04/05/2026
Super Creative School Of Multan - Reg
SCS Of Multan
04/05/2026
*کلاس روم میں مثبت ماحول پیدا کرنے کے طریقے*
ایک استاد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی کلاس میں ایسا ماحول پیدا کرے جہاں طلبہ سیکھنے میں دلچسپی لیں، خوداعتمادی محسوس کریں، اور عزت و احترام کے اصولوں پر عمل کریں۔
درج ذیل طریقے ایک مثبت تعلیمی ماحول تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
*1. خوشگوار رویہ اور مثبت تعلقات*
استاد کا رویہ خوش اخلاق اور حوصلہ افزا ہونا چاہیے تاکہ طلبہ بغیر کسی خوف کے بات کر سکیں۔
طلبہ کے نام لے کر بلائیں اور ان سے شفقت سے پیش آئیں۔
ان کی رائے کو اہمیت دیں تاکہ وہ خود کو کلاس کا اہم حصہ محسوس کریں۔
*2 . حوصلہ افزائی اور تعریف*
طلبہ کی چھوٹی کامیابیوں پر بھی ان کی تعریف کریں، جیسے "بہت اچھا جواب!" یا "تم نے بہترین محنت کی!"
تعریفی سرٹیفکیٹس، اسٹیکرز، یا کلاس روم میں ان کی کاوشوں کی نمائش کریں۔
*3. احترام اور شمولیت*
ہر طالبعلم کی رائے اور پس منظر کا احترام کریں۔
کسی بھی قسم کی تفریق (Discrimination) یا منفی رویے کی حوصلہ شکنی کریں۔
تمام طلبہ کو کلاس کی سرگرمیوں میں شامل کریں تاکہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔
*4. متحرک اور دلچسپ تدریس*
لیکچر کو یک طرفہ نہ بنائیں، بلکہ سوالات اور مباحثے (Discussions) کو شامل کریں۔
گروپ ورک، عملی سرگرمیوں، اور گیمز کے ذریعے سبق کو دلچسپ بنائیں۔
مختلف سیکھنے کے انداز (Visual, Auditory, Kinesthetic) کے مطابق تدریس کریں۔
*5. مثبت ڈسپلن اور کلاس روم کے اصول*
کلاس میں شروع سے ہی واضح اصول بنائیں اور ان پر سب کو عمل کروائیں۔
سخت سزاؤں کے بجائے نرمی اور رہنمائی سے نظم و ضبط قائم کریں۔
اگر کوئی بچہ غلطی کرے تو اسے تنقید کے بجائے سیکھنے کا موقع دیں۔
*6. محفوظ اور معاون ماحول*
اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر طالبعلم کو بولنے اور سوال کرنے کی آزادی ہو۔
بدمعاشی (Bullying) یا منفی رویوں کو ختم کرنے کے لیے دوستانہ ماحول بنائیں۔
اگر کوئی طالبعلم پریشان نظر آئے تو اس سے ذاتی طور پر بات کریں اور مدد فراہم کریں۔
*7. والدین اور کمیونٹی کا تعاون*
والدین کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ان سے بچے کی تعلیمی پیشرفت پر بات کریں۔
*8. طلبہ کو خودمختاری دینا*
طلبہ کو ذمہ داریاں دیں، جیسے کلاس مانیٹر، گروپ لیڈر، یا کسی تعلیمی سرگرمی کی قیادت کرنا۔
ان سے تجاویز طلب کریں اور ان کے خیالات پر عمل کریں تاکہ وہ خود کو بااختیار محسوس کریں۔
جب ایک استاد ان طریقوں پر عمل کرتا ہے تو کلاس روم میں ایک مثبت، خوشگوار اور نتیجہ خیز تعلیمی ماحول بنتا ہے۔
*مزاج کا علم اور استاد*
*بطور استاد Science of temperament کا علم ہونا کیوں ضروری ہے؟؟؟*
