Quranic Education In Karachi

Call Directions

Quranic Education In Karachi تیری رحمتوں پہ ہے منحصر،میرے ہرعمل کی قبولیت

نہ مجھےسل

08/07/2026

*استاد جی! دعا مانگنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ میری دعا فوراً کیوں نہیں سنتے؟*
*ناظرہ کی کلاس سے...عمر کا سوال*
ناظرہ کی کلاس ختم ہونے والی تھی۔
بچے آج بھی حسبِ معمول سبق سنا چکے تھے، لیکن اب مجھے معلوم ہوچکا تھا کہ اصل سبق تو اکثر سبق ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
میں نے ہمیشہ بچوں سے کہا ہے:
"قرآن پڑھتے ہوئے اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے، کوئی سوال پیدا ہو یا دل میں کوئی الجھن ہو تو ضرور پوچھنا۔"
اسی دوران ایک ننھا سا ہاتھ بلند ہوا۔یہ بہت ہی پیارا بچہ عمر تھا وہ بولا،
"استاد جی! ایک سوال پوچھوں؟"
"ضرور بیٹا!"
اس نے بڑی معصومیت سے پوچھا:
"استاد جی! میں اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں مانگتا ہوں، لیکن کبھی کبھی وہ فوراً پوری نہیں ہوتیں۔ کیا اللہ تعالیٰ میری بات سنتے نہیں؟"
پوری کلاس خاموش ہوگئی۔
مجھے محسوس ہوا، یہ صرف ایک بچے کا سوال نہیں، شاید ہر بچے کے دل کا سوال ہے، اور شاید بہت سی ماؤں کے دل کا بھی۔
میں نے بچے سے پوچھا:
"بیٹا! اگر تم امی سے کہو کہ مجھے ابھی آئس کریم چاہیے، تو کیا امی ہمیشہ فوراً لے دیتی ہیں؟"
وہ مسکرایا۔
"نہیں!"
"کیوں؟ کیا امی تم سے محبت نہیں کرتیں؟"
"کرتی ہیں!"
"پھر فوراً کیوں نہیں لاتیں؟"
وہ بولا:
"کبھی رات ہوتی ہے... کبھی دکان بند ہوتی ہے... کبھی امی کہتی ہیں کہ پہلے کھانا کھالو، پھر لے دیں گے۔"
میں نے کہا:
"بالکل!
یعنی امی انکار محبت کی وجہ سے نہیں کرتیں، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتی ہیں کہ اس وقت تمہارے لیے کیا بہتر ہے۔"
پھر میں نے پوچھا:
"اور اگر تمہیں بخار ہو اور تم آئس کریم مانگو تو؟"
وہ فوراً بولا:
"پھر تو امی بالکل نہیں دیں گی۔"
میں نے پوچھا:
"کیوں؟"
وہ بولا:
"کیونکہ میں اور بیمار ہوجاؤں گا۔"
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"دیکھو بیٹا!
جب ایک ماں، جو اپنے بچے سے بہت محبت کرتی ہے، کبھی کبھی اس کی مانگی ہوئی چیز اس کی بھلائی کی وجہ سے روک لیتی ہے، تو پھر وہ اللہ تعالیٰ، جو ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتے ہیں، کیا اپنے بندے کے لیے بہترین فیصلہ نہیں کریں گے؟"
وہ خاموش ہوگیا۔
میں نے کہا:
"بیٹا! اللہ تعالیٰ ہر دعا سنتے ہیں۔
کوئی بھی دعا ان سے چھپی ہوئی نہیں۔
لیکن ہر دعا کا جواب ایک جیسا نہیں ہوتا۔"
میں نے تختے پر تین باتیں لکھیں۔
پہلی بات:
"کبھی اللہ تعالیٰ فوراً عطا فرما دیتے ہیں۔"
میں نے پوچھا:
"اگر تم پانی مانگو اور امی فوراً پانی دے دیں تو؟"
وہ بولا:
"یہ تو فوراً مل گیا۔"
دوسری بات:
"کبھی اللہ تعالیٰ کہتے ہیں:
ابھی نہیں... مناسب وقت پر۔"
میں نے پوچھا:
"اگر تم پہلی جماعت میں ہو اور کہو کہ مجھے ابھی موٹر سائیکل چلانی ہے، تو ابو کیا کہیں گے؟"
وہ ہنس کر بولا:
"ابھی تم چھوٹے ہو۔"
میں نے کہا:
"بالکل!
وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ کبھی نہیں۔
وہ کہہ رہے ہیں: ابھی نہیں۔"
پھر میں نے تیسری بات لکھی۔
"کبھی اللہ تعالیٰ اس سے بھی بہتر چیز عطا فرماتے ہیں۔"
میں نے پوچھا:
"اگر تم پانچ روپے مانگو اور ابو خوش ہوکر پچاس روپے دے دیں تو نقصان ہوا یا فائدہ؟"
وہ خوشی سے بولا:
"فائدہ!"
میں نے کہا:
"تو پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز مانگتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس سے کہیں بہتر چیز لکھ دیتے ہیں۔"
