Sira Tul Jannat "آنلائن اکیڈمی"

Sira Tul Jannat "آنلائن اکیڈمی"

Share

خَيرُكُم من تعلَّمَ القرآنَ وعلَّمَهُ

21/10/2025

بخار ٹوٹتی ہڈیوں اور خراب گلے سے اپنے بچوں کی تمام کلاسزلینا کافی ہلکا پھلکا کردیتا ہے۔

یہ احساس خود ہی خوشی اور سکون میں مبتلا کردیتا ہے کہ ہم اپنے پیشے سے مخلص ہیں ۔اللہ پاک ہمارے اخلاص کو قبول فرمائے آمین ۔

اللہ پاک میرے تمام بچوں کو صحیح تلفظ تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے والا اور دل میں اتارنے والا نیک صالح بنائے آمین ثم آمین

میرے لیے اور اپنے والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنائے آمین ۔

یہ پوسٹ انباکس میں سوال کرنے والی بہنوں کو ایک جواب ہے کہ بچے کیسے ملتے ہیں؟؟؟؟

جواب:
بچے اخلاص سے ملتے ہیں اللہ سے مانگنے پڑتے ہیں ۔کمانے سے زیادہ اللہ کو تڑپ دکھانی پڑتی ہے تب ملتے ہیں ۔
میرا یہ تجربہ ہے کسی کوکہنے سننے سے جو بچے ملتے ہیں وہ کم ہی ٹھہرتے ہیں ۔لیکن جو ہم. نے اللہ سے مانگے ہوں وہ الحمد للہ قرآن مکمل کرکے ہی جاتے ہیں ۔

آپکی مشکوۃ

#مشکوٰۃعلی

20/10/2025

آنلائن قرآن سیریز..........

دس سے بارہ سالوں میں قرآن پڑھتے پڑھاتے بچوں سے انکے والدین سے واسطہ رہتا ہی ہے۔

ہر بچہ ذہنی اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ہر ایک کا ماحول اور والدین سے ملنے والی تربیت مختلف ہوتی ہے۔
سب سے زیادہ جو چیز اثر ڈالتی ہے وہ والدین کے روئیے ہیں ۔

اچھی سی اچھی فیملیز سے بھی واسطہ پڑا اور نا سمجھ میں آنے والے رویے بھی والدین کے دیکھنے کو ملے۔

کئی تکلیف دہ معاملات بھی ہوئے لیکن استاد سے زیادہ اسکا اثر انکے اپنے بچے کی زندگی پر پڑتا جسکا انکو شاید ادراک ہوتو وہ استاد سے اس طرح کا معاملہ ہی نا کریں۔

اکثر لوگ انباکس میں سوال کرتے ہیں کہ بچے کیسے آنلائن ملتے ہیں؟؟
باہر کے سٹوڈنٹ دے دیں۔یا طریقہ بتادیں؟؟
ہمیں اپنی اکیڈمی میں بطور استاد رکھ لیں ۔
فیس کیسے طے کی جائے؟؟
نئی اکیڈمی بنائی ہے تو اب سٹوڈنٹ اگر ملے تو کیسے ہینڈل کیاجائے؟؟
فیس کس ملک کی کتنی ہوگی؟؟
بیرون ممالک کی فیس وصول کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟؟
فیس مہینے کے شروع میں لی جائے یا آخر میں؟؟
بچہ چھٹی کرے تو فیس نہیں دیتے کیا رد عمل ہونا چاہیے؟؟

ان تمام سوالات کے جواب ان شاءاللہ قرآن سیریز میں دئیے جائیں گے آپ مزید کوئی سوال پوچھنا چاہیں اس متعلق تو کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں پوسٹ کے تھرو اسکا بھی جواب دیا جائے گا ۔

سلامت رہیں ۔



Mishkat Ali

جاری ہے.......

