Dr Misbah Ahmed

Directions Website Contact the school

Dr Misbah Ahmed Hafiza, Alima Fazla, PhD scholar, Founder & Chairperson GirlsSkillsFoundation, Media activist, Motivational Speaker, Women Mentor
(1)

Ustaza Misbah Ahmed
WhatsApp: 03116644949

 #گرلزسکلزفاؤنڈیشن  کی ایک اور رات…یہ میرے لیے پہلی رات نہیں ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اچانک نائٹ گارڈ غیر حاضر ہو جاتا ہے...
21/09/2026

#گرلزسکلزفاؤنڈیشن کی ایک اور رات…

یہ میرے لیے پہلی رات نہیں ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اچانک نائٹ گارڈ غیر حاضر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر متبادل انتظام کرنا پڑتا ہے، لیکن چونکہ نئے شخص پر فوراً مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہم میں سے کسی ایک کو وہاں ٹھہر کر خود نگرانی کرنا پڑتی ہے۔

اس وقت بھی دو گارڈز ڈیوٹی پر موجود ہیں، مگر وہ نئے ہیں۔ جب تک اعتماد اور اطمینان کی کیفیت پیدا نہ ہو، فاؤنڈیشن کی ذمہ داری مکمل طور پر ان کے حوالے کرنا مناسب نہیں لگتا۔
تعمیراتی سامان کس قدر محنت سے جمع ہوتا ہے۔ ایک ایک چیز کوشش، وسائل اور دعاؤں سے یہاں پہنچتی ہے۔ اسے رات کے وقت یوں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ صرف سامان نہیں، امانت ہے۔

بابا جان کی طبیعت ناساز تھی، انہیں قائل کرنا پڑا:
بابا! ایک تو میں بیٹے کے ساتھ جا رہی ہوں، دوسرا آپ جانتے ہیں کہ میں راتیں ویسے بھی سوتے، جاگتے اور کبھی پڑھتے گزارتی ہوں۔ خود بتائیں جب یہی رات گرلزسکلزفاؤنڈیشن میں مطالعے میں گزرے گی تو کیفیت ہی اور ہوگی… رب کی قربت محسوس ہوتی ہے۔
صرف آج پلیز اللہ کیلئے۔۔ ان شاء اللہ
بالآخر بابا۔۔ بولے استودع اللہ
اور ہم پہنچ گئے۔۔
اب ہمیں مستقل طور پر
دو قوی، امین، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد نائٹ گارڈز کی ضرورت ہے جو اس امانت کی حفاظت پوری ذمہ داری سے سنبھال سکیں۔
یہ صرف ایک عمارت نہیں، ایک امانت کی حفاظت ہے۔
جس کے لیے راتیں بھی جاگنی پڑتی ہیں۔

21/09/2026

وقت گزر جاتا ہے،
ویڈیوز پرانی ہو جاتی ہیں،
مگر نیکیاں محفوظ ہو جاتی ہیں
یہ سفر ایک دو دن کا نہیں، برسوں کا ہے۔
#گرلزسکلزفاؤنڈیشن


#ملتان

آپ کے بچوں کا علم اور عمل زیادہ سے زیادہ اتنا ہی ہوگا جتنا علم و عمل آپ کے پاس ہوگا اور جتنا آپ انہیں سکھائیں گے۔میں اکث...
20/09/2026

