15/08/2026
https://www.facebook.com/share/p/1DPShN9JfZ/
سب کہتے ہیں کہ منبر کا معیار گر گیا ہے۔ ہر جانے والی نسل آنے والی نسل کے بارے میں یہی کہتی چلی آ رہی ہے۔ اب مجھے لگتا ہے کہ شاید معیار نہیں، بلکہ طریقۂ کار تبدیل ہو رہا ہے۔
آج بھی ایسے علماء موجود ہیں جن سے آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جیسے میں اپنا ایکسپیرینس بتاتا ہوں!
اگر آپ کو ولایتِ مولا علیؑ پر ڈیپ ریسرچ کی ضرورت ہے تو **مولانا کمال حیدر** کو سنیے۔ وہ کمال ہیں! یعنی جس طرح وہ سامعین کو باندھ کر رکھتے ہیں، میرے خیال میں اس دور میں اس سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ کس مقام پر سامعین کو چھوڑ دینا ہے، اس فن پر انہیں کمال حاصل ہے۔ وہ آپ کو ایک پوائنٹ پر لا کر چھوڑ دیتے ہیں، اب آگے آپ خود اپنی محنت سے حقیقت تک پہنچیں۔اس طرح ان کی مجلس ختم ہونے کے بعد بھی دماغ کئی دن تک اسی مجلس میں موجود رہتا ہے۔یہی عمل علامہ ضمیر اختر نقویؒ کا بھی تھا۔ انہیں بخوبی آتا تھا کہ سامع کو کس طرح اپنی طرف متوجہ رکھنا ہے اور کس طرح اسے اپنی بات کے ساتھ آخر تک جوڑے رکھنا ہے۔ قبلہ کہی کہی اولڈ اسکول کے قائل ہیں۔۔ یعنی ان کی مجلس کی ویڈیو ان کی اجازت کے بغیر نہیں بن سکتی علامہ کہتے ہیں کہ مجلس سینہ با سینہ اگلی نسلوں میں منتقل ہونی چاہیے۔۔۔ مجلس کے اشتہار میں ہر گز علامہ کی تصویر نہیں لگے گی۔۔ اگر غلطی سے لگادی تو لگانے والے کی تصویر پے پھول چڑھ جائیں گے۔۔ علامہ کہتے ہیں کہ مجلس پرسنل برانڈنگ کے لیے نہیں ہے۔۔۔۔
**مولانا کاظم عباس** فلسفے کی کتاب ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ ہے: انہیں سننے کے لیے دماغ میں کچھ نہیں ہونا چاہیے، صرف وہی ہونا چاہیے جو وہ کہہ رہے ہیں۔ہاں، یہ الگ بات ہے کہ جب مجلس ختم ہو جائے تو اب ان باتوں پر بحث کریں، دماغ چلائیں، سوال کریں: ایسا کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ تب مزہ آئے گا۔لیکن اگر ان کی مجلس کے دوران آپ رک کر زیادہ سوچنے لگے تو گئے! کیونکہ ان کی مجلس کا سفر اس قدر برق رفتاری سے آگے بڑھتا ہے کہ اس دوران رک جانے والا نقصان میں رہتا ہے۔ کوئی بچپن میں، شاید 10 یا 12 سال کی عمر میں، میں نے ابا کے ساتھ سلمان ترابی کو سنا تھا۔ یہی عمل ان کا بھی تھا۔ وہ بھی سامعین کو اپنے ساتھ ایک خاص رفتار سے لے کر چلتے تھے۔
**مولانا سجاد مرتضوی** نئی نسل کے بزرگ عالمِ دین ہیں۔ یعنی عمر میں نسبتاً کم، لیکن علمی اعتبار سے ایسی پختگی رکھتے ہیں کہ انہیں سننے والے میں بھی ایک خاص میچورٹی لیول ہونا چاہیے۔ اس کا ہوم ورک مضبوط ہونا چاہیے، ورنہ ان کی مجلس آپ کو حوزۂ قم کی کلاس لگے گی۔میں نے ایک بار ان سے کہا بھی کہ: "قبلہ! تھوڑا ہلکا ہاتھ رکھا کریں۔"ان کا جواب تھا:"ہمیں اپنا معیار نہیں گرانا چاہیے، بلکہ سامعین کو اپنے معیار پر لانا چاہیے۔"