Al Suffah Official

Al Suffah Official An educational and motivational page.

05/11/2024

ایک ریاضی کے استاد گھومنے گئے!! شام کو وہ ایک ریسٹورنٹ میں پیزا کھانے چلے گئے!! انہوں نے مینو دیکھ کر 9 انچ کا ایک پیزا آرڈر کر دیا!! کچھ دیر بعد ویٹر 5 - 5 انچ کے دو گول پیزا لے کر استاد کے سامنے پیش ہوا اور کہا، "سر! 9 انچ کا پیزا دستیاب نہیں ہے، اس لیے ہم آپ کو 5 - 5 انچ کے دو پیزا دے رہے ہیں، جس سے آپ کو 1 انچ کا پیزا اضافی مفت مل رہا ہے!"

ریاضی کے استاد نے بڑے پیار سے ویٹر سے کہا کہ ریسٹورنٹ کے مالک کو بلائے۔ جب ریسٹورنٹ کا مالک آیا تو استاد نے اس سے بڑے پیار سے پوچھا کہ "آپ کتنے پڑھے لکھے ہیں؟" مالک نے کہا، "سر! میں پوسٹ گریجویٹ ہوں۔" استاد نے پھر پوچھا کہ "ریاضی کہاں تک پڑھی ہے؟" مالک نے کہا، "سر! گریجویشن تک!!"

تب استاد نے کہا کہ "کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ ریاضی میں ایک دائرے کا رقبہ نکالنے کا کیا فارمولا ہے؟"

مالک نے کہا، "سر 'πr²'"
استاد نے کہا، "ٹھیک ہے"
پھر انہوں نے کہا، "جہاں π = 3.142857 ہے اور r دائرے کا رداس ہے۔"

"میں نے آپ کو 9 انچ ڈائمیٹر کا پیزا آرڈر دیا تھا، جس کا رقبہ فارمولا کے مطابق 63.64 مربع انچ ہوتا ہے! کیا میں صحیح ہوں؟"
مالک نے کہا، "جی! بالکل صحیح ہیں!"

اب استاد نے کہا، "آپ نے مجھے 5-5 انچ کے دو پیزا یہ کہہ کر دیے ہیں کہ آپ کو 1 انچ پیزا مفت دیا جا رہا ہے، اب آپ 5 انچ کے ایک پیزا کا رقبہ نکالیے!"

رقبہ نکالا گیا - جو آیا "19.64 مربع انچ"
یعنی 2 پیزا کا رقبہ 39.28 مربع انچ!!

پھر استاد نے کہا کہ "اگر آپ مجھے 5 انچ کا ایک تیسرا پیزا بھی دیتے ہیں، تب بھی میں گھاٹے میں ہی رہوں گا!! اور آپ کہہ رہے ہیں کہ مجھے 1 انچ کا پیزا مفت دیا جا رہا ہے!!"

ریسٹورنٹ کا مالک بے جواب!! بیچارے سے کوئی جواب نہ بن سکا!! آخر میں اس نے استاد کو 5-5 انچ کے 4 پیزا دے کر اپنی جان چھڑائی!!

اساتذہ کی عظمت کو کبھی کم نہ سمجھیں

قابلِ احترام اساتذہ کو خراج تحسین!!

