Baatein Daanai ki
We're trying to build a foundation for developing your social, emotional and intellectual lives . A
کیسے؟ کیسے آپ نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا بھائی ؟ یہ الفاظ محض الفاظ نہیں تھے۔۔ایک دم سے میری آنکھیں نم ہوئیں اور سارا منظر دھندلا گیا۔۔
یہ سین ڈرامہ سیریل پامال کا تھا، جس میں چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے یہ شکوہ کرتا ہے۔۔اور یہی ڈرامے کی پنچ لائن تھی۔۔میں عموماً ڈرامے کو ڈرامہ سمجھ کر ہی دیکھتی ہوں، مگر کچھ مناظر جو حقیقت سے تعلق رکھتے ہیں فوراً رلا دیتے ہیں۔۔ کیوں کہ میں خود اپنے رشتوں یا اپنے شوہر کے رشتوں کے حوالے سے بے حد حساس ہوں۔۔اگر کوئ مشکل میں ہو تو چین نہیں آتا۔۔۔
خون کے رشتے بہت پیارے ہوتے ہیں، بہت مضبوط اور بہت خوبصورت ۔۔زندگی کی بڑی سے بڑی آزمائش میں بھی اس بانڈنگ کو کبھی بی ٹوٹنا نہیں چاہیے۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی کہ ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے، ایک ہی ماں کا دودھ پینے والے، ایک ہی گھر میں پلنے بڑھنے والے بڑے ہوکر کیوں کسی دوسرے (چاہے وہ ان کی بیوی یا شوہر ہی کیوں نہ ہو) کی باتوں میں آکر اپنے سگے رشتوں کو زمانے کے رحم و کرم پر اکیلا چھوڑ کر سکون کی نیند سولیتے ہیں؟ کیسے ؟ ایک ماں جایا تکلیف میں ہے، اسے آپ کی ضرورت ہے، اور آپ بے حس بنے رہیں، اپنی بیوی کے اشاروں پر ناچتے رہیں؟
میں تو ایسوں کو مرد ہی نہیں مانتی کہ جن کے رشتوں کی ساری ڈور ان کی بیویوں کے ہاتھوں میں ہو، بیوی ڈوری ہلاۓ تو کٹھ پتلی کی طرح گلے مل لیں وگرنہ پیٹھ پھیر لیں۔۔۔
بیویاں تو گھروں کو اور رشتوں کوجوڑنے والی ہوتی ہیں، شوہر کے ماں باپ بہن بھائی بھی اتنے ہی پیارے ہوتے ہیں جتنے اپنے سگے بہن بھائی ۔۔اتنا ہی خیال، اتنی ہی رحم دلی اور اتنی ہی محبت ڈیزرو کرتے ہیں۔۔۔اور اگر آپ ایسی نہیں ہیں تو اپنا محاسبہ ضرور کیجئے کہ برا وقت کبھی بھی کسی پر بھی آسکتا ہے۔۔۔
ایک اور بات۔۔جو کہ انتہائی اہم پہلو ہے کہ شوہروں کو بیویوں کو خود مختار بنانا چاہیے۔۔۔ان کی تعلیم ، یا ان کی اسکلز پر کام کرنے دیں۔۔بھلے وہ گھر سے باہر جاب نہیں کریں،اگر گھر میں مسائل بنتے ہیں تو ۔۔لیکن اتنی پراعتماد ضرور ہوں کہ بچوں کے یا گھر کے کاموں کے لیے انھیں باہر نکلنا پڑے تو وہ سہم نہ جائیں۔۔گھر میں گاڑی ہے تو ڈرائیونگ ہرصورت آنی چاہیے۔۔۔بل پے کرنا، گروسری کرنا، پک اینڈ ڈراپ، روز نہ کریں مگر پریکٹس ضرور ہو، وقت کا کچھ پتا ںہیں ہوتا، اور وہ مرد جو بیویوں کو صرف اور صرف اپنے حکم تک ہی محدود رکھتے ہیں چھوئ موئ بنا کر رکھتے ہیں خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں ان کے بچوں کو اور بیوی کو زمانے کے سرد رویوں سے جب واسطہ پڑتا ہے تب شدت سے احساس ہوتا ہے ہے بیٹیوں کا ہر طرح سے خود مختار اور پراعتماد ہونا کتنا ضروری ہے۔۔۔اس مشکل وقت میں پھر سگے رشتے بھی نظریں پھیر لیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آسمان سر پر آکر ٹوٹ پڑا ہے۔۔
اللہ کریم ہر کسی کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور کبھی کسی کو مشکل آزمائش سے نہ گزارے آمین ثم آمین
Copied
08/06/2025
پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم نے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی میٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے ، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری ایسے لی ہے ۔۔۔۔
Feeling silliy.copied
08/06/2025
اس بچے کاحساب بروز حشر دینے والوں کیلئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے💔
لا حول ولا قوه الا بالله
حسبنا الله ونعم الوكيل
08/06/2025
سرمایہ داروں کی تجوریوں اور بینکوں میں پڑا تمام سرمایہ حقیقت میں مزدور کی غیر ادا شدہ اجرت ہے۔۔۔!!
کارل مارکس🖤
07/06/2025
سلطان عبد الحمید اپنی عوام پر "رندا" پھیرنے کی بجائے لکڑی کو تراش کر خوبصورت فن پارے بنایا کرتے تھے۔ ✍️
07/06/2025
تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کے بوجھ میں دبا دیا گیا ہے،تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملنا چاہیے،امیر جماعت اسلامی پاکستان
مزید پڑھیئے: https://www.aaj.tv/news/30464391
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Multan