آپ کے بچوں کا علم اور عمل زیادہ سے زیادہ اتنا ہی ہوگا جتنا علم و عمل آپ کے پاس ہوگا اور جتنا آپ انہیں سکھائیں گے۔
میں اکثر سوچتی ہوں اگر میرے پاس ہی کچھ نہیں تو میں اپنی اولاد کو کیا دوں گی؟
اگر مجھے عربی پڑھنی نہیں آتی، قرآن پڑھنا نہیں آتا، دین کے بارے میں میرا علم بہت کم ہے، حلال و حرام کی تمیز، عقیدہ، عبادات، اخلاق اور آداب سے میں دور ہوں، تو پھر میرے بچوں کو مجھ سے کیا ملے گا؟
اسی احساس نے مجھے دین پڑھتے، سیکھتے اور سکھاتے رہنے کی طرف متوجہ کیا۔ میرے لیے سیکھنے اور سکھانے کی سب سے بڑی محرکات میں سے ایک اپنی اولاد کے بارے میں یہی احساسِ ذمہ داری ہے۔
ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر شخص اپنی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈالنا چاہتا ہے۔
بچہ مسجد چلا گیا، ذمہ داری امام صاحب کی۔
مدرسے بھیج دیا، ذمہ داری استاد کی۔
اسکول بھیج دیا، ذمہ داری ٹیچر کی۔
قرآن کی کلاس لگا دی، ہیوی فیس بھر دی اب فرض ادا ہوگیا۔
نہیں!
بچوں کا دین، اخلاق، کردار، زبان، حیا، سچائی، نماز سے تعلق، قرآن سے محبت اور اللہ کا خوف یہ سب گھر میں بننا شروع ہوتا ہے۔
اسی لیے اولاد کا والدین پر حق ان کی پیدائش سے بھی پہلے شروع ہوجاتا ہے۔
والدین اپنے لیے ایسا شریکِ حیات منتخب کریں جو ان کی اولاد کے لیے اچھا ماں یا اچھا باپ بن سکے۔
افسوس!
آج شادی کے لیے بڑا گھر، بڑی گاڑی، اچھی آمدنی، خاندان، عہدہ اور ظاہری معیار پہلی اور آخری ترجیح بن گئے ہیں۔
شادی کیلئے یہ سوچ کس کی ہے کہ
کیا یہ شخص میری اولاد کے لیے اچھا باپ بنے گا؟
کیا یہ عورت میری اولاد کے لیے اچھی ماں بنے گی؟
کیا یہ میرے بچوں کو اللہ کے قریب لے جائیں گے؟
کیا ان کے گھر میں قرآن ہوگا؟ نماز ہوگی؟ حیا ہوگی؟ علم ہوگا؟
بڑے گھر اور بڑی گاڑی کا اولاد کی کردار سازی سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں،
البتہ غلط تربیت، غلط ماحول اور غلط ترجیحات کے ذریعے بگاڑ کا راستہ ضرور کھل سکتا ہے۔
آپ کی ذمہ داری یہ نہیں کہ بچوں کو کھانا کھلا دیں، اچھے کپڑے پہنا دیں، مہنگے اسکول میں داخل کر دیں اور ان کے مستقبل کے لیے پیسہ جمع کردیں۔
آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ خود دین سیکھیں۔
خود قرآن سے جڑیں۔
خود نماز کی پابندی کریں۔
خود اپنے اخلاق درست کریں۔
پھر اپنی اولاد کو دین منتقل کریں۔
کیونکہ بچے آپ کی زندگی سے سیکھتے ہیں۔
آپ انہیں سو بار کہیں گے کہ جھوٹ نہ بولو، لیکن اگر وہ آپ کو جھوٹ بولتے دیکھیں گے تو آپ کی سو نصیحتیں ہار جائیں گی۔

آپ انہیں نماز کا کہیں گے، لیکن اگر گھر میں آپ کی اپنی نماز غیر اہم ہے تو بچے الفاظ نہیں، آپ کی ترجیح سیکھیں گے۔

آپ انہیں قرآن پڑھنے کا کہیں گے، لیکن اگر قرآن گھر میں صرف الماری کی زینت ہے تو بچے قرآن کی قدر آپ کی زندگی سے کیسے سیکھیں گے؟

اولاد کو دین سکھانے کے لیے صرف ایک استاد نہیں، ایک دینی ماحول چاہیے۔
اور اس ماحول کا پہلا مدرسہ گھر ہے۔

جس طرح آپ اپنے بچوں کی دنیا کے معاملے میں کسی غیر پر مکمل اعتماد نہیں کرتے، ان کے کھانے، لباس، تعلیم، علاج اور مستقبل کے معاملے میں خود نگرانی کرتے ہیں، ان کے دین کو لاوارث کیوں چھوڑ دیا ہے؟

دنیا کے لیے اتنی فکر اور آخرت کے لیے اتنی بے فکری کیوں؟

بچے کے لیے اسکول ڈھونڈتے ہوئے آپ اساتذہ کی قابلیت دیکھتے ہیں،
لیکن اس کی دینی تربیت کے لیے خود کو کبھی تیار کرنے کی کوشش کی؟

اس کے مستقبل کے لیے لاکھوں خرچ کرسکتے ہیں،
لیکن قرآن سمجھنے کے لیے روزانہ ایک گھنٹہ نہیں نکال سکتے؟

اس کے لیے ٹیوٹر رکھ سکتے ہیں،
لیکن خود ماں یا باپ بن کر دین سیکھنے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے؟

یہ کیسی ترجیحات ہیں؟

یاد رکھیے!