30/10/2024

ایک خوبصورت برتن لیں اور اسے دھیمی آنچ پر چولہے پر رکھ دیں۔ بے شک اسے اوپر تک پانی سے بھر دیں، لیکن آنچ بند نہ کریں ۔ جلد ہی سارا پانی خشک ہو گا۔ پھر پیندا جل جائے گا،پھر برتن جل جل کر تباہ ہو جائے گا۔ اب برتن کو دنیا کے کسی ماہر کے پاس لے جائیں، وہ اسے واپس پہلے والی شکل نہیں دے سکے گا۔
سوال: برتن کو کس نے تباہ کیا؟
جواب: ہلکی آنچ نے یا آگ نے۔۔۔؟
کیا آپ جانتے ہیں یہ آگ کیا ہے؟
یہ آگ ہے جلنا کڑھنا، برداشت کرنا، درگزر نہ کرنا، دماغ میں باتیں سوچتے رہنا، دل میں حسد اور بغض رکھنا۔ ان سب کی آگ انسان کا اندر چاٹ جاتی ہے۔ وہ تباہ ہو جاتاہے۔ اس کا حل کیا ہے؟
اس کا حل ہے صبر کرنا، درگزر کرنا ، معاف کر دینا ، رحم دکھا دینا، بڑے پن کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اورسب کے لیے خیر چاہنا ہے۔ صبر اور برادشت میں یہ آنچ کا ہی فرق ہے۔ صبر اللہ کی رضا کا وہ بیج ہے جسے اللہ کی رحمت کا پانی ملتاہے۔ وہ پھول کی طرح کھلتاہے۔ گلستاں بنتاہے، ہستی بستی سنوار دیتاہے۔اللہ صابر سے خوش ہے۔ اللہ صابر کے حق میں ہے۔ اللہ صابر کے لیے جنت میں خاص الخاص مقام رکھتا ہے۔ برداشت کیاہے؟
برداشت دھیمی آنچ ہے، دیمک ہے، آتش فشاں ہے۔ چوائس آپ کی ہے کہ آپ نے کس راستے پر جانا ہے۔

29/10/2024

ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں. میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.

وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.

استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.

کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں. بار بار شرمندہ کرتے ہیں.

ایک بچے نے سمندر میں اپنا جوتا کھو دیا تو بلکتے ہوئے بچے نے سمندر کے ساحل پر لکھ دیا کہ یہ سمندر چور ہے اور کچھ ہی فاصلے...
28/10/2024

ایک بچے نے سمندر میں اپنا جوتا کھو دیا تو بلکتے ہوئے بچے نے سمندر کے ساحل پر لکھ دیا کہ یہ سمندر چور ہے

اور کچھ ہی فاصلے پر ایک شکاری نے سمندر میں جال پھینکا اور بہت سی مچھلیوں کا شکار کیا ۔ تو خوشی کے عالم میں اس نے ساحل پر لکھ دیا کہ سخاوت کیلئے اسی سمندر کی مثال دی جاتی ہے
اے بحر سخاوت ! سخاوت تم سے اور تم سخاوت
سے ہو ۔
نوجوان غوطہ خور نے سمندر میں غوطہ لگایا اور وہ اسکا آخری غوطہ ثابت ہوا ۔ کنارے پر بیٹھی غمزدہ ماں نے ریت پر ٹپکتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ
لکھ دیا۔ یہ سمندر قاتل ہے

ایک بوڑھے شخص کو سمندر نے موتی کا تحفہ دیا تو ۔ اسنے فرحت جذبات میں آکر ساحل سمندر پر لکھ دیا کہ یہ سمند کریم ہے ۔ کرامت اس سے
اور یہ کرامت کی مثال ہے
پھر ایک بہت بڑی لہر آئی اور اسنے سب کا لکھا ہوا
مٹا دیا۔

لوگوں کی باتوں پرکان مت دھرو ہر شخص وه کہتا ہے جہاں سے وہ دیکھتا ہے۔

27/10/2024

کسی جنگل میں ایک بکری بہت بے فکری سے ادھر ادھر گھوم رہی تھی ۔
ایک کوے کو بہت حیرت ھوئی اور وہ بکری سے پوچھنے لگا کہ تمہیں کسی سے خوف کیوں نہیں ھے؟

بکری نے کہا ۔ بھائی میری بے فکری کا سبب یہ ھے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی اپنے دو چھوٹے بچے چھوڑ کر مر گئی تھی ۔

میں نے ان پہ ترس کھا کر اپنے دودھ پہ پال کر انہیں پروان چڑھایا۔اب وہ جوان ھیں اور انہوں نے جنگل میں اعلان کر رکھا ھے کہ ھماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔سو اب کسی بڑے خوںخوار جانور میں بھی یہ ہمت نہیں کہ مجھ پہ ہاتھ ڈالے کسی چھوٹے موٹے جانور کا ذکر ہی کیا۔
کوے نے سوچا کاش مجھے بھی ایسی نیکی کرنے کا موقع ملے اور پرندوں کی دنیا میں مجھے بھی احترام حاصل ھو جائے۔وہ یہی سوچتا ھوا اڑتا جا رہا تھا کہ اس نے نیچے دریا میں ایک چوہے کو ڈبکیاں کھاتے دیکھا ۔

