"ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ"
ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﺲ ﮐﻞ ﭘﺮﺳﻮﮞ
ﺟﺌﯿﻮﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﻮﮞ
ﻣﻮﺕ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ
ﻣﻮﺕ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺋﯽ
ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﭼﺎﺭ ﺩﻧﺎﮞ ﺩﺍ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﻭ ﺭﺑّﺎ
ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺁﺋﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺩﮨﺎﺋﯽ
ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﭼﺎﺭ ﺩﻧﺎﮞ ﺩﺍ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﻭ ﺭﺑّﺎ
ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﺍﮎ ﺗﻮ ﺳﺠﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﺩﻭﺟﮯ ﻣﻠﻦ ﺩﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺱ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﺱ ﭘﮧ ﯾﮧ ﺳﺎﻭﻥ ﺁﯾﺎ
ﺍﺱ ﭘﮧ ﯾﮧ ﺳﺎﻭﻥ ﺁﯾﺎ ﺁﮒ ﻟﮕﺎﺋﯽ
ﮨائے ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﭼﺎﺭ ﺩﻧﺎﮞ ﺩﺍ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﻭ ﺭﺑّﺎ
ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﭨﻮﭨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮕﻮﮌﮮ
ﺟﻦ ﺳﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﺗﻮﮌﮮ
ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎﺋﯽ
ھائے ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﭼﺎﺭ ﺩﻧﺎﮞ ﺩﺍ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﻭ ﺭﺑّﺎ
ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﺑﺎﻍ ﺍﺟﮍ ﮔﺌﮯ ﮐﮭﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﭘﻨﭽﮭﯽ ﺑﭽﮭﮍ ﮔﺌﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﮐﻮﯾﻞ ﮐﯽ ﮐﻮﮎ ﻧﮯ ﮨﻮﮎ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ
ﮨائے ﻟﻤﺒﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ
ﭼﺎﺭ ﺩﻧﺎﮞ ﺩﺍ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﻭ ﺭﺑّﺎ
ﺑﮍﯼ ﻟﻤﺒﯽ جدائی
Tooba Sajid
طوبی' ساجد
نقل شدہ،
میں سائکاٹرسٹ کے پاس بیٹھا تھا , بیگم کے کہنے پہ کئی دن سے ٹائم لیا ہوا تھا , اس لئے انہیں
ملنے چلے آیا ,
کیا مسئلہ ہے آپ کو .. ؟
تفصیل سے زرا بتائیں ..
😴 میں آنکھیں بند کئے چت لیٹا ماضی کی طرف سفر کرنے لگا اور میری زبان سے الفاظ پھوٹنے لگے
سب ٹھیک تھا
میں اپنے آفس میں مصروف رہتا اور نوشین یونیورسٹی میں لیکچرار تھی ,
بچے سکول کالج سے آکر اکیڈمی چلے جاتے اور پیچھے گھر میں صرف اماں اور نوکرانی ہوتی تھی ,
🌴اماں کافی بیمار رہنے لگیں تھیں , اکثر ایسا ہوتا کہ اماں کی رات کو طبیعت خراب ہو جاتی اور ہم انہیں لیکر ہسپتال چلے جاتے جہاں چار پانچ گھنٹے کے ٹریٹمنٹ کے بعد ہمیں فارغ کر دیا جاتا , 👈جب یہ اکثر ہونے لگا تو میری اور نوشی کی ورک روٹین خراب ہونے لگی , راتوں کو دیر سے جاگنے کی وجہ سے ہم دونوں متاثر ہو رہے تھے , ان ہی دنوں ایک دن نوشی نے مجھے کہا ...