آپ کی اولاد آپ کی محبت کا موضوع ،
یا سوشل سٹیٹس، فیملی سمبل
نہیں
آپ کی امانت اور آپ کی ذمہ داری ہے ۔

آپ یہ نہیں کہہ سکتے:

"مجھے دین نہیں آتا، میں کیا کروں؟"

سیکھیں۔

آپ یہ نہیں کہہ سکتے:

"مجھے قرآن پڑھنا نہیں آتا۔"

آج سے سیکھنا شروع کریں۔

آپ یہ نہیں کہہ سکتے:

"میرے پاس وقت نہیں۔"

پھر سوچیں، جس چیز کے لیے وقت نہیں، وہ آپ کی ترجیحات میں کہاں ہے؟

اپنی اولاد کو دنیا دینے سے پہلے انہیں دین دینے کے قابل بنیں۔

کیونکہ آپ کے بچے آپ سے صرف آپ کا نام، گھر، جائیداد اور بینک بیلنس نہیں لیں گے۔

وہ آپ سے بہت کچھ اور بھی وراثت میں لیں گے:

آپ کا ایمان،
آپ کی عبادت،
آپ کی زبان،
آپ کے اخلاق،
آپ کی ترجیحات،
آپ کا قرآن سے تعلق،
اور آپ کا اللہ کے ساتھ تعلق۔

اپنی اولاد کے دین کو لاوارث نہ چھوڑیں۔

دنیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے کرتے
اپنی اولاد کی آخرت کو منصوبہ بندی سے باہر نہ نکال دیں۔

آج خود سیکھیں،
خود عمل کریں،
اور پھر اپنی اولاد کو سکھائیں۔

کیونکہ کل آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنی اولاد کے لیے کیا بنایا؛
یہ پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنی اولاد کو کیا بنایا؟
#گرلزسکلزفاؤنڈیشن #ملتان #سرائیکی

20/09/2026

مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ کب اللہ تعالیٰ اپنے دین کی دعوت کے لیے مجھے کہاں موقع عطا فرمائے گا۔
میری آن لائن کلاسز اور ادارہ جاتی سرگرمیوں کا ایک طے شدہ شیڈول ہوتا ہے، لیکن علاقائی سرائیکی، بہنوں کے ساتھ اچانک ہونے والی محفلیں میرے پلان اور شیڈول کا حصہ نہیں ہوتیں۔
البتہ میری نیت کا حصہ ضرور ہیں
جہاں میرا رب چاہتا ہے، مجھے خواتین کے کسی مجمع میں بٹھا دیتا ہے، اور پھر وہاں موجود بہنوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے جو بات ضروری محسوس ہوتی ہے، عرض کر دیتی ہوں۔

اور اکثر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ایسے غیر منصوبہ بند مواقع کی افادیت میرے طے شدہ پلان اور شیڈول سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔
یا اللہ! جس طرح تو نے ان مواقع کے دروازے کھولے ہیں، انہیں اپنی بارگاہ میں قبول فرما، ان میں خیر و برکت عطا فرما اور اس معمولی سی کوشش کو اپنے دین کے لیے نافع بنا دے۔
اللهم تقبّل منا، واستعملنا في طاعتك، ولا تستبدلنا۔
#گرلزسکلزفاؤنڈیشن

#سرائیکی
#ملتان

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"لَأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَ...
16/09/2026

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"لَأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لا تَحِلُّ لَهُ"
تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دی جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔
نہ کسی پیر کے لیے، نہ کسی مرید کے لیے،
نہ کسی منسٹر کے لیے، نہ کسی ٹیچر کے لیے،
نہ کسی مولوی کے لیے، نہ کسی رشتے دار حتی کہ بزرگ کے لیے،
نہ کسی لیڈر کے لیے، نہ کسی عام آدمی کے لیے۔
اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان سب کے لیے ہے۔
جو حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا، وہ سب کے لیے ہے اور حق کے سامنے کسی کی کوئی استثنا نہیں۔