وہ فوراً نیچے اترا اور چوہے کو دریا سے نکال لایا اور ایک بڑے پتھر پہ لٹا کر اپنے پروں سے ھوا دینے لگا تاکہ وہ خشک ھو جائے۔جونہی چوہے کے حواس بحال ھوئے اس نے کوے کے پر کترنے شروع کر دئیے۔کوا بیچارہ نیکی کی دھن میں مگن تھا اور چوہا اپنی کار گزاری میں مصروف۔اتنی دیر میں وہ خشک بھی ھو چکا تھا ۔

لہذا اس نے اپنے بل کی طرف دوڑ لگا دی ۔کوا نیکی کر کے بہت موج میں تھا۔اسی موج میں اس نے لمبی اڑان بھرنے کی کوشش کی مگر منہ کے بل زمین پہ آ پڑا اور اڑنے سے معذور ھو کر زمین پہ ہی اچھلنے اور گھسٹنے لگا ۔

اتفاقاً بکری ادھر سے گزری تو پوچھنے لگی ۔بھائی کوے تم پہ کیا افتاد آن پڑی؟وہ غصے سے بولا۔یہ سب تمہارا کیا دھرا ھے۔تمہاری باتوں سے متاثر ھو کر میں نےنیکی کمانے کی چاہ میں چوہے کی جان بچائی مگر وہ میرے پر ہی کتر بھاگا۔بکری ہنس پڑی اور کہنے لگی۔

بے وقوف اگر نیکی ہی کرنی تھی تو کسی شیر کے بچے کے ساتھ کرتے۔چوہے کا بچہ تو اپنا چوہا پن ہی دکھائے گا۔بد ذات اور بدنسل کے ساتھ نیکی کرنے والے کا وہی حال ھوتا ھے جو تمہارا ھوا ھے.....

کووں کے بچے موتی چگنے سے ہنس نہیں بن جاتے اور کھارے پانی کے کنویں میں میٹھا ڈالنے کے بعد بھی کھارے ہی رہتے ہیں۔

26/10/2024

سرکار حضرت واصف علی واصف رح فرماتے ہیں

کسی کا برتن اگر خالی ہو تو یہ مت سمجھنا کہ مانگنے چلا آیا ھے
ہو سکتا ہے وہ سب بانٹ کر آرہا ہو ...★ ♥️🥀

25/10/2024

40 سال کی عمر تک آپ کو یہ سب چیزیں سیکھ لینی چاہییں اور اپنے پہ اپپلائی کر لیں۔ ضرور پڑھیں

1. کوئی آپ سے زیادہ پیسے کماتا ہے۔ یہ وہ اپنے لئے کماتا ہے اس لئے اس ریس میں نہ پڑیں۔ آپ اپنی زندگی پہ فوکس رہیں۔

2. خلفشار (distraction) کامیابی کا سب سے بڑا قاتل ہے۔ یہ آپ کے دماغ کو جامد اور تباہ کر دیتا ہے۔

3. ایسے لوگوں سے مشورہ نہ لیں جو وہاں نہیں جہاں تک آپ جانا چاہتے ہیں۔

4. کوئی بھی آپ کو مسائل سے نکالنے نہیں آ رہا۔ آپ کی زندگی 100% آپ کی ذمہ داری ہے۔

5. آپ کو موٹیویشن کے لئے سو کتابیں بھی کم ہیں۔ البتہ اگر آپ ڈسپلن اختیار کریں اور ایکشن لیں تو وہی کافی ہو گا۔

6. پریشان نہ ہوں اگر آپ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل نہیں بن سکے۔ اگر چیز بیچنا سیکھ جاتے ہیں تو آپ صرف اگلے 90 دنوں میں زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔

7. کوئی بھی آپ کی پرواہ نہیں کرتا۔ لہذا شرم، جھجھک چھوڑیں، باہر جائیں اور اپنے مواقع خود پیدا کریں۔