پھر میں نے ایک اور سوال کیا۔
"بیٹا! اگر تمہیں کوئی ایسی چیز چاہیے جو تمہارے لیے نقصان دہ ہو، تو کیا اللہ تعالیٰ وہ دے دیں گے؟"
وہ بولا:
"نہیں!"
میں نے کہا:
"کیوں؟"
وہ بولا:
"کیونکہ اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرتے ہیں۔"
میں نے کہا:
"بالکل!
اسی لیے کبھی دعا پوری ہونے میں دیر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔"
پھر میں نے پوری کلاس سے کہا:
"یاد رکھو!
جب بھی دعا مانگو تو تین باتیں کبھی مت چھوڑنا۔
پہلی...
دل سے یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ میری دعا سن رہے ہیں۔
دوسری...
نماز اور دعا کے ساتھ اپنی پوری کوشش بھی کرنا۔
تیسری...
اگر دعا فوراً پوری نہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے ناراض نہیں ہونا، بلکہ یہ سوچنا کہ میرا رب میرے لیے بہترین وقت کا انتخاب کر رہا ہے۔"
میں نے بچے سے پوچھا:
"اب اگر تم دعا مانگو اور وہ فوراً پوری نہ ہو تو کیا سوچو گے؟"
اس نے چند لمحے سوچا، پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
وہ بولا:
"میں یہ سوچوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی ہے... شاید وہ میرے لیے اس سے بھی بہتر چیز یا بہتر وقت رکھے ہوئے ہیں۔"
میں نے کہا:
"شاباش!
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔
دعا کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
بندہ بھول سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کوئی دعا نہیں بھولتے۔"
کلاس ختم ہوگئی۔
بچے اپنے گھروں کو چلے گئے، لیکن میرے دل میں ایک خیال بار بار آرہا تھا۔
اگر ہم بچوں کو صرف یہ یقین دے دیں کہ اللہ تعالیٰ میری ہر بات سنتے ہیں، مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میرے لیے بہترین فیصلہ کرتے ہیں تو شاید ان کے دل میں کبھی اپنے رب کے بارے میں بدگمانی پیدا نہ ہو۔
والدین سے ایک درخواست
اگر کبھی آپ کا بچہ یہ کہے:
"میں نے دعا مانگی تھی، پھر بھی پوری نہیں ہوئی۔"
تو فوراً یہ نہ کہیے:
"پتہ نہیں کیوں نہیں ہوئی!"
بلکہ اسے گلے لگائیے اور محبت سے کہیے:
"بیٹا! اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا سن لی ہے۔ اب وہ تمہارے لیے وہی فیصلہ کریں گے جو سب سے بہتر ہوگا۔"
یہ ایک جملہ بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، اعتماد اور امید کو زندگی بھر کے لیے مضبوط کرسکتا ہے۔
میرے ساتھی اساتذۂ ناظرہ سے
جب بچے دعا کے بارے میں سوال کریں تو انہیں صرف دعا کے الفاظ نہ سکھائیں، بلکہ دعا کا یقین بھی سکھائیں۔
انہیں بتائیں کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے رب پر اعتماد کا نام ہے۔
جس بچے کے دل میں یہ یقین پیدا ہوگیا کہ "میرا اللہ میری ہر بات سنتا ہے"، وہ کبھی تنہا محسوس نہیں کرے گا، اور جسے یقین ہوگیا کہ "میرا رب میرے لیے بہترین فیصلہ کرتا ہے"، وہ کبھی مایوس نہیں ہوگا۔
اگر فاطمہ، معاذ، مرحا اور آج کے اس ننھے طالب علم عمر کی طرح آپ کے گھر کے کسی بچے یا بچی کے ذہن میں بھی قرآن، دعا، نماز یا دین کے بارے میں کوئی سوال پیدا ہو تو اس سوال کو دبائیے نہیں، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ آپ بچوں کے سوالات WhatsApp پر 03076652006 پر بھیج سکتے ہیں۔ ان شاء اللہ، قرآن و سنت کی روشنی میں بچوں کی عمر اور سمجھ کے مطابق ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ ہمارے بچے صرف قرآن پڑھنے والے نہیں، بلکہ قرآن کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے والے بنیں۔

