The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan

The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan

Share

LL.B Program, legal educational services, coaching, information and guidance.

Photos from The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan's post 09/06/2026

السلام علیکم! ایل ایل بی 5سالہ پروگرام سیشن 26-2021 (سالانہ سسٹم ) کے تقریبآ 2500 طلباء نے بی زیڈ یو سے الحاق شدہ 30 لاء کالجز میں داخلہ لیا اور ان طلباء نے کالجز اور یونیورسٹی کی تمام فیس ہاہے ادا کیں ۔ کالجز نے یونیورسٹی کی رجسٹریشن برانچ کو ان طلباء کی رجسٹریشن کے لیے رجسٹریشن ریٹرنز بھی بھجوا دیں اور اس دوران طلباء نےسال 2022 میں پارٹ اول کی کلاسز لے کر کورس ورک مکمل بھی کرلیا لیکن بد قسمتی سے یونیورسٹی کے چند آفیسران نے ذاتی بغض و عناد اور مستقبل سے وابستہ ذاتی مفاد اور شہرت کے حصول اور نوکری پکی کرنے اور ترقی کے لالچ کی خاطر اور سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں مورخہ 5 دسمبر 2022 کو تمام 30 کالجز کا الحاق ختم کر دیا ۔ کالجز کا الحاق ختم ہونے کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے حکم رپورٹڈ 2019 SCMR صفحہ 389 پیرا 20 کے تحت یونیورسٹی پر قانونی ذمہ داری عائد ہوگی کہ یونیورسٹی ان 2500 طلباء کی جاری شدہ ڈگری کو مکمل کرواہے لیکن 4 سال گزرنے کے باوجود رجسٹریشن برانچ لگاتار سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کی نافرمانی کرتے ہوہے ان طلباء کی رجسٹریشن نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی کنٹرولر امتحانات ان طلباء کا پارٹ اول سالانہ امتحان 2022 منعقد کر رہا ہے جو کہ ان طلباء کے ساتھ ظلم , زیادتی اور ناانصافی کی انتہا ہے ۔
ان طلباء کی دادرسی کے لیے بندہ ناچیز نے تمام متعلقہ اتھاریٹیز کو متعدد درخواست ہاہے بتاریخ 23 اکتوبر 2023 ، 15 دسمبر 2023, 8 جنوری 2024 اور 17 جنوری 2024 کو گزاریں لیکن کوئ شنوائی نہ ہوئی ہے ۔ اب ان درخواست ہاہے کی یادہانی کرواتے ہوہے ایک دفعہ پھر واقعاتی اور قانونی نکات پر مشتمل درخواست مورخہ 5 جون 2026 کو چیرمین و ممبران سینڈیکیٹ اور دیگر متعلقہ اتھاریٹیز کو گزاری ہے جو کہ نیچے پوسٹ کر دی گی ہے ۔
انسان کا کام نیک نیتی سے مسلسل کوشش کرنا ہوتی ہے ۔ نتیجہ میرے رب کے پاس ہے ۔
طالب دعا ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان

Photos from The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan's post 28/05/2026

