..... ُمتِ_مسلمہ_تاریخ_کی_نئی_کتاب.....
تقریظ و تبصرہ: مفتی محمد تقی عثماؔنی
حمد و ستائش اُس ذات کے لئے ہے' جس نے اِس کارخانۂ عالم کو وُجود بخشا
اَور
دُرُود و سلام اُس کے آخری پیغمبرؐ پر' جنہوں نے دُنیا میں حق کا بول بالا کیا
عرصۂ دَراز سے جب کوئی شخص یہ پوچھتا تھا کہ اُردُو میں مسلمانوں کی تاریخ پر سب سے زِیادہ مستند کتاب کون سی ہے؟ تو جواب دینے میں ہمیشہ تامل ہوتا تھا۔ اس لئے نہیں کہ تاریخ پر کوئی کتاب موجود نہیں تھی، بلکہ اِس وَجہ سے کہ تاریخی رِوایات کے ملبے سے گوہرِ مقصود تلاش کرنے کا کام بڑی محنت کا متقاضی تھا، اَور مروَّجہ توارِیخ اِس باب میں کمزور ضرور تھیں۔ جناب مولانا معین الدین ندوؔی صاحب رحمة اللہ علیہ کی کتاب یقینا قابلِ قدر ہے، جس کی بنا پر میسر کتابوں میں اُس کی طرف نظر سب سے پہلے جاتی ہے۔ اِسی طرح مولانا اَکبر شاہ خان نجیب آبادؔی صاحب کی تاریخِ اِسلام بھی بہت مشہور ہے۔ لیکن اِن دونوں میں ”رِوایات کی تنقیح مطلوب“ معیار کی
نہیں۔
صورتِ حال یہ ہے کہ علمِ تاریخ کو باقاعدہ علم کی صورت دینے کا سہرا مسلمان علماء کے سَر ہے، اِس موضوع پر جن حضرات نے کتابیں لکھیں، اُن میں ”اِمام محمد بن جریر طبرؔی رحمة اللہ علیہ“ کی "تاریخ الاُمم و الملوک" بعد کے مؤرِّخین کا سب سے بڑا مآخذ رہی ہے۔ لیکن جس طرح محدثین نے اِبتداء میں اَپنا فرضِ منصبی یہ قرار دیا تھا کہ وہ پہلے ایک مرتبہ اُن تمام رِوایات کو جمع کر دیں' جو اُنہیں سند کے ساتھ پہنچی ہیں۔ اُس کے بعد جرح و تعدیل کے اَئمہ اَور حدیث کے نقاد آئے۔ تو اُنہوں نے اُن تمام اَسانید کا رِوَایَةً وَ دِرَایَةً جائزہ لے کر یہ بات تقریباً متعین کردی کہ اُن میں سے کون سی حدیث رِوَایَةً وَ دِرَایَةً مستند اَور قابلِ اِعتبار ہے، اَور کون سی ناقابلِ اِعتبار۔ اِس طرح حدیث کا علم پوری تحقیق کے ساتھ مدوَّن ہو گیا۔ جس کی اَسنادِی حیثیت اَئمۂ حدیث کے اَقوال اَور اسماءُ الرِّجال کی کتابوں سے باآسانی پہچانی جاسکتی ہے۔
علمِ تاریخ میں یہ کام کچھ حضرات مثلاً حافظ اِبنِ کثیر وغیرہ نے شروع تو کیا، لیکن اِسے پوری طرح پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔
اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو رِوایات تارِیخ کی اِبتدائی کتابوں، اَور بالخصوص تاریخِ طبری میں آگئی تھیں، بعد کے حضرات نے فی الجملہ اُنہی پر اِعتماد کیا۔ حالانکہ حافظ اِبنِ جریر طبرؔی رحمتہ اللہ علیہ نے اِنتہائی دِیانت و اَمانت اَور صاف گوئی کے ساتھ اَپنی تاریخ کے شروع ہی میں فرما دیا تھا کہ:
فما في كتابي هذا من خبر يستنكره قارئه او يستشنعه سامعه من أجل أنه لم يعرف له وجها في الصحة فليعلم أنه لم يؤت ذلك من قبلنا ، انما أتى من قبل ناقليه . انا الما ادينا ذلك على نحو ما أدى البنا (تاریخِ طبری ۷/۱ و ۸)
"میری اِس کتاب میں جو بھی رِوایت ایسی ہو' جسے پڑھنے والا عجیب سمجھے، یا اُس کا سننے والا اُسے بُرا سمجھے؛ کیونکہ اُس کی صحت کی کوئی وجہ سمجھ میں نہ آتی ہے، تو اُسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ بات ہم اَپنی طرف سے نہیں لائے، بلکہ اُسے کچھ نقل کرنے والوں سے لیا گیا ہے۔.....ہم نے تو وہ خبر اُسی طرح پہنچادی ہے۔ جس طرح وہ ہم تک پہنچی"۔
اِس سے صاف واضح ہے کہ اِمام طبرؔی کا اَصل مقصد رِوایات جمع کرنا تھا۔ اُن میں کون سی غلط ہے اَور کون سی صحیح؟.....اِس کی تفصیل میں جانا اُن کے مقصدِ تألیف سے باہر تھا، اَور اِس میں غلط اَور صیح کا اِمتیاز کرنا اُنہوں نے اَپنے بعد کے اَہلِ علم و نقد کے لئے چھوڑ دیا تھا۔
لیکن اَفسوس ہے کہ رِوایات کی چھان پھٹک کا یہ کام صحیح طریقہ سے پھر نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری تاریخ کے نام پر ایسی باتیں مشہور ہوگئیں، جو نہ صرف رِوایت و دِرایت کے لحاظ سے غلط تھیں، بلکہ اُن سے قُرونِ اُولیٰ کی جو تصویر سامنے لائی گئی، وہ اُن کے مجموعی کردار کے لحاظ سے کسی طرح مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ اَور اِس کی بناء پر صحابہ کرام کے مشاجرات کے سلسلے میں غلط بلکہ گمراہانہ نظریات پھیل گئے، جو ایک طرف اِفراط اَور دُوسری طرف تفریط کے حامل تھے۔
