24/07/2024
Learn Quran with Tajeeed....
Education
24/07/2024
Learn Quran with Tajeeed....
رسولِ اکرمﷺ کے وصال کے وقت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک تقریباً 6 سال تھی اور واقعہ کربلا کے وقت تقریباً 57 سال تھی، ہمیں یا تو چھ سال کی عمر تک کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں یا پھر میدان کربلا کے،
یہ جو درمیانی 51 سال ہیں، کہاں چلے گئے کیوں بیان نہیں کیے جاتے۔۔؟؟
اگر ہمارے علماء یہ 51 سال کی سیرتِ عام کر دیں تو کہیں صدیق اکبر حسنین کریمین رضی اللہ عنھم کو ممبر کے دائیں بائیں بٹھا کر خطبہ دیتے نظر آئیں گے ___
کہیں فاروق اعظم خانوادہ رسولﷺ کے شہزادوں کا کھڑے ہو کر استقبال کرتے ملیں گے___
کہیں دونوں جنتی شہزادے ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے تلواریں اٹھاۓ کھڑے ہوں گے __
تو کہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی چادر مبارک سے شہزادگانِ رسولﷺ کے جوتے مبارک صاف کرتے ملیں گے۔۔۔۔!!!!
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے بچوں میں کچھ کپڑے تقسیم کئے لیکن ان کپڑوں میں کوئی کپڑا ایسا نہ تھا جو امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق ہو لہذا آپ نے ان شہزاد گان کیلئے یمن سے کپڑے منگوائے اور پھر کہا: اب میرا دل خوش ہوا ہے۔
(تاریخ الاسلام للذہبی، 5/101)
سبحان اللہ تعالیٰ!
30/07/2023
حضرت امام زین العابدین حضرت علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین کا ارشاد گرامی ہے:
"بعض لوگ خوف کی وجہ سے عبادت کرتے ہیں، یہ گویا غلاموں کی عبادت ہے - بعض لوگ جنت کی طمع میں عبادت کرتے ہیں، یہ گویا سوداگروں کی عبادت ہے - کچھ ایسے بھی ہیں جو محض اللہ ہی کے لئے اس کی عبادت کرتے ہیں، یہ گویا آزاد لوگوں کی عبادت ہے" -
(البدایہ والنہایہ)
جہان اولیاء WhatsApp Group Invite
لازمی پڑھیے ۔۔۔!
اُسوۂ شہید کربلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ
نبی کریم حضرت اقدسﷺ سے محبت ایمان کی بنیادی شرط ہے،فطری امر ہے کہ جس سے آپ محبت کرتے ہیں ، اُس کی محبوب و پسندیدہ باتوں،شخصیات و اشیاء سے بھی محبت ہوا کرتی ہے۔اِس لیے ہر سلیم الفطرت مسلمان اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جن سے حضور اکرم ﷺ کو محبت تھی ۔
حضور ﷺ کی محبوب اشیاء و شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے،جن میں آپ ﷺ کے اہل بیت و اولاد سرفہرست ہیں۔ آپ ﷺ کے اہل بیت میں ازواجِ مطہرات ،بنات مقدسات ، بنات سے پھیلنے والی اولاد اطہار،حضرت علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔اسی طرح ہر صحابی بلکہ ہر مسلمان آپﷺ کی اٰل کاحصہ ہے۔ آپﷺان میں سے ہر ایک اوربالخصوص حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اُن کے دونوں صاحبزادے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے بے پناہ محبت رکھتے۔آپ نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کواپنے جگر ٹکڑا قرار دیا، اِس لیے حضرت فاطمہ کے جگر کے ٹکڑے یعنی حضرت حسن و حسین بھی آپﷺ کے جگر کا حصہ ہوئے۔چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔آپﷺ کی چچی ام الفضل نے خواب بھی دیکھا کہ آپﷺ کے جسد اطہر سے گوشت کا ایک ٹکڑا الگ ہوکر اُن کی گود میں آگرا ہے۔ خواب دیکھ کر پریشان ہوگئی تھیں، مگر آپﷺ نے فرمایا: یہ پریشان کن نہیں، بلکہ مبارک خواب ہے، عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے ہاں بیٹا ہوگا، جس کی پرورش آپ کروگی۔چنانچہ حضرت حسین آپ کے جسد اطہر کا حصہ تھے، جب پیدا ہوئے تو ام الفضل نے پرورش کی۔
آپ ﷺ کونوجوانانِ جنت کے سرداروں سے اِس درجہ محبت تھی کہ انہیں اپنے ساتھ دبوچتے ، اُن سے مہکنے والی خوشبو بار بار سونگھتےاورعظیم الشان فضیلت کےحامل صاحبزادوں کو معزز ترین جگہوں اور اہم ترین عبادات کے دوران بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ جمعہ کا خطبہ ایک عظیم الشان شعار اور عبادت ہے،مگر نواسوں سے محبت کا یہ عالم کہ ایک مرتبہ خطبہ کے دوران انہیں دیکھتے ہی گفتگو روک کر اٹھا لیاتھا،انہیں اپنے کندھے مبارک پر سوار کرتے، جب دیکھنے والے کہتے کہ سواری کیا ہی اعلیٰ ہے تو آپ فرماتے: دیکھو! سوار بھی تو کتنا اعلیٰ ہے۔
صِرف یہی نہیں، بلکہ اُن مسلمانوں سے بھی آپﷺ کو محبت ہے جو حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے برائے نام نہیں،حقیقی محبت کرتے ہیں، اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے بھی درخواست فرمائی کہ یا اللہ آپ بھی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے محبین سے محبت فرمائیے۔
اِس بے حد محبت کی ایک وجہ اگرچہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے نواسے تھے، بیٹی کے صاحبزادے تھے، حضرت علی کے صاحبزادے اور آپ ﷺ کی نسل مبارک کے پھیلنے کا ذریعہ تھے،لیکن صرف یہی وجہ نہ تھی ،اِس کے ساتھ ساتھ ان کا تقویٰ، للہیت، اخلاص، جذبہ جہاد اور عظیم الشان اخلاق کا حامل ہونا بھی آپﷺ کی محبت کا بنیادی سبب تھا۔ اسی تقویٰ اور للہیت جیسی عظیم الشان صفات کی وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں اہل جنت کا سردار قرار دیا تھا،ان حضرات کریمین کا اوج ثریا تک پہنچنا صرف اور صرف رشتہ داری اور نواسہ ہونے کی بناء پر نہیں تھا،اِس بارے میں تو آپ ﷺ نےاِن کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پہلے ہی باور کرادیا تھا کہ محض قرب کی بناء پر آپ بھی جنت میں نہیں جاسکتیں، جب تک اپنے اعمال نہ ہوں۔ یہی ان کے صاحبزادگان کے ساتھ تھا،معلوم ہوا کہ اہلِ جنت کے سردار ہونے کی خوشخبری اُن حضرات کے سیرت وکردار ،اُن کے اپنے اعمال صالحہ، ایمان کی پختگی، مسلسل جدوجہد،جذبہ جہاد،امت کی فکر، سنت نبوی کی اتباع کی وجہ سے دی گئی تھی۔ اُن کے عمل صالح، متبع سنت ، آپ ﷺ کی فرمانبردار ہونے کی گواہی خود حضور اکرم ﷺ نے اِس ارشاد مبارک میں دی کہ وہ دُنیا میں میری خوشبو ہیں۔یعنی وہ میرے اتنے قریب اور ایسے متبع ہیں اُن سے آپ کو میری ہی خوشبومحسوس ہوگی، انہیں دیکھیں گے تو وہ میری ہی طرح ہوں گے، اُن کے عمل کو دیکھ کر آپ میری سیرت کی خوشبو محسوس کرسکیں گے، اُن کی صورت میں آپ کو میری صورت نظر آئے گی۔