🌴 سنئے اماں کی وجہ سے ہم دونوں کو خاصی ڈسٹربنس ہو رہی ہے , کیوں نا ہم انہیں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آئیں
یہ سننا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی اور غراتے ہوے میں نے پوچھا کہ تم نے یہ سوچا بھی کیسے , جانتی بھی ہو ابو کی ڈیتھ کے بعد اماں نے مجھے کیسے پال پوس کر بڑا کیا
آپ بھی نا جزباتی ہو جاتے ہیں , میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ شہر میں بیسیوں اولڈ ایج ہوم ہیں , ہم کسی اچھے سے پرائیویٹ اولڈ ہوم کا انتخاب کریں گے جہاں میڈیکل کی بھی سہولیات ہوں تاکہ خدانخواستہ رات کو تو ہم یہاں ہوتے ہیں اگر دن میں اماں کی طبیعت بگڑ گئی تو کیا کرے گی کام والی نجمہ , آپ ایک دفعہ مسز عباسی نے جو اولڈ ہوم پروجیکٹ شروع کیا ہے وہ دیکھ آئیں ,,,
💠 اچھا فی الحال اپنی بکواس بند کرو اور مجھے پڑھنے دو ,, میں نے عینک سیدھی کی اور پھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گیا لیکن میرا دماغ بار بار مسز عباسی کے بنائے اولڈ ایج ہوم کی طرح جا رہا تھا
اگلے دن اتوار تھی اور صبح ہی صبح میں گاڑی لیکر شہر کے اس پوش علاقے کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اولڈ ایج ہوم تھا , گاڑی پارک کر کے میں اس شاندار اور پرشکوہ بنگلے کی طرز پہ بنی اس عمارت میں داخل ہو گیا , 🌸جہاں میرا استقبال پودوں کو پانی دیتی مسز عباسی نے خود کیا , اس دن میں نے وہ ساری عمارت گھوم پھر کر دیکھی جہاں میرے ذہن کے مطابق واقعی ہی بوڑھے لوگوں کے لئے جنت تعمیر کی گئی تھی , صاف ستھرا ماحول , بڑا سا سرسبز لان , پرشکوہ ڈسپنسری جہاں ہر وقت ایک ڈاکٹر طعینات رہتا تھا , اور اولڈ ایج ہوم کی اپنی دو اینمبولینسز کے علاوہ وہاں زندگی کی ہر سہولت فراہم کی گئی تھی,
مسز عباسی سے فیس وغیرہ پوچھی تو چودہ طبق روشن ہو گئے , لیکن اماں کے آرام کے لئے مجھے وہ مناسب لگے , اب صرف اماں سے پوچھنا باقی رہ گیا تھا ,
رات کو اماں کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا وہ بیٹھیں بڑے بڑے لفظوں والا قرآن پڑھ رہیں تھیں , میں کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور مسکرائیں ,
میں چپ چاپ پہلو میں آکر بیٹھ گیا , اماں کا حال احوال پوچھا اور پھر چُپ .. سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ بات کو کیسے شروع کروں
یہ مشکل اماں نے خود ہی آسان کر دی ,, کیا ہوا بیٹا پریشان لگ رہے ہو !
جی بس آپ کی وجہ سے ہی پریشانی تھی , کیسی طبیعت ہے اب
میں ٹھیک ٹھاک تو ہوں , مجھے کیا ہونا , بس یہ کمبخت مارا بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ,
اماں ایک مشورہ کرنا تھا آپ سے ۔۔
بولو بیٹا !!!
اماں میں ایک جگہ دیکھ کر آیا ہوں میں نے ہکلاتے ہوے بولنا شروع کیا , وہ آپ کی رہائش کے لئے بہت مناسب ہے , وہاں مجھے یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ آپ گھر میں اکیلی ہیں , یا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ٹھاک ہے , وہاں ڈاکٹر چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے , ماحول بھی صاف ستھرا ہے ,
اماں کے چہرے پہ رقصاں مسکراہٹ تھم گئی تھی , ایک دفعہ ماتھے پہ بل پڑے اور پھر مسکرا دیں , بیٹا مجھے بھی کافی دن سے محسوس ہو رہا تھا کہ تم لوگوں کو کافی ڈسٹرب کر رہی ہوں , ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں , جیسے میرا لعل خوش ویسے میں خوش , اماں نے مسکراتے ہوے میرا ماتھا چوما اور میں کمرے سے نکل آیا ۔
میرا ضمیر اس بے غیرتی پہ آمادہ نہیں تھا مگر میرے حالات کچھ اور کہتے تھے , یا شاید میں حالات کا صحیح مقابلہ نا کر سکا اور اماں کو میں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آیا
شروع شروع میں دو تین دن بعد میں چکر لگا لیتا تھا ,کبھی کبھی اماں کو گھر بھی لے آتا تھا اور اگلے دن پھر چھوڑ آتا ,
پھر میرا چکر کم ہوتے گئے بس اتوار کی اتوار جانے لگا , اور پھر کچھ عرصہ پہلے تو حد ہو گئی , کاروبار کے چند مسائل کی وجہ سے میں قریبا ایک مہینہ نا جا سکا , اسی دوران وہ منحوس دن آ گیا ..