*سمیع اللہ عزیز*
فاضلِ درسِ نظامی، جامعہ فاروقیہ کراچی
پی ایچ ڈی (عربی)، جامعہ بہاء الدین زکریا ملتان
رئیس مجمع اللغة العربية بباكستان
*📞 03076652006*
8 جولائی 2026ء

الحمد لله، انطلقت القناة الرسمية لمجمع اللغة العربية بباكستان على واتساب.ندعوكم للانضمام إليها، ومتابعة جميع أنشطة المجم...
27/06/2026

الحمد لله، انطلقت القناة الرسمية لمجمع اللغة العربية بباكستان على واتساب.
ندعوكم للانضمام إليها، ومتابعة جميع أنشطة المجمع ومشروعاته العلمية واللغوية، ومنها:
🔹 برنامج الامتياز العملي في اللغة العربية
🔹 مشروع الحوارات القرآنية
🔹 المقالات والدراسات العلمية
🔹 الدورات والبرامج التدريبية
🔹 الإعلانات والفرص العلمية
🔹 بطاقات ومحتوى عربي متميز
كونوا شركاء في نشر لغة القرآن الكريم، وساهموا في إيصال هذه القناة إلى المهتمين بخدمة اللغة العربية.
انضموا الآن عبر الرابط:
Follow the مجمع اللغة العربية بباكستان | القناة الرسمية channel on WhatsApp:
https://whatsapp.com/channel/0029VbCjL2mGJP88dvJbRC20

Follow ‎مجمع اللغة العربية بباكستان | القناة الرسمية‎'s WhatsApp channel. ‎مرحباً بكم في القناة الرسمية لـ مجمع اللغة العربية بباكستان، المؤسسة العلمية واللغوية التي تأسست عام 2007م لخدمة اللغة العربية، لغة القرآن الكريم والسنة النبوية. يعرض هذا القناة أخبار المجمع، ومشروعاته، وبرامجه، ومقالاته، ودوراته، وإعلاناته، ومواده العلمية والتربوية والإعلامية، بهدف ربط الأمة بلغة الوحي، وتعزيز حضور العربية في التعليم والبحث والإعلام والتقنية، وبناء شبكة عالمية للتعاون في خدمة اللغة العربية. أهلاً بكل محب للعربية وشريك في رسالتها..‎ Join 628 followers for the latest updates.

