سر جی کی سالگرہ کا دن ہے آج💔
اللہ پاک آپ کو اپنی جنتوں میں مزيد خوشیاں دے آج۔۔۔آمین
Habib ur Rehman Batalvi
a tribute to my teacher..words r never enough for it.....
31/12/2023
https://www.facebook.com/100063804996134/posts/833894482080711/?mibextid=Nif5oz
السلام علیکم : تسی دفتر کدوں آنا اے ۔۔ حبیب الرحمان بٹالوی کی یاد میں ۔۔ رضی الدین رضی کا تعزیت نامہ
ِصبح سویرے فون کی گھنٹی بجتی ہے اورایک مہربان آواز سماعتوں میں گونجتی ہے
السلام علیکم۔۔ تسی دفتر کدوں آنا اے“(آپ نے دفترکب آنا ہے)
بٹالوی صاحب میں گیارہ وجے دفتر پہنچ جاواں گا(بٹالوی صاحب میں گیارہ بجے دفتر پہنچ جاؤں گا)
چنگا فیر ملاقات ہوندی اے (اچھی بات ہے پھر ملاقات ہوتی ہے)
یہ مہربان آواز 24دسمبر2023ء کی صبح ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔میں اس وقت منیر مانک کانفرنس میں شرکت کے لیے سکرنڈسے نواب شاہ جارہاتھا۔اسی روز شام کو ان کا جنازہ تھا۔راشدنثار جعفری کے بعد یہ دوسرا ایسا جنازہ تھا جس میں عدم شرکت کامجھے عمر بھرملال رہے گا۔
بٹالوی صاحب کاگھر میرے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پرتھا۔ کبھی کبھار وہ بغیر ٹیلی فون کیے بھی آجاتے تھے۔ اگر میں میٹنگ یا کام میں مصروف ہوتا تو وہ خاموشی سے میرے عقب میں بیٹھ جاتے اور انگلی کے اشارے سے آفس میں موجود دوسرے دوستوں کو بھی اپنی جانب متوجہ ہونے سے روک دیتے کہ کہیں میرا میٹنگ سے دھیان نہ بٹ جائے۔ پھر میٹنگ کے بعد مجھے عطاء الہادی یا کوئی اور دوست بتاتا کہ بٹالوی صاحب آئے ہوئے ہیں اورمیں ان کی جانب متوجہ ہوجاتا،حیرت سے پوچھتا بٹالوی صاحب تسی کدوں آئے(بٹالوی صاحب آپ کب آئے)۔
وہ جب بھی آتے ان کے پاس کسی کتاب کامسودہ،کوئی کاغذ یا کوئی نئی پرانی کتاب ہوتی،پرانے رسائل وجرائد کی فائلیں،خطوط یا ایسی بہت سی نادر دستاویزات انہوں نے سنبھال کر رکھی تھیں اور یہ بہت سی چیزیں وہ میرے آفس آکر میرے حوالے کردیتے تھے۔اخبارات میں شائع ہونے والے بہت سے کالموں اورمضامین کے تراشے انہوں نے تاریخوں کے ساتھ مختلف کاغذوں پر چسپاں کررکھے تھے اوران کے اوپر ان کے موضوعات الگ سے بھی درج تھے۔ملالہ یوسف زئی کے بارے میں شائع ہونے والے بہت سے کالموں اور تحریروں کے تراشے،مہنگائی کے حوالے سے مضامین کے تراشے،مختلف شخصیات کے بارے میں تراشے انہوں نے فائلوں کی صورت میں میرے سپردکیے۔ان کی لائبریری میں جو بھی کتاب ایک سے زیادہ تھی بٹالوی صاحب نے مجھے تحفے میں دے دی۔میں شاید شورش کاشمیری کو کبھی نہ پڑھتا اگر بٹالوی صاحب نہ ہوتے۔ انہوں نے مجھے شورش کی خودنوشت" پس دیوار زنداں" سمیت بہت سی کتابیں عطا کیں ۔
وہ ایک سیلف میڈ آدمی تھے جنہوں نے بہت کٹھن زندگی گزاری۔ لڑکپن سے محنت شروع کی اورآخردم تک کاغذ،قلم اورتدریس کے ساتھ وابستہ رہے۔حبیب الرحمن بٹالوی 2مارچ1944کو بٹالہ(بھارت)میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول گوجرانوالا سے حاصل کی،میٹرک محبوب عالم ہائی سکول گوجرانوالہ سے ہی پاس کیا۔1969 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے علوم اسلامیہ،1970ء میں ایم اے اردو اور1971 میں ایم اے فارسی کیا۔اسی دوران دس برس تک لاہور تعلیمی بورڈ سے منسلک رہے۔لاہور میں قیام کے دوران انہیں آغا شورش کاشمیری اور احسان دانش کی محفلوں میں بیٹھنے کااعزاز حاصل ہوا۔ لاہور میں کئی برس قیام کے بعدتبادلہ کراکے مستقل طورپر ملتان آگئے۔