اتوار کا دن تھا , مجھے آج ایک آدمی کے ساتھ ضروری کاروباری ملاقات کرنی تھی , ناشتہ کیا اور گاڑی میں آبیٹھا ابھی سیلف لگایا ہی تھا کہ اٹھارہ سالہ ایان بھی دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ گیا ,
ٍڈیڈ آپ کو پتہ ہے میں گاڑی چلانا مکمل سیکھ گیا ہوں ,
اچھا .... ؟ واہ شاباش میرا بیٹا بڑا ہوگیا ،
ڈیڈ آپ ہمیشہ ہمیں سکول چھوڑ کر آتے ہیں آج میں آپ کو چھوڑ کر آؤں گا ۔
میں نے ہنستے ہوے ایان سے پوچھا ،
اچھا کہاں چھوڑنے کا ارادہ ہے اپنے پاپا کو !
اولڈ ایج ہوم ....
اس نے کہا ....
اور میں ساکت ہوگیا , میرے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی😨 اور ہاتھ سٹیرنگ پہ مضبوطی سے جم گئے
وہ اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا , آج سنڈے ہے مجھے پتہ ہے کہ آپ گرینی سے ملنے جا رہے ہیں , میں بھی چلتا ہوں ساتھ میں آپ کو ڈرائیونگ بھی دکھاتا ہوں اپنی ..............
مگر میں بس ایان کے پہلے جملے پہ ہی ساکت ہو چکا تھا ,😐 اسکے معصوم جملے میں میرا مستقبل چھپا تھا , میری وہ فصل جو مجھے کاٹنی ہی تھی , بچپن میں پڑھی کہانیاں اور واقعات کی طرح مجھے بھی اسی سلوک کا شکار ہونا تھا ... ........ میری آنکھوں سے آنسو ابل ابل کر آ رہے تھے😭 اور میں اپنی اماں سے اپنے اس گھٹیا سلوک سے سخت شرمندہ تھا , 😔
ایان کو بلاوجہ ڈانٹ کر میں نے گاڑی سے نکالا اور تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا , اماں کو لینے اولڈ ایج ہوم جانے لگا ,
اولڈ ایج ہوم پہنچا تو دوسری بجلی گری کہ کچھ دیر قبل ہی اماں ہارٹ اٹیک سے فوت ہو چکی تھیں اور میری معافی و توبہ کے سارے دروازے بند ہو گئے ..
💠 ڈاکٹر صاحب تب سے میں انتہائی چڑچڑا ہو چکا ہوں ,
کاروبار میں دل نہیں لگتا ,
بلاوجہ بچوں اور ملازموں کو ڈانٹتا رہتا ہوں ,
اکثر چھٹی والے دن سارا سارا دن قبرستان میں اماں کے سرہانے بیٹھ کر ان سے معافی مانگتا رہتا ہوں ,
نا گھر میں دلچسپی رہی نا کاروبار میں اب بتائیں کیا اس بے سکونی , بے آرامی اور اس ضمیر کا کوئی علاج ہے جو جاگا بھی تو بے فیض ... 💠
🌷 کافی دیر تک میں چپ رہا لیکن ڈاکٹر کی آواز نا آئی
آنکھیں کھولیں , اٹھ کر ڈاکٹر کو دیکھا تو وہ سر نیچے کئے بیٹھا رو رہا تھا ,
👈ڈاکٹر صاحب ... میں دوبارہ بولا تو اس نے سر اٹھایا اور آنکھیں صاف کرکے بولا
اسکے علاوہ اس بے سکونی کا کوئی علاج نہیں کہ اللّٰہ سے توبہ استغفار کرتے رہا کرو , نیک کام کرو تاکہ وہ تمہارے ماں باپ کے کام آئیں اور شاید تمہیں سکون مل جائے ۔
🌷 یہ کہتے ہوئی اسکی ہچکیاں بندھ گئیں ,اور گلوگیر آواز میں پھر بولا ۔
✳ میں نے ایک ضروری کام سے جانا ہے آپ چلے جائیں , یہ کہتے ہوے اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ملازم کو بلا کر کلینک بند کرنے کا کہنے لگا ۔
🌹 ارے ڈاکٹر صاحب اتنی ایمرجنسی میں آپ جا کہا رہے ہیں , میں نے پوچھا تو اس نے مُڑ کر جواب دیا ۔
اولڈ ایج ہوم !
