Abrar Agmad reels page

Abrar Agmad reels page

Share

I am a student. i also teach online quran with tajweed. follow my page for more detail.

12/09/2024

سیکس اور اُداس نسلیں

سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ آپ غالِب، میر، داغ، جِگر، جُون، پروین، وصی، اور دیگر اردو کے شُعرا کی کتابیں پڑھ لیں، اِنکا کثیر حِصہ وصل و ہجر و فراق، اَن کہے جذبات، حسرتوں، اور پچھتاووں کے موضوعات پر مُشتمل ہو گا۔ آپ گُوگل کے اعداد و شُمار کا تجزیہ بھی کر لیں، پاکستان کا شُمار اُن مُمالک میں ہوگا، جہاں فحش ویبسائیٹس دیکھنے کا رِواج سب سے زیادہ ہے۔ آپ خیبر سے کراچی تک کا سفر بھی کر لیں، عورت چاہے شٹل کاک بُرقعے میں ہی ملبُوس کیوں نہ گُزر رہی ہو، آس پاس موجود مَرد حضرات اُسے تب تک گُھورتے رہیں گے جب تک وہ گلی کا موڑ مُڑ کر نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے۔ آپ کِسی سے بھی گُفتگو کر کے دیکھ لیں، ہر دو فقروں کے بعد ماں بہن کے جِنسی اعضا پر مُشتمل گالیاں شامِل ہوں گی۔ آپ مذہبی مُبلغین و عُلما کے بیانات بھی سُن لیں، اِن میں بہتر حُوروں کے نشیب و فراز کے سائز پر سیر حاصِل روشنی ڈالی گئی ہوگی۔ آپ پاکستان کے ڈرامے، ناول، ڈائجسٹ، فلمیں بھی دیکھ لیں، یہ عِشق معشوقی، اور لو افئیرز کے اِرد گِرد گھوم رہے ہوں گے۔ آپ ہر روز اخبار بھی پڑھ کر دیکھ لیں، کِسی ن نے م بی بی کے ساتھ یا کِسی ف نے کِسی ش بی بی کے ساتھ زیادتی بھی کی ہوئی ہوگی، ننھے بچے حتیٰ کہ قبر میں زون کی عزت بھی محفوظ نہیں مِلے گی۔ آپ کو کہیں سائینسی ڈاکومنٹری، مریخ پر زندگی، یا روبوٹس کا تذکرہ نہیں مِلے گا، کوئی نِطشہ، رسل، آئینسٹائین، یا فلسفہ پر گفتگو کرتا نہیں مِلے گا۔ آپ اندازہ کریں کہ قائداعظم پر بننے والی فِلم جِناح ایک برطانیہ کے پروڈکشن ہاوُس نے بنائی، اور صلاح الدین ایوبی پر کِنگڈم آف ہیون نامی فِلم ہالی وُڈ نے بنائی۔ ہمیں توفیق نہ ہوئی کہ کبھی قائداعظم، علامہ اقبال، یہ اپنی تاریخ پر کوئی ایسی فِلم یا ڈاکومنٹری ہی بنا لیں جو ہم فخر سے باہر کی دُنیا کو دیکھنے کیلیے پیش کر سکیں۔ ہم ہالی وُڈ کی فلموں پر تو بین لگا دیتے ہیں، مگر سٹیج ڈراموں کے نام پر مجرے اور کیا کُچھ نہ دِکھایا جاتا رہا۔ آپ اندازہ کریں کہ ہم نے صدیوں کے غوروفکر کے بعد اپنی ذریں روایات و اقدار کی بنیاد پر ایک ایسا مثالی معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں شادی کرنے کیلیے ایک مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے تعلیمی ڈگریوں کے انبار، نوکری، گھر، گاڑی، بینک بیلنس بنائے، تاکہ جب جوانی اختتام پذیر ہو، تب شادی کا سوچے، یعنی اپنی آدھی سے زیادہ عُمر کنوارا گھومتا رہے۔ لڑکیوں پر جہیز کا بوجھ الگ۔ اگر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جنسی تسکین ایک بُنیادی اِنسانی ضروت ہے، اور جب تک انسان کی یہ بنیادی ضروت پوری نہ ہو، انسان دیگر تخلیقی کاموں پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتا، ذہنی خلفشار کا شکار رہتا ہے، تو ہم یہ حقیقت ماننے سے انکاری کیوں ہیں؟ ہم کب تک نیوٹن، آئینسٹائین، بِل گیٹس کے بجائے شاعر، مجنوں، رانجھا، اور غمزدہ نسلیں پیدا کرتے رہیں گے؟ ہم کب تک زندگی کے چار میں سے دو دن آرزو اور باقی کے دو دن انتظار میں گزارنے پر نوجوانوں کو مجبور کرتے رہیں گے؟ دُنیا کی کون سی سائینس، دُنیا کی کون سی نفسیات، اِس معاشرت کو درُست کہے گی؟ ہم کِس کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم کِس سے جھوٹ بولنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ کیسا نظامِ زندگی ہے جہاں بُنیادی اِنسانی ضروریات کے اظہار، اور تکمیل پر پابندی ہے، گھُٹن ہی گھُٹن ہے؟ جب سچائی اور حقیقتوں کے اظہار کے تمام دروازے بند کر دئے جائیں، تو ہوتا تو تب بھی سب کُچھ ہے، مگر مُنافقت کے پردہ میں، ہر شخص فرشتہ صفت ہونے کا دعویدار بن جاتا ہے، اور ڈھونڈنے سے بھی کہیں کوئی اِنسان دِکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ مُنافقت پر مبنی مُعاشرے کََسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ساتھ جھوٹ بولنے کا بیوپار کرتے ہیں، اور خمیازہ بھی پھر خُود ہی بھُگتتے ہیں۔ منٹو بتا گیا تھا ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں اپنی خواہشات کے دبانے کو بڑا ثواب تصور کیا جاتا ہے۔ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔۔۔🌿
( منقول ) ـــــــــ

