Al-Suffah Academy of Science & Arts

Al-Suffah Academy of Science & Arts

Share

Mathematics Specialist teacher with 15+ years experience

06/05/2026

ملتان شہر کے کسی بھی علاقے سے اپنے بچوں کی بہترین تعلیمی سہولیات کے لیے ہوم ٹیوٹر حاصل کریں!

WhatsApp! 03009634656

ہمارے پاس ہر سبجیکٹ اور ہر کلاس بشمول(O/A لیول، ایف اے ایف ایس سی)کے لیے بہترین کوالیفائیڈ، پروفیشنل اور تجربہ کار ہوم ٹیوٹر موجود ہیں.

اگر اپ کو بھی اپنے بچوں کی تعلیم بہتر بنانے کے لیے تجربہ کار اور پروفیشنل ہوم ٹیوٹر کی ضرورت ہے تو ہم سے رابطہ کریں!



WhatsApp! 03009634656

17/01/2026

ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ
زبان و بیان کے شہسوار

15/01/2026

کیا واقعی انسان 309 سال تک سو سکتا ہے؟ ہائیبرنیشن ایک ایسا عمل ہے، جس کے ذریعے سے دنیا کے تقریباً دو ہزار مختلف جاندار موسم کی سختیوں، خوراک کی کمی اور موت کے خوف سے بچنے کے لئیے لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ ان کے خلیوں میں موجود جین اس طرح کے خوف و خطرات سے اگاہ ہو جاتے ہیں اور ان پر ایک بہت لمبی نیند تان دیتے ہیں جسے "Hibernation" کہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران دل کی دھڑکن تقریباً 95 فیصد تک آہستہ ہو جاتی ہے۔ سانس سیکنڈوں کی بجائے منٹوں میں چلی جاتی ہے۔ جسم کا درجہ حرارت کم ہوکر ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور جاندار اپنے جسم کی غذائی توانائی پورا کرنے کا بڑا حصہ جسم میں موجود چربی اور مسلز سے حاصل کرتا ہے۔ خوراک یا چربی سے توانائی حاصل کرنے کے اس عمل کو میٹابولزم کہتے ہیں اس طرح کل ملا کر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہائبرنیشن کے دوران کسی زندہ چیز کا میٹابولزم انتہائی سست ہو جاتا ہے۔۔ ہائیبرنیشن کرنے والے جانوروں میں کئی چوہے، چمگادڑ، گلہری،لنگوروں کی کئی نسلیں،کچھ پرندے، سانپ، کیڑے اور کئی ریچھ شامل ہیں۔ ہائئبرنیشن والے جانور جی بھر کے کھاتے ہیں تاکہ موٹے ہوکر اندر چربی بنا لیں، جو ہائیبرنیشن میں توانائی دے گی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہائیبرنیشن سے کچھ مہینوں بعد باہر آنے پر جانداروں کو زور کی بھوک لگتی ہے اور وہ پہلا کام شکار تلاش کرنا کرتے ہیں۔ عام طور پر ہائبرنیشن سردیوں سے بچنے کے لئیے ہوتی ہے۔ اور اس موسم میں شکار بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس لئیے آج تک سب سے لمبی ہائیبرنیشن ایک چمگادڑ کی ہے جو 344 دن یعنی تقریباً ایک سال تک بنا کھائے پئیے سوئی رہی۔

سائینس یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ Telomeres جو کہ ڈی این اے کے ٹکڑے ہیں اور سیل کے کروموسوم کے کناروں پر ہوتے ہیں وہ سیل کی ہر تقسیم کے وقت کم ہوتے جاتے ہیں، اور ان کی تعداد کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کرکے کسی جاندار کی باقی ماندہ زندگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے لیکن ہائیبرنیشن کے دوران ان کو انتہائی سست رفتار سے کم ہوتے دیکھا گیا ہے اس ساری بات کو اگر آسان لفظوں میں کہیں تو ہائیبرنیشن کے دوران جانور کی عمر بڑھنا تقریباً رک جاتی ہے۔

