19/07/2020
معلم ثانی کے نام سے مشہور مسلم سائنسدان 70 زبانیں جانتے تھے
شاید ہی دنیا میں کوئی شخص ایسا ہو جو بیک وقت 70 زبانوں میں بات کر سکتا ہو لیکن ایک مسلمان سائنس دان ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 70 زبانیں بولتے تھے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس معلومات میں کتنی صداقت ہے؟
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق معروف مسلمان سائنس دان الفارابی 70 زبانیں اور بولیاں روانی سے بول سکتے تھے۔ الفارابی کا اصل نام ابو نصر محمد الفارابی تھا جو ایک نمایاں سائنس دان تھے اور انہیں "معلّمِ ثانی" کا خطاب دیا گیا۔
معلّمِ اوّل معروف فلسفی ارسطو کو کہا جاتا ہے۔ الفارابی 260 ہجری میں ترکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فوج میں کمانڈر تھے۔ الفارابی نے بخاریٰ اور بغداد میں تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے زبان، فلسفہ، موسیقی، طب اور ریاضیات کے علوم کی معرفت حاصل کی۔ اس چیز نے انہیں جامع العلوم سائنس داں بنا دیا۔
الفارابی نے کئی ملکوں کا سفر کیا اور آخرکار 339 ہجری مطابق 950ء دمشق میں 80 برس کی عمر میں ان کی زندگی کا سفر اختتام کو پہنچا۔
معروف مؤرخ ابن خلکان کہتے ہیں کہ الفارابی 70 زبانوں اور بولیوں میں گفتگو کر لیتے تھے۔ بہت سے محققین نے اس بات میں شک کا اظہار کیا ہے تاہم یہ معروف ہے کہ وہ ترکی ، فارسی ، یونانی اور عربی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ ابن خلکان نے اپنی کتاب "وفيات الاعيان" میں الفارابی کے سلطان سیف الدولہ کے دربار میں پہنچنے کے موقع پر مختصر مکالمے کا ذکر کیا ہے۔اس مکالمے کے دوران الفارابی نے ایک موقع پر سلطان کو جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ 70 زبانوں اور بولیوں میں گفتگو کر سکتے ہیں۔
18/07/2020
📖 دھات خور بیکٹریا کی دریافت
کیلیفورنیا کی ایک تحقیقی جامعہ کالٹیک Caltech کے مائیکرو بایولوجسٹس نے چند روز پہلے ایک اچھوتا دھات خور بیکٹیریا کر دریافت ڈالا ہے, جو مینگنیز manganese نامی دھات کو بڑے شوق سے کھا کھا اپنی طاقت بڑھاتے ہیں سائنس کی تاریخ میں یہ پہلا اپنی نوعیت کا واحد بیکٹیریا ہے جو مینگنیز دھات کو ہضم کر کے توانائی حاصل کرتا ہے ، سائنسدان اپنے مشاہدات کی بنیاد پر ایسے جرثوموں کی موجودگی کی پیش گوئی ایک صدی پہلے ہی کر چکے تھے لیکن آج تک دھات خور جرثومہ ڈھونڈ نکالنے میں ناکام ہی رہے تھے.
📖 ٹھوس اور gray-white رنگت کی سخت دھات مینگنیز Manganese زمین کی تہوں پایا جانے والا ایک عام عنصر ہے اور یہ ہمارے سیارہ زمین کی سطح پر بڑے پیمانے پر پھیلا پڑا ہے دوسرے یہ دھات خاص قسم کی اسٹیل اور مقناطیسی بھرت alloys بنانے میں استعمال کی جاتی ہے. مینگنیز کئی منرلز میں بھی پایا جاتا ہے لیکن خالص حالت میں ناپید ہی ہے. بہرحال مینگنیز دھات کی آکسیڈیشن پر سائنسدان ہمیشہ سے اپنے خیالات و نظریات پیش کرتے رہے ہیں.
جامعہ کالٹیک Caltech میں ماحولیاتی مائکروبیولوجی کے پروفیسر جیرڈ لیڈبیٹرJared Leadbetter, کا اپنی اس دریافت پر کہنا ہے کہ میں یہ جان کر خوش ہوں کہ قدرت نے ایسے حیرت انگیز جرثوموں کو بھی ہمارے سیّارے پر پنپنے کا موقع دیا ہے جو دھاتوں جیسے مادوں کو ہضم کر سکتے ہیں جو ہمارے جسم کے خلیوں کو بےحد مفید توانائی مہیا کرتا ہے مزید یہ دھات خور بیکٹریا مینگنیز دھات manganese کواستعمال کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کیمیائی تالیف chemosynthesis کے عمل سے بائیو ماس biomass میں بھی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے.
✅ اس دھات خور بیکٹریا کی دریافت سے قبل محققین کا خیال تھا کہ کچھ بیکٹریا اور فنجی fungi مینگنیز کو آکسائیڈائیز oxidize کر سکتے ہیں لیکن ایسے جرثومے کی تلاش میں ان کی باتیں بس قیاس آرائیاں ہی تھیں.
https://cen.acs.org/biological-chemistry/biochemistry/Bacteria-found-office-sink-expand/98/i28