السلام علیکم! ایل ایل بی تین سالہ پروگرام سیشن 2020-2017 کے ایک طالب علم کا ڈبل رجسٹریشن کیس :
اس طالب علم نے سکروٹنی کے تمام مجوزہ مراحل سے گزر کر پارٹ اول سالانہ امتحان 2019 پاس کر لیا اور پارٹ دوم سالانہ امتحان 2020 کے لیے کنٹرولر امتحانات نے اعتراض لگا دیا کہ اسی رجسٹریشن نمبر پر ایک دوسرا طالب علم پارٹ اول سالانہ امتحان 2018 دے چکا ہے۔ اسی اعتراض کی بنا پر طالب علم کو پارٹ دوم کے امتحان کے لیے رول نمبر سلپ جاری نہ کی گی جس پر طالب علم نے ہائ کورٹ ملتان بینچ پر رٹ پٹیشن داہر کر کے عبوری حکم/ ریلیف کے تحت پارٹ دوم کا امتحان دے دیا۔ بعد ازاں ہائ کورٹ نے اس طالب علم بمعہ دیگر 162 رٹ پٹیشنز پر ایک مشترکہ فیصلہ صادر کرتے ہوہے ان پٹیشنز کو یونیورسٹی کو ریفر کر دیا ۔ یونیورسٹی نے ہائ کورٹ کے مشترکہ فیصلہ کی روشنی میں ایک کمیٹی بنا دی جس نے ڈپٹی کنٹرولر امتحانات کے اعتراضی موہقف کو اہمیت دیتے ہوہے طالب علم کے پارٹ دوم کا رزلٹ روک لیے جانے کی سفارش کردی ، بعد ازاں سینڈیکیٹ نے اگست 2025 کے اجلاس میں کمیٹی کی اس سفارش کی توثیق کرتے ہوہے اسے فیصلہ میں بدل دیا۔ طالب علم نے کمیٹی کی سفارش اور سینڈیکیٹ کے فیصلہ کو زیر دفعہ A-11 بی زیڈ یو ایکٹ 1975 کے تحت چانسلر / گورنر کے پاس نگرانی داہر کرتے ہوہے چیلنج کر دیا۔ چانسلر / گورنر نے فریقین کو سماعت کرنے کے بعد مورخہ 21 مئ 2026 کو فیصلہ صادر کیا ہے جس میں کمیٹی کی سفارش اور سینڈیکیٹ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کو طالب علم کا پارٹ دوم کا رزلٹ جاری کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس کیس میں کنٹرولر امتحانات نے چانسلر/ گورنر کے پاس نگرانی کی سماعت کے دوران اپنے سابقہ موہقف/ اعتراض کے برخلاف یہ موہقف/ رپورٹ پیش کی کہ مذکورہ طالب علم کا ہارڈ اور سافٹ ڈیٹا کنٹرولر امتحانات کے دفتر کے پاس موجود ہے ۔ کنٹرولر امتحانات کے سابقہ غلط موہقف/ اعتراض کی وجہ سے طالب علم کا 2 سال تک رزلٹ جاری نہ ہوا اور اسی بابت ان 2 سالوں میں طالب علم کو مقدمہ بازی ، پریشانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی تعلیمی سالوں کے ضیاع کا بھی سامنا کرنا پڑا ،
اسی طرح سینکڑوں دیگر طلباء کو پارٹ دوم اور سوم کے امتحانات میں مختلف غیر قانونی اعتراضات لگا کر ان کے رزلٹس روکے ہوہے ہیں اور ان کی ڈگری مکمل ہونے میں رکاوٹ ڈالی ہوئ ہے جبکہ موجودہ ڈپٹی کنٹرولر اور کنٹرولر امتحانات اور ان کے ماتحت عملہ نے ہی ان طلباء کے پارٹ اول اور دوم کے امتحانات کے وقت ہارڈ اور سافٹ ڈیٹا کی ہر طرح سکروٹنی کر کے رول نمبر سلپس اور رزلٹس اپنے دستخط ہاہے سے جاری کیے ہوہے ہیں لیکن سزا صرف طلباء کو دی جا رہی ہے،
میرا رب ہی ہے جو اس طرح کے ظلم ،نا انصافی اور زیادتی کرنے والوں کو ہدایت دے سکتا ہے ، یا اللہ ان کو ہدایت دے ، امین ،
طالب دعا! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان ،

Photos from The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan's post 16/05/2026

السلام علییکم! 5167 طلباء کے پارٹ اول کے سپیشل امتحان کے انعقاد کے لیے لیگل ایجوکیشن کمیٹی پنجاب بار کونسل کو بھی درخواست مورخہ 14 مئ 2026 کو گزاری ہے جس میں استدعا کی گی کہ کمیٹی اپنی پوزیشن کا استعمال کرتے ہوہے اس امتحان کے انعقاد کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور 5167 طلباء کی دادرسی کرواہے ،
یاد رہے کہ وی سی کے وعدہ کے باوجود پچھلے 4 سال سے اس امتحان کا انعقاد بلاوجہ نہیں کیا جا رہا اور یہ بھی ایک قانونی حقیقت ہے کہ دفعہ 19 بی زیڈ یو ایکٹ 1975 کے تحت امتحانات کا انعقاد کرنا اور امتحانات کے متعلقہ تمام دیگر امور کی ذمہ داری کنٹرولر امتحانات کی ہے لیکن اس قانونی ذمہ داری کو بلاجواز پورا نہیں کیا جارہا جو کہ طلباء کے ساتھ ظلم ہے
شکریہ!
دعا گو ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان

Photos from The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan's post 14/05/2026