ہالی ووڈ کی ایک فلم جس کا نام The Pessenger ہے۔ فلم کی سٹوری کا مختصر Theme یہ ہے کہ پانچ ہزار لوگوں اور 258 اسپیس شپ کے مزدوروں پر مشتمل ایک گروہ ایک نئے سیارے پر جا رہا ہے۔ سیارہ چونکہ زمین سے 120 نوری سال پر واقع ہے۔ اس لئیے انسان کا اپنی نارمل زندگی میں جس میں وہ بمشکل ستر 70 سے اسی 80 سال طبعی عمر پاتا ہے،وہاں جانا مشکل ہے۔اسکے لئیے سائنس دان ایسے تابوت تیار کرتے ہیں جس میں ہر شخص کو ہائیبرنیٹ کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کی عمر انتہا درجے کی آہستہ ہو جائے اور یہ 120 سال کا عرصہ گزر جائے اور وہ نئے سیارے پر ایک نئی زندگی کے ساتھ اتریں لیکن ان میں سے ایک شخص کسی خرابی کی وجہ سے جاگ جاتا ہے،، اور اسے پتہ چلتا ہے ابھی نئے سیارے پر پہنچنے کے لیے اسی 80 سال مزید پڑے ہوئے ہیں تو یہاں سے فلم اس کے دوبارہ ہائیبرنیٹ ہونے کی جدوجہد پر شروع ہوتی ہے۔

اب ذرا قرآن پاک کیسورت کہف کے ان چند جملوں پر غور کریں "تو ہم نے غار میں کئی سالوں تک ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالے رکھا" (11) اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ وہ " ان کی غار کے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے. یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں"۔ (17)۔ "اور تم ان کا خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سورہے ہیں اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کے بھاگ جاتے اور دہشت میں آجاتے"۔ (18)
"اور اس طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں ایک کہنے والے نے کہا تم یہاں کتنی مدت رہے انہوں نے کہا ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو وہ دیکھے "نفیس" کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے"۔ (19)

سائینس یہ کہتی ہے کہ ہائیبرنیشن کے دوران کئی جانداروں کے جسم کے کئی حصے (آرگنز) کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ چاہے باہر کا درجہ حرارت جیسا بھی ہو، دنیا کی زیادہ تر غاروں کا درجہ حرارت سارا سال مستقل رہتا ہے۔ اصحاب کہف کا پہلا قدم غار تھا اس کے بعد سوجانا، قرآن کا یہ کہنا کہ ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا، دراصل ہمارے اندرونی کان کے حصے کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے،ل جو ایک غیر معمولی آواز پر چونک کر دماغ کو سگنل بھیجتا ہے، اور دماغ ہمیں جگا دیتا ہے لیکن اصحاب کے معاملے میں وہ حصہ مکمل رک چکا (Suspended) تھا اگر سورج کی روشنی غار میں پڑتی تو غار کا درجہ حرارت بڑھتا جو اصحاب کو جگا سکتا تھا۔ دوسرا سورج کی تیز شعاعیں جلد پر پڑھنے سے جسم میں Free Radical مالیکیولز بڑھتے ہیں جو انسان کی عمر بڑھانا شروع کر دیتے ہیں لیکن قرآن کا یہ کہنا کہ طلوع و غروب کے وقت سورج غار کے سامنے نہ ہوا، واقعے کو بڑے دلچسپ مرحلے میں لے کر جارہا ہے۔۔۔یعنی غار سارا عرصہ ٹھنڈی رہی۔

سائنس مانتی ہے کہ سویا ہوا شخص اگر زیادہ دیر تک کروٹ نہ بدلے تو خون کا بہاؤ رکنے اور پریشر کی وجہ سے جسم پر بڑے بڑے زخموں کی بیماری کا شکار ہوسکتا ہے جسے Pressure Ulcer کہتے ہیں لیکن قرآن کہتا کہ اصحاب کی کروٹ باقاعدہ بدلائی جاتی رہی، سائنس کہتی ہے کہ اگر آنکھیں زیادہ دیر تک بند رہیں تو آنکھوں کے Nerve Optic کو نقصان پہنچا کر اندھا کر سکتی ہیں اگر زیادہ دیر تک مستقل کھلی رہیں تو Cornea کو نقصان پہنچائیں گی یعنی زیادہ دیر تک آنکھیں کھلی رکھنے یا بند کرنے سے نقصان ہے کوما کے اکثر مریض اگر لوٹ آئیں تو آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔

اب ظاہری سی بات ہے کہ اتنا لمبا عرصہ سونے کے لیے آنکھوں کا باقاعدہ وقفے وقفے سے جھپکتے رہنا ضروری ہے تاکہ نظر ضائع ہونے سے بچ جائے قرآن کہتا ہے تو تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ جاگ رہے ہیں، مطلب آنکھیں جھپک رہی ہیں حالانکہ وہ سورہے ہیں اور مارے دہشت کے پیٹھ پھیر کے بھاگ جاو۔ظاہر ہے آپ کسی کو ایسے سوئے دیکھیں گے جو آواز بھی نہ سن رہا ہو اور آنکھیں جھپکا رہا ہو آپ بھی بھاگیں گے۔ سائنس کہتی ہے ہائیبرنیشن میں ایک جاندار اپنے جسم کی انرجی کا بڑا حصہ استعمال کر لیتا ہے اور باہر آتے ساتھ ہی وہ شکار شروع کر دیتا ہے لیکن قرآن کہتا ہے جیسے ہی وہ اٹھے ایک نے کہا بازار سے "بہترین" کھانا لے کر آؤ۔

قرآن پاک کی اس سورت کے ان چند جملوں کو پرکھنے کے لیے میں ناسا اور ان دوسرے اداروں کو دعوت دیتا ہوں جو ہائیبرنیشن کو خلا میں جانے کے لئیے اور کئی مریضوں کو علاج کے لئیے استعمال کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آئیں غور کریں، اور دیکھیں ایسی کیا وجہ ہے کہ اصحاب کہف اتنا عرصہ سو پائےاگر تین سو شمسی سال کو گوگل میں لکھ کر قمری سال میں تبدیل کریں تو 309 سال بنتے ہیں۔۔۔ قرآن کہتا: "اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے"۔

سبحان اللہ کیا اعداد و شمار اور حکمت ہے میرے رب کی۔۔ یہ چند نوجوان تھے باقی پوری سلطنت گمراہ اور بادشاہ ظالم تھا جو انہیں پتھر مار مار کر مارنا چاہتے تھے لیکن جب ان نوجوانوں نے رب پہ بھروسہ کیا تو اس نے ان کے لیے راہ نکالی اور ہمارے لیے اس میں ایک سبق چھوڑ دیا۔ اردن کے شہر Tarsus میں ایک غار موجود ہے جسے اصحاب کہف کی غار مانا جاتا ہے اصحاب کہف کا واقعہ عیسائی مذہبی کتابوں اور رومی تاریخ میں بھی موجود ہے. لیکن جو قرآن پاک نے بالکل سائنس کے موافق بیان کیا ایسا بیان کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ اگر آپ کو میری پوسٹ پسند ہے تو میری آئی ڈی فالو کریں اور سی فرسٹ پر لگائیں۔۔۔۔۔۔۔!!

10/08/2025

📚 Home Tutor Available – All Subjects / Levels 🎓

Hi! I'm Naqash Ejaz, a dedicated and friendly home tutor offering one-on-one tuition for students from P.G to Intermediate and O&A levels in Multan.

✅ Subjects: Math, Physics, Statistics, English, Urdu, History, Geography
✅ Experience: 15+ years of teaching experience
✅ Available for: [Boys/Girls], [Primary/Secondary/College level]
✅ Location: Multan
✅ Timing: Flexible as per student's convenience

📞 Feel free to message me or call at +923009634656 for more details.

Let’s build a strong academic future together! 💪📖

29/06/2025

Home Tutor Available 03009634656

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Multan City
Multan