مزاج (Temperament) کسی بھی فرد کے فطری رویے، جذباتی ردعمل، اور سوچنے کے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک استاد کے لیے (Science of Temperament) کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ تدریس، طلبہ کے ساتھ تعلقات، اور کلاس روم کے ماحول پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ اگر ایک استاد اپنے اور طلبہ کے مزاج کو سمجھنے میں مہارت حاصل کر لے، تو وہ زیادہ مؤثر اور مثبت تعلیمی ماحول فراہم کر سکتا ہے۔
1. *طلبہ کی نفسیات اور رویے کو سمجھنے کے لیے:*
ہر طالب علم کا اپنا ایک منفرد مزاج ہوتا ہے، جو اس کی سیکھنے کی صلاحیت، رویے، اور ردعمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
*Sanguine*
*دموی مزاج* : - پُرجوش اور باتونی طلبہ
متحرک اور جلدی سیکھنے والے، مگر آسانی سے توجہ کھو سکتے ہیں۔
انہیں گروپ ایکٹیویٹیز اور تخلیقی سرگرمیوں میں شامل رکھنا ضروری ہے۔
*Choleric*
*صفراوی مزاج:* -ضدی اور قائدانہ صلاحیتوں والے طلبہ
پرجوش، مضبوط رائے رکھنے والے، اور قیادت کرنے کے خواہش مند۔
انہیں چیلنجنگ کام دے کر اور ان کی قیادت کی مہارت کو درست سمت میں استعمال کر کے سنبھالا جا سکتا ہے۔
*Melancholic*
*سوداوی مزاج:* حساس اور سنجیدہ طلبہ
سوچنے والے، تخلیقی، مگر بعض اوقات پریشان یا حساس ہو سکتے ہیں۔
انہیں انفرادی توجہ اور جذباتی سپورٹ دینا ضروری ہے۔
*Phlegmatic*
*بلغمی مزاج:* پُرسکون اور کم بولنے والے طلبہ
نرم مزاج، سست، اور زیادہ مشغول نہ ہونے والے۔
انہیں زیادہ متحرک سرگرمیوں میں شامل کر کے سیکھنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔
اگر استاد طلبہ کے مزاج کو پہچان لے، تو وہ ہر ایک کے مطابق تدریسی حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔
*2. کلاس روم مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے*
اگر استاد اپنے اور طلبہ کے مزاج کو نہیں سمجھتا، تو وہ کلاس روم میں نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔
*سخت گیراستاد:* Choleric اگر بہت زیادہ دباؤ ڈالے تو طلبہ خوفزدہ ہو سکتے ہیں۔
*نرم مزاج:* (Phlegmatic) استاد اگر بہت زیادہ لچکدار ہو تو طلبہ نظم و ضبط کھو سکتے ہیں۔
*پُرجوش:* (Sanguine) استاد اگر حد سے زیادہ باتونی ہو تو کلاس کا فوکس خراب ہو سکتا ہے۔
*سنجیدہ* (Melancholic) استاد اگر بہت زیادہ اصول پسند ہو تو طلبہ کی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایک اچھا استاد اپنے مزاج کو کلاس روم کے مطابق متوازن رکھ کر بہتر تعلیمی ماحول پیدا کر سکتا ہے۔
*3. مؤثر تدریسی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے*
ہر استاد کا تدریسی انداز اس کے مزاج کے مطابق ہوتا ہے، اور اگر وہ اس مزاج کو سمجھ لے تو وہ زیادہ مؤثر طریقے سے پڑھا سکتا ہے۔
*اگر استاد پُرجوش ہے* تو وہ عملی سرگرمیوں، مباحثوں، اور کھیلوں پر مبنی تدریس کو ترجیح دے سکتا ہے۔
*اگر استاد منظم اور سنجیدہ ہے* تو وہ تفصیلی لیکچرز اور تحقیقی کاموں پر توجہ دے سکتا ہے۔
*اگر استاد نرم مزاج ہے* تو وہ زیادہ ہمدردی اور انفرادی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
اگر استاد اپنے مزاج کو پہچان لے، تو وہ اپنی تدریسی حکمت عملی کو زیادہ مؤثر اور طلبہ کے لیے موزوں بنا سکتا ہے۔