15/09/2026

ایک وعدہ جسے رب نے پورا کر دکھایا الحمدللہ!
ستمبر 2025:
Girls Skills Foundation کا یہ ادھورا ڈھانچہ شاید ایک خواب ہی محسوس ہوتا تھا۔

ستمبر 2026:
صرف ایک سال بعد، یہی خواب ایک نمایاں حقیقت بن کر آپ کے سامنے ہے۔
یہ صرف تعمیر نہیں،
اللہ کے فضل، مسلسل محنت اور یقین کا ایک سال ہے۔

اور ان شاء اللہ،
ستمبر 2027 :
یہی جگہ کل آپ کی بیٹیوں کا گھر، ان کے روشن مستقبل کی بنیاد اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگی۔
#گرلزسکلزفاؤنڈیشن

کبھی اللہ تعالیٰ آپ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پیسہ نہیں، اپنا بندہ بھیجتا ہےآج میں آپ سے ایک ایسے ساتھی کی کہانی شیئر کر...
14/09/2026

کبھی اللہ تعالیٰ آپ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پیسہ نہیں، اپنا بندہ بھیجتا ہے

آج میں آپ سے ایک ایسے ساتھی کی کہانی شیئر کرنا چاہتی ہوں، جن کے لیے میں، میرے والدین اور مجھے یقین ہے کہ یہ تحریر پڑھنے کے بعد آپ بھی دعائیں کریں گے، ان شاء اللہ۔

یہ تقریباً دو سال پہلے کی بات ہے، جب گرلز سکلز فاؤنڈیشن کی تعمیر کے حوالے سے ابتدائی پلاننگ ہو رہی تھی۔

ایک دن مجھے پیغام ملا ادارے کے ڈونیشن کے لیے اکاؤنٹ کی تفصیل چاہیے اور ساتھ اپنا تعارف بھی کروایا گیا کہ:

"میں اور میری فیملی آپ کے لیکچرز، خاص طور پر ترجمہ و تفسیر کی کلاسز، اکٹھے بیٹھ کر سنتے ہیں۔"

میرے لیے یہ بات ہمیشہ بہت خوشی کا باعث رہی ہے کہ قرآن صرف مرد یا صرف خواتین الگ الگ نہ سنیں، بلکہ پورا خاندان بیٹھ کر قرآن کو سمجھے۔

کیونکہ گھر اور معاشرے کی اصلاح بھی دونوں نے مل کر کرنی ہے۔ ایک جانب کی اصلاح کافی نہیں؛ جب مرد اور عورت دونوں ایک ہی پیغام کو سمجھتے ہیں تو اس کے اثرات گھر سے لے کر معاشرے تک زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

پھر جب معلوم ہوا کہ یہ صاحب ایک پروفیشنل ایڈووکیٹ ہیں تو میں واقعی چونک گئ وجہ وہی عمومی تاثر جو ہمارے معاشرے میں اس شعبے کے بارے میں پایا جاتا ہے۔

میں نے درخواست کی
"مجھے آپ کے ڈونیشن سے زیادہ آپ کے کام کی ضرورت ہے۔"

اور پھر انہوں نے ادارے کے قانونی معاملات اپنے ذمے لے لیے۔

ادارے کا نام، قانونی منظوری سے لے کر SECP، PCC، بلڈنگ اپروولز اور نہ جانے کتنے مراحل…

لاہور سے ملتان کے سفر، کورٹ کچہری کے معاملات، اسلام آباد کی اپروولز، آن لائن کام، مسلسل رابطے…

اور یہ سب کچھ بغیر کسی فیس کے۔

آج جب ان کی ٹیم اصل دستاویزات لے کر گرلز سکلز فاؤنڈیشن تشریف لائی تو ان کاغذات کو اپنے سامنے دیکھ کر دل سے بے شمار دعائیں نکلیں۔

ٹیم کے سربراہ ایڈووکیٹ میاں عامر بشیر صاحب یہاں موجود نہیں، لیکن لاہور سے بیٹھ کر وہ اور ان کی ٹیم، خصوصاً ایڈووکیٹ حسن صاحب، جس خلوص اور ذمہ داری سے یہ کام کر رہے ہیں، وہ ہمارے لیے واقعی بہت بڑی نعمت ہے۔

اور اگر میں وکالت کے شعبے سے وابستہ اپنے ایک اور مخلص ساتھی ایڈووکیٹ سلمان مظہر کا نام یہاں بیان نہ کروں تو یقیناً یہ ناانصافی ہوگی۔

