Akhbar E Jamia Zakariya

Akhbar E Jamia Zakariya

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Akhbar E Jamia Zakariya, Education, Multan.

28/09/2025

وی سی جامعہ زکریا ڈاکٹر زبیر اقبال کا ایک سال مکمل، اساتذہ نے بدترین قرار دے دیا

بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان جو کہ جنوبی پنجاب کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی یونیورسٹی ہے اور اپنے پچاس سال مکمل کر چکی ہے-
یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال جنھوں نے 23 ستمبر 2024 کو رات گئے اس عظیم جامعہ کا چارج سنبھالا لیکن بد قسمتی سے پہلے سال کا اختتام 23 ستمبر 2025 کو اساتذہ کے کلاسز کے بائیکاٹ اور ایڈمن بلاک کے باہر دھرنے سے ہوا- اساتذہ کا کہنا ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وائس چانسلر ایک ہی سال میں اتنا بدنام اور برا ثابت ہوا ہو کہ ایک سال میں ہی ہر طرف مایوسی اور تباہی نظر آنے لگے-
اس وائس چانسلر کا نہ تو کوئی ویژن ہے اور نہ ہی مثبت سوچ جس وجہ سے ایک ہی سال میں حالات گھمبیر ہو چکے ہیں- موجودہ وائس چانسلر نے آتے ہی یونیورسٹی کو صاف اور سرسبز بنانے کی مہم شروع کی جو مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہو گئی، بلکہ اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ جو درخت ان کے آنے سے پہلے سرسبز و شاداب تھے اور ان سے پہلے والے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے لگوائے تھے اب وہ پانی نہ دینے کی وجہ سے سوکھ گئے، بلکہ کئی ایکڑز پر مشتمل باغ اور لکڑی دار جنگل بھی سوکھ کر تباہ ہو گیا، اس حوالے سے پروفیسر احسان قادر بھابھہ جو کہ بی زیڈ یو فارسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں، کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں پانی نہ دینے سے پورا جنگل سوکھ جانے کا نوحہ پیش کیا گیا ہے-
اس کے بعد ڈیجیٹیلائزیشن کا ڈھنڈھورا پیٹا گیا جو کہ ابھی تک مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ سال 2024 میں قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے 8000 نئے داخلے کئے تھے مگر موجودہ وائس چانسلر کی ڈیجیٹیلائزیشن کے نظام میں اتنی خرابیاں ہیں کہ نئے داخلہ لینے والے طلباء دل برداشتہ ہو کر دوسری یونیورسٹی کی طرف چلے گئے ہیں اور زکریا یونیورسٹی میں 2024 کی نسبت اس سال 40 فیصد کم داخلے ہوئے ہیں- اس میں ایک وجہ فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ بھی بتائی جا رہی ہے- جنوبی پنجاب کے لوگ پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں اور اتنی زیادہ فیسیں کیسے ادا کر سکتے ہیں- بجائے جنوبی پنجاب کے بچوں کے لئے فیس کم کرنے کے اور سکالرشپ بڑھانے کے موجودہ وائس چانسلر عجیب پالیسی اپنائے ہوئے ہیں-
اس ایک سال میں وائس چانسلر باہر سے ایک روپے کی فنڈنگ نہیں لا سکے بلکہ یونیورسٹی خزانے سے بیرون ممالک کے کئے دورے کر چکے ہیں, جو اس بات کی نشاندھی ہے کہ وائس چانسلر اس یونیورسٹی میں کچھ کرنے کی بجائے انجوائے کرنے آئے ہیں- یونیورسٹی حلقوں میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ وائس چانسلر ہر ہفتے اپنی فیملی سے ملنے راولپنڈی جانے اور واپس یونیورسٹی آنے کے لئے نہ صرف سرکاری گاڑی، ڈرائیور اور فیول استعمال کرتے ہیں بلکہ واپسی پر ڈیلی الاؤنس بھی لیتے ہیں جس کے لئے سوموار والے دن خزانے دار آفس کے عملے کو پہلے سے پابند کیا ہوتا ہے کہ جیسے ہی وائس چانسلر کی گاڑی یونیورسٹی میں داخل ہو تو ڈیلی الاؤنس کی رقم وائس چانسلر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے-
وائس چانسلر نے یہ جعلی دعوے بھی کئے ہیں کہ میں نے بجلی کے بلوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو کم کر کے لاکھوں روپے کی بچت کی ہے جو کہ مکمل جھوٹ ہے- یونیورسٹی کے بجلی کے بل میں کمی کی وجہ یونیورسٹی کے اندر رہائشیوں کا اپنے گھروں میں سولر سسٹم انسٹال کرنا ہے، جس سے بجلی کی کھپت کم ہوئی ہے مگر اس سے یونیورسٹی کو کوئی فایدہ نہیں ہوا کیونکہ سولر سسٹم لگنے سے گھروں کے بل کم ہوئے ہیں جو پہلے رہائشی ادا کرتے تھے- لھذا یونیورسٹی کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں ائی- اسی طرح ٹرانسپورٹ کے فیول میں بچت کا ڈرامہ بھی صرف ڈرامہ ہے کیونکہ بہت سارے ضروری روٹس بند کر دئیے گئے ہیں جن کی وجہ سے طلباء نے دوسری یونیورسٹیوں کا رخ کر لیا ہے- جس سے یونیورسٹی کو فایدہ ہونے کی بجائے نقصان ہوا ہے-
اس لئے اگر موجودہ وائس چانسلر کے ایک سال کا تجزیہ کیا جائے تو مکمل طور پر ناکامی اور ادارے کو مالی نقصان، بدانتظامی، اور بدنامی کی صورت نظر آتی ہے-
تعلیمی حلقوں نے ڈاکٹر زبیر اقبال کی انتظامی کارکردگی پر نہ صرف مایوسی کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کے اخلاقی رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ زکریا کو کوئی معتبر وائس چانسلر دیا جائے جو اس مادر علمی کا وقار بحال کر سکے-