*4 . جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کو فروغ دینے کے لیے*
ایک استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات پر قابو پائے اور طلبہ کے احساسات کو سمجھے۔
*تناؤ اور غصے کو کنٹرول کرنا* اگر استاد کو غصہ جلد آتا ہے، تو اسے اپنی جذباتی ذہانت بڑھانے اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
*طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا* بعض طلبہ دباؤ میں بہتر سیکھتے ہیں، جبکہ کچھ کو نرم رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔
استاد کو انفرادی ضروریات کے مطابق حوصلہ افزائی کا انداز اپنانا چاہیے۔
*طلبہ کے مسائل کو سمجھنا* بعض اوقات طلبہ کی بدتمیزی ان کے گھریلو مسائل کی وجہ سے ہوتی ہے، اور استاد کو ان کے رویے کے پیچھے چھپی وجوہات کو سمجھنا چاہیے۔
ایک متوازن اور ہمدرد استاد طلبہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کر سکتا ہے، جو سیکھنے کے عمل میں مدد دیتا ہے۔
*5. طلبہ کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کے لیے*
اگر استاد طلبہ کے مزاج کو سمجھے گا تو وہ ان کے ساتھ زیادہ اچھے تعلقات قائم کر سکے گا۔جیسے:
طلبہ کی شخصیت کا احترام کرنا
ہر ایک کی انفرادی ضروریات کو سمجھنا
منصفانہ اور غیر جانبدار رہنا
مثبت رویہ اور اعتماد پیدا کرنا
جب طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ استاد ان کی شخصیت کو سمجھتا ہے، تو وہ زیادہ محنت اور دلچسپی سے سیکھتے ہیں۔
"Science of temperament"
ایک استاد کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ:
یہ طلبہ کے رویے اور سیکھنے کے انداز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ کلاس روم مینجمنٹ کو زیادہ مؤثر بناتی ہے۔
یہ تدریسی حکمت عملی کو بہتر کرنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ جذباتی ذہانت اور خود آگاہی میں اضافہ کرتی ہے۔
یہ طلبہ کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اگر ایک استاد اپنے اور طلبہ کے مزاج کو سمجھ کر تدریس کرے، تو وہ ایک کامیاب، مؤثر، اور ہردلعزیز معلم بن سکتا ہے!
*پلے گروپ کے سٹوڈنٹس کی نوٹ بُک چیک کرتے وقت یہ ضروری ہے* کہ آپ ان کی ابتدائی سیکھنے کی سطح کو سمجھیں اور انھیں اعتماد اور حوصلہ دیں۔ پلے گروپ کے بچے ابھی سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں، اس لیے ان کی نوٹ بُک چیک کرتے وقت نرمی، حوصلہ افزائی، اور درست رہنمائی اہم ہے۔
پلے گروپ کی نوٹ بُک چیک کرتے وقت جن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
*1. اردو نوٹ بُک*
- *حروف کی پہچان:* بچوں سے یہ چیک کریں کہ وہ اردو کے حروف کو درست طریقے سے لکھ رہے ہیں یا نہیں۔
- *ہجے اور رسم الخط:* ان کی ہجے کی درستگی اور رسم الخط کی صفائی کو دیکھیں۔ پلے گروپ میں بچے ابھی رسم الخط کی درستگی سیکھ رہے ہوتے ہیں، تو زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
- *الفاظ کی نشاندہی:* کچھ بنیادی اردو الفاظ جیسے "کتاب"، "درخت"، "پانی" وغیرہ لکھنے یا پہچاننے کی کوشش کریں۔