السلام علییکم! مورخہ 28 مئ 2022 ( تقریبآ 4 سال قبل) چیرمین لیگل ایجوکیشن کمیٹی پنجاب بار کونسل کی رپورٹ کی بنیاد پر پاکستان بار کونسل نے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے نوٹیفیکیشن بابت انعقاد پارٹ اول( ایل ایل بی تین سالہ پروگرام) سپلیمنٹری امتحان 2019( منعقدہ 10 جون 2022) کو اور اس امتحان کے امیدواران کی اہلیت کو سپریم کورٹ میں بذریعہ سی ایم اے نمبر 3480/2022چیلنج کر دیا ۔ اس امتحان کے لیے کنٹرولر امتحانات نے 6227 امیدواران / طلباء کو اصلی اور حقیقی قرار دیتے ہوئے ان کو رول نمبر سلپس جاری کر دیں لیکن 5167 امیدواران کو رول نمبر سلپس جاری کرنے کا معاملہ زیر التوا تھا کہ اسی دوران مذکورہ کیس کی پہلی سماعت 2 جون 2022 اور دوسری سماعت 6 جون 2022 کو ہوئ اور ان 5167 طلباء کو رول نمبر سلپس جاری نہ کیے جانے کی بابت لاء کالجز کے نمائندگان کی مورخہ 8 جون 2022 کو وی سی صاحب سے میٹنگ ہوئی جس میں وی سی صاحب نے وعدہ کیا کہ ان طلباء کا پارٹ اول کا سپیشل امتحان لیا جاہے گا لیکن یہ بھی یاد رہے کہ مورخہ 9 جون 2022 بوقت قریب سہہ پہر کو ڈپٹی رجسٹرار ( رجسٹریشن ) نے ان میں سے 2156 طلباء / امیدواران کا ہارڈ اور سافٹ ڈیٹا باقاعدہ تصدیق کرکے کنٹرولر امتحانات کے حوالے کرنے کے لیے ان کے دفتر گے تاکہ ان 2156 طلباء کو رول نمبر سلپس جاری کی جا سکیں اور وہ امتحان دے سکیں لیکن کنٹرولر امتحانات نے تاخیر کا بہانہ کرتے ہوہے ان طلباء کا تصدیق شدہ ڈیٹا لینے سے انکار کر دیا اور یہ 2156 طلباء ہر طرح سے اصلی اور حقیقی اور غیر متنازعہ ہونے کے باوجود کنٹرولر امتحانات نے آج تک ان طلباء کا پارٹ اول کا امتحان نہیں لیا اور نہ ہی دیگر 3011 طلباء کا وعدہ کرنے کے باوجود آج تک پارٹ اول کا سپیشل امتحان لیا گیا ہے جو کہ یونیورسٹی کی متعلقہ اتھاریٹیز کی ناانصافی ظلم اور زیادتی کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
ان 5167 طلباء کی 11 کیٹیگریز ہیں جن کا پارٹ اول کے سپیشل امتحان کے انعقاد کے لیے متعدد درخواست ہاہے پہلے گزاری جا چکی ہیں ۔اب اسی بابت ایک دفعہ پھر مورخہ 13 مئ 2026 کو تفصیلی درخواست چیرمین اور ممبران سینڈیکیٹ یونیورسٹی کو گزاری ہے جس میں استدعا کی گی ہے کہ 5167 طلباء کا پارٹ اول کا سپیشل امتحان لیا جاہے اور ان کی ڈگری مکمل کروائ جاہے،
نیک نیتی سے کوشش کرنا انسان کا کام ہے اور کوشش کا نتیجہ میرے رب کے پاس ہے ،
شکریہ ،
دعا گو! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان

05/05/2026

السلام علییکم! جو صورت حال اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سینڈیکیٹ کی حسب ذیل خبر میں بیان کی گی ہے اسی طرح کی صورت حال بہاوالدین زکریا یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیز کی سینڈیکیٹ کی میٹنگز میں بھی ہوتی ہے ،یہاں تک کہ اکثر معزز ممبران صاحبان سینڈیکیٹ نہ تو ریکارڈ / ورکنگ پیپرز پڑھ کر پوری تیاری کے ساتھ میٹنگ میں آتے ہیں اور نہ ہی ہر ایجنڈا آئٹم کے واقعاتی اور قانونی پہلووں پر بحث میں حصہ لیتے ہیں بس صرف چیرمین سینڈیکیٹ کی مرضی اور خواہش کے حق میں ووٹ دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے سینڈیکیٹ کے فیصلہ جات آہین و قانون سے عاری ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فیصلہ جات نہ تو معیاری ہوتے ہیں اور نہ ہی مستحکم ہوتے ہیں بس چیرمین کی مرضی اور خواہش کو دوام بخشنے کے لیے اکثر میٹنگز ایک کاروائ ہی ہوتی ہے ،