اِس لئے یہ علمائے اُمّت کے ذِمّے قرض تھا کہ وہ تاریخی رِوایات کی چھان پھٹک کر کے ایک ایسی تاریخ مرتَّب کریں، جس میں نقلِ محض کے بجائے تحقیق و تفتیش کا طریقہ اِختیار کرتے ہوئے حتی الاِمکان صرف صحیح رِوایات کو بنیاد بنایا جائے۔ اَور غلط یا ضعیف رِوایتوں کی تردید کی جائے۔
لیکن اِس قرض کو اُتارنے کے لئے اَعلیٰ قابلیت، نہ صرف تاریخ، بلکہ اَحادیث و آثار اَور اسماءُ الرِّجال پر گہری نظر، اَور اِس سب کے ساتھ اِعتدال و توازُن اَور عقیدے کی پختگی اَور عزم و ہمت اَور اِستقلال کے ساتھ کام کرنے کا طویل وَقت دَرکار تھا۔ اِس لئے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ قرض کون اُتارے گا؟
کچھ عرصہ پہلے جامعۃُ الرَّشید کے تاریخ کے اُستاذ مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ تاریخ پر اِس قسم کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ اِس خبر سے ایک طرف خوشی بھی ہوئی، اَور دوسری طرف یہ تردُّد بھی کہ کیا وہ اِس کام کا حق اَدا کر سکیں گے۔ لیکن اِس فاضل نوجوان نے چند ہی سال کے بعد اَپنے اِس کارنامے کی تین جلدیں "تاریخِ اُمَّتِ مسلمہ" کے نام سے میرے پاس بھیجیں۔ آجکل اَسفار و اَشغال کے ہجوم میں مجھے اَپنے شوق کی کتابیں پڑھنے کا موقع بہت کم ملتا ہے، لیکن اس کتاب نے مجھے کچھ عرصے کے لئے گرفتار کر لیا۔ میں نے خاص طور پر حضرت ”عثمان رضی اللہ عنہ سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زَمانے کے حالات“ تک یہ کتاب بالاِستیعاب دیکھی۔ اَور میری خوشی کی اِنتہا نہ رہی کہ اللہ تعالی کے خاص فضل و کرم سے ”تاریخِ اُمَّتِ اِسلامیہ کے اُس نازُک دَور“ کے بارے میں اِنہوں نے جس طرح رِوایات کی تحقیق کر کے اُس جھاڑ جھنکاڑ سے حقیقت کا اِستخراج کیا ہے، وہ اِن پر اللہ تعالی کی رَحمت کا خصوصی فیضان ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام "بلا اِستثناء" اُمت کے وہ عمائد ہیں، جنہیں اَنبیائے کرام علیہم السلام کے بعد اَفضلیت کا وہ مرتبہ حاصل ہے، جو کسی بڑے سے بڑے ولی اللہ کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ "اَلصَّحابةُ كلهم عَدُول" محض ایک اَندھا عقیدہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے' جس کی گواہی قرآن کریم اَور اَحادیثِ نبویہ (عَلیٰ صَاحِبِهَا السَّلام) نے دی ہے۔ جو حضرات "ضعیف رِوایتوں" کی بنیاد پر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اَجمعین کے خلاف زَبانِ طَعن دَراز کرتے ہیں، وہ دَرحقیقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بدگمانی پیدا کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو "وَیُزَکِّیْھِمْ (القرآن)" کا جو فرض اللہ تعالیٰ نے سونیا تھا، (اَور جس کا ذکر قرآنِ کریم نے چار مقامات پر فرمایا ہے) معاذَ اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی اَدائیگی میں ناکام رہے، اَور اُنہیں حُبِّ اِقتدار اَور محبتِ مال سے خالی نہ کر سکے۔ صحابہ کرام کے تزکیہ کے بارے میں قرآن و سنت کے واضح اِرشادات کے مقابلے میں کمزور تاریخی رِوایات پر اِعتماد کرنا عقل و اِنصاف کی کسی منطق پر پورا نہیں اُترتا۔
کہا جاتا ہے کہ جن کمزور راویوں کو صحابۂ کرام پر تنقید کے بارے میں ناقابلِ اِعتماد قرار دیا جاتا ہے، اُنہی پر تاریخ کے دُوسرے واقعات کا دار و مدار ہے۔ اَور اَگر اُن کی رِوایات کو ناقابلِ اِعتماد قرار دیا جائے' تو پوری کی پوری تاریخ کو رَد کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ بات کہنے والے اِس بدیہی حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ زِندگی کے عُمومی واقعات' جن سے نہ کوئی عقیدہ متاثر ہوتا ہے، نہ کسی مسلم (اَور تسلیم شدہ) حقیقت کی نفی ہوتی ہے، اَور نہ رَاوی کے اَپنے نظریات کی تائید ہوتی ہے۔ اُن میں کسی کمزور رَاوی کی بات فی الجملہ قابلِ قبول ہو سکتی ہے، لیکن جب وُہی رَاوی اَپنے کسی باطل نظریے کی واضح یا مخفی اَنداز میں تائید کے لئے کوئی ایسا قصہ بیان کرتا ہے' جو کسی مسلم (اَور تسلیم شدہ) حقیقت کے خلاف ہو، تو اُس کی بات کو کیسے تسلیم کر لیا جائے؟
