06/09/2025
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
الفاظ محدود ہیں جبکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کا مقام ،شان اور عظمتیں لا محدود ہیں ۔
محدود الفاظ کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
شخصیت کی لامحدود عظمتوں کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔
چالیس ہزار اشعار لکھنے کے بعد شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ
تھکی ہے فکرِ رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
حقیقت یہ ہے کہ
شاعر اپنے اشعار میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرکے اپنے کلام کو جلا بخشتا ہے۔
ناثر اپنی نثر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کرکے اپنی تحریر کو حسن عطا کرتا ہے۔
مضمون نگار اپنے مضمون میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرکے اپنے الفاظ کو وقعت بخشتا ہے۔
خطیب اپنے خطاب میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی مدح کرکے اپنی گفتگو کو وقار عطا کرتا ہے۔
تو ثابت یہ ہوا کہ
اصل بلندی اور عظمت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے اور ہم سب کی باتوں کو عظمت ، شان ، مقام ، وقعت ، حیثیت اور بلندی آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے ملتی ہے ۔
❤️ ورفعنالک ذکرک ❤️