بابا کو لینے ........😰
یہ کہا اور گھوم کر راہداری میں غائب ہو گی
سر! پلیز، مجهے ایک بات بتائیے۔۔
وہ میرے سامنے میز کی دوسری طرف بیٹهہ کر بڑے اعتماد سے بولی،
جو عورت پچهلے پانچ سال سے آپ کے ساتهہ ہے، اور آپ کے دو بچوں کی ماں بهی ہے، اس
میں اچانک ایسی کیا برائی ،کیا خرابی یاکمی واقع ہو گئی کہ آپ اس کی ساری محبتیں
خدمتیں اور قربانیاں بهلا کر، میری طرف مائل ہو گئے ؟
ایسا کچهہ بهی نہیں،
بات صرف اتنی سی ہے کہ مجهے تم سے محبت ہے.
اور آپ نے اس محبت کو ملکیت سمجهہ لیا، مجهے بتائے بغیر، مجهہ سے پوچهے بغیر۔۔
پوچهہ تو رہا ہوں، تم مان جاؤ، میں اسے چهوڑ دوں گا ،
یعنی آپ کی خوشی کی خاطر اپنے جیسی عورت کا گهر تباہ کر دوں، جو بالکل بے قصور ہے،
یہ جانتی بهی نہیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ،
مجهہ میں تو اتنی ہمت نہیں سر! وہ حتمی فیصلہ سنانے لگی، میں بے حد پریشان ہو گیا. سمجهہ میں نہیں آ رہا تها کہ اسے کیا کہوں، مجهے خاموش دیکهہ کر بولی
کیا سوچنے لگے سر ؟
سوچ رہا ہوں، رب کو منانا کتنا آسان ہے لیکن اس کے بندوں کو منانا کتنا مشکل .
پهر تو آپ جانتے ہیں کہ رب نارا ض بهی ہو جاتا ہے.
میں خاموش رہا تو میرے چہرے پر نظریں جما کر بڑے سکون سے بولی:
میرے رب کو وہ انسان سب سے زیادہ نا پسند ہے، جو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالے،
یا ان کے بیچ نفرت پیدا کر کے ان کی علیحدگی کا سبب بنے،
کیا آپ چاہتے ہیں سر۔۔ کہ میں خدا کے ان ناپسندیدہ بندوں میں شامل ہو جاوں ؟
میں غور سے اسے دیکهنے لگا،
یہ کیسی محبت ہے آپ کی، جو مجهے میرے رب کے حضور شرمندہ کرنا چاہتی ہے ؟
میرے پاس اس کی کسی بات کا معقول جواب نہیں تها، میں بس اسے حاصل کرنا چاہتا تها، لیکن وہ کسی صورت راضی نہ تهی.
کچهہ عرصہ اسی کشمکش میں گزرا، پهر لاسٹ سمسٹر ہوئے اور وہ چلی گئی. جانے سے پہلے میرے پاس آئی اور بولی،
سوری سر! میں نے آپ کا دل دکهایا، محبت میں ہم کبهی کبهی اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ
قریب کے رشتوں کی کوئی اہمیت ہی باقی نہیں رہتی، لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم غلطی پر تهے،
آپ کے ساتهہ بهی ایسا ہی ہو گا، میں چلی جاؤں گی تو آپ بهی نارمل ہو جائیں گے.