Photos from The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan's post 25/04/2026

السلام علیکم! توہین عدالت کی درخواست ہاہے نمبر 429-W /2026 بعنوان ڈاکٹر شہزاد احمد بنام ڈاکٹر زبیر اقبال وی سی بی زیڈ یو اور 440-W/2026 بعنوان ڈاکٹر ابوذر عابد صدیقی بنام ڈاکٹر زبیر اقبال وی سی بی زیڈ یو میں لاہور ہائ کورٹ ملتان بینچ نے حکم مورخہ 22 اپریل 2026 صادر کیا ہے جس کے مطابق یونیورسٹی کے وکیل نے عہد / وعدہ کیا ہے کہ اندر 15 یوم سینڈیکیٹ کے سیشن / اجلاس میں عدالت ہذا کے سابقہ حکم کی تعمیل کر دی جاہے گی ۔
پچھلے دنوں سینڈیکیٹ کے یونیورسٹی ممبران کا الیکشن ہو گیا ہے جس سے سینڈیکیٹ مکمل ہو چکی ہے اور یونیورسٹی کے وکیل کا مندرجہ بالا توہین عدالت کی درخواست ہاہے کی کاروائ میں ہائ کورٹ میں سینڈیکیٹ کے اجلاس / سیشن کا اندر 15 یوم منعقد ہونے کے وعدہ سے ایک دفعہ پھر یہ امید لگائ جا سکتی ہے کہ مئ 2026 کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں سینڈیکیٹ کی میٹنگ ہو گی اور مزید اچھا گمان اور توقع یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گورنر کے حکم مورخہ 4 فروری 2026 کی روشنی میں اور طلباء کی متعدد درخواست ہاہے کے حوالے سے تمام مساہل کو سینڈیکیٹ کے آئندہ متوقع اجلاس کے ایجنڈا کا حصہ بنایا جاہے گا اور تمام فریقین کو سماعت کر کے اور ریکارڈ کا بغور جائزہ لے کر اور تفصیلی بحث مباحثہ کر کے مساہل کے حل نکالے جانے کا فیصلہ کیا جاہے گا ، ۔شکریہ
طالب دعا ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان ،

19/04/2026
Photos from The Toppers Law College Multan, Northeren By Pass Road Multan's post 16/04/2026

