ICM School System

ICM School System

Share

*** Admission Open ***
PG to Matric
ICM School System (Regd.)
92-H Shah Rukn-e-Alam Colony Multan

05/10/2025

استاد ہوں مجھے اس پر ملال تھوڑی ہے
ملک کا مستقبل سنوارنا آسان تھوڑی ہے

بس استاد ہی فکر مند ہے سب کے عروج کے لئے
یہاں کسی کو کسی کا خیال تھوڑی ہے

مزا تو تب ہے کسی خاک کے ذرے کو منور کر دو
صرف اپنی ذات کو روشن کرنا کمال تھوڑی ہے

مٹانا پڑتا ہے خود کو قوم کی ترقی کے لئے
اور یہ کوئی معمولی کام تھوڑی ہے

23/07/2025

" Learn from mistakes & stay positive"

06/07/2025

*10 محرم الحرام – یومِ شہادت امام حسینؓ*

*کربلا مٹی کا واقعہ نہیں…*
*یہ عشق، قربانی، صبر اور حق کی فتح کی روشن مثال ہے۔*

*👑 حسینؓ نے سجدے میں سر دے دیا… مگر ظلم کے آگے جھکنا گوارا نہ کیا۔*
*سلام ہو اس نواسۂ رسول ﷺ پر جس نے دین کو خون سے زندہ کیا۔*

*🕊 آج بھی ہر حق پرست دل حسینؓ کہتا ہے… اور ہر ظالم یزید!*

*یاحسینؓ! لبیک یا حسینؓ!*

07/06/2025

🌙 *عیدالاضحیٰ مبارک!* 🌙

اللہ تعالیٰ آپ کی قربانیاں قبول فرمائے، آپ کے گھروں میں خوشیاں، رحمتیں اور سکون نازل فرمائے۔
یہ عید محبت، ایثار اور اخوت کا پیغام لے کر آئے۔

✨ *عید کی خوشیاں سب کے لیے..
Regards
ICM School System

06/06/2025

میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔

*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔

*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔

*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،

*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔

*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔

*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔

*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔

*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔

*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔

*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔

*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔

*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔

*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔

*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔

*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔

*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔

: اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے، آمین۔

05/05/2025

تعلیم میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دنیا کو بہتر بنا سکتی ہے۔ جب لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں، تو وہ علم، ہنر اور سمجھ بوجھ حاصل کرتے ہیں۔ یہ انہیں اپنے مسائل حل کرنے، بہتر فیصلے کرنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے قابل بناتا ہے۔ تعلیم ناانصافی، غربت اور جہالت کے خلاف لڑنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ اس لیے، تعلیم ایک ایسا "ہتھیار" ہے جسے استعمال کر کے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنایا جا سکتا ہے۔

20/03/2025

آج کل سکول اور کالج کے طلبہ میں ایک عجیب ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ وہ استعمال شدہ کاپیاں اور کتابیں لے کر ان کی پرچیاں بناتے ہیں اور ان کو ہوا میں اڑاتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز ڈال دیتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

گزشتہ دن سڑک پر اسلامیات کے نصاب کے حوالے سے پھٹے ہوئے صفحات دیکھ کر دل پارہ پارہ ہو گیا اور راقم الحروف اس حوالے سے اس نصاب کے متن کو زیر بحث لاتے ہوئے بھی لرز رہا ہے۔

میری آپ سب سے گزارش ہے کہ بحیثیت استاد، بحیثیت والدین اپنا کردار ادا کریں اور بحیثیت پاکستانی اور مسلمان اگر آپ سوشل میڈیا پر ایسی چیزیں دیکھیں تو ان کی مذمت کریں۔ مزید یہ کہ یہ بات صرف اسلامیات یا قرآن کی تفسیر اور ان کے متن تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہاں اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی نصاب ہو، چاہے وہ میتھمیٹکس( حساب ) کا ہو، علم تو علم ہے، اس کی حرمت اور بے توقیری نہیں ہونی چاہیے۔

ہر استاد اور والدین کو اپنے بچوں کو اچھے آداب اور اقدار سکھانی چاہیے۔ یہ پیغام ہر ممکن حد تک پھیلائیں۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

20/03/2025

"اگر اسکول میں اساتذہ بچوں کو ڈانٹتے یا سزا دیتے ہیں تو والدین کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسکول میں سزا ملنا بالآخر پولیس کے ہاتھوں مار کھانے سے بہتر ہے۔"

وہ اسکول جو نظم و ضبط کے لیے جانے جاتے ہیں، وہاں چاہے طلبہ کے بالوں کے انداز اور برتاؤ کے سخت اصول کیوں نہ ہوں، پھر بھی ان کے رویے میں بہتری نظر نہیں آتی۔ اساتذہ مایوسی سے دیکھتے رہتے ہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے۔

