25/04/2026
Allama Ali Raza Saabqi
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Allama Ali Raza Saabqi, Education, Multan.
25/04/2026
11/04/2026
https://youtu.be/eUDRWCm_8mo?si=vrz5_udGoIdw6fhy
[URDU] DEATH OF REASON - Poem - Nizar Qabbani - Ali Raza Sabqi “هوامش على دفتر النكسة” by Nizar Qabbani can be read, in a modern reinterpretation, as a reflection not on the Six-Day War but on the present conflicts surro...
18/01/2026
جنوری18, 2026ستائیسویں برسی فقیہ اہل بیت عليهم السلام علامہ محمد حسنین السابقی اعلی اللہ مقامہ التماس درود و سورہ فاتحہ
عشق و معرفت
عشق معرفت کی انتہا نہیں بلکہ اس کا آغاز باطن ہے علم کہتا ہے میں جانتا ہوں عشق کہتا ہے میں ہوں معرفت سے آگاہی ملتی ہے عشق سے حضور معرفت خدا سمجھاتی ہے عشق خدا دکھاتا ہے عشق میں میں باقی نہیں رہتی اور جہاں میں مٹ جائے وہاں مطلق میں کی مجاوری کا آغاز ہوتا ہے
اگر عشق نور کا تحرک ہے تو ولایت علی اس کی سمت، تمام محبتیں اپنی اصل میں محبت علی کی جھلک ہیں کیونکہ علی محبت الہی کا مظہر اکمل ہے اسی لیے نبی نے فرمایا حب علی ایمان و بغضہ نفاق یہ حدیث ظاہر میں فقہی حکم لگتی ہے مگر باطن میں عرفان کا اصول ہے یعنی عشق علی ایمان کی صورت نہیں ایمان کی حقیقت ہے
عشق عقل کی نفی نہیں ؛ عقل کے اس پار کی بینائی ہے عشق وہ آگ ہے جو دل کو جَلاتی نہیں بلکہ اسے جِلا دیتی ہے عارف علی کو نہیں دیکھتا بلکہ علی کے دیکھنے سے دیکھتا ہے یہی عشق ولایت کا کمال ہے کہ آنکھ نظر نہیں رہتی نگاہِ علی کا ظہور بن جاتے ہے جہاں معصوم نے فرمایا ان مع کل ولی لنا عین ناظرة ہمارے ہر ولی کے ساتھ دیکھنے والی آنکھ ہماری ہے
عشق کی راہ میں فنا موت نہیں اصل بقاء ہے فنا در ولایت وہ مقام ہے جہاں عشق عشق میں گم نہیں ہوتا بلکہ اس کے ظہور میں ظاہر ہوتا ہے یہی وہ لمحہ ہے جہاں عشق حال نہیں رہتا حقیقت وجود بن جاتا ہے خدا کی محبت ولایت کے بغیر ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ ولایت وہ ظرف ہے جس میں عشق الہی خود کو پہچانتا ہے اسی لیے فرمایا من احبنا فقد احب اللہ جس نے ہم سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی کیونکہ خدا کا نور ولایت کے آئینے میں عشق کی صورت میں چمکتا ہے
فقط استفادہء خواص کے لیے
جو تجلیات حقائق کی جانب متوجہ ہیں
علامہ غضنفر عباس اعلی اللہ معالیہ کی کتاب حروف مقطعات پر شائع شدہ دیباچہ جو ون ٹین بکس لاہور سے 2014 میں نشر ہوئی