پھر میں نے سوچا، بات تو ٹھیک ہے۔اگر بندے کے پاس علم ہے، پہچانے جانے کا درد ہے، تو پھر یہ ایٹیٹیوڈ بنتا بھی ہے اور اچھا بھی لگتا ہے۔
ذاکری کے لیے علامہ ماجد رضا بیسٹ ہیں۔ان کو سننے کا تعلق میرا بچپن سے ہے، جب وہ مرثیہ پڑھا کرتے تھے۔ "معصومہ کے تابوت کو آہستہ دو کاندھا"یہ نوحہ میں نے اسی لیے سنا کہ ان کی آواز میں سنا جائے۔لیکن باس! آپ کو ان کی مجلس میں جاگ کر رہنا ہے، حاضر رہنا ہے۔ وہ سنا دیتے ہیں!اور مجھے ان کا یہ عمل اس لیے بھی ٹھیک لگتا ہے کہ سننے والا مجلس کو بس ایک مذہبی رنگ سے دیکھتا ہے، جو دیکھنا بھی چاہیے، لیکن پڑھنے والا سامعین کو اپنے طالب علم کے طور پر دیکھتا ہے۔وہ جب کوئی بات سمجھا رہا ہوتا ہے، یعنی اپنے جگر کا خون دے رہا ہوتا ہے، اور سامنے والا اس کی قدر نہ کرے تو اسے دکھ ہوتا ہے۔ کیونکہ اسے درد ہوتا ہے کہ"جو میں دیکھ رہا ہوں، وہ سامنے والا بھی دیکھے۔" اور ہر کریئیٹو آدمی میں ایگو ہوتی ہے۔ اس ایگو کو ہینڈل کرنے کا فن ہونا چاہیے۔یہی ایگو مولانا علی مرتضیٰ زیدی میں بھی ہے۔ آپ ان کی مجلس میں جمائی تو چھوڑیں، صرف اپنے بال ٹھیک کریں، وہ منبر سے سنا دیں گے: "بھائی! یہ کیا کر رہے ہو؟"ایسے لوگ مختلف ہوتے ہیں، تبھی مختلف کام کر پاتے ہیں۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت ہیں۔ جیسے ۔۔آپ کو اپنے عقیدے کے متعلق دلیل درکار ہے تو علامہ آصف رضا علوی اور مولانا عارف شاہ کاظمی کو سنیے۔ اس دور میں انہیں شہید علامہ ناصر عباس کے علمی تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کربلا کے رمز کو سیاسی تناظر میں سمجھنا ہے تو عروج زیدی بیسٹ ہیں۔
کچھ علماء ایسے بھی ہیں جو پرومیکس ہیں، لیکن آپ انہیں کہاں سن رہے ہیں، یہ بہت اہم ہے۔ جیسے **آیت اللہ عقیل الغروی** کو سننا ہے تو متقی ہاؤس کراچی والی مجلس سنیے۔**مولا علی رضا رضوی** کے یوٹیوب پر لیکچرز سنیے، خاص طور پر توحید پر۔ آپ بالکل مختلف انسان پائیں گے۔ یعنی بہت اوپر کی بات! وہ جس خدا کی محبت سے آشنائی کرواتے ہیں، ہم شاید اس محبت سے واقف ہی نہیں۔**علامہ انور علی نجفی** کی پوڈکاسٹ سنیے۔ کیا ہی کمال دلیل ہے! مطلب، بہت خوبصورت۔ ایک اور اہم شخصیت ہیں، **علامہ علی رضا صابقی**۔کئی لوگ ان سے انجان ہیں، کیونکہ راز اسی کو ملتا ہے جس میں اسے قدر کرنے کی صلاحیت ہو۔انہیں سننے کے لیے بھائی، صبر چاہیے، بہت سارا صبر۔ اور خود کو دریا کے حوالے کرنا پڑتا ہے کہ لہریں جہاں لے جائیں، وہاں چلتے جائیں۔
تو حاصل کیا ہوا؟
حاصل یہ ہوا جنابِ عالی کہ اپنے اندر جاننے کی جستجو پیدا کریں۔توسل ایسا وجود میں لائیں کہ اگر کوئی بات دماغ میں اٹک گئی تو وہیں بیٹھ جائیں اور جنابِ امیرؑ سے کہیں:"مولا، مدد!"وہ پہنچا دیں گے آپ کو اُس جگہ جہاں اس کا حل ہوگا۔ بس آپ نے خود تلاش کرنا ہے۔ علی علی (تحریر:بندہ قمبر)