہے۔ الزامات لگائے جانے کا یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔
Follow us for latest updates.

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Multan