- *رنگ بھرنا:* بچوں سے یہ بھی چیک کریں کہ وہ تصاویر یا الفاظ میں رنگ بھرنے کی سرگرمی کو صحیح طریقے سے مکمل کر رہے ہیں۔
- *صفائی:* نوٹ بک کی صفائی اور ترتیب پر بھی نظر رکھیں تاکہ بچے صفائی کی اہمیت سیکھیں۔
*2. انگلش نوٹ بُک*
- *حروف کی پہچان:* بچے انگریزی کے حروف A to Z کو صحیح طریقے سے پہچان رہے ہیں یا نہیں۔
- *رسم الخط:* انگریزی کے حروف کو درست طریقے سے لکھنے کی کوشش کرائیں۔
- *الفاظ کی پہچان:* ابتدائی الفاظ جیسے "cat"، "dog"، "apple" وغیرہ کی پہچان اور لکھائی چیک کریں۔
- - *رنگ بھرنا اور پزل:* انگریزی الفاظ یا تصاویر میں رنگ بھرنے کی سرگرمیاں چیک کریں اور بچوں کو انگریزی کے الفاظ کو ظاہر کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔
- *صوتی پہچان:* بچوں کی آوازوں اور حروف کی آوازوں کی پہچان کو بھی چیک کریں تاکہ وہ الفاظ کی درست آوازیں سیکھ سکیں۔
*3. ریاضی نوٹ بُک*
- *نمبر کی پہچان:* بچوں سے نمبر 1 سے 10 تک کی پہچان اور لکھائی چیک کریں۔
- *نمبرز کا تسلسل:* یہ چیک کریں کہ بچے نمبرز کو صحیح ترتیب میں لکھنے اور پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں یا نہیں۔
- *گنتی:* بچوں سے گنتی کی سرگرمیاں کروائیں، جیسے کہ "کتنے سیب ہیں؟" یا "کتنے بلی ہیں؟" تاکہ وہ گنتی کا صحیح استعمال سیکھیں۔
- *سائز اور شکلوں کی پہچان:* مختلف اشکال جیسے "گول"، "مربع"، "مثلث" کی پہچان اور ان کے بارے میں بات کریں۔
- *رنگ بھرنا اور پزل:* ریاضی کی اشکال یا نمبرز میں رنگ بھرنا بچوں کو تخلیقی انداز میں سیکھنے میں مدد دے گا۔
*4. عمومی باتیں:*
- *حوصلہ افزائی:* بچوں کو بہت زیادہ حوصلہ دیں، ان کی محنت اور کوششوں کی تعریف کریں۔
- *صحیح صفائی:* بچوں کو صفائی کی اہمیت سکھائیں، جیسے کہ کتابوں اور پنسل کی صفائی۔
- *غلطیوں کی درستگی:* غلطیوں کو صحیح طریقے سے درست کریں اور ان کو اچھے طریقے سے سکھائیں تاکہ وہ دوبارہ نہ کریں۔
- *مجموعی ترتیب:* نوٹ بک کی مجموعی ترتیب پر نظر رکھیں، جیسے کہ نوٹ بک کے صفحات کو بہتر طریقے سے ترتیب دینا اور بچوں کی طرف سے کی جانے والی سرگرمیوں کو واضح انداز میں ظاہر کرنا۔
- *5. بچوں کے جذبات کا خیال رکھنا:*
- پلے گروپ کے بچے زیادہ وقت نہیں سیکھتے، تو انہیں کسی بھی غلطی کے لئے تنقید کی بجائے حوصلہ افزائی کے ساتھ اصلاح کرنا بہتر ہے۔
- ان کی محنت کی تعریف کریں تاکہ وہ مزید محنت کرنے کی کوشش کریں۔
*6. بچوں کی توجہ مرکوز کرنا:*
- بچوں کی توجہ اور دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لئے سرگرمیاں دلچسپ اور تخلیقی ہونی چاہئیں۔
- ان کو جیتنے اور کامیاب ہونے کا احساس دلائیں، جیسے کہ اسٹار یا سٹکر لگانا جب وہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔
---
یہ تجاویز آپ کی مدد کر سکتی ہیں تاکہ آپ پلے گروپ کے بچوں کی نوٹ بُک کو مؤثر طریقے سے چیک کریں اور ان کی سیکھنے کی رفتار کو بہتر بنائیں۔
کل سکول بند رہے گا۔
📢 Holiday Notification
– Kashmir Day (February 5) 📢
Dear Parents, Asslam o Alikum!