اس کے جانے کے بعد کافی عرصہ بے چینی میں گزرا، پهر میں نے اپنی پوسٹنگ دوسرے شہر کروا لی، ماحول بدلا، زندگی کی مصروفیات بڑهیں تو آهستہ آهستہ اس کی یاد میں کمی آنے لگی. آخر وہ وقت بهی آیا، کہ وہ ذهن کے پردے سے بالکل محو ہو گئی.
کافی عرصے بعد ایک تقریب میں نظر آئی، اسے دیکهہ کر ماضی یاد آگیا۔۔
میں اپنی احمقانہ محبت کی داستان اسے سنا کر زور زور سے ہنستا رہا، اپنی بیوقوفیوں
کے قصے دلچسپ انداز میں سنا کر خوش ہوتا رہا. اور وہ خاموشی سے سنتی رہی.
پهر پوچها سناؤ گهر بار کیسا ہے ؟ تو زور سے ہنس کر بولی،
گهر بار کیسا سر! اکیلی بڑے مزے میں ہوں،
مطلب ؟ میں حیران ہوا،
شادی نہیں کی تم نے ؟ ؟ میں نے سر سری انداز میں پوچها،
تو پهیکی سی مسکراہٹ لئے بولی،
کیا کرتی سر! آپ کے بعد کوئی اور اچها ہی نہیں لگا.
چائے کا کپ میرے ہاتهہ میں لرزنے لگا، احساس ندامت نے قوت گویائی چهین لی، ماضی آهستہ آهستہ زخم کریدنے لگا.
جسے بهولے ہوئے مجهے زمانہ گزر گیا، وہ آج بهی میری یاد کے ساتهہ رہ رہی تهی.
الفاظ حلق میں اٹکنے لگے۔۔ خود کو سنبهال کر بڑی مشکل سے کہہ پایا
مگر تم نے تو کبهی ------ میری بات کاٹ کر بڑے کرب سے بولی۔۔۔
جنہیں اللّٰہ کی رضا کی خاطر چهوڑتے ہیں، انہیں جذبوں کا احساس نہیں دلایا جاتا بس لاتعلقی کا گمان ہی کافی ہوتا ہے.
چائے چهلک کر میرے کپڑے داغدار کر گئی..............
نقل شدہ
اسلام آباد میں ورکنگ وومن سیمینار تھا جس میں اسلام آباد کی (خصوصاً اور باقی علاقوں کی عموماً) خواتین مدعو تھیں۔
روس کی دو خواتین جو اردو سیکھنے کی غرض سے اسلام آباد آئی ہوئی تھیں انہیں بھی تقریب کی شان بڑھانے کیلئے بلا لیا گیا۔
تقریب سے خطاب کے دوران خواتین نے روس کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے اس کا سہرا وہاں کی ورکنگ وومن کے سر پر رکھ دیا۔ خیر پھر روس کی خاتون کو بھی بات کرنے کا موقع دیا گیا۔
روسی خاتون نے روس کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ہاں اٹھانوے فیصد خواتین گھر سے باہر نکلتی ہیں، اور شاید یہی ہماری ترقی کا راز بھی ہے۔
تمام ہال تالیوں کی آواز سے گونج گیا، پاکستانی خواتین تو ایسے خوش ہورہی تھیں کہ جیسے "ترقی" کا زینہ ہاتھ لگ گیا ہو۔
روسی خاتون نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، لیکن ابھی ہمارے پاس دو فیصد گھریلو خواتین ہیں اور مجھے فخر ہے کہ میں بھی ان دو فیصد خواتین میں سے ایک ہوں۔
اچانک تمام ہال پر سناتا چھا گیا۔
اس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، "دراصل ہم نے معاشی لحاظ سے تو ترقی کرلی ہے جبکہ معاشرتی لحاظ سے ہمارا معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔ شراب نوشی، قتل و غارت، زنا بالجبر اور ڈاکہ زنی عام ہو چکی ہے۔ اور ایسا صرف اس لیے ہوا ہے کہ مائیں بچوں کی تربیت نہیں کر رہیں، بچے بچپن سے آزاد ماحول میں زندگی گزارتے ہیں جہاں انہیں کارٹون، گیمز اور تفریح کی دوسری چیزیں مہیا کی جاتی ہیں لیکن یہ چیزیں انہیں شدت پسند اور قانون کا باغی بنا دیتی ہیں۔
