08/07/2026
*استاد جی! دعا مانگنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ میری دعا فوراً کیوں نہیں سنتے؟*
*ناظرہ کی کلاس سے...عمر کا سوال*
ناظرہ کی کلاس ختم ہونے والی تھی۔
بچے آج بھی حسبِ معمول سبق سنا چکے تھے، لیکن اب مجھے معلوم ہوچکا تھا کہ اصل سبق تو اکثر سبق ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
میں نے ہمیشہ بچوں سے کہا ہے:
"قرآن پڑھتے ہوئے اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے، کوئی سوال پیدا ہو یا دل میں کوئی الجھن ہو تو ضرور پوچھنا۔"
اسی دوران ایک ننھا سا ہاتھ بلند ہوا۔یہ بہت ہی پیارا بچہ عمر تھا وہ بولا،
"استاد جی! ایک سوال پوچھوں؟"
"ضرور بیٹا!"
اس نے بڑی معصومیت سے پوچھا:
"استاد جی! میں اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں مانگتا ہوں، لیکن کبھی کبھی وہ فوراً پوری نہیں ہوتیں۔ کیا اللہ تعالیٰ میری بات سنتے نہیں؟"
پوری کلاس خاموش ہوگئی۔
مجھے محسوس ہوا، یہ صرف ایک بچے کا سوال نہیں، شاید ہر بچے کے دل کا سوال ہے، اور شاید بہت سی ماؤں کے دل کا بھی۔
میں نے بچے سے پوچھا:
"بیٹا! اگر تم امی سے کہو کہ مجھے ابھی آئس کریم چاہیے، تو کیا امی ہمیشہ فوراً لے دیتی ہیں؟"
وہ مسکرایا۔
"نہیں!"
"کیوں؟ کیا امی تم سے محبت نہیں کرتیں؟"
"کرتی ہیں!"
"پھر فوراً کیوں نہیں لاتیں؟"
وہ بولا:
"کبھی رات ہوتی ہے... کبھی دکان بند ہوتی ہے... کبھی امی کہتی ہیں کہ پہلے کھانا کھالو، پھر لے دیں گے۔"
میں نے کہا:
"بالکل!
یعنی امی انکار محبت کی وجہ سے نہیں کرتیں، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتی ہیں کہ اس وقت تمہارے لیے کیا بہتر ہے۔"
پھر میں نے پوچھا:
"اور اگر تمہیں بخار ہو اور تم آئس کریم مانگو تو؟"
وہ فوراً بولا:
"پھر تو امی بالکل نہیں دیں گی۔"
میں نے پوچھا:
"کیوں؟"
وہ بولا:
"کیونکہ میں اور بیمار ہوجاؤں گا۔"
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"دیکھو بیٹا!
جب ایک ماں، جو اپنے بچے سے بہت محبت کرتی ہے، کبھی کبھی اس کی مانگی ہوئی چیز اس کی بھلائی کی وجہ سے روک لیتی ہے، تو پھر وہ اللہ تعالیٰ، جو ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتے ہیں، کیا اپنے بندے کے لیے بہترین فیصلہ نہیں کریں گے؟"
وہ خاموش ہوگیا۔
میں نے کہا:
"بیٹا! اللہ تعالیٰ ہر دعا سنتے ہیں۔
کوئی بھی دعا ان سے چھپی ہوئی نہیں۔
لیکن ہر دعا کا جواب ایک جیسا نہیں ہوتا۔"
میں نے تختے پر تین باتیں لکھیں۔
پہلی بات:
"کبھی اللہ تعالیٰ فوراً عطا فرما دیتے ہیں۔"
میں نے پوچھا:
"اگر تم پانی مانگو اور امی فوراً پانی دے دیں تو؟"
وہ بولا:
"یہ تو فوراً مل گیا۔"
دوسری بات:
"کبھی اللہ تعالیٰ کہتے ہیں:
ابھی نہیں... مناسب وقت پر۔"
میں نے پوچھا:
"اگر تم پہلی جماعت میں ہو اور کہو کہ مجھے ابھی موٹر سائیکل چلانی ہے، تو ابو کیا کہیں گے؟"
وہ ہنس کر بولا:
"ابھی تم چھوٹے ہو۔"
میں نے کہا:
"بالکل!
وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ کبھی نہیں۔
وہ کہہ رہے ہیں: ابھی نہیں۔"
پھر میں نے تیسری بات لکھی۔
"کبھی اللہ تعالیٰ اس سے بھی بہتر چیز عطا فرماتے ہیں۔"
میں نے پوچھا:
"اگر تم پانچ روپے مانگو اور ابو خوش ہوکر پچاس روپے دے دیں تو نقصان ہوا یا فائدہ؟"
وہ خوشی سے بولا:
"فائدہ!"
