30/09/2025
فیصل آباد 25-09-25
01-04-1447 جمعرات دار العلوم انوار مدینہ
الحمدللہ رب العالمین
30/09/2025
فیصل آباد 25-09-25
01-04-1447 جمعرات دار العلوم انوار مدینہ
30/09/2025
فیصل آباد 25-09-25 جمعرات
01-04-1447
30/09/2025
تمام دوست احباب کو عید الفطر مبارک ہو
تقبل اللّٰه منا و منكم صالح الأعمال
02/07/2023
*اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے*
*نصاب* کو *کورس* کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں *بستہ* کے بجائے *بیگ* میں رکھ دی گئیں۔
*ریاضی* کو *میتھس* کہا جانے لگا۔
*اسلامیات* ......
*اسلامک سٹڈی* بن گئی-
*انگریزی کی کتاب* *انگلش بک* بن گئی- اسی طرح .....
*طبیعیات*، *فزکس* میں'
*معاشیات،* *اکنامکس* میں، *سماجی علوم*، *سوشل سائنس*
میں تبدیل ہوگئے-
پہلے *طلبہ پڑھائی کرتے تھے*
اب *اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے*۔
*پہاڑے* یاد کرنے والوں کی اولادیں *ٹیبل* یاد کرنے لگیں۔
*اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔*
*داخلوں کی بجائے* *ایڈمشنز ہونے لگے* ۔....
*اول، دوم، اور سوم* آنے والے *طلبہ*؛
*فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ* آنے والے *سٹوڈنٹ* بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر *انعامات* ملا کرتے تھے پھر *پرائز* ملنے لگے۔
بچے *تالیاں پیٹنے* کی جگہ *چیئرز* کرنے لگے۔
*یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔*
باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔
ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،
*مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے*
*مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے۔*
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، *ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*
*زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔*
*خواب گاہ* کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے *بیڈ روم* کا نام دے دیا۔
*باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے *برتن کراکری کہلانے لگے*۔
*غسل خانہ* پہلے *باتھ روم* ہوا پھر ترقی کر کے *واش روم* بن گیا۔
*مہمان خانہ یا بیٹھک* کو اب *ڈرائنگ روم* کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں *پہلی منزل* کو *گراونڈ فلور* کا نام دے دیا گیا اور *دوسری منزل* کو *فرسٹ فلور۔*
*دروازہ* اب *ڈور* کہلایا جانے لگا،
پہلے مہمانوں کی آمد پر *گھنٹی* بجتی تھی اب *ڈور بیل* بجنے لگی۔
*کمرے* کب کے *روم* بن گئے۔
کپڑے *الماری* کی بجائے *کپبورڈ* میں رکھے جانے لگے۔
*"ابو جی" یا "ابا جان"* جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف *ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے* کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح ....
*شہد کی طرح میٹھا* لفظ *"امی" یا امی جان* اب تو *"ممی" اور مام* میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
*چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ* سب کے سب *ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی"* میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی *محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔*
ساری *عورتیں* *آنٹیاں*، بن گیٸں
*چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی* سب کے سب *کزنس* میں تبدیل ہوگئے،
*نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی*۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ *گھروں میں کام کرنے والی خواتین* پہلے بھی *ماسی* کہلاتی تھیں اب بھی *ماسی* ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
*دکانیں, شاپس* میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر *گاہکوں کی بجائے کسٹمرز* آنے لگے،
آخر کیوں نہ ہوتا کہ *دکان دار بھی تو سیلز مین* بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے*خریداری* چھوڑ دی اور *شاپنگ* کرنے لگے۔
*سڑکیں* , *روڈز* بن گئیں۔
*کپڑے* کا بازار *کلاتھ* مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے *مذکر کو مونث بنادیا گیا*۔
*کریانے* کی دکان نے *جنرل اسٹور* کا روپ دھار لیا،
*نائی* نے *باربر* بن کر *حمام* بند کردیا اور *ہیئر کٹنگ سیلون* کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا *دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی*، وہ اب *آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے*
اور جو کبھی *صاحب* تھے وہ *باس* بن گئے ہیں،
*بابو* بن گئے *کلرک* اور *چپراسی* بن گئے *پِیُّٶن*
پہلے *دفتر کے نظام الاوقات* لکھے ہوتے تھے . ...... اب *آفس ٹائمنگ* کا بورڈ لگ گیا-
*سود* جیسے قبیح فعل کو *انٹرسٹ* کہا جانے لگا۔
*طوائفیں* تو کب کے *آرٹسٹ* بن گئیں
اور
*محبت* کو *لَوّ* کا نام دے کر محبت کی ساری *چاشنی اور تقدس* ہی چھین لیا گیا۔
*صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے*۔
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔
*اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-*
اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ *ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔منقول
16/08/2022
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ ﷽
اِقۡرَأۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ
Hafiz Ghulam Abbas الحمدللہ رب العالمین