Islamia Sadiq Public School System

Islamia Sadiq Public School System

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamia Sadiq Public School System, High School, Islamia sadiq public school, muhala awan pura, multan, Multan.

14/08/2017

نوجوان گلوکارہ مومنہ مستحسن نے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ’’دل دل پاکستان ’’ گا کر نیا ریکارڈ کردیا

The pakistan tourism with ....
Pakistan zinda bad 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

22/04/2017

ہم دین محمد کے سپاہی مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے

30/01/2017

عورت کوٹھے میں ناچے تو طوائف اگر اسکول اور پارٹی میں ناچے تو مہذب ؟؟؟؟؟

ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ

ﺟﺲ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺠﺌﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻨﮑﺸﻦ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺮﻭﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﭘﺮﻧﺴﭙﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻣﺠﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮨﮯ؟ ﻟﻔﻆ ﻣﺠﺮﺍ ﭘﺮ ﭘﺮﻧﺴﭙﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﺷﺮﻓﺎ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻔﺎﻧﮧ ﭘﺎﺭﭨﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﻞ ﮐﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﯽ ﮐﺎﻧﺎﻡ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮈﺍﻧﺲ ﺍﻭﺭ ﻓﻨﮑﺸﻦ ﯾﮩﯽ ﮐﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﭨﮑﮯ ﮐﯽ ﻃﻮﺍﺋﻒ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﺠﺮﺍﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺮﺍﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻣﯿﻌﺎﺭ ﮨﻢ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺗﺮﺍﺯﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﻝ ﮐﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﮐﻨﻮﺍﺭﯼ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﭽﺎ ﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻟﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﺗﮯ۔ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭘﺮﻭﻓﺎﺭﻣﻨﺲ ﭘﺮ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﮯ۔ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﻧﺎﮎ ﺳﮑﻮﮌ ﮐﺮ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﮯ ﻃﻮﺍﺋﻒ ﮐﯽ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻃﻮﺍﺋﻒ ﮐﮯ ﻣﺠﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺷﺮﺍﻓﺖ ﮐﺎ ﺳﺮﭨﯿﻔﯿﮑﯿﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻻﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺤﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﺭﺳﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻭﺍﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺠﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﭨﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﺮﻭﺍﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺠﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ ﺩﻭﻏﻠﮯ ﭘﻦ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﭽﺮﺍ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﯽ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺰﺕ ﻭ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺟﺎﻧﻨﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻋﺰﺗﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮔﺰ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﺎﭖ ﮐﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪﯼ ﻃﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ هے.

20/01/2017

تعلیم و تعلم اور عشق معاشقہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد کے علاقے ترنول کے ایک سکول میں 16 سالہ "طالبِ عشق" نے اپنی 19 سالہ اُستانی کی "محبت" میں ناکامی پر کلاس میں خود کو گولی مار کر قتل کردیا۔۔۔۔۔ یہ خبر انتہائی افسوسناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے، یہ کوئی نئی خبر یا نیا واقعہ نہیں۔۔۔۔اس سے قبل بھی ایسے واقعات تسلسل سے ہوتے رہے ہیں۔

دو باتیں عرض کرنی ہیں۔۔۔۔۔۔ اول تو ایسے نامردوں کی پیدائش پہ افسوس ہے، جو داڑھی مونچھ کی عمر کو پہنچ کر بھی اپنی زندگی کا مقصد نہیں سمجھ پاتے، ۔۔۔۔۔ اپنی قیمتی جان کو کسی کے "پیار" کیلئے وار دینا۔۔۔۔۔ اپنی جان کا چراغ اپنے ہاتھوں گُل کردینا۔۔۔۔۔ یہ کونسی محبت ہے بھئی ۔۔۔۔؟ اِس "عشق، محبت یا پیار" کا کانسپٹ کہاں سے آیا کہ جس میں بچے اپنی جان تک لے لیتے ہیں۔۔۔۔۔ کیا یہ ان فلموں اور ڈراموں کا نتیجہ نہیں؟ جو پورا گھر ایک جگہ بیٹھ کر دیکھتا ہے۔۔۔۔جس میں والدین سے بغاوت، خود کشی، خودسری اور کسی بھی حد کو پھلانگنے کیلئے کچے اذہان کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔۔۔؟؟

