Senate of Justice Law Firm

Senate of Justice Law Firm

Share

From negotiation tables to courtroom battles, the Senate of Justice Law Firm is your steadfast ally in pursuit of legal resolution.

Let us champion your cause with skill and tenacity. Connect us now :
0345 7500872

08/06/2026

پنجاب حکومت کا بڑا قدم

30 جون کے بعد مینوئل پٹوار خانے سے فرد کا اجرا مکمل بند
اب زمین کی ملکیت کے لیے جدید 'گرین سرٹیفکیٹ لیٹر' جاری ہوگا۔
شفاف، ڈیجیٹل اور آسان نظام کی طرف ایک اہم پیش رفت!

03/06/2026

کوئی مائی دا لعل آکے سانوں ٹکرے : لاہور ہائیکورٹ کے ایک نائب قاصد نے ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہلکار نوکری سے برخواست کروا کے جیل بھجوا دیے ۔۔۔۔ کچھ روز قبل پیش آیا سبق آموز واقعہ ۔۔۔پنجاب پولیس نے نائب قاصد کے گھر پر ریڈ کیوں کیا ؟ اس کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی ۔ دو روز قبل سماعت پر متعلقہ ڈی پی او عدالت عالیہ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس پر لاہور ہائیکورٹ نے ریجنل پولیس آفیسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا۔عدالت نے ریجنل پولیس آفیسر سے استفسار کیا کہ کیا قانون کے مطابق پنجاب پولیس لاہور ہائی کورٹ کے اہلکار کے گھر پر ریڈ کر سکتی ہے اور اسے گرفتار کر سکتی ہے۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج ہو جائے تو اس صورت میں پنجاب پولیس ہائی کورٹ ملازم کے گھر پر ریڈ نہیں کر سکتی اور نہ ہی گرفتار کر سکتی ہے۔قانونی طور پر رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے اجازت لینے کے بعد اہلکار کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا رجسٹرار صاحب سے اجازت لی گئی تھی۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ رجسٹرار صاحب سے اجازت نہیں لی گئی تھی پولیس نے جان بوجھ کر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا جس پر عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا پولیس کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ۔جس پر سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ریجنل پولیس آفیسر ایک رپورٹ لے کر آئے ہیں جس میں اس معاملے میں ملوث پانچ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے فارٖغ کر دیا گیا ہے جس میں ایک ایس ایچ او۔ ایک اے ایس ائی اور تین کانسٹیبل شامل ہیں ان تمام لوگوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔انکوائری کے دوران پانچ پولیس اہلکار ملوث پائے گئے جس پر مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے اور تمام اہلکاروں کو گرفتار کر کے جوڈیشل جیل بھیج دیا گیا ہے۔عدالت عالیہ نے مزید پوچھا کہ نائب قاصد کے گھر سے پولیس نے جو سامان اٹھایا ہے وہ کہاں ہے۔جس پر متعلقہ ریجنل پولیس آفیسر نے روسٹرم پر آ کر بتایا کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ڈ۔کیتی ک مقدمہ الگ سے درج کیاگیا ہے اور تمام سامان اور نقد رقم آج متعلقہ نمبردار کی موجودگی میں پہنچ جائے گی۔پولیس اہلکاروں کو ڈ۔کیتی کے مقدمے میں ریمانڈ پر لانا ہے لہذا وقت دیا جائے کہ میرٹ پر تفتیش کر کے پولیس اہلکاروں کو سزا دی جائے گی ۔لاہور ہائیکورٹ نے ریجنل پولیس آفیسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مورخہ 29 جون 2026 کو دفعہ 173 کی مکمل کاروائی رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے ۔

20/05/2026

نکاح نامہ کا کالم نمبر 17 خود ایک رجسٹری ہے؛ اس میں درج جائیداد مکمل طور پر بیوی کی ہے جس کے لیے الگ سے رجسٹری کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور بیوی کی مرضی کے بغیر کوئی دوسرا شخص جائیداد فروخت یا منتقل نہیں کر سکتا
2024 SCMR 1078