اِس کی مثال یہ ہے کہ آپ اَخبار میں روزانہ اِس قسم کی خبریں پڑھتے ہیں کہ فلاں مقام پر ٹرین کا کوئی حادثہ ہو گیا، فلاں جگہ بس اُلٹ گئی، فلاں جگہ سردی شدید ہوگئی، تو آپ کو اِس تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی کہ اَخبار کا یہ رِپورٹر کتنا قابلِ اِعتماد ہے۔ لیکن اَگر وُہی رِپورٹر ملک کی کسی ممتاز شخصیت کے بارے میں "جسے بحیثیتِ مجموعی شریف سمجھا جاتا ہو" یہ خبر دے کہ اُس نے فلاں سے رِشوت لی ہے، تو ایک عام اِنسان بھی خبر کو دُرُست باور کرنے سے پہلے رِپورٹر کی سچائی اَور اُس کے رُجحانات کا جائزہ ضرور لے گا، اَور مضبوط شواہد کے بغیر صرف اُس کی خبر پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔
عجیب بات یہ ہے کہ یہ بدیہی قاعدہ صحابۂ کرام کے بارے میں یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے، اَور کہا جاتا ہے کہ تاریخ میں کوئی کمزور سے کمزور رَاوی بھی کسی صحابی کی طرف کوئی بد عملی منسوب کرے' تو اُسے ضرور صحیح سمجھو، اَور اُس کے حالات و نظریات کی تحقیق ممنوع ہے۔
مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب نے اِس کتاب میں مذکورہ بالا اُصول کو جس محققانہ اَنداز میں مَدِّ نظر رکھ کر قُرونِ اُولیٰ کی تاریخ مرتَّب کی ہے، وہ اُن کا تجدیدی کارنامہ ہے۔ اِس کام کے لئے اُنہوں نے تمام میسَّر مواد کو چھان کر اَور ہر طرح کی رِوایات کا دِقَّتِ نظر سے جائزہ لے کر واقعات کو اِس منطقی ترتیب سے بیان کیا ہے کہ اُن میں کوئی خلا محسوس نہیں ہوتا۔
دُوسری توارِیخ کی طرح فاضل مؤلف نے اِس تاریخ کو بھی حضرت آدم علیہ السلام اَور پچھلے انبیائے کرام سے شروع کیا ہے، پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ، خلفائے رَاشدین، خِلافتِ بنواُمیہ اَور خِلافتِ بنوعباس کے حالات موجودہ تین جلدوں میں بیان فرمائے ہیں۔ تارِیخی حالات کے علاوہ ہر دَور کی متاز علمی اَور دِینی شخصیات کا بہترین تعارُف کرایا ہے، جس سے پڑھنے والے کو معلومات کا مستند ذخیرہ حاصل ہوتا جاتا ہے۔
عام طور سے ہماری موجودہ توارِیخ بادشاہوں کے حالات اَور جنگی مہمات پر زِیادہ زَور دیتی ہیں، اَور اُس دَور کے معاشی، معاشرتی، ترقیاتی اَور تمدُّنی حالات کا بیان اِہتمام کے ساتھ نہیں ہوتا۔ فاضل مصنف سے گذارش ہے کہ وہ اَپنی تارِیخ میں اِس پہلو پر بھی خصوصی توجہ دیں۔
اِس کتاب کا ایک اَور اچھا پہلو یہ ہے کہ اِس کا نام "تاریخِ اِسلام" کے بجائے ”تاریخِ اُمَّتِ مسلمہ“ ہے۔ "تاریخِ اِسلام" نام رکھنے سے شُعُورِی یا غیر شُعُوری طور پر یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ تاریخ میں جو کچھ بھی ہے' وہ اِسلام کا تقاضا ہے۔ اِس کے نتیجے میں بہت سے بادشاہوں کا کردار بھی اِسلام کی طرف منسوب ہو جاتا ہے۔ اِس کے برعکس " تاریخِ اُمتِ مسلمہ" کے عنوان ہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ مسلمانوں کی تاریخ ہے، اَور اُن کے ہر عمل کو اِسلام کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
بہر کیف! اِس جلیلُ القدر تألیف پر ہم مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب کو تہِ دِل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اُمتِ مسلمہ کی لائبریری کے ایک بہت بڑے خلا کو پُر کیا ہے، جو "کم ترک الاول للآخر" کا مصداق ہے۔
ہماری رائے میں یہ کتاب ایسی ہے کہ اِس کا عربی اَور اَنگریزی میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے۔ اَبھی تین جلدیں منظرِ عام پر آئی ہیں، اَور فاضل مؤلف آگے کا حصہ بھی لکھ رہے ہیں، ہماری دُعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اِن کے ہاتھوں عصر ِحاضر کا یہ عظیم کارنامہ بخیر وخوبی پورا فرما ئیں۔ آمین۔
محمدتقی عثمانی
جمادی الاولی ۱۴۴۱ھ
جنوری 2020ء
☆☆☆
تاریخ امت مسلمہ_Tareekh
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from تاریخ امت مسلمہ_Tareekh, تاریخ, Multan.