باب علم کی بکھیری ہوئی تجلی کو سمیٹنے کے لیے عقل بشری اگر اصول وضع کر لے تو اسے با ضابطہ طور پر علم کی ایک شاخ کی حیثیت سے تسلیم کر لیا جاتا ہےاور اصولوں کی وضعداری اصل تک رسائی کی خاطر ہی کی جاتی ہےلیکن اگر کوئی عالم ہونے کی حیثیت سے انہیں وضع کیے گئے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اصل سے روگردانی کر رہا ہے تو یا تو وہ اصول سے واقف نہیں یا اصل سے اور بفرض محال اگر اصول اصل تک رسائی نہیں دلا رہا تو اس علم کی وضعداری میں نیتا تناقض رکھا گیا ہے فالھمھا فجورھا و تقواھا
علوم کو اگر دائرہء علم کے ارکان کے طور پر تقسیم کیا جائے تو ایک طرف سے تدوینی تاریخ بشریت میں مختلف قدیمی تہذیبوں کے اندر، ہزاروں سال پہلے میسوپوٹیمیا یا ایلام کی تہذیب (جسے ارض الرافدین اور بعد میں عراق کا نام سے جانا گیا) سے سومیریوں کے یہاں حروف کے معرض وجود میں آنے سے لے کر؛ علوم لغت اور آج کے زمانے میں علم کی لاکھوں شاخیں دائرہء علم کی ایک قوس ہیں جو کہ علوم ظاہریہ ہیں
دائرہء علم کی دوسری قوس علوم خفیہ کی ہے جس میں رمل، جفر، تکسیر، اوفاق، ریمیا اور سیمیا سے شروع ہو کر (جو کہ علم الحروف ہی کی شاخیں ہیں) مطلق مجرد حقیقت حروف و اصوات پر ختم ہو جاتی ہے اصولوں پر مبنی علم کا یہ دائرہ اصلِ نقطہ تک رسائی دلاتا ہےجہاں بات حرف سے شروع ہو کر حرف پر ختم ہو جاتی ہےمگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی، حقیقت حرف میں عوالم کا وجود بذاتہ حروف کا رہین منت ہے اور لغیرہ خارج میں عوالم کا عرفان اسرار حروف میں مخفی ہے اور ان عوالم کا علم بھی خواہ وہ مکتوبی وجدانی صورت میں ہو یا عقلی الھامی صورت میں حروف ہی کا مرہون منت ہے
اسرار حروف اعداد میں ہیں اور تجلیات اعداد حروف میں، اعداد علویہ روحانیات کے لیے ہیں اور حروف دوائر جسمانیہ ملکوتیہ کے لیے، دوسرے لفظوں میں اعداد کی قوت عقلیہ عالَم روحانی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور حروف عالَم جسمانی کی طرف، اعداد سر الاقوال ہیں اور حروف سر الافعال، عالَم عرش اعداد ہے اور عالَم کرسی حروف، حروف کی اعداد کے لیے نسبت کرسی کی عرش کے لیے نسبت ہے اور آل محمد علیھم السلام سر اعداد میں سر عقل ہیں اور سر حروف میں سر روح، اور مرتبہء عقل مرتبہء نفس علویہ ہی فیض اول ہے پس علم حروف علوم نافعہ میں سے ہی نہیں علوم عالیہ سامیہ میں سے ہے
دائرہء علم کی تکمیل پر حروف کے اسرار مطلقہ کی افخاذ کے بطون سے اٹھنے والے تمام حجابات پر ظہوریت کا حکم لگ جاتا ہےاگر علم حروف کی نسبت حروف مقطعات سے ہو جائے، علم حروف اپنے پورے عالم کی لامحدود وسعتوں سمیت عالَم حروف مقطعات کا باب ہے، اس نسبت سے اگر اعداد سر الاقوال ہیں اور حروف سر الافعال؛ اعداد عالَم عرش ہیں اور حروف عالَم کرسی تو حروف مقطعات کی نسبت میں یہ تکوینی تعینات اعتباری میں بدل جاتے ہیں کہ حروف مقطعات سر الاقوال کے مقام پر ظاہر ہوتے ہیں ؛ اعداد سر الافعال پر اور حروف سر الوجود پر، حروف مقطعات عالَم عرش کے مرتبہ پر ظہور کرتے ہیں اعداد عالم کرسی پر اور حروف افلاک علویہ پر کیونکہ حروف و اعداد کا سر حقیقت صوت میں نہاں ہے اور حروف مقطعات کا مشیت مطلقہ میں۔ حروف اعداد اور حروف مقطعات کے باہمی مدارج میں صوت برزخ ہے جو وجوب و امکان کے مابین لزوم سے عبارت ہے ان کے مابین تفاوت وجوب و لزوم کا سا تفاوت ہے جو ان کے مدارج کے اعتبار سے ہے البتہ معرفت نقطہ میں ان کے ما بین کوئی تفاوت نہیں کیونکہ یہ اولین خلق رحمن ہیں و ما تری فی خلق الرحمن من تفاوت
علامہ غضنفر عباس ہاشمی صاحب جیسی ہمہ جہت محیط علم شخصیت کا حروف مقطعات جیسے وسیع ترین موضوع پر پڑھے گئے عشرے پر دیباچہ لکھنا کاری دارد، اس عشرے میں انہوں نے اسرار حروف مقطعات کو اس کے باب یعنی علم حروف ہی کے ذریعے کھولا ہے ان کے اسلوب پر کچھ عرض کرنے سے پہلے مناسب ہو گا کہ علماء حروف کے اسالیب کو سامنے رکھا جائے
ابن خلدون نے اپنے مقدمے میں اپنے ہی زمانے میں رائج اصولوں کے مطابق اسرار حروف کو بیان کیا ہےجو آج کے علماء حروف کے مطابق تفہیم و تطبیق کے اعتبار سے مشکل ہیں اس نے زائرجہ السبتی کے عنوان سے ایک منظومہ نقل کیا ہے جس کے اڑتالیس اشعار میں اسرار حروف کو استخراج الاجوبہ، انفعال روحانی و انقیاد ربانی، مطاریح الشعاعات، انفعال طبیعی اور طب روحانی وغیرہ کے حوالے سے بیان کیا ہے
اہل تصوف میں سے ابن عربی نے فتوحات میں معرفت حروف کے حوالے سے اشعار و نثر میں دو فصول قائم کی ہیں اور ان کے مراتب قرار دیتے ہوئے ان کی جنس، ان میں رسل، امتیں اور ان کی نسبت سے معرفت اسماء کو بیان کیا ہے اور حرکات کو بھی حروف صغار قرار دیتے ہوئے عالَم الفاظ و کلمات میں حروف کی نشاة اخری کے اعتبار سے ان کے مزاج و مواد کی علمی تحلیل پیش کی ہے
داؤد انطاکی نے تذکرہ میں حروف پر ان کے مادہ، ترکیب، طبائع، صورت، مزاج، تقسیم اور ان کے کم و کیف پر بات کی ہے جس سے عزائم اور متصرف اور غایت تصرف کا استخراج کیا ہے اور اقسام حروف کو فلکیہ، علویہ، طبیعیہ، روحانیہ، حقیقیہ اور پھر سفلیہ، جسدیہ اور رقمیہ خطیہ لفظیہ میں تقسیم کیا ہے
رجب علی برسی نے مشارق میں علم حروف کو اللہ کے ودیعت کردہ اسرار کا خزانہ قرار دیا ہے جو کتاب مکنون میں علم مخزون ہے جسے مطہرین کے سوا کوئی مس نہیں کر سکتا مقربین کے سوا کوئی پا نہیں سکتا اور انہوں نے جس اسلوب سے اسرار حروف سے حجاب اٹھایا ہے سالک حروف مشاہدہ کر سکتا ہے کہ یہ دعویء صادقہ ہے علماء متقدمین میں سے توحید بالحروف کا اثبات رجب علی برسی کی کلی انفرادیت ہے کہ حروف کے معانی عقل میں ہیں، لطائف روح میں، صور نفس میں، انتقاش قلب میں، قوہء ناطقہ لسان میں، سرّ مشکّل سماعتوں میں۔۔ مخاطب اول مخترع اول ہے جو عقل نورانی ہے اور اس کا خطاب حق معنی حروف سے ہے اور سر مجموعہء حروف الف میں ہے جو اپنی قوہ حقیقیہ میں تمام حروف سے عبارت ہے اور پھر انہوں نے معارف حروف کو امزجہ و طبائع و اعداد و ملائکہء حروف سے آگے بڑھتے ہوئے خلقت آدم کے مرحلے تک بیان کیا ہے اور ہر حرف کے مخلوقات علویہ و سفلیہ سے تعلق کو بیان کرتے ہوئے حروف مقطعات کے اسرار کو انہی اصولوں سے کھولا ہے