اگر والدین اپنے بچوں کی نگرانی اور کنٹرول کھو دیں تو وہ بگڑ جاتے ہیں۔

نظم و ضبط صرف باتوں سے نہیں آتا؛ اس کے لیے تھوڑی سختی اور سزا بھی ضروری ہوتی ہے۔

آج کے بچوں کو نہ اسکول میں خوف محسوس ہوتا ہے، نہ گھر واپس جا کر ڈر لگتا ہے، اسی لیے آج کا معاشرہ خوفزدہ ہے۔
یہی بچے آج بدمعاش بن چکے ہیں اور دوسروں پر حملہ کر رہے ہیں، ان کی حرکتوں کی وجہ سے کئی لوگوں کی جان جا رہی ہے، اور پھر پولیس انہیں پکڑ کر عدالت میں سزا دلواتی ہے۔

"جو معاشرہ اپنے اساتذہ کی عزت نہیں کرتا، وہ تباہ ہو جاتا ہے۔"
"یہ حقیقت ہے۔"

نہ استاد کا خوف ہے، نہ عزت، پھر تعلیم اور اقدار کیسے آئیں گی؟

"مجھے مت مارو! گالی مت دو! جسے خود پڑھنے کا شوق نہیں، وہ سوال کیوں کرے؟ اگر پڑھائی یا ہوم ورک پر زور دیا جائے تو وہ استاد کی غلطی کہلاتی ہے!"

پانچویں جماعت سے ہی بچوں میں عجیب و غریب بالوں کے انداز، پھٹی ہوئی جینز پہننے، دیواروں پر بیٹھنے، اور راہ گیروں کا مذاق اڑانے کی عادتیں پڑ جاتی ہیں۔
اگر کوئی کہے، "ارے، صاحب آ رہے ہیں!" تو جواب ملتا ہے، "آنے دو!"

کچھ والدین کہتے ہیں، "ہمارے بچے نے پڑھائی نہیں کی تو کوئی بات نہیں، لیکن استاد اسے مارے نہیں!"

"تمہارا یہ حلیہ کس نے بنایا؟"
جواب: "ہمارے ابو نے خود ایسا کروایا، صاحب!"

بچوں کے پاس پڑھائی کا سامان نہیں ہوتا۔ اگر قلم ہو تو کتاب نہیں، اگر کتاب ہو تو قلم نہیں۔
بغیر خوف کے تعلیم ممکن نہیں، اور بغیر نظم و ضبط کے تعلیم بے اثر ہے۔

"جس مرغی کو خوف نہ ہو، وہ بازار میں انڈے نہیں دیتی!"
آج کے بچوں کا رویہ بھی ایسا ہی بن چکا ہے۔

اسکول میں، اگر کوئی غلطی کرے تو اسے سزا نہیں دی جا سکتی، ڈانٹ نہیں سکتے، اور نہ ہی سختی سے سمجھا سکتے ہیں۔
آج کے والدین ہر چیز کو دوستانہ ماحول میں سمجھانا چاہتے ہیں۔
کیا یہ ممکن ہے؟
کیا معاشرہ بھی ایسا کرتا ہے؟
کیا پہلی غلطی معاف کی جاتی ہے؟

اب اساتذہ کے پاس کوئی اختیار نہیں بچا۔
"اگر استاد کسی بچے کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو وہ جرم بن جاتا ہے۔"
"لیکن اگر وہی بچہ بڑا ہو کر جرم کرے تو اسے سزائے موت تک دی جا سکتی ہے!"

والدین سے گزارش:
بچوں کے اخلاق سنوارنے میں اساتذہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔
چند اساتذہ کی غلطیوں کی وجہ سے تمام اساتذہ کی بےعزتی نہ کریں۔

90% اساتذہ صرف بچوں کا اچھا مستقبل چاہتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے۔

لہذا، اب سے ہر چھوٹی غلطی پر اساتذہ کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں۔

جب ہم پڑھتے تھے، تو کچھ اساتذہ ہمیں سزا دیتے تھے، مگر ہمارے والدین اسکول جا کر اساتذہ سے سوال نہیں کرتے تھے۔
انہیں صرف ہماری بھلائی کی فکر ہوتی تھی۔

پہلے والدین کو اپنے بچوں کو استاد کی عزت کا درس دینا ہوگا۔

ایک بار اپنے بچوں کے مستقبل پر غور کریں۔

بچوں کے بگڑنے کی 60% وجہ دوست، موبائل اور میڈیا ہیں، مگر باقی 40% والدین خود ہیں!