’’تاریخ اُمتِ مسلمہ‘‘
تاریخ کے رطب و یابس میں سے صحیح تاریخ کی چھانٹی
#تحریرمحمدجہانگیرلاشاریؔ
تعلق واسطے والے اَحباب اکثر و بیشتر ایک سوال کرتے تھے کہ تاریخ کے موضوع پر اُردو کی کونسی کتاب پڑھنی چاہئے‘ جس میں اِنسانی تاریخ اَور خاص کر اِسلامی تاریخ کو صحیح طریقے سے بیان کیا گیا ہو؟
اَور سچی بات تو یہ ہے کہ اِس سوال کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ کیونکہ خاص کر اُردو میں تاریخ پر ایسی کوئی بھی کتاب اَب تک نہیں لکھی گئی تھی‘ جس میں سچ اَور جھوٹ کو الگ الگ کرکے پڑھنے والے کیلئے آسانی پیدا کی گئی ہو‘ بلکہ اگر سچ کہوں‘ تو ایسا کام عربی میں بھی اَب تک نہیں ہوا تھا۔
جس طرح محدثین نے اَحادیثِ مبارکہ میں چھانٹی کرکے صحیح اَور ضعیف اَور موضوع اَحادیث کو الگ الگ کرکے پڑھنے والوں کیلئے آسانی پیدا کردی کہ کوئی بھی اَحادیث کی کتابوں میں سے صحیح حدیث کی کتاب اُٹھا کر اِس یقین سے پڑھ سکتا ہے کہ یہ بات بالیقین میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ ہے، اَور اِس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ حالانکہ موضوع اَور من گھڑت اَحادیث تو اَحادیث کی اَولین کتابوں میں بھی موجود ہیں‘ مگر بعد والے محدثین نے اِس پر باقاعدہ زِندگیاں کھپائیں، اَور صحیح اَحادیث اَور موضوع رِوایات کو الگ الگ کردیا۔ جن میں اِمام بخاری کی بخاری شریف، اِمام مسلم کی مسلم شریف، اِمام تِرمذی کی تِرمذی شریف، اِمام اَبوداؤد کی اَبوداؤد شریف وغیرہ صِحاح سِتہ کے نام سے مشہورِ زمانہ ہیں‘ جن کے بارے میں بِالقطعِ وَالْیقین (پورے یقین کے ساتھ)یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اِس میں کہا گیا مفہوم سوفیصد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد اَور بیان فرمودہ ہے۔ اَولین محدثین بھی یہ کام کرسکتے تھے‘ مگر اُن کے پیشِ نظر ایک اَور ضروری اَمر تھا‘ جس کی وجہ سے اُنہوں نے صحیح، ضعیف اَور موضوع (یعنی من گھڑت، اَور جھوٹی) ہر قسم کی حدیث کواَپنی کتاب میں جمع کرلیا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ اگر وہ اُس وقت من گھڑت اَور جھوٹی حدیثوں کو کتابوں میں جمع کرکے اِس پر روک نہ لگاتے‘ تو یہ سلسلہ کبھی نہ رُکتا، اَور آج تک نئی اَور جھوٹی حدیثیں گھڑنے کاکام چل رہا ہوتا۔ وہ اِس طرح کہ اگر محدثین اُس وقت تمام اَحادیث کو جمع نہ کرلیتے‘ جس میں جھوٹی سچی ہر قسم کی اَحادیث شامل ہیں، بلکہ وہ صرف صحیح اَحادیث کو جمع کرتے‘ تو جھوٹی اَور من گھڑت حدیثیں کہیں نہ لکھی جاتیں، بلکہ سینہ بہ سینہ چلتی رہتیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ جس کو جب مرضی کوئی نئی جھوٹی حدیث اَپنی دلیل کیلئے ضرورت پڑتی‘ وہ اُسی وقت ایک جھوٹی حدیث گھڑ کر سنا دیتا کہ معاذ اللہ یہ بھی اللہ کے نبی کا فرمان ہے، اَور جب اُس سے حوالہ مانگا جاتا‘ تو وہ سامنے کہتا کہ یہ اُن اَحادیث میں سے ہے‘ جس کو تمہارے محدثین نے جھوٹی کہہ کر رد کردیا تھا؛ لہٰذا یہ کسی کتاب میں تونہیں ہے‘ مگر سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے، اَور اُصولِ حدیث کی کسی کسوٹی پر اِس کو تولا اَور پرکھا نہ جاسکتا۔ اَور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہتا، اَور اَدیانِ باطلہ کی عید ہوجاتی کہ وہ اَپنے مطلب کیلئے روز نئی حدیثیں گھڑتے۔ اَور اَہلِ حقہ کے دلائل کا رد کرتے، اَور سادہ لوح لوگوں کے دِلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے رہتے۔
مگر اللہ جزائے خیر دے محدثین کو کہ اُنہوں نے تمام جھوٹی حدیثوں کو بھی حدیث کے اَولین مجموعوں میں جمع کرلیا۔ جس سے یہ فائدہ ہوا کہ اُس وقت تک جتنی جھوٹی حدیثیں گھڑی جاچکی تھیں‘ وہ تو اُن کتابوں میں آگئیں، مگر بعد والوں کیلئے تاقیامت یہ سلسلہ رُک گیا؛ کیونکہ اُنہوں نے تمام کی تمام اَحادیث لکھ ڈالیں۔ لہٰذا اَب من گھڑت اَحادیث کا بھی حوالہ پیش کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا جورِوایت حدیث کی کسی کتاب میں نہ ملے‘ وہ حدیث نہیں ہوسکتی۔ جس سے یہ فائدہ ہوا کہ جتنی گھڑی جاچکی تھیں‘ وہ تو گھڑی جاچکیں‘ مزید جھوٹی حدیثیں گھڑے جانے سے روک دیا گیا۔ اَور رہا یہ کام کہ کونسی حدیث صحیح ہے، اَور کونسی من گھڑت؟۔۔۔