اوریہاں تعلیمی بورڈ ملتان کے ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے 2004ء میں ریٹائر ہوئے۔ تعلیمی بورڈ میں ملازمت کے دوران اس کے جریدے”خبرنامہ“ کی ادارت بھی کی۔ ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ کی ادارت میں بھی معاونت کرتے رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ رائزکالج اورایجوکیٹرزکالج ملتان میں شعبہ اردو کے سربراہ کے طورپر بھی منسلک رہے۔ بٹالوی صاحب کی مطبوعہ کتابوں میں ”ہرقدم روشنی(سفرنامہ حجاز)، ”خطابات شورش، چمن خیال(شاعری)، خاکہ کہانی، ڈائری میں رکھے لفظ، ماں اور مامتا، ماں کی اشکوں بھری کہانی، نامے میرے نام، مترادف ضرب الامثال شامل ہیں۔
حبیب الرحمان ان کا نام تھا لیکن وہ رحمان کے ہی نہیں ہم سب کےبھی حبیب تھے۔وہ ایسے دوست تھے کہ جن کے ساتھ گفتگو کے دوران عمروں کی تفاوت بے معنی ہوجاتی ہے۔ وہ مجھے اپنی زندگی کے بہت سے واقعات سناتے تھے۔ لوگوں کے رویوں سے آگاہ کرتے تھے۔ جن لوگوں نے انہیں نقصان پہنچایا انہوں نے ان سے بھی کبھی گلہ نہ کیا۔ہاں البتہ ہمیں یہ ضرور کہہ دیتے تھے کہ فلاں سے محتاط رہنا۔
بٹالوی صاحب کے ساتھ پہلی ملاقات کب ہوئی یہ مجھے تو یاد نہیں لیکن بٹالوی صاحب نے مجھے خودبتایاتھا کہ میں ان سے کم وبیش پندرہ یا بیس برس قبل تحریک پاکستان کے نامور کارکن پیرزادہ عبدالسعید کی رہائش گاہ پرملاتھا۔ پھرہماری ملاقات ایک طویل عرصے کے بعد ادبی بیٹھک میں ہوئی اوریہیں سے بٹالوی صاحب کے ساتھ دوستی اور محبت کا وہ تعلق قائم ہوا جو ان کی آخری سانس تک برقراررہا۔ میری ان کے ساتھ آخری ملاقات اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں ہوئی۔مجھے اس روز کشور مرادسے بھی ملناتھا۔ میں نے اپنے آفس سے بٹالوی صاحب کو اپنے ساتھ لیا اور ہم کشور مراد کے گھر پہنچ گئے۔ کشور مراد سے مجھے ملتان میں موجود ان مندروں کی تفصیلات حاصل کرناتھیں جو اب مسلمانوں کی رہائشی عمارتوں کے طورپر استعمال ہورہے ہیں۔ بٹالوی صاحب میرے ساتھ کشورصاحب کے گھر کافی دیر بیٹھے رہے،مجھے ان کی موجودگی میں مندروں پر گفتگو میں جھجھک محسوس ہو رہی تھی بٹالوی صاحب کو اس کا احساس ہوا تو انہوں نے خود کہہ دیا اپ اطمینان سے بات کریں ان کی یہ رواداری ہمیں ادبی بیٹھک میں بھی دکھائی دیتی تھی ۔۔کشور کراد سے ملاقات کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کتابوں کے ٹائٹل کس سے بنواتے ہیں۔میں نے راشد سیال کاذکر کیا توکہنے لگے وہ بہت اچھے آرٹسٹ ہیں لیکن میں کچھ اورڈیزائنروں سے بھی آپ کو ملواؤں گا۔ان سے بھی سرورق بنوا کردیکھیں۔ پھروہ مجھے پل شوالہ لے گئے اورراشد صاحب کے آفس کے قریب ہی کام کرنے والے ایک دو ڈیزائنروں سے ملاقات کروائی۔واپسی پر مجھے کہنے لگے کہ اب آپ آفس جائیں یہاں سے میں خودگھرچلاجاؤں گا۔ میں نے ساتھ چلنے پر اصرارکیا تو کہنے لگے نہیں میں پیدل جانا چاہتا ہوں۔یہاں گلیوں میں سے ہوتا ہوا اپنے گھر پہنچ جاؤں گا۔یہ کوئی زیادہ راستہ نہیں ہے۔