13/10/2025

امام زُفر بن ہذیلؒ امام ابوحنیفہؒ کے جلیل القدر شاگردوں میں سے ہیں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 2 برسوں میں قرآن کریم حفظ کیا تھا۔

وفات کے بعد کسی کے خواب میں آئے تو اس نے پوچھا: آپ کیسے ہیں؟
فرمایا: وہ 2 سال نہ ہوتے تو زُفر ہلاک ہو جاتا۔۔۔۔۔!!!

(شرح مسندابی حنیفہ 1/ 45)

11/10/2025

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔

26/09/2025

ایک آدمی نے یحییٰ بن معاذ رحمہ اللّٰہ کے سامنے یہ آیت پڑھی:

﴿فَقُولا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا﴾
تم دونوں (موسیٰ اور ہارون علیہما السلام) اس (فرعون) سے نرمی سے بات کرنا۔

تو یحییٰ (رحمہ اللّٰہ) رو پڑے اور کہا:

"اے میرے پروردگار! یہ تیرا نرم رویہ اُس شخص کے ساتھ ہے جو یہ کہتا ہے کہ میں خدا ہوں!
تو پھر اُس کے ساتھ تیرا کیسا لطف و کرم ہوگا جو یہ کہتا ہے: تُو ہی میرا خدا ہے؟!
یہ تیرا حلم اُس کے ساتھ ہے جس نے کہا: (أنا ربكم الأعلى) "میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں"
تو سوچو پھر اُس کے ساتھ تیرا فضل و رحم کیسا ہوگا جو کہتا ہے: (سبحان ربي الأعلى) پاک ہے میرا سب سے بلند رب؟

📚 [تفسیر البغوی: جلد 1، صفحہ 274]

26/09/2025

آپﷺ چہرہ انور پہ اکثر مسکراہٹ سجائے رکھتے،چند مواقع پہ کھلکھلا کر ہنسے کہ نواجذ یعنی داڑھیں دکھائی دیں
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️

جمعہ المبارک

19/09/2025

آج کل ہر دوسرا شخص "آن لائن قرآن ٹیچر" بن کر بیٹھ گیا ہے۔
نہ تجوید کا علم، نہ مخارج کی پہچان… بس موبائل آن کیا اور پڑھانا شروع!
نتیجہ؟ بچے قرآن کی آیات غلط پڑھتے ہیں اور یہ گناہ پڑھانے والے اور سیکھنے والے دونوں کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔

یاد رکھیں! قرآن صرف کسی ماہر، مستند اور تجوید جاننے والے استاد سے ہی سیکھیں۔
یہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے، اسے کبھی غیر ماہر کے حوالے نہ کریں۔
سستا ریٹ بعد میں بھول جائے گا… مگر غلط پڑھا ہوا قرآن قبر تک ساتھ جائے گا۔

19/07/2025

میں بہت خوش ہوں..... 🥰🥰🥰🥰الحمد للہ الحمدللہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ صراط الجنت آنلائن اکیڈمی کے تحت

دو بچوں کا نورانی قاعدہ مکمل ہوا ہے ایک کا عم پارہ ۔اور ایک بچے کا قرآن پاک الحمد للہ الحمدللہ

چاروں بچے ہی آنلائن پڑھ رہے ہیں ۔

پہلے بھی بہت سارے بچوں کے نورانی قاعدہ اور قرآن پاک مکمل ہوئے لیکن ایک ساتھ چار بچوں کی الگ ہی خوشی ہے

اللہ پاک عافیت کے ساتھ خیر کے ساتھ بچوں کو مکمل
قرآن پاک کروادے آمین ثم آمین

23/06/2025

ابا جان
بنیامین کو نہیں لا سکے!!
چالیس برس تھوڑا عرصہ تو نہ تھا
لیکن غم بہت بڑا تھا، ایک مرتبہ پھر وہ پرانے گھاؤ تازہ ہو گئے
ایسا لگا کہ اب یعقوب علیہ السلام خود پر ضبط نہیں کر پائیں گے،
سب سے ننھے جگر گوشے کی جدائی کا دکھ____

پر کارکنانِ قضا و قدر نے عجیب منظر دیکھا!!