Government declare 5th February,2025 Wednesday as a public holiday on occasion of KASHMIR SOLIDARITY DAY..
So SUPER CREATIVE SCHOOL will be closed tomorrow.
Regular operations will resume on February 6, 2025.
In sha ALLAH
*بچوں کے موبائل کی نگرانی کیجیے* 👀
*موبائل فون کے غلط استعمال سے اپنے بچوں کو بچائیں---*
▪️ *پلےاسٹور سے Google Family Link for parents نامی اپپ کو ڈاؤنلوڈ کریں۔ من و عن ایپ اپنے بچے کے موبائل میں بھی ڈاؤنلوڈ کریں۔ دونوں ایپ کو ایک ساتھ اوپن کریں۔ اپنے موبائل کو نگران (سپروائزر) قرار دیں۔ پھر جو ہدایات ملیں ان کو مرحلہ وار فالو کریں۔ اس ایپ کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنے بچے کی موبائل سرگرمیوں سے متعلق حسب ذیل باتوں سے کسی بھی وقت آگاہ ہو سکتے ہیں:*
1۔ اس نے کس ویب سائٹ کو اوپن کیا۔
2۔ کس ویڈیو کو دیکھا۔
3- دن بھر کتنی دیر وہ موبائل کے ساتھ چمٹا رہا۔
*نیز ایک اور فائدہ اس ایپ کا یہ ہے کہ جب کبھی آپکا بیٹا کوئی گیم / ایپ ڈاؤنلوڈ کرنے لگے گا یا کسی بھی ویب سائٹ کو دیکھنے (access) کرنے کی کوشش کرے گا تو براؤزر پہلے آپ سے اجازت مانگے گا۔ غرض آپ جن ویڈیوز اور گیمز کی اجازت دیں گے آپ کا بچہ وہی ویڈیو یا گیم یا ویب سائٹ access کر سکتا ہے.*
*نیز آپ جب چاہے،کسی گیم یا ایپ کو جو آپ کے بچے کے موبائل میں ہے، بلاک کر سکتے ہیں۔ جو آپکے بچے کے موبائل سے غائب ہو جائے گا۔ جب تک آپ کی اجازت نہیں ہو گی وہ نہیں کھول سکے گا۔*
▪️ *اسی طرح اپنے کروم براؤزر میں جاکر setting میں جائیں اور safe search filter میں جائیں اور Filter exlicit results کو select کریں۔ اسی طرح ویڈیو میں Do not Autoplay کو select کریں۔*
▪️ *اسی طرح پلے اسٹور میں جائیں، setting میں جائیں اور parental controls کو آن کریں۔*
امید ہے اتنا کرنے سے آپ اور آپ کے بچے کا موبائل نامناسب مواد سے پاک ہو جائے گا ان شاء اللہ۔“
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Multan
Opening Hours
| Monday | 07:00 - 14:00 |
| 16:00 - 19:00 | |
| Tuesday | 07:00 - 14:00 |
| 16:00 - 19:00 | |
| Wednesday | 07:00 - 14:00 |
| 16:00 - 19:00 | |
| Thursday | 07:00 - 14:00 |
| 16:00 - 19:00 | |
| Friday | 07:00 - 13:30 |
| 16:00 - 19:00 | |
| Saturday | 07:00 - 14:00 |
| 16:00 - 19:00 |