السلام علیکم یہ پوسٹ بی زیڈ یو کے لاء طلباء کے لیے امتحان میں چانسز کے متعلق ہے خاص کر کسی طالب علم پر کسی پارٹ میں Not Eligible ( NE) کا اعتراض لگایا گیا ہو اور وہ اس اعتراض کی وجہ سے یونیورسٹی سے مزید امتحانات نہیں دے سکتا۔ اسی حوالے سے ایک پرائیویٹ فی میل لاء طالبہ/ امیدوار نے فون کال پر مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ جب اس نے پارٹ دوم کا بقایا ایک فیل شدہ پیپر دینے کے لیے ساتویں مرتبہ داخلہ بھیجا تو N E کا اعتراض لگا جس پر اس نے کنٹرولر امتحانات کو مزید چانسز کے لیے درخواست دی جو خارج کر دی گی اور جواب دیا گیا کہ ریگولیشنز کے تحت 5 چانسز ہوتے ہیں وہ آپ لے چکی ہیں جبکہ غلطی سے ایک زاہد ( چھٹا) چانس بھی آپ کو مل چکا ہے لہذا پارٹ دوم کے امتحان کے لیے آپ N E ( نااہل) ہیں ،
مندرجہ بالا صورت حال پر غور و فکر کرنے اور بی زیڈ یو ریگولیشنز کا مطالعہ کرنے کے بعد طالبہ کی طرف سے جناب وی سی صاحب کو متعلقہ ریگولیشنز کے تحت مورخہ 12 اپریل 2026 کو درخواست گزاری گی ہےجس میں استدعا کی ہے کہ طالبہ کو قانون کے تحت پارٹ دوم میں فیل شدہ بقایا ایک پیپر دینے کے لیے مزید 2 چانسز دیے جاہیں تاکہ طالبہ اپنی ڈگری مکمل کر سکے ،
کسی بھی پارٹ میں بمطابق ریگولیشنز کل چانسز حسب ذیل بنتے ہیں ،
1) ریگولیشن ( vi )2 کے مطابق پہلی دفعہ امتحان میں غیر حاضر ہونے یا پہلی دفعہ امتحان میں فیل ہونے کی صورت میں بعد ازاں کل 4 دفعہ امتحانات دینے کی اجازت ہو گی ۔ ( کنٹرولر آفس صرف اس ریگولیشن کو اکیلے میں پڑھتے اور عمل کرتے ہوہے امیدواران کو کل 5 چانسز دیتا ہے ) ،
2) ریگولیشن 3 کے مطابق ہر پارٹ تین سال کی مدت میں پاس کرنا ہوگا لیکن اگر امیدوار کا معاملہ ریگولیشن (I)5 کے تحت آ جاہے تو پھر اس پر تین سال والی مدت کا اطلاق نہ ہوگا۔
3) ریگولیشن (I) 5 کے مطابق اگر امیدوار امتحان کے سارے( سات) پیپرز دیتا ہے اور وہ 4 یا 4 سے زاہد پیپرز میں سے ہر پیپر میں کم از کم 40 فیصد مارکس لے کر ان پیپرز کو پاس کر لیتا ہے اور ان پاس شدہ پیپرز کا ایگریگیٹ بھی کم از کم 45 فیصد ہو جاتا ہے تو پھر اسے بقایا فیل شدہ پیپرز دینے کے لیے اگلے 3 امتحانات میں سے 2 امتحانات دینے کی اجازت ہو گی ۔
4) ریگولیشن 11 کے مطابق ہر پارٹ کے ہر سال دو امتحانات ہوں گے ۔ پہلا سالانہ امتحان ماہ مئ کے وسط میں اور دوسرا سالانہ / سپلیمنٹری امتحان ماہ اکتوبر کے وسط میں منعقد ہوں گے ۔
مذکورہ تمام ریگولیشنز کو اگر ملا کر پڑھا جاہے تو پھر کل چانسز حسب ذیل بنتے ہیں
# ریگولیشنز ( vi) 2 کے تحت 5 چانس اور 3 اور ( I) 5 کے تحت اضافی 2 چانسز اس طرح کل 7 چانسز بنتے ہیں
#ریگولیشن 3 کے تحت مدت تین سال اور ریگولیشن 11 کے تحت ہر سال دو امتحانات اس طرح کل 6 امتحانات / چانسز اور اگر ان کے ساتھ ریگولیشن (I) 5 کو ملا کر پڑھا جاہے تو اضافی 2 چانسز بھی بنتے ہیں اور اس طرح کل 8 چاںسزبنتے ہیں ۔
قانون کی تشریح کا مسلمہ اصول ہے کہ قانون کو مکمل پڑھا جاہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہرگز نہ پڑھا جاہے اور اسے مکمل پڑھنے سے اگر دو یا دو سے زاہد تشریحات بنتی ہوں تو اس تشریح پر عمل کیا جاہے گا جو ملزم / ٹیکس دہندہ /طالب علم کے حق میں ہو گی تو اس اصول کے تحت طالب علم کے حق میں یہ ہے کہ کسی بھی پارٹ میں اسے کل 8 چانسز ملنے چاہیے ۔
لیکن بد قسمتی ہے کہ کنٹرولر آفس طلباء کو زیادہ چانسز دینے والی ریگولیشنز کو نظر انداز اور خلاف ورزی کرتے ہوہے اپنی من مرضی سے کل 5 چانسز دے رہا ہے جو کہ سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس بابت کنٹرولر آفس قانون کی اس تشریح پر عمل کر رہا ہے جو طلباء کی مخالفت میں جاتی ہے ہے ، شکریہ
طالب دعا فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ملتان