20/05/2026

Bail vs Acquittal
— ایک عام غلط فہمی کی درست وضاحت —

1. Bail (ضمانت)
ضمانت وہ قانونی سہولت ہے جس کے تحت کسی ملزم کو مقدمہ چلنے کے دوران عارضی طور پر رہا کیا جاتا ہے۔

اہم نکات:
• ملزم ابھی بھی کیس کا حصہ ہوتا ہے
• عدالت کی شرائط پر رہائی ملتی ہے
• ٹرائل جاری رہتا ہے

اہم نکتہ:
ضمانت کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم بے گناہ ہے — صرف عارضی آزادی دی جاتی ہے۔

2. Acquittal (بریت)
بریت وہ عدالتی فیصلہ ہے جس میں ملزم کو مکمل طور پر بے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

اہم نکات:
• مقدمہ ختم ہو جاتا ہے
• ملزم پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا
• مکمل آزادی مل جاتی ہے

اہم نکتہ:
بریت کا مطلب ہے کہ عدالت نے ملزم کو قصوروار نہیں پایا۔

⚖️ مختصر فرق:

Bail (ضمانت) → عارضی رہائی
Acquittal (بریت) → مکمل رہائی

20/05/2026

*بیان اور اقبال جرم میں فرق:*

*1. بیان کیا ہوتا ہے*
بیان کا مطلب ہے کسی واقعے کے بارے میں جو کچھ تم جانتے ہو وہ بتانا۔ اس میں تم جرم مان بھی سکتے ہو اور انکار بھی کر سکتے ہو۔
پولیس تفتیش کے دوران دفعہ 161 کے تحت تم سے بیان لیتی ہے۔ مجسٹریٹ بھی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر سکتا ہے۔
بیان خود بخود سزا کی بنیاد نہیں بنتا۔ پولیس کو اس کے ساتھ دوسرے ثبوت بھی لانے پڑتے ہیں۔
مثال: پولیس پوچھے رات 9 بجے کہاں تھے، تم کہو میں مارکیٹ گیا تھا وہاں احمد اور سلیم بھی تھے۔ یہ بیان ہے، اس میں تم نے جرم نہیں مانا۔

*2. اقبال جرم کیا ہوتا ہے*
اقبال جرم کا مطلب ہے اپنے منہ سے جرم مان لینا۔ یعنی کہنا کہ ہاں میں نے یہ جرم کیا ہے۔
اقبال جرم صرف مجسٹریٹ کے سامنے لیا جاتا ہے، پولیس کے سامنے لیا گیا اقبال جرم عدالت میں قابل قبول نہیں ہوتا۔
اگر اقبال جرم رضاکارانہ ہو اور مجسٹریٹ مطمئن ہو کہ کوئی دباؤ نہیں تھا تو یہی اقبال جرم سزا کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مثال: مجسٹریٹ پوچھے کیا تم نے فلاں کی دکان سے چوری کی تھی، تم کہو جی ہاں میں نے چوری کی تھی مجھے پیسوں کی ضرورت تھی۔ یہ اقبال جرم ہے۔

*3. فرق*
بیان میں تم صرف واقعہ بتاتے ہو، جرم ماننا ضروری نہیں ہوتا۔
اقبال جرم میں تم خود جرم مان لیتے ہو، اس لیے یہ بہت حساس ہوتا ہے۔
بیان پولیس اور مجسٹریٹ دونوں لے سکتے ہیں، جبکہ اقبال جرم صرف مجسٹریٹ لے سکتا ہے۔
بیان کی بنیاد پر سزا نہیں ہوتی جب تک دوسرے ثبوت نہ ہوں، لیکن رضاکارانہ اقبال جرم پر عدالت سزا دے سکتی ہے۔

20/05/2026

انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کیسز میں پولیس کی درخواست مسترد، قتل مقدمے میں جسمانی ریمانڈ منظور

کراچی کی سٹی کورٹ میں انمول عرف پنکی کے خلاف درج منشیات کے پانچ مقدمات میں پولیس کی جانب سے عدالتی ریمانڈ پر نظرثانی کی درخواست آج مسترد کر دی گئی۔

سیشن جج ساؤتھ نے قرار دیا کہ ملزمہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے، اگر مزید تفتیش درکار ہے تو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کیا جائے۔