اب ہمارے معاشرے میں ان عورتوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو گھروں میں رہتی ہیں اور بچوں کی تربیت کرتی ہیں۔
وہ اور نہ جانے کیا کیا کہتی گئی لیکن سامنے بیٹھی عورتیں ایسے سن رہی تھیں جیسے ہم آپ اپنے ابو، امی یا بڑے بھائی کا پڑھائی کے بارے میں دیا گیا لیکچر سنتے ہیں۔
جس میں وہ کہہ رہے ہوتے ہیں پڑھ لو ورنہ بعد میں پچھتاؤ گے، اور ہم ان کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔۔۔
27/08/2016
***اسلامی بہنوں کی نماز کا طریقہ***
__________________________________________________
کعبةالله شريف كى طرف منہ کر کے اونچی جگہ بیٹھنا #مستحب ہے.وضو کے لئیے نیت کرنا #سنت ہے.نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں دل میں نیت ہوتے ہو6 زبان سے کہہ لینا #افضل ہے لہذا زبان سے اس طرح نیت کیجئیے کہ میں حکم الہی عزوجل بجا لانے اور پاکی حاصل کرنے کے لئیے وضو کر رہی ہوں .
بسم اللہ کہہ لیجئیے کہ یہ بھی #سنت ہے بلکہ بسم اللہ والحمدللہ کہہ لیجئیے کہ جب تک با وضو رہیں گی فرشتے نیکیاں لکھتے رہیں گے
اب دونوں ہاتھ تین تین بار پہنچوں تک دھوئیے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا خلال بھی کیجئیے .کم از کم تین بار دائیں بائیں اوپر نیچے کے دانتوں میں مسواک کیجئیے اور ہر بار مسواک دھو لیجئیے .اب سیدھے ہاتھ کے تین چلع پانی سے اس طرح تین کلیاں کیجئےکہ ہر بار منہ کے ہر پرزے پر پانی بہہ جاۓ اگر روزہ نہ ہو تو غرغرہ بھی کر لیجئیے پھر سیدھے ہی ہاتھ کے تین چلو سے تین بار ناک میں نرم گوشت تک پانی چڑھائیے اور اگر روزہ نہ ہو تو ناک کی جڑ تک پانی چڑھائیے .
اب الٹے ہاتھ سے ناک صاف کر لیجئیے اور چھوٹی انگلی ناک کے سوراخوں میں ڈالئیے تین بار سارا چہرہ اس طرح دھوئیے کہ جہاں سے عادتاسر کے بال اگنا شروع ہوتے ہیں وہاں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسروی کان کی لو تک ہر جگہ پانی بہہ جاۓ پھر پہلے سیدھا ہاتھ انگلیوں کے سرے سے دھونا شروع کرکے کہنیوں سمیت تین بار دھوئیے .اسی طرح پھر الٹا ہاتھ دھو لیجئیے.دونوں ہاتھ آدھے بازو تک دھونا #مستحب ہے.اگر چوڑی کنگن یا کوئی سے بھی زیورات پہنے ہوۓ ہوں تو ان کو ہلا لیجئیے تاکہ پانی ان کے نیچے کی جلد پر بہہ جاۓ اگر ان کے ہلاۓ بغیر پانی بہہ جاتا ہے تو ہلانے کی حاجت نہیں اور اگر ہلاۓ بغیر یا بغیر اتارے پانی نہیں پہنچے گا تو پہلی صورت میں ہلانا اور دوسری صورت میں اتارنا ضروری ہے.... ..