19/09/2025

پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ افضل کو تین سال کے لیے ڈین فیکلٹی آف فارمیسی تعینات ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں

14/09/2025

رکشہ والے سے کہا جناح اسپتال لاہور جانا ہے ۔
بیواقوف کہیں کا مسلم لیگ ن کے دفتر اتار گیا 🤐

21/09/2023

اختر سعید میڈیکل کالج کی حالیہ ٹیوشن فیس 1 کروڑ چونتیس لاکھ ہے،ان کی ہاسٹل فیس،میس،جرمانے اور دیگر اخراجات ملا کر یہ رقم پانچ سالوں میں دو کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔
دوسری طرف حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ پانچ پانچ سال سے گریجویٹس در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں ،حتی کہ منہ مانگی رقم اور سفار ش کے باوجود بھی سیٹ نہیں مل رہی۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں، اپنی ساری جمع پونجی لگا کر اپنے بچوں کو ڈاکٹرز بنا کر ،گھروں میں بے روزگا بٹھانے اور دماغی مریض بنانے سے بہتر ہے کوئی اور ڈھنگ کا کام کرالیں۔

05/02/2023

‏ایک خاتون اپنی سہیلی کی شادی پر کچھ دن رہنے گئیں، جاتے وقت شوہر کو ہدایت دی۔میری بلی کا خاص خیال رکھنا! وقت پر اسکو دودھ دینا کھانے کیلئے تازہ گوشت دینا اور ہاں میری والدہ بزرگ ہیں انکا بھی خاص خیال رکھنا
ابھی انہیں گئے ہوئے دو دن ہی ہوئے تھے کہ شوہر کا فون آ گیاتمھاری بلی مر گئی ہے۔وہ بہت روئیں اور شوہر سے بہت ناراض ہوئیں کہ ایک دم سے کیوں بتایا۔آپکو چاہیے تھا کہ میرا دل رکھنے کو پہلے کہتے کہ بلی چھت پر کھیل رہی ہے پھر کہتے بلی چھت سے گر گئی ہے اور پھر بتاتے کہ بلی مرگئی ہے اچانک بتا کر مجھے بہت دکھی کر دیا آپ جانتے ہیں‏کتنی عزیز تھی وہ مجھےبہت رو چکنے کے بعد بولی
میری امی کیسی ہیں؟شوہر نے جواب دیا وہ چھت پر کھیل رہی ہیں۔

