23/03/2026
فخر الدین پاشا نے اور ان کے سپاہیوں نے 90 دن تک ٹڈیاں کھا کر گزارا کیا، مگر مدینہ منورہ کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا:
“میں اُس جگہ کو ہرگز تسلیم نہیں کروں گا جہاں نبی کریم ﷺ مدفون ہیں، کسی ایسے کافر کے حوالے نہیں کروں گا جسے وضو تک نصیب نہیں۔”
یہ ایک عظیم داستان تھی جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ یہ ایک انسانی جذبے کی ایسی تصویر تھی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، اور ایک فوجی کارنامہ بھی تھا جس نے سخت ترین حالات اور مشکل ترین شرائط کا مقابلہ کیا۔ اس داستان کا ہیرو عثمانی کمانڈر فخر الدین پاشا تھا، جسے “نمر الصحراء” (صحرا کا شیر) کہا جاتا تھا، اور انگریز اسے “ترک شیر” کہتے تھے۔
جب سلطنتِ عثمانیہ انگریزوں کے خلاف جنگ میں شکست کھا گئی اور شام و حجاز سے عثمانی فوجیں واپس چلی گئیں، تو مدینہ منورہ میں صرف فخر الدین پاشا اور ان کے سپاہی باقی رہ گئے۔ انہوں نے ہتھیار ڈالنے اور مدینہ منورہ کو ان عرب افواج کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جو انگریزوں کی قیادت میں لڑ رہی تھیں، جسے قوم پرست لوگ “عرب بغاوت” کہتے ہیں۔
مصر میں برطانوی ہائی کمشنر جنرل ونجٹ نے فخر الدین پاشا کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا، جس میں کہا:
“ترک شکست کھا چکے ہیں، شام پر قبضہ ہو چکا ہے، اور اب اگر آپ نے ہتھیار نہ ڈالے اور مدینہ حوالے نہ کیا تو جو خون بہے گا اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔”
اس کے جواب میں صحرا کے شیر نے لکھا:
“مصر کے ونجٹ کے نام میں محمدی ہوں، میں عثمانی ہوں، میں ایک سپاہی ہوں، میں بالی بیگ کا بیٹا ہوں۔”
یعنی وہ کسی دھمکی سے ڈرنے والے نہیں اور رسول اللہ ﷺ کے شہر کا دفاع کرتے ہوئے مرنے کے لیے تیار ہیں۔
وہ مدینہ کے آخری عثمانی امیر تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد بھی انہوں نے مدینہ حوالے کرنے سے انکار کیا اور سات ماہ تک بغیر کسی مدد اور رسد کے مزاحمت جاری رکھی۔
آخرکار جب خوراک، دوا اور اسلحہ بہت کم ہو گیا اور دفاع جاری رکھنا ممکن نہ رہا تو انہیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس کے باوجود انہوں نے مدینہ چھوڑنے سے انکار کیا اور ارادہ کیا کہ روضۂ رسول ﷺ کے پاس ہی رہیں گے، لیکن ان کے افسران انہیں زبردستی شہر سے باہر لگے ہوئے خیمے میں لے گئے۔
اللہ نمر الصحراء فخر الدین پاشا پر رحم فرمائے اورلاکھوں برکتیں نازل فرمائے،آمین!
حوالہ جات: کتاب “مذکراتی” عبداللہ اول