کوئی ملامت نہیں
کوئی لعن طعن نہیں
نہ ماضی کے گھاؤ کا ذکر
نہ چالیس سالہ فراق کا ذکر
نہ غم سے روتے رہنے کی وجہ سے اپنی بینائی جانے کا دکھ سنایا۔۔۔
نہیں کہا کہ تم نے میرے یوسف کے ساتھ بھی یہی کیا تھا۔۔۔۔

بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
"وھو کظیم"
انہوں نے اپنے غم کا دبا لیا !!
آسان تو نہ تھا تکلیف کے گھونٹ کو خاموشی سے اندر اتار لینا
دل تو ان کا بھی غم و غصے سے پھٹ رہا ہوگا !!
مگر "آہ یوسف" کہتے صرف ایک ٹھنڈی آہ بھری اور منہ پھیر لیا_____

بیٹے تھے، باپ کی تکلیف برداشت نہ کر پائے، احساس ہوا کہ جسے ہم باپ کی نظروں سے دور کرنا چاہ رہے تھے وہ تو آج بھی ہم سب سے زیادہ قریب ہے ______ اب کہ قدرت نے بنیامین کو بھی الگ کر دیا۔۔۔

کہا ابا جان یوسف کے غم میں اتنا نہ گھلیں کے اپنی جان دے بیٹھیں!!!!

وہ نبی تھے۔۔۔
جانتے تھے کہ لعنت ملامت، ڈانٹ ڈپٹ کرنے، اپنی داستان الم کسی تیسرے کو سنانے، اپنے غم کی تشہیر کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔

دکھ ہی دکھ
تکلیف ہی تکلیف !

سو کیا فرمایا؟
فرمایا_______
انما اشکو بثی و حزنی الی اللّٰه ❤️‍🩹
میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اللہ کے حضور کرتا ہوں۔۔۔۔

تمہیں تو کچھ نہیں کہا اور تم کر بھی کیا سکتے ہو۔۔۔
وہ جو کر سکتا ہے اسے سنا رہا ہوں
پوری امید کے ساتھ، اپنا زخمی دل، رستے زخم، سفید آنکھیں، سب اسی کو دکھاتا ہوں۔۔۔۔۔
وہی ہے جو رستے زخموں پر مرہم رکھے گا، آنکھوں کو روشن کرے گا ۔۔۔
کیا ہوا گر غم کی رات لمبی ہے لیکن ایک روز یہ چمکتی صبح میں تبدیل ہو جائے گی، خزاں رسیدہ چمن میں بہار آئے گی، فراق کا غم ملاقات کی شادمانی میں تبدیل ہو جائے گا، حزن و ملال کے سائے رفع ہو جائیں گے، اندھیر آنکھیں روشن ہو جائیں گی_____

پھر جب اس ذات نے یقین کا یہ عالم دیکھا تو اپنی عطاؤں کی بارش کردی، یہی تو محبت ہے
یہی تو تعلق ہے خالق اور مخلوق کا کہ جب انسان معرفت الہی پا لیتا ہے تو مخلوق کی ہمدردی حاصل کرنے کی تمنا نہیں رہتی، خلوت میں رب کے سامنے آنسو بہانا اچھا لگتا ہے اسی کو سب سنانا، اسی سے کہنا اور امیدیں لگانا۔۔۔۔
پھر یہ جو تکلیف ہے نا؟
یہ بھی لطف دینے لگتی ہے کیونکہ اپنے سب سے بڑے ہمدرد اور غمگسار سے بہت ساری گفتگو کرنے کا موقع جو مل جاتا ہے 🖤

ماریہ ارشاد احمد

30/03/2025

تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ

🌙🪄
میرے تمام سٹوڈنٹس اور فرینڈز کو عید مبارک ♥️

30/03/2025

اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ "
آمین ثم آمین

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Multan