انہوں نے واپڈا سے متعلق ہمارے ایک اہم معاملے کو جس خوش اسلوبی، محنت اور خلوص سے آگے بڑھایا اور ہمیں ہمارا حق دلانے میں کردار ادا کیا، اس سے ادارے کو واقعی بہت ریلیف ملا۔
میڈیا کے محاذ پر بھی وہ ممدو معاون ہیں
یقیناً یہ ان کے لیے بھی ایک صدقۂ جاریہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ان سب کی محنت، وقت، علم، مہارت اور خلوص کو قبول فرمائے۔

ان کے لیے اور ان کی فیملیز کے لیے اسے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی اولاد اور آنے والی نسلوں کے لیے خیر کا ذریعہ بنائے، اور ان سب کو دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

اور ہمیں بھی ایسے ہی مخلص ساتھی عطا فرماتا رہے جو صرف ادارے کی تعمیر میں نہیں بلکہ اسے اچھے طریقے سے چلانے میں بھی ہمارا ساتھ دیں۔

یاد رکھیے:

اللہ کے کام میں حصہ لینے کے لیے صرف مالدار ہونا ضروری نہیں۔

کبھی آپ کا علم،
کبھی آپ کا وقت،
کبھی آپ کی مہارت،
اور کبھی صرف آپ کا مخلصانہ ساتھ بھی کسی بڑے کام کی بنیاد بن جاتا ہے۔

اگر آپ کے پاس بھی کوئی علم، ہنر، پیشہ ورانہ مہارت یا تجربہ ہے جس کے ذریعے آپ گرلز سکلز فاؤنڈیشن کے اس سفر کا حصہ بن سکتے ہیں تو ہم سے ضرور رابطہ کیجیے۔

شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے بھی اپنے کسی کام کا ایک حصہ لینا لکھا ہو۔
وفقكم اللہ
#گرلزسکلزفاؤنڈیشن

14/09/2026

آج ایک بچے کو دیکھا جو واٹر ٹینکی کی تعمیر میں کام کر رہا تھا، اس کے ہاتھ میں کڑا اور چھلا تھا۔ اسے بلایا، پیار سے سمجھایا اور توحید کی دعوت دی۔
آپ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اس
بچے کے دل کو اپنی طرف موڑ دے، اسے غیروں کی طرف جھکنے سے محفوظ رکھے، اور اسے صحیح عقیدہ اور صحیح علم عطا فرمائے۔گرلزسکلزفاؤنڈیشن صرف تعمیر نہیں؛ توحید بھی، تعلیم بھی، تعمیر بھی ہے الحمدللہ

یہ GirlsSkillsFoundation ہے چھ کنال پر ایسا تعلیمی و تربیتی مرکز، جہاں ان شاء اللہ بچیوں کے لیے تعلیم، تربیت، رہائش اور ...
14/09/2026

یہ GirlsSkillsFoundation ہے
چھ کنال پر ایسا تعلیمی و تربیتی مرکز، جہاں ان شاء اللہ بچیوں کے لیے تعلیم، تربیت، رہائش اور skills کا ایک مکمل ماحول ہوگا۔

اور اس پورے منصوبے میں ایک چیز ایسی ہے جس کے بغیر یہ سب ممکن نہیں…

پانی۔

الحمدللہ، بچیوں کی رہائش اور پورے کیمپس کی ضروریات کے لیے چار بڑے واٹر ٹینکس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
اس وقت ہمیں سیمنٹ کی ضرورت ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دی ہوئی ایک چھوٹی سی contribution پانی میں صدقہ جاریہ کا حصہ بنے
تو
ایک سیمنٹ بیگ بھی اس تعمیر کا حصہ بن سکتا ہے۔
آپ سیمنٹ کے bags براہِ راست پہنچا سکتے ہیں،
یا online اس construction میں اپنا حصہ شامل کر سکتے ہیں۔
یہ صرف ایک واٹر ٹینک نہیں۔
یہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی ایک مستقل سہولت ہے۔

Be a part of something that lasts.
Build. Contribute. Leave a Sadaqah Jariyah.

GirlsSkillsFoundation — Deen • Skills • Knowledge
#گرلزسکلزفاؤنڈیشن

Address

Multan
59300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Misbah Ahmed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dr Misbah Ahmed:

Shortcuts

Share

Category