03/02/2023

*✨کیا آپ نے کبھی شدید دکھ میں سورۃ الضحی کوسُنا یا پڑھا ہے؟*

*آپ اسکو سُن کر تو دیکھے پڑھ کر تو دیکھے آپکے دل کی تنگی تحلیل ہوگی۔اس سورۃ کو anxiety ,depression کی دوا بھی کہا جاتا ھے۔*
*اللہ تعالیٰ سورۃ کے آغاز میں دو قسمیں کھاتے ہیں۔*

*وَالضُّحٰى(1)*

*دن کی روشنی کی قسم ہے۔*

*وَاللَّيْلِ اِذَا سَجٰى(2)*

*اور رات کی جب وہ چھا جائے۔*

*اس سے پتہ چلتا ہے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں کتنی Value رکھتی ہیں۔*
*زندگی بھی تو ایسے حالات سے گزارتی ہے۔کبھی روشن کبھی تاریک۔*
*تو پتہ چلا دونوں ہی برے نہیں ہوتے ہیں۔دونوں کا آنا لازم ہوتا ہے۔اور دونوں اپنی خوبصورتی کے ساتھ آتے ہیں۔*
*جب روشنی ہوتی ہے تو تاریکی چھانا لازمی امر ہے اور جب تاریکی ہے تو روشنی آنا بھی لازمی امر ہے۔*
*بات یہ ہے آپکو یقین ہونا چاہیے۔*
*کیا یقین ہونا چاہیے؟*
*کہ کچھ بھی ہو۔*

*مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى(3)*

*آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہےاور نہ بیزار ہوا ہے۔*

*ہمارا رب نہ ہمیں چھوڑے گا نہ بیزار ہوگا۔*
*ساری دنیا چھوڑ سکتی ہے رب نہیں چھوڑے گا*
*جب لوگ آپ کو چھوڑ جائیں تو پریشان مت ہوں۔ آپکا رب نہیں چھوڑے گا۔*
*ہر محبت بیزار ہوسکتی ہے۔پر خالق کی محبت مخلوق سے ختم نہیں ہوتی 🤍*
*کتنی پیاری تسلی ہے نا ۔ اللہ ہمیشہ ساتھ ہیں ۔۔۔*
*جب ہم دنیا میں خسارے میں جارہے ہوتے ہیں۔ہرتعلق آہستہ آہستہ ختم ہو رہاہوتا ہے۔ہرچیز دورجارہی ہوتی ہے۔دنیا منہ موڑے کھڑی ہوتی ہے تو یاد رکھے -*

*وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْـرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى (4)*

*اور البتہ آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے۔*

*اصل چیز تو آخرت ہے۔*
*دنیا میں نہ ہو کامیابی،لیکن آخرت پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے*
*آپ کیوں امید کرتے ہیں لوگ راضی کریں؟*
*آپ کیوں ایسےاعمال نہیں کرتےجن سے اللّٰہ تعالیٰ راضی ہو،*
*آپ اللہ کے لیےکوشش کریں اللہ تسلی دیتے ہیں۔*

*وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَـرْضٰى(5)*

*اور آپ کا رب آپ کو(اتنا) دےگاکہ آپ خوش ہوجائیں گے۔*

*کیاہواجو ساری محنت ضائع ہوگئی؟کیاہوا سب نے چھوڑدیا؟کیاہوا سب کےآگے برے بن گے؟کیا ہوا مسلسل ناکامی ہے؟کیا ہوا مسلسل تنگی ہے؟کیا ہوا کوئی راہ نظر نہیں آتی۔*
*یاد رکھئے!اللہ آپکے ساتھ ہیں وہ آپکو بھولے گا نہیں۔*
*تو پھرکیاغم؟پھر کیا پریشانی؟*
*تو مسکرائیےاورہردکھ'درد تکلیف کو سپرداللہ کردیں پھرایک سکون نازل ہو گا جو ہرچیز سےبےنیاز کر دے گا۔*
*ان شاءاللہ*

01/02/2023

وسیع پیمانے پر یہ تاثر پھیلایا جارہا ہے بلکہ سنجیدہ طبقوں کی جانب سے مہم چلائی جارہی ہے کہ پاکستان اب رہنے کے قابل نہیں اور اسکے پیچھے جواز پیش کیا جارہا کہ یہاں بدامنی،بیڈگورننس ،مہنگائی اور بے روزگاری اور اقتدار کیلئے رسہ کشی ہے۔یاد رکھئے ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور آپ کو ماں سے ہزار شکایتیں ہوں لیکن آپ ماں کو گالی نہیں دیتے۔جتنی بھی مشکلات آئیں ماں کو چھوڑنے کا کبھی نہیں سوچتے اور ماں بھی کبھی اپنی اولاد کو خود سے دور نہیں کر سکتی۔
اسلئے یاد رکھیں ہماری ریڈ لائن نہ نواز ہے نہ زرداری اور نہ عمران۔پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے۔سیاسی نوسربازوں کی رسہ کشی اور مفاداتی جنگ کے آلہ کار بن کر ہم ماں (ریاست) کو نہ گالی دے سکتے ہیں اور نہ چھوڑ کر جانے کی بات کرسکتے ہیں۔
جس طرح ایک باپ اپنے خون پسینے کی کمائی اور زندگی بھر کی جمع پونجی سے بچوں کے لئے گھر بنا کر چھوڑ جاتا ہے اور پھر بعد میں اولاد اس گھر کو سنبھال کر رکھنے کی بجائے اسی گھر کا "بلتکار" کردے تو اس میں قصور والد کا نہیں ہوتا اسی طرح قائد اور اقبال نے ہمیں پاکستان دیا ان کے جانے کے بعد پاکستان پر چند سیاسی گِدھ قابض ہوگئے اور آج اس نہج پر پہنچایا تو ہمیں اپنے محسنوں پر لعن طعن کرنے کی بجائے اس وقت موجود بزدل اور بے غیرت لیڈر شپ کا گریبان پھاڑنا چاہئے جنہوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔
اس لئے پاکستان کو لعن طعن کرنے سے پہلے سوچئے آپ اپنی ماں کو برا بھلا کہہ رہے پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے اور ہم نے اسی کے ساتھ جینا اور مرنا ہے۔پاکستانی قوم کو اپنے روئیے بدلنا ہونگے اشرافیہ کے خلاف مزاحمتی سوچ بیدار کرنا ہوگی اگر آپ کے گھر ڈاکہ پڑتا ہے تو اگلی صبح آپ نہ اپنا گھر منہدم کرتے ہیں اور نہ ماں کو گالی دیتے ہیں بلکہ ڈکیتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی دیواریں اونچی کرتے ہیں چوکیدار بدلتے ہیں قانون کا سہارا لیتے ہیں اسی طرح پاکستان گوکہ چیلنجز میں گرا ہوا ہے تو اس دلدل سے نکالنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں آزمائے ہوؤں کو بار بار موقع نہ دیں بلکہ ان کا گریبان چاک کریں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک پلیٹ بریانی کیلئے آپ اپنا ووٹ اور ضمیر فروخت کریں اور پھر گالی پاکستان کو دیں۔
پاکستان زندہ باد ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Multan