زیادہ لاڈ، نادانی اور غلط عقائد بچوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

آج کے 70% بچوں میں یہ رویے عام ہو چکے ہیں:

👉 والدین اگر گاڑی یا بائیک صاف کرنے کو کہیں تو وہ نہیں کرتے، لیکن فضول چیزیں خریدنے پر اصرار کرتے ہیں۔
👉 بازار سے سامان لانے کو تیار نہیں، سب کچھ آن لائن منگوانا چاہتے ہیں۔
👉 اسکول کا قلم یا بیگ صحیح جگہ پر نہیں رکھتے۔
👉 گھریلو کاموں میں مدد نہیں کرتے، بس ٹی وی یا موبائل دیکھتے رہتے ہیں۔
👉 رات کو 10 بجے تک نہیں سوتے اور صبح 6-7 بجے نہیں اٹھتے۔
👉 جب کوئی سنجیدہ بات کرتا ہے، تو الٹا جواب دیتے ہیں۔
👉 ڈانٹنے پر چیزیں پھینک دیتے ہیں۔
👉 پیسے ملتے ہیں تو کھانے، آئس کریم اور دوستوں پر خرچ کر دیتے ہیں۔
👉 نابالغ بچے بائیک چلاتے ہیں، حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور کیس میں پھنس جاتے ہیں۔
👉 لڑکیاں روزمرہ کے کاموں میں مدد نہیں کرتیں۔
👉 مہمانوں کو پانی کا گلاس دینا بھی پسند نہیں کرتیں۔
👉 کچھ لڑکیوں کو 20 سال کی عمر میں بھی کھانا پکانا نہیں آتا۔
👉 مناسب لباس پہننا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔
👉 فیشن، ٹرینڈ اور ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

اس سب کے ذمہ دار ہم خود ہیں!
ہمارا غرور، ہماری عزت اور ہمارا رعب بچوں کو زندگی کے سبق نہیں سکھا سکتا۔

"جس نے تکلیف نہ جھیلی ہو، وہ زندگی کی قدر نہیں جانتا!"

آج کے نوجوان 15 سال کی عمر میں محبت کے چکروں، سگریٹ نوشی، شراب، جوا، منشیات اور جرم میں ملوث ہو رہے ہیں۔
کچھ سستی کا شکار ہو کر اپنی زندگی میں کوئی مقصد نہیں رکھتے۔

بچوں کی زندگی کو محفوظ بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔
اگر ہم نے دھیان نہ دیا، تو آنے والی نسل تباہ ہو جائے گی۔

بچوں کے بہتر مستقبل اور زندگی کے لیے ہمیں بدلنا ہوگا۔

🙏 جو بھی یہ پیغام پڑھے، براہ کرم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کریں۔

"مجھے نہیں لگتا کہ سب بدلیں گے..."
"لیکن مجھے یقین ہے کہ کم از کم ایک شخص ضرور بدلے گا!"

اساتذہ رحم کر سکتے ہیں، مگر پولیس نہیں!

"پولیس کے ہاتھوں مار کھانے اور بعد میں عدالت میں پیسے خرچ کرنے کے بجائے، استاد کی دی گئی ڈانٹ پر کوئی خرچ نہیں آتا!"

حقیقت یہی ہے کہ "والدین ہوشیار ہو جائیں" ورنہ آنے والا وقت بہت خوفناک ہوگا۔ آپ کا بچہ کیا کر سکتا ہے، اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے!"

20/03/2025

*متقی بنیں مگر گمنام رہیں تمہاری نیکیوں کا سب سے بڑا گواه صرف تمہارا رب ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہی اک راستہ ہے جو تمہیں اخلاص کی بلندیوں تک لے جا کر تمہارے دل میں اپنے ربّ کی محبت کو مزید گہرا کرے گا۔*

*جبکہ شہرت اور تعریف کا انتظار تمھارے عمل کو ضائع اور برباد کر دے گا*

*اللّٰہ پاک ہماری حفاظت فرمائے*

11/03/2025

*‏مَن کی میل کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنی ’’میں‘‘ کو ختم کرو۔اور ’’میں ‘‘ کو ختم کرنے کے لیے عاجز بننا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔*

*اور عاجز بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تُو اپنی ہستی تک بھول جا کہ تُو کیا ہے بس اتنا یاد رکھ تُو خاک ہے خاک پر ہے اور تجھے خاک میں ہی جانا ہے ۔*

08/03/2025

‏یا اللہ والد اور والدہ تو میرے تھے
پرامانت تیری تھی
تیری طرف لوٹ گئے
بس اتنی سی دعا ہے کہ اس پاک مہینے کے صدقے
انہیں اپنی جنت کا ہمیشہ مہمان
بنا کہ رکھنا۔
اللہ تعالیٰ میرے ماں باپ اور تمام مرحومین
کے درجات بلند فرما۔ آ مین۔

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Multan
5800