8. اگر آپ کسی کو اپنے سے زیادہ ذہین پاتے ہیں، تو اس کے ساتھ کام کریں، مقابلہ نہ کریں۔

9. تمباکو نوشی کا آپ کی زندگی میں 0 فائدہ ہے۔ یہ عادت صرف آپ کی سوچ کو کم کرے گی اور آپ کی توجہ کو کم کرے گی۔

10. سکون سب سے بری لت ہے اور ڈپریشن کا سستا ٹکٹ۔ اپنی طاقت آزماؤ اور ہر روز خود کو چلینج کریں۔

11. لوگوں کو اس سے زیادہ نہ بتائیں جس کی انہیں جاننے کی ضرورت ہے، اپنی رازداری کا احترام کریں۔

12. ہر قیمت پر شراب سے پرہیز کریں۔ اپنے حواس کھونے اور احمقانہ کام کرنے سے بدتر کوئی چیز نہیں۔

13. اپنے معیار کو بلند رکھیں اور کسی چیز کے لیے بس نہ کریں صرف اس لئے کہ وہ آسانی سے دستیاب ہے۔

14. آپ جو خاندان بناتے ہیں وہ اس خاندان سے زیادہ اہم ہے جس سے آپ آتے ہیں۔

15. خود کو 99.99% ذہنی مسائل سے بچانے کے لیے ذاتی طور پر کسی سے کچھ نہ لینے کی اپنی تربیت کریں۔

منقول

تنقیدی سوچ Critical Thinking : کیوں یہ سیکھنا ہمارے لیے ضروری ہے؟اور وہ کونسی کتابیں ہیں جو Critical Thinking سیکھنے کے ...
24/10/2024

تنقیدی سوچ Critical Thinking : کیوں یہ سیکھنا ہمارے لیے ضروری ہے؟
اور وہ کونسی کتابیں ہیں جو Critical Thinking سیکھنے کے لیے بہترین ہیں؟

آج کے دور میں جہاں ہر طرف معلومات کی بھرمار ہے، سچ اور جھوٹ کی پہچان کرنا آسان نہیں رہا۔ ہم اکثر Herd Mentality کا شکار ہو جاتے ہیں، یعنی بغیر سوچے سمجھے دوسروں کی باتوں کو اپنا لیتے ہیں، چاہے وہ درست ہوں یا نہیں۔ سوشل میڈیا اور روز مرہ زندگی میں ہمیں ایسی خبریں یا معلومات ملتی ہیں جو اکثر تحقیق کیے بغیر شیئر کر دی جاتی ہیں۔ اسی طرح، جب لوگ کوئی رائے یا عقیدہ اپناتے ہیں تو اکثر وہ تنقیدی انداز سے نہیں سوچتے اور بغیر سوال کیے اسے مان لیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تنقیدی سوچ (Critical Thinking thinking) آج کے زمانے میں بے حد اہم ہے۔ تنقیدی سوچ کا مطلب ہے کہ ہم ہر معلومات یا رائے کو تجزیہ کریں، اس پر سوال اٹھائیں، اور خود سے تحقیق کریں کہ آیا یہ درست ہے یا نہیں۔ یہ مہارت ہمیں دھوکہ دہی اور غلط فہمیوں سے بچاتی ہے اور زندگی میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔

اسی Critical Thinking کے بارے میں لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ تنقیدی سوچ کیسے سیکھ سکتے ہیں اور اس مہارت کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب میں ہمیشہ کتابوں کے ذریعے دیتا ہوں کیونکہ کتابیں وہ ذریعہ ہیں جو ہماری سوچ کو گہرائی اور وسعت دیتی ہیں۔ اس پوسٹ میں، میں آپ کو سات بہترین کتابوں ست متعارف کراتا ہوں جو تنقیدی سوچ کی مہارتوں کو سیکھنے اور بہتر بنانے میں آپ کی مدد کریں گی۔ ان میں سے کوئی دو یا تین کتابیں آپ کی پسند کے مطابق منتخب کریں، اور انہیں پڑھنے کے بعد آپ خود دیکھیں گے کہ آپ کی سوچ میں ایک نمایاں فرق آئے گا۔