درخشاں تھانے میں انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے پانچ مقدمات درج ہیں، جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی پہلے ہی انہیں ان مقدمات میں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے چکے ہیں۔

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر 8 جنوبی نے قتل کے مقدمے میں انمول عرف پنکی کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے تفتیش مکمل کر کے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔
تصویر: انڈپینڈنٹ اردو

20/05/2026

Notice of Boycott 𝗗𝗶𝘀𝘁𝗿𝗶𝗰𝘁 𝗢𝗸𝗮𝗿𝗮 𝗕𝗮𝗿 𝗔𝘀𝘀𝗼𝗰𝗶𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻
Dated:20.05.2026

𝗙𝗼𝗹𝗹𝗼𝘄 𝗳𝗼𝗿 𝗟𝗮𝘁𝗲𝘀𝘁 𝗖𝗼𝘂𝗿𝘁 𝗨𝗽𝗱𝗮𝘁𝗲𝘀 | 𝗕𝗮𝗿 𝗖𝗼𝘂𝗻𝗰𝗶𝗹'𝘀 𝗡𝗼𝘁𝗶𝗳𝗶𝗰𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻𝘀 | 𝗔𝗱𝘃𝗼𝗰𝗮𝘁𝗲𝘀 𝗜𝗻𝗳𝗼𝗿𝗺𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻 | 𝗟𝗲𝗴𝗮𝗹 𝗜𝗻𝘀𝗶𝗴𝗵𝘁𝘀 — 𝗔𝘃𝗮𝗶𝗹𝗮𝗯𝗹𝗲 24/7

19/05/2026

وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے کی دفعہ 325 کو دوبارہ بحال کر دیا اس سے قبل پارلیمنٹ نے کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022ء کے ذریعے دفعہ 325 کو قانون سے حذف کردیا تھا عدالت نے قرار دیا ہے کہ خودکشی کی کوشش کو بطور جرم حذف کرنا اسلام اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اس لئے کرمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 قرآن و سنت کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی بھی قسم کی قانونی راہنمائی کے لیے آج ہی رابطہ کریں سینٹ آف جسٹس لا فرم پاکستان
03457400872

19/05/2026

*ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کے ملزم کو سزائے موت سنادی گئی، 24 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد*

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ثنا یوسف قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے کہا جرم ثابت ہونے پر ملزم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ملزم عمر حیات کو دیگر دفعات میں جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالت نے مجموعی طور عمر حیات کو 30 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

عمر حیات کو مقدمےکی دیگر 3 دفعات کے تحت 10، 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 اور ملزم کوگھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سماعت میں کیا ہوا؟

دوران سماعت عدالت میں ملزم عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے۔

مدعی کے وکیل نے ملزم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کی جبکہ ملزم کے وکیل نے کہا ہے کہ ملزم عمرحیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، 2 درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا ہیں، پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینا ہے، زیادتی ہوگی۔

عمر حیات کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم کو آرٹیکل 10اے کے تحت فیئر ٹرائل کا موقع دیا جاتا ہے، پورے ٹرائل میں مختصر ترین دلائل دوں گا، آپ ٹرائل جج نہیں بلکہ بطور ریفری دلائل سنیں، وکیل اور جج کے درمیان رنجش پیدا ہوتی ہے تو ملزم کے ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔

اس ڈر سے فیصلہ نہ کریں کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی: وکیل ملزم
ملزم عمر حیات کے وکیل کا کہنا تھا کہ ذاتی رنجش کے باعث ملزم کو سزائے موت دینا زیادتی ہوگی، پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینی ہی دینی ہے زیادتی ہوگی، اس ڈر سے فیصلہ نہ کریں کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی، لبرل سوسائٹی کے ڈر سے ثنا یوسف کیس کا فیصلہ نہ کریں،کیس کو خواتین پر مبنی معاشرتی بحث کی طرف نہ لے جائیں۔

ملزم کے وکیل کے ریمارکس پر جج افضل مجوکہ نے وکیل ملزم پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو گمراہ نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Office No 84 Tahir Wattoo Block District Court Multan
Multan
66000