انتہائی کم خوراک اورپیدل سفران کی صحت کا اصل راز تھا۔ اوریہی وجہ ہے کہ وہ 79برس کے ہونے کے باوجود بعص معاصرین کی طرح گھر تک محدودنہ ہوئے۔ بٹالوی صاحب نے طویل عرصہ رائز کالج کے ساتھ گزارا۔ اس کالج کی انتظامیہ نے ان کا استحصال بھی خوب کیا لیکن وہ کبھی حرف شکایت زبان پرنہ لائے۔ اس کالج میں بھی انہوں نے اپنے طالب علموں کو کتاب اور شعروادب کے ساتھ جوڑا۔ بہت سے یادگارمشاعرے اور ادبی تقریبات منعقد کیں۔ وہ سخن ورفورم کے بنیادی اراکین میں سے تھے۔ ادبی بیٹھک میں جس باقاعدگی کے ساتھ وہ آتے تھے اس کی مثال فاروق انصاری صاحب کے سوا ہمارے پاس موجودنہیں۔ کرونا کے دنوں میں جب آرٹس کونسل سمیت تمام ادارے بند ہوگئے تو ادبی بیٹھک کو کرونا کے دوران بھی جاری رکھنے میں جن شخصیات نے اپنا کردارادا کیا ان میں ایک حبیب الرحمن بٹالوی بھی تھے۔ بٹالوی صاحب نے پیشکش کی کہ جب تک لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوتاادبی بیٹھک میرے گھر پرمنعقد ہوسکتی ہے۔ہم زندگی میں بہت سی ایسی باتیں سوچتے ہیں جن پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آتی۔ لیکن جب کوئی ہستی رخصت ہوجاتی ہے تو ہمیں ملال ہوتا ہے کہ کاش ہم ںےاس کی زندگی میں اسے کوئی خوشی دے دی ہوتی۔ مجھے اطمینان ہے کہ حبیب الرحمن بٹالوی کے حوالے سے مجھے ایساکوئی ملال نہیں۔ گزشتہ برس 17نومبر2022ء کو ادبی بیٹھک نمبر450 ہم نے حبیب الرحمن بٹالوی صاحب کے لیے وقف کردی تھی۔ اس روز بیٹھک میں ان کے ساتھ شام منائی گئی جس کی صدارت ان کے دیرینہ دوست پروفیسرعبدالعزیز بلوچ نے کی۔ تقریب میں خالد مسعودخان، وسیم ممتاز،شاکرحسین شاکر، سلیم قیصرسمیت ادیبوں،شاعروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
آج 31دسمبر 2023ء کو یہ مضمون تحریر کرتے وقت میں نے فیس بک کی چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ برس آج ہی کے روز میری بٹالوی صاحب کے ساتھ ملتان ٹی ہاؤس میں طویل ملاقات ہوئی تھی۔مستحسن خیال کو جب بھی دن کی فرصت ملتی وہ بٹالوی صاحب اور مجھ سے رابطہ کرکے ٹی ہاؤس آجاتے تھے اور پھر ہم بہت سا وقت وہاں گزارتے تھے۔ گزشتہ برس ہم نے سال کا آخری دن ٹی ہاؤس میں ہی گزارا تھا۔بٹالوی صاحب نے اسی روز پس دیوار زنداں کا ایک نسخہ میرے حوالے کیاتھا۔اس تحریر کے ساتھ میں ایک برس پرانی وہی تصویر آویزاں کررہاہوں اور سوچ رہاہوں کہ بٹالوی صاحب اگر حیات ہوتے تو شاید آج بھی میں انہیں فون کرکے ٹی ہاؤس چلا جاتا۔افسوس کہ ٹی ہاؤس جانے کا میرا یہ بہانہ بھی ختم ہوگیا۔ اب تو صبح سویرے کبھی بھی میرے فون کی گھنٹی نہیں بجے گی اور میرے کانوں میں وہ مہربان آواز نہیں گونجے گی،
”السلام علیکم۔۔ تسی دفتر کدوں آنا اے“۔
Our esteemed teacher, author, and poet, Mr. Habib Ur Rehman Batalvi, is no longer with us in this world.
Funeral will be offered at park adjacent to arts concil Multan at 08.30 PM
میرے پیارے استاد جی ۔۔۔سر حبیب الرحمن بٹالوی ہم سب کو چھوڑ کر خالق حقیقی کے پاس چلے گئے ہیں
29/05/2023
اہم راز (بادل بارش اور ہوا )
اک اہل بصیرت سے
میں نے التماس کی
انس و الفت چاہئے
پند و نصیحت چاہئے
کہ میں غبی انسان ہوں
نالائق اور نادان ہوں
جہاندیدہ بزرگ نے
پوچھا مجھ نادان سے
اک ناطق حیوان سے
حبیب الرحمن سے
کبھی تو نے برتن دھوۓ ہیں؟
میں نے کہا۔۔کئی بار
کہن لگے ،کیا سیکھا؟
میں ن ان سے یہ کہا
اس میں سیکھنے والی بات ہے کیا؟
وہ مسکراۓ ،کہنے لگے
تو زمانہ ساز ہے
اس میں اہم راز ہے
برتن کو باہر سے کم
اندر سے سے ذيادہ دھوتے ہیں
اور مجھے اپنی حیات میں
زندگی کی گھات میں
کم ایسے انساں ملے
اپنی بود و باش کے
جو اندر سے صاف تھے
بہ نسبت لباس کے
اس میں اہم راز ہے
28/05/2023
28/05/2023
21/04/2023
بساط ادب سے انتخاب
20/04/2023
ہم نے کانٹوں کو بھی نرمی سے چھوا ہے اکثر
لوگ بے درد ہیں پھولوں کو مسل دیتے ہیں
بساط ادب سے انتخاب
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Multan