1. The Skeptics’ Guide to the Universe: How to Know What’s Really Real in a World Increasingly Full of Fake

یہ کتاب جدید دور میں سچائی کی تلاش کے حوالے سے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مصنفین سائنس، تجزیاتی سوچ، اور شواہد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ کتاب کا فوکس پوائنٹ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں غلط معلومات اور افواہوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور کس طرح سچائی تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی۔ اگر آپ ہمیشہ سچائی کی تلاش میں رہتے ہیں اور فیک نیوز سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے بہترین ہے۔

2. Thinking, Fast and Slow

ڈینیئل کاہنیمن کی یہ کلاسک کتاب انسانی دماغ کے دو طریقۂ کار یعنی سسٹمز کو تفصیل سے بیان کرتی ہے: جلدی اور خودکار سوچنے کا طریقہ (fast thinking) اور آہستہ، غور و فکر کے بعد سوچنے کا طریقہ (slow thinking)۔ مصنف نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ ہم کیسے اکثر جلدی میں غلط فیصلے کرتے ہیں اور کیسے آہستہ سوچنے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف آپکی سوچ کو منظم کرتی ہے بلکہ یہ بھی سکھائے گی کہ کیسے ہم خود کو بہتر سوچنے کے لیے تربیت دے سکتے ہیں۔

3. The 5 Elements of Effective Thinking

یہ کتاب پانچ بنیادی عناصر پر مبنی ہے جو ہماری سوچ کو مؤثر بنا سکتے ہیں:
1.Understand Deeply
2.Make Mistakes
3.Raise Questions
4.Follow The Flow of Ideas
4.Change
کتاب کا پر چیپٹر کئی پریکٹیکل اور آسان طریقوں پر مشتمل ہے جو آپ کو زندگی کے ہر شعبے میں زیادہ مؤثر اور کامیاب بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پیچیدہ نظریات Complex Concepts کو آسان زبان میں بیان کیا گیا ہے. یہ کتاب پڑھنے والے کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ وہ کس طرح اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

4. Think Again: The Power of Knowing What You Don’t Know

ایڈم گرانٹ کی یہ کتاب کا فوکس ہے کہ ہم اپنی معلومات اور عقائد Beliefs کو بار بار چیلنج کریں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ جب ہم یہ مانتے ہیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں، تو ہم دراصل غلطی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہمیں ہمیشہ اپنے علم کو اپڈیٹ کرتے رہنا چاہیے اور نئے خیالات کو قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ کتاب بہت Well Researched ہے اور Mind Expanding oy اور آپکی سکھاتی ہے کہ کیسے Think Again کا فن ہمیں زیادہ ذہین اور کھلے ذہن کا انسان بناتا ہے۔

5. Asking the Right Questions: A Guide to Critical Thinking

تنقیدی سوچ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم صحیح سوالات کریں۔ یہ کتاب بھی اسی بارے میں ہے کہ درست سوالات کیسے کیے جائیں تاکہ ہم بہتر نتائج اور فیصلے حاصل کر سکیں۔ یہ کتاب آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں کام آ سکتی ہے، چاہے وہ آپ کی پروفیشنل لائف ہو یا پھر پرسنل لائف.

6. The Art of Thinking Clearly by Rolf Dobelli

رولف ڈوبیلی کی یہ مشہور کتاب ہماری ننانوے Cognitive Biases کے بارے میں ہے جو ہماری سوچ کو گمراہ کرتی ہیں۔کتاب میں آپ سیکھیں گے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اکثر غلط فیصلے کیسے کرتے ہیں اور ان سے بچنے کا طریقہ کیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر آپ سمجھیں گے کہ کیسے چھوٹے چھوٹے Mental Flaws ہمیں بڑے نقصان کی طرف لے جاتے ہیں.
اگر آپ Human Psychology میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ کتاب. لازمی پڑھیں اور یہ کتاب بہت دلچسپ ہے.