دوسری بات یہ ہے کہ میٹرک اور انڈر میٹرک کے لڑکوں کو پڑھانے کیلئے 18 اور 19 سالہ دو شیزائیں کس لئے رکھی جاتی ہیں ۔۔۔؟ معلم اور متعلم کے مقدس ترین رشتے کے نام پر عاشق اور معشوق کو درس گاہ کی بجائے ڈیٹ پوائنٹ فراہم کرنے والے پرائیویٹ سکول مالکان سے کوئی پوچھ گچھ ہوسکتی ہے ۔۔۔؟ 1500 سے 5000 ماہانہ تنخواہ پر آغازِ شباب کے نازک ترین دور سے گزرنے والی میٹرک اور انٹر پاس بچیاں تدریس کے لئے رکھی جاتی ہيں۔۔۔۔اس پر کون ایکشن لے گا۔۔؟ ہے کوئی جو اس مافیا کے خلاف قانونی چارہ کوئی کرے۔۔۔۔۔؟؟

کیا وہ والدین اندھے، بہرے، یا دنیا و مافیہا سے بے بہرہ ہیں جنہیں اپنے بچوں کے تعلیمی ادارے کے متعلق خبر نہیں کہ کیا پڑھایا جارہا ہے، اور کس قسم کا نظام ہے۔۔۔؟ کیسی تربیت کی جارہی ہے اور کیا ذہن سازی ہورہی ہے، ۔۔۔ماحول کیسا فراہم کیا گیا۔۔۔۔؟ یہ سب کچھ والدین کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ اس میں سراسر کوتاہی برتی جاتی ہے۔۔۔۔کیا یہ والدین اپنے بچوں کا بستہ، ہوم ورک اور روازانہ کا معمول نہیں دیکھتے کہ ان کے بچے کے بستے میں کوئی ذہنیت بگاڑنے والا ناول، جریدہ، یا رسالہ تو نہیں ہے۔۔۔۔؟ کیا اس کے موبائل فون کا استعمال درست ہے۔۔۔۔؟ مگر خدا غارت کرے اس فکر کو کہ جس نے بچے کو والد کے پستول تک پہنچا دیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی۔۔۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ وہ دوشیزہ جوٹیچر سے زیادہ فیشن ماڈل بن کر سکول آتی ہے، بلوغت سے تازہ تازہ آشنائی پانے والے لڑکوں سے بے تکلفی، گپ شپ، موبائل نمبر شیئرنگ اور نہ جانے کیا کچھ ہوتا ہے، اُس میں اس ٹیچر کی کتنی ذمہ داری ہے ۔۔۔؟؟ کہ وہ کس حلیے، لباس، تراش خراش اور چال ڈھال کی پابند ہے۔۔۔۔۔؟ لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔۔۔۔ خواتین کے فیشن اور میک اپ مقابلے تعلیمی اداروں میں بھی عروج پر ہوتے ہیں۔۔۔جتنی تنخواہ ان پرائیویٹ اداروں میں ٹیچرز کو دی جاتی ہے، وہ بمشکل ان کے ماہانہ میک اپ کے سامان اور موبائل بیلنس پورا کرپاتی ہے۔۔۔۔ بس ایسی تنخواہوں پر پڑھائی کا معیار بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جہاں ہر روز کوئی اسامہ، عبداللہ، نوروز اور فاطمہ نور جیسوں کے لاشے گرا کرتے ہیں۔

وزارت تعلیم ایسے اداروں کی رجسٹریشن کرتے وقت عمارت، عملہ، تمام میکنزم اور معلومات لے کر تحقیق کے بعد معیار پر پورا اُترنے والے اداروں کی رجسٹریشن کرے، یہ گلی گلی میں تعلیم کا کاروبار کرنے والے سکول نامی دوکانیں، مخلوط نظام، اور اخلاقیات کے جنازے اٹھانے والے تمام ادارے بند کردینے چاہئیں، یہ والدین، سکول انتطامیہ، والدین اور حکومت کی ذمہ داری ہے، کہ اپنی نئی نسل کو اس اندھیرے کنویں میں ڈوبنے سے بچائیں، ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات، اخلاق باختہ پروگرامات اور ایسی خرافات مستقبل کے معماروں کی اخلاقی تباہی، بے یقینی، خود پہ عدم اعتماد، مجرمانہ فکر اور بے راہروی کا پیش خیمہ ہیں۔