15/08/2024

سماجی تعلقات کے اصول:

1. **متواتر کالز نہ کریں:** اگر کوئی شخص ایک یا دو بار میں آپ کی کال کا جواب نہیں دیتا، تو فرض کر لیں کہ وہ مصروف ہے۔

2. **قرض واپس کریں:** جو پیسے یا چیزیں آپ نے قرض لی ہیں، انہیں وقت پر واپس کریں۔ یہ آپ کی دیانت داری اور کردار کی علامت ہے۔

3. **کھانے کی دعوت:** جب کوئی آپ کو کھانے پر مدعو کرے، تو کبھی سب سے مہنگا آئٹم نہ مانگیں۔

4. **ناپسندیدہ سوالات سے گریز کریں:** کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں جیسے شادی، بچے، یا مالی حالات پر سوالات کرنا۔

5. **دروازہ کھولنا:** ہمیشہ اپنے پیچھے آنے والے شخص کے لیے دروازہ کھولیں، یہ عمر یا جنس سے بالاتر ہے۔

6. **اگلے موقع پر ادائیگی کریں:** اگر آپ کے دوست نے ٹیکسی کا کرایہ دیا ہے، تو اگلی بار آپ ادائیگی کریں۔

7. **آراء کا احترام کریں:** دوسرے لوگوں کی آراء کا احترام کریں، کیونکہ ہر شخص کی دنیا کو دیکھنے کا اپنا زاویہ ہوتا ہے۔

8. **بات نہ کاٹیں:** جب کوئی بات کر رہا ہو تو اسے مکمل طور پر سنیں، پھر اپنی رائے دیں۔

9. **گفتگو کے دوران توجہ دیں:** اگر کسی کو آپ کی بات میں دلچسپی نہیں ہے، تو اپنی گفتگو کو جاری رکھنے کے بجائے اسے ختم کریں۔