09/06/2026

*وہ انسان جو انسان بناتا ہے*
*مولانا ڈاکٹر ولی خان المظفر حفظہ اللہ — ایک شاگرد کی نظر میں (قسط اول)*
ہر انسان کا دوسرے انسان کو دیکھنے کا زاویہ مختلف ہوتا ہے۔ ایک ہی شخصیت کو دیکھنے والے افراد کے مشاہدات، تجربات اور نتائج ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کوئی کسی کی خوبیوں کو دیکھتا ہے، کوئی خامیوں کو۔ کوئی اس کے علم سے متاثر ہوتا ہے، کوئی اس کے اخلاق سے۔ کوئی اس کی تحریروں کو جانتا ہے، کوئی اس کی تقریروں کو۔ کوئی اس کی گھریلو زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے، کوئی اس کے علمی و انتظامی کردار کو۔ بعض لوگوں نے کسی شخصیت کو بچپن میں دیکھا ہوتا ہے، بعض نے جوانی میں، بعض نے عروج کے دور میں اور بعض نے تنہائی کے لمحات میں۔ اس لیے ہر شخص کا زاویۂ نظر اور تجربہ مختلف ہونا فطری بات ہے۔
میں نے حضرت مولانا ڈاکٹر ولی خان المظفر حفظہ اللہ کو جس انداز سے دیکھا ہے، ضروری نہیں کہ ہر شخص کا مشاہدہ بھی یہی ہو۔ یہ ایک شاگرد کے تاثرات ہیں جسے مختلف حالات، مختلف ادوار اور مختلف میدانوں میں اپنے استاذ کے ساتھ رہنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سعادت دی کہ میں نے حضرت کا وہ دور بھی دیکھا جب وہ بڑے علمی و انتظامی مراکز میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، اور وہ دور بھی دیکھا جب وہ منصب اور عہدے کی ظاہری چمک سے دور رہ کر بھی لوگوں کے دلوں میں وہی مقام رکھتے تھے۔ میں نے انہیں اداروں میں بھی دیکھا، سفر میں بھی، گھر میں بھی، دوستوں کے درمیان بھی، تنگ دستی کے ایام میں بھی اور وسعتِ تعلقات اور عالمی روابط کے ماحول میں بھی۔ اسی لیے ان کے بارے میں میری رائے کسی ایک واقعے یا ایک ملاقات کی پیداوار نہیں بلکہ ایک طویل مشاہدے کا حاصل ہے۔
میرے نزدیک مولانا ڈاکٹر ولی خان المظفر حفظہ اللہ کی سب سے بڑی خصوصیت افراد سازی ہے۔ دنیا میں عمارتیں بنانا آسان ہے، ادارے قائم کرنا نسبتاً آسان ہے، منصوبے تیار کرنا بھی ممکن ہے، لیکن انسان بنانا سب سے مشکل کام ہے۔ ایسا انسان جو اعتماد کے ساتھ کھڑا ہو سکے، علم کے ساتھ گفتگو کر سکے، اختلاف کو برداشت کر سکے، دوسروں کو ساتھ لے کر چل سکے اور امت کے لیے مفید ثابت ہو، اس کی تیاری ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
میرا مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت کو یہ ملکہ غیر معمولی انداز میں عطا فرمایا ہے۔ اس صلاحیت کے پس منظر میں حضرت الشیخ مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کی صحبت کا بھی بڑا حصہ نظر آتا ہے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ صرف ایک عظیم عالم یا منتظم نہیں تھے بلکہ افراد سازی کا ایک پورا مدرسہ تھے۔ ان کی مجالس سے بے شمار علماء، مفتیانِ کرام، مدرسین اور قائدین تیار ہوئے۔ مولانا ڈاکٹر ولی خان المظفر حفظہ اللہ کو ان کی طویل رفاقت نصیب ہوئی، سفر و حضر میں ساتھ رہنے کا موقع ملا، علمی اور انتظامی امور میں معاونت کا موقع ملا، اور یہی سرمایہ آج بھی ان کی شخصیت میں جھلکتا ہے۔
زمانۂ طالب علمی میں اور بعد ازاں مختلف ذمہ داریوں کے دوران میں نے حضرت کی تربیت کا ایک منفرد انداز دیکھا۔ وہ ہمیں مختلف مدارس، جامعات، تنظیموں اور علمی حلقوں کے افراد سے رابطے کا کہتے۔ مختلف شہروں کے علماء کو جمع کرنے، عربی زبان کے فروغ، تعلیمی منصوبوں اور دینی سرگرمیوں کے حوالے سے نشستوں کا اہتمام کرنے کی ذمہ داریاں دیتے۔ ہم ان شخصیات کو دعوت دیتے اور جب وہ جمع ہوتیں تو ہمارے ذہن میں یہی ہوتا کہ حضرت خود مجلس کی قیادت کریں گے، لیکن اکثر ایسا ہوتا کہ وہ ہمیں آگے کر دیتے اور خود پس منظر میں رہتے۔
اس وقت ہمیں یہ بات پوری طرح سمجھ نہیں آتی تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ لوگ تو ان کے اعتماد پر آئے ہیں، اگر وہ سامنے نہ ہوں تو شاید ہم کامیاب نہ ہو سکیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ہمیں احساس ہوا کہ وہ ہمیں استعمال نہیں کر رہے بلکہ تیار کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ ہماری بات اس لیے سنیں کہ ہماری بات میں وزن ہو، نہ کہ صرف اس لیے کہ ہمارے پیچھے کوئی بڑی شخصیت موجود ہے۔ وہ افراد تیار کر رہے تھے، اور افراد سازی کا یہی اصل طریقہ ہے۔
بعد میں جب مختلف شہروں، جامعات، وفاقی اداروں اور علمی حلقوں میں جانے کے مواقع ملے تو ان کی تربیت کا ایک اور رخ سامنے آیا۔ بظاہر ہمیں محسوس ہوتا کہ ہم خود کام کر رہے ہیں، خود رابطے قائم کر رہے ہیں اور خود فیصلے کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ایک بیدار نظر ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتی۔ کئی مرتبہ بعد میں معلوم ہوتا کہ حضرت پس منظر میں رابطے میں رہے ہیں، حالات سے باخبر ہیں اور ہر اہم پیش رفت ان کے علم میں ہے۔ وہ میدان میں آگے بڑھنے کا موقع بھی دیتے اور خاموش نگرانی بھی کرتے۔ وہ اعتماد بھی دیتے اور رہنمائی بھی جاری رکھتے۔ ان کی تربیت ایک ایسے باغبان کی تربیت ہے جو پودے کو بڑھنے کا پورا موقع دیتا ہے مگر اس کی نگاہ ہر وقت اس پر رہتی ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کا اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کے ساتھ تعلق ہے۔ عام طور پر بڑے عہدوں اور بڑی شخصیات کے گرد ایک فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اختلافِ رائے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے اور بے تکلفی ختم ہونے لگتی ہے۔ لیکن حضرت کے ساتھ ہمارا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ ہم اختلاف بھی کرتے ہیں، سوال بھی کرتے ہیں، ہنستے بھی ہیں، سیکھتے بھی ہیں اور زندگی کے مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اپنی رائے کو آخری اور ناقابلِ بحث نہیں بنایا۔ وہ سوچنے، سوال کرنے، دلیل دینے اور بہتر رائے پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اسی ماحول میں ہم نے سیکھا کہ علمی دنیا میں اصل طاقت دلیل، اخلاق اور وسعتِ نظر کی ہوتی ہے۔
ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات صرف علمی نشستیں نہیں ہوتیں بلکہ زندگی کی ایک مکمل درسگاہ بن جاتے ہیں۔ کبھی گفتگو قرآن و حدیث کی روشنی میں کسی مسئلے کے حل پر ہوتی ہے، کبھی تعلیم و تربیت کے اصول زیرِ بحث آتے ہیں، کبھی اداروں کے نظم و نسق کے تجربات سامنے آتے ہیں، کبھی عالمی سطح پر دینی خدمات کے تقاضوں پر روشنی پڑتی ہے، اور کبھی حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کے واقعات و تجربات سے رہنمائی ملتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک پوری زندگی ہمارے سامنے کھلی ہوئی ہے اور ہم اس سے سیکھ رہے ہیں۔
تحریر و تصنیف کے میدان میں بھی ان کی تربیت کا انداز منفرد ہے۔ کالم نویسی ہو، سرکاری رپورٹ ہو، تعلیمی منصوبہ ہو، امتحانی پرچہ ہو، بین الاقوامی خط و کتابت ہو یا کسی ادارے کے لیے دستاویز تیار کرنا ہو، ہر میدان میں ان کی رہنمائی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ وہ صرف غلطی کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ بہتر متبادل بھی سمجھاتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ ایک ہی بات کو زیادہ مؤثر انداز میں کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جس نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا، اور وہ ان کی تواضع ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کو علم، مقام، شہرت اور قبولیت عطا فرماتے ہیں تو اس مقام پر عاجزی کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن میں نے انہیں بارہا اپنے شاگردوں کی ضروریات کا خیال رکھتے، ان کی خدمت کرتے اور ان کے آرام و سکون کے لیے فکر مند دیکھا ہے۔ ان کے ہاں بڑائی کا معیار منصب نہیں بلکہ خدمت ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب وہ مزدوروں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو مزدور انہیں اپنا آدمی سمجھتے ہیں۔ علماء کے درمیان ہوتے ہیں تو علماء انہیں اپنا ساتھی محسوس کرتے ہیں۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بیٹھتے ہیں تو ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے کہ یہ ہماری زبان سمجھنے والا اور ہمارے ماحول سے واقف انسان ہے۔ یہی کسی شخصیت کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ ہر طبقے کا آدمی اس سے قربت محسوس کرے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں دلوں کو جوڑنے کی بھی ایک خاص صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ ایسے مواقع بھی دیکھنے میں آئے جب اختلافات شدت اختیار کر رہے تھے، لوگ ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوئے تھے، لیکن وہ چند مناسب جملوں، ایک مسکراہٹ اور حکمت بھرے انداز سے ایسی فضا پیدا کر دیتے کہ کشیدگی ختم ہو جاتی اور مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتا۔ اسی طرح مختلف افکار اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد جب ان سے گفتگو کرتے ہیں تو ان کے بہت سے شبہات دور ہو جاتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صرف زبان کی تاثیر ہی نہیں بلکہ دلوں تک پہنچنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی ہے۔
یہ چند مشاہدات ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف آغاز ہے۔ ابھی ان کی شخصیت کے وہ پہلو باقی ہیں جو افراد سازی، تعلقات سازی، عربی زبان کی خدمت، عالمی سطح پر دینی کام، تنظیمی بصیرت، مزاجِ دعوت، حضرت شیخ مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات اور بے شمار دیگر موضوعات سے متعلق ہیں۔ ان شاء اللہ آئندہ اقساط میں ان پہلوؤں کو بھی قارئین کے سامنے لایا جائے گا۔
میں ان تمام حضرات سے بھی درخواست کرتا ہوں جنہیں مولانا ڈاکٹر ولی خان المظفر حفظہ اللہ کی صحبت، شاگردی یا رفاقت کا موقع ملا ہے کہ وہ اپنے مشاہدات قلم بند کریں۔ بڑی شخصیات صرف اپنی ذات نہیں ہوتیں بلکہ ایک فکر، ایک تجربہ اور ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے تجربات کو محفوظ کرنا دراصل آنے والی نسلوں کے لیے روشنی محفوظ کرنا ہے۔
جاری ہے...
*سمیع اللہ عزیز*
فاضلِ درسِ نظامی، پی ایچ ڈی (عربی)
رئیس مجمع اللغۃ العربیہ بباکستان
10 جون 2026ء