علماء حروف میں بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے علم حروف کی کسی ذیلی شاخ یا صفت کو کلی طور پر علم حروف قرار دیتے ہوئے تحلیل و تدریب کو پیش کیا ہےجن میں سے صاحب دائرة المعارف اور البوني بھی ہیں انہوں نے اس کی دوسری افخاذ کو غلاة و مفوضة کی اختراعات قرار دیا ہے مگر اس کے باوجود حروف کے کواکب سے تعلق اور ان کی طلسماتی حیثیت کو تسلیم کیا ہے مگر ایسے مفروضات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی جبکہ اسرار و معارف و مفاہیم حروف خود اھل البیت علیھم السلام سے متعدد مقامات پر ملتے ہیں جن میں سے اس عنوان پر صرف ذیلی طور پر کی گئی گفتگو ہی نہیں بلکہ صفات حروف کے عنوان سے معصومین کے باقاعدہ خطبات موجود ہیں اور اگر ان سب میں سے کوئی بھی چیز موجود نہ ہوتی تب بھی باب علم کا انا نقطة تحت الباء کہنا علم حروف کی صبح ازل کی حیثیت سے کافی ہے
علماء حروف کے پیش کردہ ان اسالیب کے پیش نظر اگر ہم علامہ غضنفر عباس ہاشمی کے بیان کردہ اسرار کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم حروف نے اپنا صدیوں کا سفر طے کر کے اس صدی میں غضنفر کو ایسا سنگ میل قرار دیا ہے جس میں علم حروف اپنے اصولوں کی تدریبات سے نکل کر عریاں حقائق کے عالم میں داخل ہو چکا ہے حقیقتِ حرف پر گزشتہ علماء میں سے واحد برسی ہیں جنہوں نے اسرار حروف کو اصولوں کے افہام سے آگے بڑھ کر اس کی حقیقی تطبیقات کی بلا تفاوت تجلیاں دکھائی ہیں جن کا مشاہدہ وہی کر سکتا ہے جو اصل تک رسائی کا سفر مکمل کر چکا ہو مگر علامہ ہاشمی نے ان چیزوں کو مکتوبی و ملفوظی کی بنیاد ہر کھڑا کرنے سے لے کر اسرار تک کو جملوں میں کھولا ہے جنہیں پانے کے لیے علماء نے زندگیاں صرف کی ہیں مثلا یہ کہ حروف کے اٹھائیس ہونے کی غایت کیا ہے؟ یہ کہ اہل تکسیر حساب میں صحیح استخراج کیوں نہیں کر پاتے؟ یہ کہ خط اور نقطہ کے ما بین کیا اسرار پوشیدہ ہیں؟ کیفیت عبادت میں حرکت سے بننے والی صور کا اشکال حروف سے کیا تعلق ہے؟ نقطے کا حرف سے کیا تعلق ہے اور حقیقت نقطہ کیا ہے؟ امتداد نقطہ کیا ہے اور وجود کے ساتھ امتزاج نقطہ کیا ہے؟ اصولوں کے افہام کے بعد جب تطبیق پر معارف کے جو حجاب اٹھائے ہیں، اللہ اکبر! حروف کے زبر بینات میں علی کی تجلی، اعداد کی حقیقت پر مشتمل ادعیہء معصومین اور صرف یہی نہیں؛ حاملین اروح، باعثین ارواح، واحد و احد کے امتیاز میں علی کی تجلی، صراط