اکثر اسلامی بہنیں چلو میں پانی لے کر پہنچے سے تین بار چھوڑ دیتی ہیں کہ کہنی تک بہتا چلا جاتا ہے اس طرح کرنے سے کہنی اوع کلائی کی کروٹوں پر پانی نہ پہنچنے کا اندیشہ ہے لہذا بیان کردہ طریقے پر ہاتھ دھوئیے اب چلو بھر کر پہنچے تک پانی بہانے کی حاجت نہیں بلکہ یہ پانی کا اسراف ہے
اب سر کا مسح اس طرح کیجیئے کہ دونوں انگوٹھوں اور کلمے کی انگلیوں کو چھوڑ کر دونوں ہاتھوں کی تین تین انگلیوں کے سرے ایک دوسرے سے ملا لیجئیے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر کھینچتے ہوۓ گدی تک اس طرح لے جائیے کہ اس دوران ان انگلیوں کا کوئی حصہ بالوں سے جدا نہ رہے مگت ہتھلیاں سر سے جدا رہیں صرف ان بالوں پر مسح کیجئیے جو سر کے اوپر ہیں پھر گدی سے ہتھلیٹں کھنچتے ہوۓپیشانی تک لے آئیے کلمے کی انگلیاں اور انگوٹھے اس دوران سر پر بالکل مس نہیں ہونے چاہئیے پھر کلمے کی انگلیوں سے کانوں کی اندرونی سطح اور انگوٹھوں سے کانوں کی باہری سطح کا مسح کیجئیے اور چھوٹی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں داخل کیجئیے اور انگلیوں کی پشت سے گردن کے پچھلے حصے کا مسح کیجئیے
بعض اسلامی بہنیں گلے کا اور دھلے ہوۓ ہاتھوں کی کہنیوں اور کلائیوں کا مسح کرتی ہیں یہ سنت #نہیں ہے......اب پہلے سیدھا پھر الٹا پاؤں ہر بار انگلیوں سے شروع کر کے ٹخنوں کے اوپر تک بلکہ #مستحب ہے کہ آدھی پنڈلی تک تین تین بار دھو لیجئیے دونوں پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا #سنت ہے اس کا #مستحب طریقہ یہ ہے کہ الٹے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے سیدھے پاؤں کی چھوٹی انگلی کا خلال شروع کر کے انگوٹھے پر ختم کیجیئے اور الٹے ہی ہاتھ کی چھنگلیا الٹے پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھنگلیا پر ختم کریں
حجت الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ ہر عضو دھوتے وقت یہ امید کرتا رہے کہ میرے اس عضو کے گناہ نکل گئیے.. .
اور مسواک کرتے وقت نماز میں قرآن مجید کی قرأت اور ذکر اللہ عزوجل کے لیئے پاک کرنے کی نیت کرے......
اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں ظاہر اور باطن کی پاکیزگی عطا فرماۓ
27/08/2016
بلا عنوان...
عنوان آپ خود commentمیں دیں جزاک اللہ
اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
'' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ''
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ''
ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ''
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ''
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ''
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ''
ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ''
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر
ﻧﺎﻡ ﮐﺘﺎﺏ = ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿِّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺻﻔﺤﮧ = 59 ﺗﺎ 61
سبحان اللہ......
21/08/2016
میرا روپ عاجزانہ نئیں
میرا عشق صوفیانہ نئیں
میں بلھا نئیں میں وارث نئیں
میں حبشی نئیں میں فارس نئیں
میرا ماہی میتھوں دور نئیں
میں تپیا وانگ تندور نئیں
میں کیتا کج نذرانہ نئیں
میرا عشق صوفیانہ نئیں
میں رومی نئیں میں جامی نئیں
میں پریت نبھان دا حامی نئیں
میں کنگھرو بن کے نچیا نئیں
میں کنجری بن کے سچیا نئیں
میں گایا کوئی ترانہ نئیں
میرا عشق صوفیانہ نئیں
بس دلبر دلبر کردا ہاں
تے اوہدے عشق چہ مردا ہاں
اوہنوں ویکھ لواں تے حج میرا
اوہ سیج سنگھار تے سج میرا
کسے ھور دا میں پروانہ نئیں
میرا عشق صوفیانہ نئیں
ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ '
ﭘﮩﻼ ﮐﻠﻤﮧ ﻃﯿﺐ , ﻃﯿﺐ ﻣﻌﻨﯽ ﭘﺎﮎ ...❤💙💜
06/08/2016
اپنی👆 مسکراہٹ کو قابو میں کیجیے صاحبہ ۔۔۔۔۔❤❤
💛💙 دل ناداں کہیں اس پے شہید نہ ہو جائے ❤❤
02/05/2016
like my page
02/05/2016
invite your friends
to like this page
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Multan