چنانچہ نبی کریمﷺ کی مانند آپ کے پیارے نواسے بھی بہادر تھے،کربلا میں ہزاروں دشمنوں کے سامنے چند ساتھیوں کے ہمراہ سینہ سپر ہوگئے تھے،شہادت کے وقت آپ کے جسد اطہر پر اسی کے قریب زخم تھے۔
سخاوت کے بادشاہ تھے،راہ خدا میں اتنا خرچ کرتے کہ خود مقروض ہوجاتے۔یتیموں بیواؤں کے غمگسار تھے،اُن کے لیے اپنی پشت پر خود ہی سامان لاکر پہنچایا کرتے۔ایسےعبادت گذار کہ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوتے تو سینکڑوں نوافل ایک ہی وقت میں ادا فرماتے،چلتے پھرتے زبان مبارک قرآن مجید کی تلاوت سے تر رہتی۔
اللہ تعالیٰ اورجناب نبی کریمﷺ کی محبت کا محور ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اعلیٰ صفات تھیں جنہیں انہیں جنت کے نوجوانوں کا سردار بنا دیا تھا، اور اِس بات کی علامت بن گئے تھے کہ جو ان سے حقیقی محبت رکھے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق ہوگا۔
معلوم ہواحضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے محبت کرنا ایمان کا تقاضہ اور شرط ہے، مگر محبت کے زبانی دعوے تب تک غیرمعتبر ہیں، جب تک اِس دعوے کو اتباع کی دلیل سے مزین نہ کیاجائے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت مبارکہ کا تذکرہ پڑھ،سُن کر صرف رونا اور غم کا اظہارکرناہی دلیلِ محبت نہیں، بلکہ اپنی زندگی اُن کی حیات طیبہ کے نقش پر ڈھال لینا حقیقی محبت ہے۔ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو جن سے محبت تھی، جن سے انہوں نے کسبِ فیض کیا، جنہیں عم مکرم جیسے پیار سے پکارتے تھے، جن کے دروازے پر حفاظت کے لیے پہرے دیے،جن سے احادیث مبارکہ سُنیں، جن سے صُلح کرکے اُن کے ہاتھ پر بیعت کی، جن کی خلافت پر بیعت کرکے حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارک کی پیشین گوئی کے سچا ہونے کا باعث بنے، اُن خلفاء ثلاثہ، حضرت معاویہ و صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت، اُن کا احترام ہی حقیقی حُسینیت ہے۔
اسی طرح دارالاسلام سے ظلم و عدوان کا خاتمہ، کرپشن کا خاتمہ، امربالمعروف کی بحالی، نہی عن المنکر کی ترویج وغیرہ ایسے عظیم الشان امورہیں ،جن کے قیام کے لیے اہلِ اسلام کو زمین کا اقتدار دیا گیا۔ اقتدارکے حقیقی مقاصد سے امت کو روشناس کرانے کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا انتخاب ہوا جو مدینہ منورہ کی آرام دہ زندگی چھوڑ کر کربلا کے گرم صحراؤں کی طرف تشریف لے گئے، اور امت مسلمہ کو تاقیامت اسلام کی سربلندی،معروف کے قیام اور منکرات کی سرکوبی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کادرس دے گئے۔ان مقاصد کی اتباع کرنے والا مُحِب اہل بیت کہلانے کا مستحق ہے۔ ورنہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے محبوب خلفاءِ ثلاثہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بغض دلوں میں رکھ کر محبت حسین کے دعوے کرنا درحقیقت دوستی کے لبادے میں حضرت حسنین کریمین و جمیع اہل بیت رضی اللہ عنہم سے عداوت ہے۔
محمد اویس ارشاد...
29/07/2023
میرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے🖤
لیکن ربِ کعبہ کی قسم یہ میرے نبیﷺ کا دین نہیں ہے 💯🥀