علی حق نمسکہ کی حقیقی عرفانی حرفی تحلیل۔۔۔
علامہ کے عشرہ پڑھنے سے لے کر جب تک یہ کتاب باقی ہے اگر کوئی پہنچنے والا رسائی حاصل کر سکے تو وہ مشاہدہ کرے گا کہ اگر حرفِ اسمی تجلیء ولایت علی ہے تو حرفِ کونی تجلیء علی، اگر حرفِ کونی تجلیء ولایت علی ہے تو حرفِ عینی تجلیء علی، اگر حرفِ عینی تجلیء ولایت علی ہے تو حرفِ مطلق تجلیء علی، اگر حرف مطلق تجلیء ولایت علی ہے تو حرف غیر متصوت علی، اگر حرف غیر متصوت تجلیء ولایت علی ہے تو صوت میں مخفی بھی علی صوت کو چھپانے والا بھی علی اور صوت کو اپنی مشیت سے غیر منطق و منطق کی صورت میں ظاہر کرنے والا بھی علی اور اگر صوت کی ہر جہت میں علی ہے تو صوت کی حقیقت عظمی علیا مطلقہ سے پھوٹنے والی حقیقت پر پڑنے والا حجاب ولایت علی۔۔۔
قادر مطلق سے دعا ہے کہ بارالہا! تیرے فضل کے جاری کردہ چشمے سے خضر ع نے پی کر حیات پا لی اپنے علم کے جاری کیے ہوئے چشمہء غضنفر کو عمر خضر عطا فرما اور دعا ہے کہ رب قدیر فرقان حیدری صاحب کی جانب سے اشاعت کے اس سلسلے کا جاری رہنا ان کے لیے مبارک قرار دے فیض کا یہ سلسلہ مسبب الاسباب کے فیض سے جاری رہے
احقر العباد علی رضا السابقی
جامع الثقلین
ولایت و سرّ نور
خالق نے کہا
اللہ نور السموات والارض
یہ آیت صفت نور کا بیان نہیں اس حقیقت کا اعلان ہے کہ وجود کی بنیاد مادہ نہیں نور ہے جو ظاہر بھی وہی ہے باطن بھی وہی، جب یہ نور تجلی چاہتا ہے تو ولایت کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے کہ نور اگر بے چہرہ ہوتا تو پہچانا نہ جا سکتا ولایت اگر بے نور ہوتی تو پائی نہ جا سکتی معصوم کا فرمانا کہ “ھم اللہ کا نور ہیں” دراصل یہی اظہاریہ ہے کہ ولایت نور الہی ہی کی صورت ہے اور یہ بھی اتحاد حقیقت کا بیان ہے نہ حلول ہے نہ امتزاج بلکہ ظہور حق در آئینہ ولایت
نور محض روشنی نہیں ہے حکمت متعالیہ میں نور کے لیے کہا کہ “النور ھو الوجود في شدة ظهوره" یعنی نور وہ درجہء وجود ہے جہاں کوئی پردہ باقی نہ رہے یہی وجہ ہے کہ نور دکھائی نہیں دیتا نور دکھاتا ہے نور دیکھا نہیں جاتا نور دیکھنے کی صلاحیت بخشتا ہے اور ولایت وہ نکتہ ہے جہاں وجود اپنی تمام تر شدت سے خود کو ظاہر کرتا ہے مراتب نور میں ولایت سب سے بلند درجہ ہےکیونکہ وہاں ذات صفت اور فعل ایک ہی جلوہ بن جاتےہیں یہ وہ مقام ہے جہاں علی کا نور کائنات کے باطن میں سببِ ادراک بن جاتا ہے اسی لیے فرمایا "لولاك يا علي ما عرف الله" اے علی اگر تو نہ ہوتا تو خدا کی پہچان ہی نہ ہوتی ، یہ انتہائے معرفت نہیں بلکہ آغاز عرفان ہے اگر نور کو حقیقتِ وجود کہیں تو ولایت اس کے ادراک کی صورت ہےنور ذات ہے اور ولایت دل میں اس ذات کی بیداری