میں نے کہا:
"تو پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز مانگتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس سے کہیں بہتر چیز لکھ دیتے ہیں۔"
پھر میں نے ایک اور سوال کیا۔
"بیٹا! اگر تمہیں کوئی ایسی چیز چاہیے جو تمہارے لیے نقصان دہ ہو، تو کیا اللہ تعالیٰ وہ دے دیں گے؟"
وہ بولا:
"نہیں!"
میں نے کہا:
"کیوں؟"
وہ بولا:
"کیونکہ اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرتے ہیں۔"
میں نے کہا:
"بالکل!
اسی لیے کبھی دعا پوری ہونے میں دیر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔"
پھر میں نے پوری کلاس سے کہا:
"یاد رکھو!
جب بھی دعا مانگو تو تین باتیں کبھی مت چھوڑنا۔
پہلی...
دل سے یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ میری دعا سن رہے ہیں۔
دوسری...
نماز اور دعا کے ساتھ اپنی پوری کوشش بھی کرنا۔
تیسری...
اگر دعا فوراً پوری نہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے ناراض نہیں ہونا، بلکہ یہ سوچنا کہ میرا رب میرے لیے بہترین وقت کا انتخاب کر رہا ہے۔"
میں نے بچے سے پوچھا:
"اب اگر تم دعا مانگو اور وہ فوراً پوری نہ ہو تو کیا سوچو گے؟"
اس نے چند لمحے سوچا، پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
وہ بولا:
"میں یہ سوچوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی ہے... شاید وہ میرے لیے اس سے بھی بہتر چیز یا بہتر وقت رکھے ہوئے ہیں۔"
میں نے کہا:
"شاباش!
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔
دعا کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
بندہ بھول سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کوئی دعا نہیں بھولتے۔"
کلاس ختم ہوگئی۔
بچے اپنے گھروں کو چلے گئے، لیکن میرے دل میں ایک خیال بار بار آرہا تھا۔
اگر ہم بچوں کو صرف یہ یقین دے دیں کہ اللہ تعالیٰ میری ہر بات سنتے ہیں، مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میرے لیے بہترین فیصلہ کرتے ہیں تو شاید ان کے دل میں کبھی اپنے رب کے بارے میں بدگمانی پیدا نہ ہو۔
والدین سے ایک درخواست
اگر کبھی آپ کا بچہ یہ کہے:
"میں نے دعا مانگی تھی، پھر بھی پوری نہیں ہوئی۔"
تو فوراً یہ نہ کہیے:
"پتہ نہیں کیوں نہیں ہوئی!"
بلکہ اسے گلے لگائیے اور محبت سے کہیے:
"بیٹا! اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا سن لی ہے۔ اب وہ تمہارے لیے وہی فیصلہ کریں گے جو سب سے بہتر ہوگا۔"
یہ ایک جملہ بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، اعتماد اور امید کو زندگی بھر کے لیے مضبوط کرسکتا ہے۔
میرے ساتھی اساتذۂ ناظرہ سے
جب بچے دعا کے بارے میں سوال کریں تو انہیں صرف دعا کے الفاظ نہ سکھائیں، بلکہ دعا کا یقین بھی سکھائیں۔
انہیں بتائیں کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے رب پر اعتماد کا نام ہے۔
جس بچے کے دل میں یہ یقین پیدا ہوگیا کہ "میرا اللہ میری ہر بات سنتا ہے"، وہ کبھی تنہا محسوس نہیں کرے گا، اور جسے یقین ہوگیا کہ "میرا رب میرے لیے بہترین فیصلہ کرتا ہے"، وہ کبھی مایوس نہیں ہوگا۔
اگر فاطمہ، معاذ، مرحا اور آج کے اس ننھے طالب علم عمر کی طرح آپ کے گھر کے کسی بچے یا بچی کے ذہن میں بھی قرآن، دعا، نماز یا دین کے بارے میں کوئی سوال پیدا ہو تو اس سوال کو دبائیے نہیں، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ آپ بچوں کے سوالات WhatsApp پر 03076652006 پر بھیج سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ، قرآن و سنت کی روشنی میں بچوں کی عمر اور سمجھ کے مطابق ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ ہمارے بچے صرف قرآن پڑھنے والے نہیں، بلکہ قرآن کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے والے بنیں۔
*سمیع اللہ عزیز*
فاضلِ درسِ نظامی، جامعہ فاروقیہ کراچی
پی ایچ ڈی (عربی)، جامعہ بہاء الدین زکریا ملتان
رئیس مجمع اللغة العربية بباكستان
*📞 03076652006*
8 جولائی 2026ء