20/05/2026

*دینی مدارس میں عربی ماحول کی حقیقی بنیاد مصنوعی محاوروں سے نکل کر علمی عربی کی طرف*

آج دینی مدارس و جامعات میں عربی زبان سیکھنے اور بولنے کا رجحان خوش آئند حد تک بڑھ رہا ہے۔ اساتذہ، معلمات اور طلبہ و طالبات عربی مہارات کی اہمیت کو پہلے سے زیادہ محسوس کررہے ہیں، اور یہ احساس دراصل وقت کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔ لیکن اس میدان میں ایک بنیادی غلطی مسلسل دیکھنے میں آرہی ہے کہ بہت سے ادارے اپنے ماحول، نصاب اور علمی ضرورت سے جڑی عربی کو مضبوط کرنے کے بجائے ایسے محاورات، جملوں اور اسلوب کی طرف بڑھ رہے ہیں جو نہ ان کے تعلیمی ماحول کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی عملی و دعوتی زندگی کا۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم کچھ عرصہ تک دانستہ کوشش کے ذریعے تو ان جملوں کو استعمال کر لیتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ مصنوعی ماحول ختم ہوتا ہے، زبان کی روانی بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ کیونکہ زبان صرف رٹے، نمائشی گفتگو یا وقتی مشق سے زندہ نہیں رہتی بلکہ وہ اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب وہ انسان کی علمی ضرورت، روزمرہ استعمال اور فکری ماحول کا حصہ بن جائے۔