یہ نور خارجی نہیں باطنی ہےیہ آنکھ سے نہیں دل سے دیکھا جا سکتا ہے قرآن نے کہا فمن لم یجعل اللہ کہ نورا فما لہ من نور جس کے لیے اللہ نور قرار نہ دے اس کے پاس کوئی نور نہیں یہ آیت ولایت ہی کا بیان ہے جسے ولایت عطا ہو اس کے لیے خدا خود نور بن جاتا ہے، عرفا نے کہا الوجود نور و النور هو الحقيقة الاولى وجود نور ہے اور نور ہی پہلی حقیقت
یہی اصل ہےنور ہی وہ اولین تجلی ہےجس نے ولایت کو آئینہ بنایا اور ولایت نے ہر حقیقیت کو معنی، یوں ولایت نور وجود کی شعوری صورت ہےاور یہی شعور معرفت کہلاتا ہے
علی وہ مرکز ہے جہاں تمام انوار گھومتے ہیں کائنات کا ہر ذرہ نور علی سے اپنی پہچان پاتا ہے یہی نقطہء باء کی معنویت ہےیہی نقطہ نور کا مرکز ہےتمام حقیقتیں تمام تجلیاں اسی ایک نقطے سے نمودار ہوئیں
ولایت اور انسان کامل
کائنات کا ہر ذرہ ایک نا معلوم طلب میں ہے یہ طلب دراصل اپنی اصل کی تلاش ہے ہر وجود اپنے خالق کی طرف پلٹنے کے لیے مضطرب ہے لیکن یہ رجوع صرف راستہ تلاش کرنے سے نہیں ہوتا اس کے لیے باب چاہئیے اور وہ باب وہ باب ہے جسے باب اللہ نے اپنا اور اللہ کا باب کہا جس کی ولایت ہی وہ باب ہے جس کے بغیر تمام عبادتیں صرف حرکات ہیں اور تمام علوم الفاظ کا ہجوم، جب ولایت دل میں اترتی ہے تو انسان اپنے ظاہر سے باطن تک ایک ہی مرکز کی طرف بہنے لگتا ہے یعنی “سیر از ذات تا ذات”۔۔۔
انسان کامل وہ ہے جو اپنی حقیقت میں ولایت کے نور کا مظہر بن جائے اس کا قلب خلق کے ساتھ ہو مگر نگاہ خالق پر جس کا اٹھایا ہوا ہر قدم حق کی تجلی ہے عرفان شیعی میں انسان کامل وہ ہے جو علی کے نور سے اپنی باطنیت کو منور کر لے وہ نہ فنا میں گم ہوتا ہے نہ بقا میں مغرور، وہ فنا کو بقا کا وسیلہ بنا کر اپنے باطن سے خدا کے ظہور کو دیکھتا ہے یعنی انسان کامل وہ ہے جو ولایت کے “مقام جمع الجمع” تک پہنچے جہاں خالق و مخلوق کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے سوائے ادب عبودیت کے، یہی وہ مقام ہے جہاں “عبد” اپنے وجود سے نہیں بلکہ “ولی” کے فیض سے باقی رہتا ہے
ولایت کائنات کی طرح انسان کے باطن میں بھی حرکت کا محور ہے جس طرح ہر سیارہ اپنے مرکز کے گرد گھومتا ہے اسی طرح انسان کا قلب ولایت کے گرد گھومتا ہے یہی گردش معرفت کا سفر ہے کہ انسان اپنے ظاہری علم سے اٹھ کر باطنی شعور تک پہنچتا ہے پھر اس شعور سے گزر کر نور ولایت میں فنا ہو جاتا ہے جسے عرفاء نے سیر فی اللہ بالولایہ کہا ہے یعنی خدا کی طرف سفر مگر علی کی ولایت کے ذریعے،
ولایت کوئی خارجی تعلق نہیں ہے یہ انسان کی فطرت کا باطن ہے قرآن کہتا ہے فطرة الله التي فطر الناس عليها یہ فطرت دراصل ولایت کی پہچان ہے