19/01/2017

ﺍﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺪ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ؟
ﺍﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻟﯽ؟
ﺟﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ ‏( ﻧﻘﻞ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ‏)
ﮐﻮﻧﺴﺎ ﻟﮍﮐﺎ ؟
ﻭﮦ ﮔﻨﺠﺎ؟
ﻭﮦ ﻣﻮﭨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻭﺍﻻ؟
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺗﻨﺎ " ﮐﻮﺟﺎ " ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟
ﮨﻢ ﺳﻮﺭﮦ ﺗﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ۔
ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍﻧﺠﯿﺮ
ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺭِ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ
ﺑﯿﺸﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ﭘﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ۔
ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﻮﭨﯽ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮮ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ۔۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﭨﻮﺕ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﮯ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﺱ ﺷﮑﻮﮮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻏﻠﻂ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺴﯿﻦ ﭼﮩﺮﺍ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺁﭖ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ، ﺗﺴﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ
‏( ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ‏) ﭘﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺬﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟ !
ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﺎﺋﻨﯿﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎ، ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﭘﮭﯿﻨﯽ / ﭼﭙﭩﯽ ﻧﺎﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ refer ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻓﺮﯾﻘﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ، ﭼﻮﮌﯼ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻣﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ -
ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺃَﻧْﺖَ ﺣَﺴَّﻨْﺖَ ﺧَﻠْﻘِﻲ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ‏( ﺑﺎﮨﺮ ‏) ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ‏( ﺍﻧﺪﺭ ‏) ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔



♥¸.•* *•.¸♥ محبتوں کا امین ♥¸.•* *•.¸

1 11/10/2016

ایک تصویر پانچ سبق
پہلا سبق:
ہمیشہ اپنی اوقات (حد) میں رہیں-
دوسرا سبق:
دوسروں کو فتح کرتے کرتے خود نہ گنوا بیٹھو-
تیسرا سبق:
ہر موقع غنمیت نہیں ہوا کرتا- کچھ مواقع دام صیاد ہواکرتے ہیں-
چوتھا سبق:
کچھ کام زور زبردستی نہیں، حکمت کے متقاضی ہوتے ہیں -
پانچواں سبق:
خوابوں کے تعاقب میں کوشاں رہو مگر پاوں زمین پر رہیں-

11/10/2016

ایک ان پڑھ شخص اور اس کا پڑھا لکھا بیٹا پکنک پر گئے
انھیں وہاں پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔
دونوں نے اپنے الگ الگ خیمے لگائے اور سو گئے۔
آدھی رات کو باپ نے اپنے بیٹا کو جگایا اور پوچھا۔
"آسمان کو دیکھو بیٹا۔۔۔"
بیٹا کچھ حیران ہوا اور بولا" جی دیکھ رہا ہوں۔۔"
"کیا دیکھا؟" باپ نے پوچھا
"میں نے اربوں ستارے دیکھے ہیں ۔" بیٹے نے جواب دیا
"اس سے کیا پتا چلا۔۔" باپ نے پوچھا
"اس سے پتا چلتا ہے کہ ہماری کائنات بہت وسیع ہے، ہمارا نظام شمسی بہت بڑا ہے ، اور ستارے آسمان کی زینت ہیں۔۔۔۔" بیٹے نے جواب دیا
ان پڑھ باپ نے اپنے پڑھے لکھے بیٹھے کے گال پر رکھ کر کرارا تھپٹر مارا اور کہا،،،
"جاہل انسان! اس سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے خیمے چوری ہو گئے ہیں 😂😂

08/10/2016

کیاہم آزاد ہیں۔ ۔ ۔ ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamia Sadiq Public School, Muhala Awan Pura, Multan
Multan
ISPSS561