7. Super Thinking: The Big Book of Mental Models

اگر آپ اپنے سوچنے کے طریقوں کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے بہترین ہے۔ اس کتاب میں مختلف Mental Models (ذہنی ماڈلز) کو بیان کیا گیا ہے جو ہمیں پیچیدہ مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی سوچ کی گہرائی کو بڑھانا چاہتے ہیں اور مختلف زاویوں سے مسائل کو دیکھنا سیکھنا چاہتے ہیں۔

8.Factfulness: Ten Reasons We're Wrong About the World — and Why Things Are Better Than You Think

یہ کتاب میری پسندیدہ کتابوں میں سے ایک یے اور پڑھنے والی کتاب ہے. Factfulness ایک بہت معلوماتی کتاب ہے جو دنیا کے بارے میں ہمارے غلط تصورات کو درست کرتی ہے۔ Rosling بتاتے ہیں کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ دنیا کے بارے میں انتہائی منفی اور غیر حقیقت پسندانہ نظریات رکھتے ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ہمیں اعداد و شمار اور حقائق کی بنیاد پر دنیا کا تجزیہ کرنا چاہیے، نہ کہ ہمارے جذبات یا پرانے خیالات کی بنیاد پر۔ یہ کتاب آپ کی سوچ کو حقیقت کے قریب لے جائے گی اور آپ کو سکھائے گی کہ دنیا دراصل اتنی بری نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ تنقیدی سوچ Critical Thinking محض ایک مہارت نہیں، بلکہ یہ ہماری زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا ذریعہ ہے۔ جب ہم تنقیدی انداز میں سوچنا شروع کرتے ہیں، تو ہم بہتر فیصلے کرنے، حقائق کو سمجھنے، اور درست سمت میں چلنے کے قابل ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں، جہاں ہر طرف غلط معلومات پھیل رہی ہیں، تنقیدی سوچ ہمیں صحیح راہ دکھاتی ہے اور ہمیں دھوکہ دہی سے بچاتی ہے۔

ان کتابوں کو پڑھ کر آپ تنقیدی سوچ کو بہتر بنانے کا آغاز کر سکتے ہیں۔ یہ سب کتابیں آپ کو نئے زاویوں سے سوچنے اور بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیں گی۔ یاد رکھیں، سوچنا سیکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر چیز پر شک کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم سچائی تک پہنچنے کے لیے درست سوالات کریں اور ہر معلومات کو تجزیہ کی نگاہ سے دیکھیں۔

آپ ان کتابوں میں سے کوئی دو یا تین کتابیں منتخب کریں اور اس سفر کا آغاز کریں۔ جیسے جیسے آپ پڑھتے جائیں گے، آپ کو اپنی سوچ میں ایک نمایاں فرق محسوس ہوگا۔

کتابیں آپ PDF میں Library Genesis سائٹ سے ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں.

توصیف اکرم نیازی

23/10/2024
20/10/2024

عربوں کی قدیم روایات میں، مرد اپنی غیرت کی وجہ سے کبھی بھی اس گھوڑے کو فروخت نہیں کرتا تھا جس پر اس کی بیوی سواری کرتی تھی، بلکہ وہ اسے ذبح کر دیتا تھا تاکہ کوئی دوسرا مرد اس پر سوار نہ ہو۔

جب کسی عورت کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس کے اہل خانہ قبر کے کنارے پر ہجوم کر لیتے ہیں اور پورا مقام اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ کوئی غیر خاندان والا اس کے قریب نہ آسکے۔ وہ سب آوازیں بلند کرتے ہیں: “جنازہ ڈھانپ دو، قبر کو چھپا دو!.
یہ سب کچھ اس پر غیرت کی وجہ سے کرتے ہیں، حالانکہ وہ کفن میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔

کیا تمہارے زندہ خواتین اس غیرت کے زیادہ حق دار نہیں ہیں؟

عورت کے لباس سے اس کے والد کی تربیت، اس کی ماں کی پاکیزگی، اس کے بھائی کی غیرت اور اس کے شوہر کی مردانگی کی جھلک نظر آتی ہے۔
ثقافت، آزادی اور جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی قدروں، حیا، اور اخلاقیات کو چھوڑ دیں۔

اپنی بیٹیوں اور عورتوں کے ساتھ ﷲ کا خوف رکھو اور ان کی عزت کا خیال رکھو۔

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Suffah Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category