05/12/2025
کیسے؟ کیسے آپ نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا بھائی ؟ یہ الفاظ محض الفاظ نہیں تھے۔۔ایک دم سے میری آنکھیں نم ہوئیں اور سارا منظر دھندلا گیا۔۔
یہ سین ڈرامہ سیریل پامال کا تھا، جس میں چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے یہ شکوہ کرتا ہے۔۔اور یہی ڈرامے کی پنچ لائن تھی۔۔میں عموماً ڈرامے کو ڈرامہ سمجھ کر ہی دیکھتی ہوں، مگر کچھ مناظر جو حقیقت سے تعلق رکھتے ہیں فوراً رلا دیتے ہیں۔۔ کیوں کہ میں خود اپنے رشتوں یا اپنے شوہر کے رشتوں کے حوالے سے بے حد حساس ہوں۔۔اگر کوئ مشکل میں ہو تو چین نہیں آتا۔۔۔
خون کے رشتے بہت پیارے ہوتے ہیں، بہت مضبوط اور بہت خوبصورت ۔۔زندگی کی بڑی سے بڑی آزمائش میں بھی اس بانڈنگ کو کبھی بی ٹوٹنا نہیں چاہیے۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی کہ ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے، ایک ہی ماں کا دودھ پینے والے، ایک ہی گھر میں پلنے بڑھنے والے بڑے ہوکر کیوں کسی دوسرے (چاہے وہ ان کی بیوی یا شوہر ہی کیوں نہ ہو) کی باتوں میں آکر اپنے سگے رشتوں کو زمانے کے رحم و کرم پر اکیلا چھوڑ کر سکون کی نیند سولیتے ہیں؟ کیسے ؟ ایک ماں جایا تکلیف میں ہے، اسے آپ کی ضرورت ہے، اور آپ بے حس بنے رہیں، اپنی بیوی کے اشاروں پر ناچتے رہیں؟
میں تو ایسوں کو مرد ہی نہیں مانتی کہ جن کے رشتوں کی ساری ڈور ان کی بیویوں کے ہاتھوں میں ہو، بیوی ڈوری ہلاۓ تو کٹھ پتلی کی طرح گلے مل لیں وگرنہ پیٹھ پھیر لیں۔۔۔
بیویاں تو گھروں کو اور رشتوں کوجوڑنے والی ہوتی ہیں، شوہر کے ماں باپ بہن بھائی بھی اتنے ہی پیارے ہوتے ہیں جتنے اپنے سگے بہن بھائی ۔۔اتنا ہی خیال، اتنی ہی رحم دلی اور اتنی ہی محبت ڈیزرو کرتے ہیں۔۔۔اور اگر آپ ایسی نہیں ہیں تو اپنا محاسبہ ضرور کیجئے کہ برا وقت کبھی بھی کسی پر بھی آسکتا ہے۔۔۔
ایک اور بات۔۔جو کہ انتہائی اہم پہلو ہے کہ شوہروں کو بیویوں کو خود مختار بنانا چاہیے۔۔۔ان کی تعلیم ، یا ان کی اسکلز پر کام کرنے دیں۔۔بھلے وہ گھر سے باہر جاب نہیں کریں،اگر گھر میں مسائل بنتے ہیں تو ۔۔لیکن اتنی پراعتماد ضرور ہوں کہ بچوں کے یا گھر کے کاموں کے لیے انھیں باہر نکلنا پڑے تو وہ سہم نہ جائیں۔۔گھر میں گاڑی ہے تو ڈرائیونگ ہرصورت آنی چاہیے۔۔۔بل پے کرنا، گروسری کرنا، پک اینڈ ڈراپ، روز نہ کریں مگر پریکٹس ضرور ہو، وقت کا کچھ پتا ںہیں ہوتا، اور وہ مرد جو بیویوں کو صرف اور صرف اپنے حکم تک ہی محدود رکھتے ہیں چھوئ موئ بنا کر رکھتے ہیں خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں ان کے بچوں کو اور بیوی کو زمانے کے سرد رویوں سے جب واسطہ پڑتا ہے تب شدت سے احساس ہوتا ہے ہے بیٹیوں کا ہر طرح سے خود مختار اور پراعتماد ہونا کتنا ضروری ہے۔۔۔اس مشکل وقت میں پھر سگے رشتے بھی نظریں پھیر لیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آسمان سر پر آکر ٹوٹ پڑا ہے۔۔
اللہ کریم ہر کسی کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور کبھی کسی کو مشکل آزمائش سے نہ گزارے آمین ثم آمین
Copied