اِس کی چھانٹی کا کام اُنہو ں نے بعد والوں کیلئے چھوڑدیا۔ مگر اِتنا پھر بھی کرگئے کہ حدیث کے کھرے کھوٹے ہونے کی پہچان کیلئے اُصولِ حدیث کے نام سے ایک فن وضع کرگئے‘ جس کے ذریعے بڑی آسانی سے صحیح اَور من گھڑت روایات کو الگ الگ کرکے صحیح اَحادیث کی چھانٹی کی جاسکتی تھی۔ چنانچہ بعد والوں کیلئے (مثلا اِمام بخاری و مسلم وغیرہ کیلئے) آسانی کرگئے کہ اُنہوں نے صحیح اَحادیث کے نام سے حدیث کی کتب لکھ ڈالیں‘ جبکہ دِیگر کچھ محدثین نے موضوع اَحادیث کے نام سے حدیث کی کتب لکھیں‘ جن میں صرف جھوٹی اَور مَن گھڑت حدیثوں کو جمع کیا۔ چنانچہ تمام کی تمام من گھڑت احادیث اُس میں ذِکر کردیں۔ نتیجہ یہ کہ آج ہمارے لئے ایک طرح سے پکا پکایا حلوہ موجود ہے۔ اَور کسی بھی حدیث کو جانچنے کیلئے ہمیں کوئی زِیادہ تردد نہیں کرنا پڑتا۔ پہلے اُس کو ’’اَلصِّحاح‘‘ نامی حدیث کی کتابوں میں تلاش کرلیں، اگر وہاں نہ ملے‘ تو ’’اَلْمَوْضُوْعَاتُ الصَّغِیر‘‘ یا ’’اَلمَوْضُوْعَاتُ الکَبیر‘‘ نامی کتب میں دیکھ لیا جائے، اَور فیصلہ کرلیا جائے کہ اگر ’’اَلصِّحاح‘‘ نامی کتبِ اَحادیث میں ملے‘ تو صحیح حدیث، اور اگر ’’اَلْمَوْضُوْعَات‘‘ نامی حدیث کی کتب میں ملے‘ تو مَن گھڑت اَور جھوٹی حدیث ہوگی۔ اگر اَوّلین محدثین اُس وقت موضوع اَور من گھڑت رِوایات کو اَپنی کتب میں جمع نہ کرجاتے‘ تو آج حدیث کی صحیح کتابیں بھی اَپنی اہمیت کھوچکی ہوتیں؛ کیونکہ ایک صحیح حدیث کے مقابلے میں لاکھوں من گھڑت اَور جھوٹی روایتیں موجود ہوتیں‘ جس کی وجہ سے سادہ لوح مسلمان تذبذب کا شکار رہتے۔ مگر اَولین محدثین کا یہ کارنامہ رہتی دُنیا تک سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ وہ من گھڑت رِوایات کو مزید گھڑنے پر بند باندھ گئے، اَور پہلے کی گھڑی ہوئی جھوٹی رِوایات کو پہچاننے کیلئے اُصول و ضوابط اَور قواعد وضع کرگئے‘ جس سے بڑی آسانی سے صحیح اَور غلط کی پہچان ممکن ہوگئی۔
یہی کچھ تاریخ میں ہوا کہ لوگوں نے من گھڑت تاریخ کی روایتیں ذخیرۂ تاریخ میں شامل کردیں۔محدثین کی طرح اَولین مؤرخین نے بھی اَپنا کام بخوبی اَور ذِمہ داری سے اَنجام دیا۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی تاریخ کی اَولین کتابوں میں تاریخ کی تمام رِوایات کو جمع کردیا؛ تاکہ مزید جھوٹی رِوایتیں نہ گھڑی جاسکیں، اَور اُصولِ تاریخ کے نام سے وہ ایسے قواعد و ضوابط اَور ایک ایسا فن بھی وضع کرگئے‘ جس کے ذریعے بڑی آسانی سے ذخیرۂ تاریخ میں سے تاریخ کی صحیح رِوایات کو الگ کیا جاسکتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے محدثین کی طرح بعد والے مؤرخین اَپنا فریضہ ٹھیک طرح سے اَدا نہ کرسکے، اَور صحیح تاریخ کے عنوان سے تاریخ کی کوئی کتاب نہ لکھ سکے‘ جس میں تاریخ کی صرف صحیح رِوایات ذِکر ہوتیں۔ کچھ حضرات نے یہ کام شروع کیا‘ مگر وہ اِس کو پوری طرح سے مکمل نہ کرسکے؛ چنانچہ وہ کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اَور اِسی طرح مَن گھڑت تاریخ کے نام سے کوئی ایسی کتاب بھی نہ لکھے سکے‘ جس میں تاریخ کی تمام تر جھوٹی رِوایات جمع ہوتیں‘ جیسے کہ محدثین نے ’’اَلْمَوْضُوْعَات‘‘ نامی کتب میں تمام جھوٹی حدیثیں جمع کردیں۔ مگر مؤرخین یہ دونوں کام نہ کرسکے۔ نہ تو الگ سے صحیح تاریخ کے عنوان سے کوئی کتاب لکھ سکے، اَور نہ ہی جھوٹی تاریخی رِوایات کو کسی ایک جگہ جمع کرسکے۔ چنانچہ آج چودہ صدیاں گزر گئیں‘ مگر اُمتِ مسلمہ عربی اُردو کسی بھی زُبان میں صحیح اَحادیث کی طرح صحیح تاریخ کی ایک بھی کتاب دُنیا کو پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حالانکہ مسلمان علماء ہی ’’تاریخ‘‘ کے فن کی بنیاد رکھنے والے اَور تاریخ کے اَولین مأخذ کے بانی ہیں۔ چنانچہ اِمام اِبنِ کثیر کی لکھی ہوئی البدایہ والنہایہ(جس کا اُردو ترجمہ تاریخ اِبنِ کثیر کے نام سے مشہور ہے) تاریخ کی سب سے مطول کتاب مانی جاتی ہے، اَور ’’اِمام اِبن خُلدون جیسے مایہ ناز مؤرخ‘‘ کی تاریخ اِبنِ خلدون ’’تاریخ کاسب سے معتبر سرمایہ‘‘ مانی جاتی ہے۔ اَور اِمام اِبنِ خُلدون کا تاریخ پر لکھا گیا مقدمہ ’’مقدمہ اِبنِ خُلدون‘‘ تاریخ، سیاست، عمرانیات، اِقتصادِیات، اَور اَدبیات کے عنوان پر حرفِ آخر مانا جاتا ہے۔ اَور دُنیا کی کئی زُبانوں میں مترجم ہوچکا ہے۔ یورپ میں اِس کے انگریزی ترجموں پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی جارہی ہیں۔ اَور تاریخ کے اِس فلسفے کو دُنیا کی ہرقوم اَور ہر خطے کے لوگوں نے حرفِ آخر مانا ہے۔ اَولین مسلمان مؤرخین کی اِن شاہکار تصانیف کے باوجود متأخرین (بعد والے ) مسلمان مؤرخین سے ضرور یہ قصور ہوا ہے کہ وہ اَپنے آباء کی وراثت کی دیکھ بھال نہ کرسکے۔(جس طرح محدثین نے کی کہ صحیح اَحادیث کے نام سے الگ کتابیں لکھ ڈالیں، اَور من گھڑت اَحادیث کے نام سے الگ کتابیں لکھ ڈالیں۔ اور اِس طرح کھرا کھوٹا الگ الگ کردیا۔ مگر مؤرخین یہ دونوں کام نہ کرسکے۔نہ تو صحیح تاریخ کے نام سے کوئی کتاب لکھ سکے، اَور نہ من گھڑت تاریخ کے نام سے کوئی مجموعہ جمع کرسکے)۔ چنانچہ آج چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود ہمارے پاس تاریخ کی ایک بھی ایسی کتاب میسر نہیں ہے‘ جس کو اُصولِ تاریخ کے ترازو پر تول کر لکھا گیا ہو؛ تاکہ تاریخ کی من گھڑت رِوایات الگ ہوجاتیں، اَور صحیح اَحادیث کی طرح صحیح تاریخ کی بھی کچھ کتب ہمیں میسر آجاتیں۔ حالانکہ یہ کوئی اِتنا مشکل کام بھی نہ تھا؛ کیونکہ تاریخ کی تمام (سچی جھوٹی) رِوایات تاریخ کے اَولین مجموعوں (کتابوں) میں موجود ہیں، اَور اُصولِ تاریخ کے نام سے ایک فن بھی وضع شدہ ہے‘ جس کے قواعد کے ذریعے جھوٹی سچی رِوایات کو الگ الگ کرکے تاریخ کی سچی رِوایات پر مبنی ایک ایسی کتاب لکھی جاسکتی تھی‘ جس کا تاریخ کی کتابوں میں وہ مقام ہوتا‘ جو حدیث کی کتابوں میں بخاری شریف کا ہے۔
اَور یہی وہ نکتہ ہے کہ تاریخ میں صحیح اَور جھوٹی رِوایات کی چھانٹی نہ ہونے کی وجہ سے قُرونِ اُولیٰ کا ایسا نقشہ کھنچا‘ جو شانِ صحابہ کے یکسر خلاف ہے۔ جب ہم قرآن و اَحادیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں پڑھتے ہیں‘ تو وہ مقدس نُفوس ایک الگ ہی روحانی مخلوق نظر آتے ہیں‘ مگر جب ہم تاریخ اُٹھا کر دیکھتے ہیں‘ تو وہ حدیث میں بیان کردہ اُن صفات سے ہٹ کر عام اِنسانوں کی طرح‘ بلکہ کچھ تو آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اَور جنگیں کرتے نظرآتے ہیں‘ جس کی وجہ سے سادہ لوح مسلمان تذَبذُب کا شکار ہوجاتے ہیں کہ حدیث میں بیان کردہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل کو دیکھیں، یا تاریخ میں بیان کردہ اُن کی زِندگی کو دیکھیں۔ یاد رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تاریخی شخصیات نہیں کہ جن کو تاریخ کے ترازوپر تولا جائے‘ بلکہ یہ مقدس جماعت قرآنی شخصیات ہیں، اَور عقیدے کا حصہ ہیں؛ چنانچہ اِنہیں قرآن اَور حدیث کے ترازو پر توجائے گا‘ نہ کہ تاریخ کے مَن گھڑت قصوں کے تناظُر میں جانچاجائے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے کہ
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہٗ (اللہ اُن سے راضی ہوگیا، اَور اللہ نے اُن کیلئے جنت کا فیصلہ کردیا)۔ اَور حدیث میں فرمایاگیا: اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّھِمُ اقْتَدَیْتُمْ‘ اِھْتَدَیْتُم۔(صحابہ ستاروں کی مانند ہیں‘ جس کے پیچھے چلوگے‘ سیدھا جنت لے جائے گا)۔
مگر جب ہم تاریخ میں اُن کے بارے میں عجیب و غریب مَن گھڑت رِوایات دیکھتے ہیں‘ تو پریشان ہوجاتے ہیں۔
اللہ جزائے خیر دے جامعۃُ الرشید کے اُستاذِ تاریخ ’’مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب‘‘ کو، جنہوں نے یہ قرض اُتارا۔ اَور چودہ صدیوں میں جو کام نہ ہوسکا تھا‘ اُس کو ممکن کردِکھایا۔
مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب نے تمام ذخیرۂ اَحادیث میں سے اُصولِ حدیث کے قواعد و ضوابط کے ذریعے صحیح اَور جھوٹی رِوایات کو الگ الگ کرتے ہوئے تاریخ کی صحیح رِوایات کی چھانٹی کرکے ’’تاریخ اُمتِ مسلمہ‘‘ کے نام سے پہلی ’’صحیح تاریخ‘‘ پر مبنی کتاب لکھی۔ جس کو تاریخ میں وہ درجہ حاصل ہونے لگا ہے‘ جو حدیث میں بخاری شریف کو حاصل ہے۔
