Hafiz Ghulam Abbas

Hafiz Ghulam Abbas

Share

الحمدللہ رب العالمین

Photos from Hafiz Ghulam Abbas's post 30/09/2025

فیصل آباد 25-09-25
01-04-1447 جمعرات دار العلوم انوار مدینہ

30/09/2025

فیصل آباد 25-09-25 جمعرات
01-04-1447

30/09/2025
10/04/2024

تمام دوست احباب کو عید الفطر مبارک ہو

تقبل اللّٰه منا و منكم صالح الأعمال

02/07/2023

*اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے*

*نصاب* کو *کورس* کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں *بستہ* کے بجائے *بیگ* میں رکھ دی گئیں۔

*ریاضی* کو *میتھس* کہا جانے لگا۔

*اسلامیات* ......
*اسلامک سٹڈی* بن گئی-

*انگریزی کی کتاب* *انگلش بک* بن گئی- اسی طرح .....
*طبیعیات*، *فزکس* میں'
*معاشیات،* *اکنامکس* میں، *سماجی علوم*، *سوشل سائنس*
میں تبدیل ہوگئے-

پہلے *طلبہ پڑھائی کرتے تھے*
اب *اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے*۔

*پہاڑے* یاد کرنے والوں کی اولادیں *ٹیبل* یاد کرنے لگیں۔

*اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔*

*داخلوں کی بجائے* *ایڈمشنز ہونے لگے* ۔....
*اول، دوم، اور سوم* آنے والے *طلبہ*؛
*فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ* آنے والے *سٹوڈنٹ* بن گئے۔

پہلے اچھی کارکردگی پر *انعامات* ملا کرتے تھے پھر *پرائز* ملنے لگے۔

بچے *تالیاں پیٹنے* کی جگہ *چیئرز* کرنے لگے۔

*یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔*

باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔
ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،

*مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے*
*مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے۔*

اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، *ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*

*زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔*
*خواب گاہ* کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے *بیڈ روم* کا نام دے دیا۔

*باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے *برتن کراکری کہلانے لگے*۔

*غسل خانہ* پہلے *باتھ روم* ہوا پھر ترقی کر کے *واش روم* بن گیا۔

*مہمان خانہ یا بیٹھک* کو اب *ڈرائنگ روم* کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔

مکانوں میں *پہلی منزل* کو *گراونڈ فلور* کا نام دے دیا گیا اور *دوسری منزل* کو *فرسٹ فلور۔*

*دروازہ* اب *ڈور* کہلایا جانے لگا،
پہلے مہمانوں کی آمد پر *گھنٹی* بجتی تھی اب *ڈور بیل* بجنے لگی۔

*کمرے* کب کے *روم* بن گئے۔
کپڑے *الماری* کی بجائے *کپبورڈ* میں رکھے جانے لگے۔

*"ابو جی" یا "ابا جان"* جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف *ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے* کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح ....
*شہد کی طرح میٹھا* لفظ *"امی" یا امی جان* اب تو *"ممی" اور مام* میں تبدیل ہو گیا۔

سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
*چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ* سب کے سب *ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی"* میں تبدیل ہوگئے۔

بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی *محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔*

ساری *عورتیں* *آنٹیاں*، بن گیٸں

*چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی* سب کے سب *کزنس* میں تبدیل ہوگئے،
*نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی*۔

نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ *گھروں میں کام کرنے والی خواتین* پہلے بھی *ماسی* کہلاتی تھیں اب بھی *ماسی* ہی ہیں۔

گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
*دکانیں, شاپس* میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر *گاہکوں کی بجائے کسٹمرز* آنے لگے،
آخر کیوں نہ ہوتا کہ *دکان دار بھی تو سیلز مین* بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے*خریداری* چھوڑ دی اور *شاپنگ* کرنے لگے۔

*سڑکیں* , *روڈز* بن گئیں۔

*کپڑے* کا بازار *کلاتھ* مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے *مذکر کو مونث بنادیا گیا*۔

*کریانے* کی دکان نے *جنرل اسٹور* کا روپ دھار لیا،
*نائی* نے *باربر* بن کر *حمام* بند کردیا اور *ہیئر کٹنگ سیلون* کھول لیا۔

ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا *دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی*، وہ اب *آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے*
اور جو کبھی *صاحب* تھے وہ *باس* بن گئے ہیں،
*بابو* بن گئے *کلرک* اور *چپراسی* بن گئے *پِیُّٶن*

پہلے *دفتر کے نظام الاوقات* لکھے ہوتے تھے . ...... اب *آفس ٹائمنگ* کا بورڈ لگ گیا-

*سود* جیسے قبیح فعل کو *انٹرسٹ* کہا جانے لگا۔
*طوائفیں* تو کب کے *آرٹسٹ* بن گئیں
اور
*محبت* کو *لَوّ* کا نام دے کر محبت کی ساری *چاشنی اور تقدس* ہی چھین لیا گیا۔
*صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے*۔

کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔

*اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-*

اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ *ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔منقول

Hafiz Ghulam Abbas 16/08/2022

بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ ۝﷽
اِقۡرَأۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ۝

Hafiz Ghulam Abbas الحمدللہ رب العالمین

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Multan
60000