دینی مدارس کے طالب علم کی اصل دنیا اس کا سبق، تدریس، مطالعہ، تکرار، سوال و جواب، فقہی و تفسیری مباحث، اور علمی نشستیں ہیں۔ اس لئے اگر عربی زبان کو حقیقی طور پر زندہ کرنا ہے تو اسی ماحول کی گفتگو، انہی درسی محاورات، انہی علمی تعبیرات اور انہی روزانہ استعمال ہونے والے جملوں کو بنیاد بنایا جائے۔ جب طالب علم اپنے سبق کے اندر استعمال ہونے والی تعبیرات کو بولنا شروع کرتا ہے تو عربی اس کے لئے ایک “سبجیکٹ” نہیں رہتی بلکہ اس کی “علمی زبان” بن جاتی ہے۔

یہی وہ تصور ہے جو پاکستان کے عربی شعبہ جات، یعنی “معہد العربی” کے نظام میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ وہاں اصل توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ عربی طالب علم کی علمی زندگی کا حصہ بنے، نہ کہ صرف نمائشی گفتگو کا ذریعہ۔ اس کے لئے نہ بیرونی کتابوں کے انبار کی ضرورت ہوتی ہے، نہ مہنگے وسائل کی، اور نہ باہر سے بڑی ٹیمیں لانے کی۔ اگر ادارہ درست سمت اختیار کرلے تو اس کے اپنے اساتذہ و معلمات ہی اس ماحول کو بنانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔

عربی ماحول کی حقیقی ابتدا لمبی تقاریر یا مشکل مکالموں سے نہیں بلکہ “شارٹ سوال و جواب” سے ہوتی ہے۔ لیکن یہ سوال و جواب بھی صرف رٹا لگوانے کے انداز میں نہیں، بلکہ اس طرح کہ طلبہ و طالبات کو استفہام، حروفِ استفہام، استفہامیہ جملے بنانے اور عبارت سے سوال اخذ کرنے کا ذوق پیدا ہو۔ جب ایک طالب علم “مَن؟”، “ما؟”، “لِماذا؟”، “أين؟”، “كيف؟” اور “متى؟” جیسے اسالیب کے ذریعے اپنی کتاب کو دیکھنا شروع کرتا ہے تو اس کے سامنے متن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ کھلتا ہے۔

یہ زاویہ صرف گفتگو پیدا نہیں کرتا بلکہ عبارت کو زبان پر جاری کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم یا طالبہ نہ صرف فصیح اللسان بنتے ہیں بلکہ علمی طور پر بھی مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی تعبیر بہتر ہوتی ہے، مطالعہ مضبوط ہوتا ہے، عبارت سے انس پیدا ہوتا ہے، اور بعد میں عوام کے ساتھ دینی و دعوتی رابطہ بھی زیادہ مؤثر ہوجاتا ہے۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ طالب علم چند مصنوعی جملے بول لے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ عربی اس کی علمی سوچ، تدریس، مطالعہ اور روزمرہ ماحول کا حصہ بن جائے۔ جب ادارے اس سمت میں قدم بڑھاتے ہیں تو پھر عربی زبان اضافی بوجھ نہیں رہتی بلکہ پورا ماحول غیر محسوس انداز میں عربی میڈیم کی طرف منتقل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

اگر آپ اپنے تعلیمی ماحول کو تدریج کے ساتھ مکمل عربی ماحول میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو مجمع اللغۃ العربیہ پاکستان کی ٹیم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ وہاں نہ صرف اساتذہ و معلمات کی تربیت، رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کی جاتی ہے بلکہ ایک منظم ماہانہ فالو اَپ نظام کے ذریعے ادارے کے ماحول میں تدریجی اور پائیدار تبدیلی لانے میں بھی مدد دی جاتی ہے۔ ان شاء اللہ جب اساتذہ کی گفتگو، سوال و جواب، تدریسی انداز اور روزمرہ ماحول عربی سے جڑنے لگتا ہے تو غیر محسوس انداز میں طلبہ و طالبات کے اندر نمایاں نکھار پیدا ہوتا ہے، اور وہ بغیر کسی اضافی ذہنی بوجھ کے عربی میڈیم کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
*سمیع اللہ عزیز*
فاضل درس نظامی و پی ایچ ڈی عربی
*03076652006*
5/20/2026