یہ واضح رہے کہ یہ کام پہلے بھی ہوسکتا تھا‘ مگر اللہ کی مصلحت کہ نہ ہوسکا۔ اَور مولانا محمداِسماعیل رِیحان صاحب نے اگر یہ کیا‘ تو ایسا نہیں کہ جو رِوایت اُنہیں پسند آئی‘ وہ لے لی، اَور جو دِل کو نہیں بھائی، یا اُن کے مسلکی نظریات سے ٹکرائی‘ اُس کو چھوڑ دیا، ایسا ہرگز نہیں ہے۔بلکہ ہزار سال پہلے سے وضع شدہ اُصولِ تاریخ کے قواعد و ضوابط کے ترازو پر جو رِوایت پوری اُتری‘ اُس کو لیا، اَور جو اُصولِ تاریخ کے ترازو پر جُھول گئی‘ اُس کو چھوڑ دیا۔ اَور یاد رہے کہ یہ اُصولِ تاریخ اُنہوں نے نہیں وضع کئے‘ بلکہ یہ ہزار سال سے وضع شدہ ہیں۔ اَور پہلے بھی اِس پر کام شروع کیا گیا‘ مگر مکمل نہ ہوسکا۔ یا اُس سطح (لیول) پر نہ ہوسکا۔ اَور یہ وہ اُصول ہیں‘ جن کو نہ صرف مسلمان مانتے ہیں‘ بلکہ غیرمسلم، عرب و عجم، ایشیا و یورپ ہرجگہ یکساں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اِس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کتاب تو فُلاں مسلک والوں نے لکھی ہے۔ کیونکہ یہ اُصولِ تاریخ مسلکی نہیں ہیں‘ بلکہ عالمی ہیں۔ جن کو پوری دُنیا مانتی ہے۔ چنانچہ مدارس میں اِن پر تین چار سالہ تخصص کروایا جاتا ہے۔ مولوی بننے کے بعد جو مزید چار پانچ سال دے سکے‘ وہ اِس پر تخصص کی سَنَد (ڈِگری) لیتاہے۔ اَور یونیورسٹیز میں اِن پر پی ایچ ڈی کروائی جاتی ہے۔ الغرض دیوبندی ہو یا بریلوی،سنی ہو یا وہابی، مقلد ہو یا غیرمقلد، سنی ہو یا شیعہ، حنفی ہو یا شافعی، حنبلی ہو یا مالکی، عربی ہو یا عجمی، مسلم ہو یا غیرمسلم، دُنیا بھر کی تمام قوموں، علاقوں، براعظموں، مذہبوں اَور ایشاو یورپ ہر جگہ یہ اُصولِ تاریخ مُسلَّم ہیں۔ چنانچہ اِس کو تاریخ کی دیوبندی کتاب، یا سنی کتاب، یامسلم کتاب نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ تاریخ کی مستند ترین کتاب کہا جائے گا۔
کتاب کے کل چھ حصے (چھ جلدیں) ہیں۔ ہرحصہ(ہرجلد) لگ بھگ ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر موجودہ زمانے تک کی اِسلامی تاریخ کو جمع کیا گیا ہے۔ کتاب کے تین حصے (تین جلدیں) چھپ کر مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ جن میں سے پہلی جلد میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک مشہور انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ ہے، اَور تفصیلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی و مدنی زِندگی کو بیان کیا گیاہے،ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانۂ خلافت کو بھی سمیٹا گیا ہے۔ اَور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے چھ اَمن والے سال تک کے واقعات پہلی جلد میں بیان کیے گئے ہیں۔
دوسری جلد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شورش کی اِبتداء سے شروع ہوتی ہے، اَور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت، خلافتِ حضرت ِعلی رضی اللہ عنہ ، جنگِ جمل، جنگِ صفین،حضرت علی رضی اللہ عنہ اَور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کے تنازِعات، اَور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت حسن رضی اللہ کی خلافت کے چھ ماہ اَور پھر حضرت حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح، اَور خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے اَحوال، اور پھر یزید کی حکومت، سانحہ کربلا، شہادتِ حسین، واقعۂ حرہ، خلافتِ عبداللہ بن زُبیر رضی اللہ عنہ اَور حجاج بن یوسف کی مکہ مکرمہ پر چڑھائی اَورحجاج کے ہاتھوں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت، اِسلامی تاریخ کے دَورِ فِتن سے حاصل شدہ نتائج، پہلی صدی ہجری میں اُمت کی علمی و اَخلاقی تربیت کرنے والے مشاہیرصحابہ و تابعین کا تعارُف اَور اَہم شبہات کا جواب، یہ سب کچھ دوسری جلد میں بیان کیا گیا ہے۔ اَور حقیقتاً یہ جلد سب سے زِیادہ اَہم ہے۔ اِس لئے کہ تاریخ کی من گھڑت رِوایات میں سب سے خطرناک اِسی زمانے کی تاریخ ہے؛ کیونکہ یہ صحابہ کرام سے متعلق ہے، اَور صحابہ کرام عقیدے کا حصہ ہیں۔ اگر بالفرض بعد والے خلفائے بنو اُمیہ اَور بنو عباس کے بارے میں کوئی غلط روایت پڑھ بھی لیں‘ تو کوئی اِتنا خاص فرق نہیں پڑتا‘ مگر صحابہ کرام کی شان سے ہٹ کر اگر کوئی سطر ذہن میں گڑگئی‘ تو اِیمان خطرے میں پڑجاتا ہے۔ اَور مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب قابلِ تعریف ہیں کہ اُنہوں نے تاریخ کی مستند رِوایات کو چھانٹ کر اِس طرح جمع کیا کہ صحابہ کرام کی تاریخ بعینہٖ اُسی پیرائے میں جمع ہوگئی‘ جیسی کہ اُن کی عظمت قرآن و حدیث میں وارِد ہوئی ہے، اَور من گھڑت رِوایات کو حذف کرنے سے وہ سب اِشکالات دُور ہوگئے‘ جو اِن مقدس نُفوس پر گمراہ لوگ کرتے چلے آئے تھے۔ اور تاریخ میں کہیں بھی جَھول، بے ربطگی یا تشنگی باقی نہیں رہی۔