ولایت کا یقین ظاہری علم سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ انسان کی باطنیت میں ازل سے رکھا گیا ہے پس ولایت کو پہچاننا خارجی دلیلوں سے نہیں بلکہ باطن کے بیدار ہونے سے ممکن ہے کہ ذات سے ذات تک کی سیر کی تین منزلیں ہیں پہلی منزل سیر من الخلق الی الحق ہے یہ وہ مرحلہ ہے جب انسان دنیا کی ظاہری صورتوں سے ہٹ کر حق کی طرف سفر شروع کرتا ہے یہ سفر علم سے آگاہی کا نہیں بلکہ حقیقت سے بیداری کا ہے دوسری منزل سیر فی الحق بالحق ہے یہاں سالک ولایت کے نور میں فنا ہوتا ہے یہ فنا عدم نہیں یہ وہ بقا کے جو علی کے نور میں رہ کر خدا کو اپنی باطنی آنکھوں سے دیکھنے کا مقام عطا کرتی ہے تیسری منزل سیر من الحق الی الخلق بالحق ہے یہاں عارف واپس مخلوق کی طرف آتا ہے مگر اب وہ مخلوق میں حق کو دیکھتا ہے اس کی نگاہ میں وجود کا ہر گوشہء حقیقت تجلیء نور علی ہے، ولایت کا پہلا جلوہ محبت ہے دوسرا معرفت تیسرا فنا، محبت وہ بیج ہے جو دل میں بویا جاتا ہے معرفت وہ درخت ہے جو روح میں اگتا ہے فنا وہ پھل ہے جو خدا کے حضور میں پکتا ہے اور جب یہ پھل پکتا ہے تو انسان “انسان کامل” بن جاتا ہے ایسا انسان علی کی ولایت کا سایہ نہیں بلکہ خود ولایت علی کا ایک سایہ دار درخت ہوتا ہے جو اپنے وجود سے دوسروں کو نور دیتا ہے
سفر کا آغاز بھی علی ہے اور انجام بھی علی، علی مبداء بھی ہے علی منتھی بھی، جب عقل اپنے تمام چراغ بجھا دیتی ہے تب دل علی کے نور سے روشن ہوتا ہے عرفان شیعی کا سب سے بڑا نکتہ یہی ہے کہ معرفت حق معرفت علی سے جدا نہیں علی کا ذکر صرف زبان کا عمل نہیں یہ روح کی سانس ہے جب دل میں یہ سانس بیدار ہوتی ہے تو انسان “من العدم الی الوجود “ نہیں بلکہ “من الظل الی النور” سفر کرتا ہے اور یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ علی کی ولایت لا محدود ہے
نھج البلاغہ پر تحریر شدہ مقدمہ استفادء عام کے لیے
یہ مقدمہ محترمہ قدسیہ قدسی کے ھندکو زبان میں کلام امیر کے ترجمہ پر تحریر کیا گیا جو جنوری 2024 میں پشاور سے شائع ہوا
نہج البلاغہ مختلف مزاج و طبیعت و صفات کے حامل انسان کے سفرِ شعور کا وہ جادہ ہے جس کا مسافر ہوئے اسے ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ راستہ اس کی چھوڑی ہوئی برپا علم کی کچھ نشانیاں ہیں جس نے کہا کہ میں زمین کے راستوں سے آسمان کے راستوں کو زیادہ جانتا ہوں تاریخ انسانی کے متلاشیانِ جواہرِ علم نے کلام کے امام سے کبھی اقتصادیات و سیاست کشید کی تو کبھی فلسفہ و عرفان کبھی علم الفضاء تو کبھی علم الاحیاء حتی کہ معاجم و مداخلِ علوم نہج البلاغہ اور اس کی کئی فہارس علمیہ تک مرتب کی گئیں ادبی نہج سے دیکھا جائے تو عربی ادب کے سلاطین و فحول اپنی فصاحت و بلاغت کا راز کھولتے ہوئے حفظِ نہج البلاغہ کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ یہ اس کا کلام ہے جو بشری پیکر میں اللہ کا امانت رکھا ہوا راز ہے جو لہجہء کن کا حجاب ہے جہاں