09/04/2026

السلام علیکم! سابقہ پوسٹ مورخہ 17 مارچ 2026 کے تسلسل میں عرض ہے کہ بندہ ناچیز کی درخواست مورخہ 4 مارچ 2026 پر گورنمنٹ آف پنجاب ، ہاہر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور نے جناب وی سی صاحب کو مورخہ 12 مارچ 2026 کو لیٹر بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ فلک شیر وٹو کی درخواست کی کاپی آپ کو بھیج رہے ہیں اور جناب چانسلر / گورنر پنجاب کے حکم مورخہ 4 فروری 2026 پر جلد ازجلد عمل درآمد کیا جاہے جس کی یادہانی کے طور پر آج مورخہ 9 اپریل 2026 کو بندہ ناچیز نے جناب وی سی صاحب کو درخواست بھجوائی ہے اور استدعا کی ہے کہ مہربانی فرما کر جناب چانسلر / گورنر صاحب کے حکم مورخہ 4 فروری 2026 اور سپریم کورٹ کے حکم (رپورٹڈ 2019 SCMR صفحہ 389) کے سب پیرا 20 پیرا 15 پر جلد از جلد عمل درآمد کرتے ہوہے متاثرہ لاء طلبا کی ongoing ڈگری کو مکمل کروایا جاہے ،
انسان کا کام اپنی عقل سمجھ اور بساط کے مطابق نیک نیتی سے کوشش کرنا ہوتا ہے مگر نتیجہ / پھل میرے رب کے پاس ہے ،
شکریہ ،
دعا گو ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ملتان

02/04/2026

السلام علیکم! سپریم کورٹ کی ججمنٹ رپورٹڈ 2019 SCMR صفحہ 389 پر عمل درآمد کی بابت عنیق کھٹانہ کی متفرق درخواست نمبر 6181/2020 اور اس درخواست کی کاروائ میں پاکستان بار کونسل کی متفرق درخواست نمبر 3480/2022 براہے جانچے جانے اہلیت امیدواران / طلباء پارٹ اول سپلیمنٹری امتحان 2019( منعقدہ جون 2022) بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کا کیس مورخہ 31 مارچ 2026 کو وفاقی آہینی عدالت اسلام آباد کے پاس سماعت ہوا ۔
معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے مذکورہ درخواست ہاہے کے وکلاء کی مہذب لیگل انداز میں سرزنش کی ہے اور حکم جاری کیا کہ اس سارے معاملے کا تعلق لیگل ایجوکیشن کے ریگولیٹرز سے ہے اور تمام ریگولیٹرز / سٹیک ہولڈرز سپریم کورٹ کی ججمنٹ پر عمل درآمد کی بابت 15 یوم کے اندر اپنی رپورٹس عدالت کے پاس داخل کر دیں اور عدالت ان رپورٹس کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ جاری کر دے گی،
اس طرح یہ معاملہ اب عدالت ہذا سے فاہنلی اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے جس میں مزید کوئ پیشی نہیں ہو گی جس سے طلباء کو ایک اچھی امید پیدا ہوئی ہے کہ 15 یوم کے بعد عدالت اپنا حتمی فیصلہ جاری کر ے گی جس میں توقع ہے کہ عدالت مساہل کے حل اور مذکورہ ججمنٹ پر عمل درآمد کی بابت ریگولیٹرز کو مزید ڈاہریکشنز جاری کرے گی ۔تاہم قانونی طور پر درست اور اصل حقیقت کے بارے عدالت کے تحریری حکم جاری ہونے پر ہی پتہ چلے گا ۔
یاد رہے کہ غیر الحاق شدہ لاء کالجز کے متاثرہ طلباء کی دادرسی کرتے ہو ہے ان کی ongoing ڈگری کو مکمل کروانے کے لیے سپریم کورٹ مذکورہ ججمنٹ کے پیرا 15 سب پیرا 20 کے تحت سال 2018 میں ہی متعلقہ یونیورسٹیز کو ڈاہریکشنز دے چکی ہے لیکن بد قسمتی سے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی زاہد عرصہ ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود اس ڈاہریکشنز کی اصل عبارت اور روح پر عمل درآمد نہیں کر رہی جس سے طلباء کو متعدد مساہل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ڈگری مکمل نہیں کروائی جا ری ، جو کہ طلباء کے ساتھ سخت نا انصافی اور ظلم کیا جارہا ہے ،
شکریہ
طالب دعا ! فلک شیر وٹو ایڈووکیٹ ہائ کورٹ ملتان

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Northern By Pass Road Near University Teachers Housing Society Multan
Multan
60000