🚀 عربی زبان اب سیکھیں تیز ترین طریقے سے!صرف 1 گھنٹہ روزانہ دے کر فرفر عربی بولنے کا خواب پورا کریں!🔹 50% ڈسکاؤنٹ🔹 ماہر ا...
28/04/2025

🚀 عربی زبان اب سیکھیں تیز ترین طریقے سے!
صرف 1 گھنٹہ روزانہ دے کر فرفر عربی بولنے کا خواب پورا کریں!
🔹 50% ڈسکاؤنٹ
🔹 ماہر اساتذہ
🔹 سرٹیفکیٹ حاصل کریں
🔹 محدود نشستیں!
🌟 ابھی رجسٹر کریں اور عربی بولنے والوں میں شامل ہو جائیں!
🌐 www.quranfamilyclub.net
📞 0307 6652006

08/10/2024

فزیکل تدریس اور LMS کے ذریعے تدریس کا فرق
فزیکل کلاس روم میں تدریس:
- جگہ اور وقت کی پابندی:
فزیکل کلاس روم میں پڑھانے کے لیے ایک مخصوص جگہ اور وقت پر موجود ہونا ضروری ہوتا ہے، اور طلبہ کو بھی اس وقت اور مقام پر موجود ہونا پڑتا ہے۔
- براہِ راست رابطہ:
اساتذہ اور طلبہ کا براہِ راست چہرہ بہ چہرہ رابطہ ہوتا ہے، جس کی بدولت اساتذہ فوراً سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں اور طلبہ کی سمجھ کو فوری طور پر جانچ سکتے ہیں۔
- سہولیات اور وسائل کی ضرورت:
فزیکل کلاس رومز میں تدریس کے لیے اکثر اضافی وسائل جیسے بورڈ، پروجیکٹر، یا دیگر آلات کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس کے لیے ایک مخصوص تدریسی ماحول لازمی ہوتا ہے۔
-حاضری اور پابندی:
کلاس میں باقاعدہ حاضری لینی پڑتی ہے اور طلبہ کی غیر موجودگی میں وہ لیکچرز یا کلاس سے محروم ہو جاتے ہیں۔
LMS (Learning Management System) کے ذریعے تدریس:
- لچکدار وقت اور جگہ:
LMS کے ذریعے تدریس میں آپ کسی مخصوص جگہ یا وقت کے پابند نہیں ہوتے۔ طلبہ کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی اپنی کلاسوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
-آن لائن مواد کی دستیابی:
LMS میں تدریسی مواد جیسے لیکچرز، نوٹس، ویڈیوز، اور اسائنمنٹس ہمیشہ دستیاب ہوتے ہیں، جس سے طلبہ اپنی سہولت کے مطابق پڑھ سکتے ہیں اور اسے بعد میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔
-خودکار گریڈنگ اور فیڈ بیک:
LMS میں خودکار گریڈنگ سسٹمز ہوتے ہیں جو امتحانات اور اسائنمنٹس کی فوری جانچ پڑتال کر کے نتائج فراہم کر دیتے ہیں، جس سے اساتذہ کا کام آسان ہو جاتا ہے۔
- طلبہ کی پیشرفت کی مانیٹرنگ:
LMS میں طلبہ کی پیشرفت کو مسلسل ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ اس سے اساتذہ کو پتہ چلتا ہے کہ کون سے طلبہ کو اضافی توجہ کی ضرورت ہے اور کون سے موضوعات میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔
-انٹرایکٹو فیچرز:
LMS فورمز، کوئزز، آن لائن ڈسکشنز، اور دیگر انٹرایکٹو ٹولز فراہم کرتا ہے، جن سے تدریس میں جدیدیت آتی ہے اور طلبہ کو زیادہ دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔

Address

Multan

Telephone

+923076652006

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quranic Education In Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category