حقیقیت پسند کو یہ گمان ہوتا ہے کہ نہج البلاغہ اخ القرآن ہے وہیں ظاہر پرست یہ اشتباہ پیدا کرنے میں نامراد نظر آتا ہے کہ یہ شریف رضی کا کلام ہے حالانکہ رسول حق نے شریف رضی کے لیے نہیں کہا کہ شریف رضی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن اس کے ساتھ
جیسے نزول قرآن نے بجائے خود کئی علوم کو جنم دیا ہے ایسے ہی نہج البلاغہ کے منصہء شہود پر آنے سے اس سے جڑے کئی علوم وجود میں آئے اور اس کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا
بعض مترجمین نے منظوم تراجم کیے تو بعض نے مختصر شرح کے ساتھ تراجم کیے بعض نے مکمل تراجم کیے تو بعض نے جزوی البتہ اس کے تراجم کتنی زبانوں میں ہوئے اس کا احاطہ کرنا کاری دارد، ہاں جن زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے ان کو صرف شمار کیا جائے تو ان میں قابل ذکر فارسی، انگریزی، فرانسیسی، اسبانی، رومانی، روسی، اردو، ترکی، المانی، ایطالی، ازبک، ڈچ، کردی، بلغاری، گجراتی، سندھی، بنگالی، وُلُفیہ (سینیگال کی زبان)، صربوکراویتیہ ھرسنک (بوسنیا کی زبان)، قلطیہ (یورپین ھندی)، کیلکیہ (شمالی ایران کے اھل جیلان کی زبان)، بشناق (جنوبی یوگوسلاویہ کی زبان) ہیں ماضی قریب میں اس کا ترجمہ چینی زبان میں پروفیسر محمود تشانغ نے پکنگ یونیورسٹی Peking University Beijing میں پیش کیا اور جاپانی زبان میں اس کا ترجمہ ایران کے مؤسسہ نہج البلاغہ میں جاپان کے سفیر کو پیش کیا گیا ان تراجم کے مترجمین اور ان کی دیگر تفصیلات کو شامل کیا جائے تو ایک الگ تحقیقی مقالہ درکار ہو گا
موجودہ ترجمہ ھندکو زبان میں اس سلسہء تراجم میں ایک قابل تحسین اضافہ ہے زبان تہذیب کا باب ہوتی ہے اور ایک مہذب تہذیب ارتقاء کے لیے نئے آفاق کی متلاشی رہتی ہے محترمہ قدسیہ قدسی ھندکو زبان میں ترجمہ کے اس ایک ہی کام سے ان دونوں جہتوں کا یعنی ھندکو زبان کو معانی کے نئے آفاق فراہم کرنے اور سلسلہء تراجمِ نہج البلاغہ میں ایک اور زبان میں ترجمہ کا اضافہ کرنے کے دونوں کاموں کا بیک وقت احاطہ کرنے پر مبار باد کی مستحق ہیں آپ کا ہر علمی و ادبی کام اپنی جگہ ایک علمی شیرازہ کشائی محسوس ہوتا ہے جیسا کہ پختون خواہ کی پہلی سفر نامہ نگار خاتون ہونا اور پختون خواہ کی پہلی فارسی رباعی گو شاعرہ ہونا، یقینا کسی صنف میں کیے گئے پہلے کام ادبی شیرازہ کشائی کا سبب بنتے ہیں افسانہ نگاری سفر نامہ نویسی و شاعری کی اہمیت اپنی جگہ قدسیہ قدسی کا نہج البلاغہ کے ترجمہ کا یہ کام تاریخ علم و عرفان میں ہمیشہ باقی رہے گا دعاء ہے کہ باب علم ان کی توفیقات علمیہ میں اضافہ فرمائے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Multan