10. **شکریہ کہنا:** جب کوئی آپ کی مدد کرے، تو شکریہ ادا کریں۔

11. **تعریف اور تنقید:** لوگوں کی تعریف عوام میں کریں اور تنقید نجی طور پر کریں۔

12. **وزن یا ظاہری شکل پر تبصرہ نہ کریں:** کسی کے وزن یا جسمانی حالت پر بات نہ کریں، بلکہ ان کی مثبت خصوصیات پر توجہ دیں۔

13. **تصاویر دیکھتے وقت احتیاط برتیں:** اگر کوئی آپ کو اپنے فون پر تصویر دکھاتا ہے، تو دوسری تصاویر پر نہ جائیں۔

14. **ذاتی سوالات سے گریز کریں:** اگر کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ اس کا ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ ہے، تو مقصد مت پوچھیں۔

15. **ہر ایک سے عزت سے پیش آئیں:** صفائی کرنے والے یا کسی بھی پیشے کے فرد کے ساتھ اسی عزت سے پیش آئیں جس سے آپ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

16. **موبائل فون کا استعمال:** اگر آپ سے کوئی براہ راست بات کر رہا ہے، تو موبائل فون کا استعمال نہ کریں۔

17. **مشورہ دینا:** مشورہ صرف اس وقت دیں جب آپ سے پوچھا جائے۔

18. **ذاتی معلومات:** کسی شخص سے ذاتی معلومات جیسے عمر یا تنخواہ کے بارے میں نہ پوچھیں، جب تک وہ خود بات نہ کرے۔

19. **اپنے معاملات تک محدود رہیں:** دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں۔

20. **احترام کا اظہار:** جب آپ کسی سے بات کریں، تو اپنی آنکھوں سے رابطہ قائم کریں اور احترام کا مظاہرہ کریں۔

21. **دولت کا ذکر نہ کریں:** اپنی دولت کے بارے میں لوگوں کے سامنے بات نہ کریں جو کم خوشحال ہوں۔

22. **تعریف کریں:** لوگوں کو پسندیدگی اور احترام کے ساتھ پیش آئیں، کیونکہ یہ دل جیتنے کا بہترین طریقہ ہے۔

15/08/2024

o akbar islaf

14/08/2024

یہ دن ہمیں ان اذیتوں اور ان جدوجہد کی یاد دلاتا ہے
جو ہمارے آباؤ اجداد نے ہمیں آج کی آزادی فراہم کرنے کے لئے کی. اور وہی اذیت ابھی بھی کاٹ رہیے ییں
آزاد ہوتے تو جاپان کو چائنہ کو سعودیا کو قرضہ دینے والا ملک آج اس حال میں ہوتا عوام بجلی کے بل کی وجہ سے خودکشی کرریی ہے

آزاد ہوتے تو ایران سے گیس لے لیتےاور روس سے سستا تیل ہی خرید لیتے مسجد اقصٰی کی آزادی کے لیے لڑ لیتے

آزاد ہوتے تو سیکڑوں فوجی شہید کروا کر کارگل پہاڑی واپس نییں کرتے پاس ہوتی ہمارے

آزاد ہوتے تو کرنل جوسف ہمارے ہی ملک میں قتل کرکے سرعام نہیں جاتا

آزاد ہوتے تو ڈاکٹر آفیعہ آپنی بیٹی دشمن کے حوالے کرتے

آزاد ہوتے تو آپنے ملک کے ائرپورٹ ہوٹل اور دیگر اساسے بیچتے

آزاد ہوتے تو غریب بجلی کے بل گھر کا سامان بیچ کر ادا کرتا

آزاد ہوتے تو کسان زمیندارا چھوڑ کر نوکریاں کرتے

آزاد ہوتے تو ہماری کاشتکاری والی زمین ٹاون میں تبدیل ہوتی
اور بھی بہت کچھ ہے

11/08/2024

طلاق کا سبب؟؟

25/07/2024

تاجدار ختم نبوت
زندہ آباد
آپ سب بھی کہدے
یہ پوسٹ رکنی نہیں چاہیئے

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Gosia Calony
Multan