جبکہ تیسری جلد میں خلافتِ بنو اُمیہ تمام خلفاء اَور خلافت بنو عباس کے سینتیس کے لگ بھگ تمام خلفاء کا تفصیلی ذِکر ہے۔
یہ تین جلدیں چھپ چکی ہیں۔ جبکہ بقیہ تین جلدوں پر ابھی کام ہورہا ہے۔ اَور اگلے سال تک اُن کا چھپنا متوقع ہے۔ اَور اُن میں خلفائے اُندلس، مسلمانوں کی دیگر سلطنتیں، جن میں زنگی حکمران، ایوبی حکمران، سلجوق حکمران، غزنوی حکمران، فتنہ تاتار، چنگیزوہلاکو کاذِکر، خلفائے عباسیہ مصریہ کا ِذکر، بیبرس حکمران، مملوک حکمران، خلفائے عثمانیہ کی تاریخ، مختلف حکمرانوں کا ذِکر۔ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کا ِذکر۔ سلطنتِ مغلیہ میں ظہیر الدین بابر سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک کی مفصل تاریخ ، یہ سب آنے والی تین جلدوں میں ذِکر ہوگا۔
کتاب کو چھپے ہوئے ایک سال سے زِیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔ روزنامہ اِسلام میں اِس کا تعارف کروایا گیا تھا‘ جو نظر سے گزرا تھا۔ مگر اِس کی اَہمیت اِس سال جنوری کے وسط میں نکھر کر اُجاگر ہوئی۔ جب ابوحنیفۂ زماں اور اِمامِ عصر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے اپنے ماہنامہ رِسالے البلاغ کے جنوری کے شمارے میں اِس کی تعریف پر مبنی سات صفحوں پر محیط ایک لمبا چوڑا مضمون لکھا‘ جس میں اِس کی اَزحد تعرف کی۔ اَور فرمایا کہ دوسری جلد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے لے کر واقعہ کربلا اور پھر حضرت عبداللہ بن زُبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت تک کا تمام حصہ میں نے حرف بحرف پڑھا ہے، اور صحابہ کرام کی آپسی جنگیں (مُشاجراتِ صحابہ) جنگِ جمل و جنگِ صِفِّین حضرت علی اَور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے آپسی تنازِعات پر محیط حصہ میں نے حرف بہ حرف پڑھا ہے، اَور دِل سے دُعا نکلی ہے کہ مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب نے تاریخ کی جھوٹی رِوایتوں میں سے صحیح رِوایات کو چھانٹ کر اِس طرح الگ کیا ہے کہ نہ تو واقعے میں کوئی جَھول اَور بے ربطگی محسوس ہوتی ہے، اَور نہ ہی صحابہ کرام کی شان کو کوئی زِک پہنچتی ہے۔ سات صفحات پر محیط اَپنے مضمون میں اُنہوں نے کھل کر کتاب کی تعریف کی ہے۔ مفتی محمد تقی صاحب جیسے محقق کی تعریف سے کتاب کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ اَور اُس کا مقام کہیں سے کہیں جاپہنچا ہے۔ مفتی تقی صاحب نے کتاب کی تعریف میں یہاں تک لکھ ڈالا کہ اِس کا عربی اَور انگریزی میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے؛ تاکہ اَقوامِ عالَم اَور اُمت کے ہرطبقے تک اِس بیش قیمت ذخیرے کی رسائی ممکن ہوسکے۔
اِس سے پہلے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دِفاع پر کتابیں لکھی جاچکی تھیں‘ مگر وہ یکجا نہ تھیں۔ مثلا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق خود مفتی تقی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب ’’حضرت معاویہ اَور تاریخی حقائق‘‘ موجود ہے۔ مگر کسی ایک کتاب میں تمام صحابہ کی حیات کو جمع کیا گیا ہو، اَور موضوع اَور من گھڑت روایات کو اُصولِ تاریخ کے ترازو پر تول کر اُکھاڑ پھینکا گیا ہو، اَور وہ کتاب کسی شخص پر نہیں‘ بلکہ تاریخ کے عنوان سے لکھی گئی ہو۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بلاشبہ مولانا محمد اِسماعیل رِیحان صاحب صدہا صدتعریفوں کے لائق ہیں۔
کافی عرصہ اِنتظار کیا کہ شاید کتاب نیٹ پر پی ڈی ایف کی شکل میں میسر آجائے؛ کیونکہ کتاب کی ضخامت کی وجہ سے قیمت اچھی خاصی تھی۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اَور نیٹ پر پی ڈی ایف نہ مل سکی۔ چنانچہ شوقِ بیتابی سے مجبور ہو کر مزید اِنتظار نہ ہوسکا۔ اَور بالآخراللہ کا نام لے کر کتاب خریدکرلی۔ ویسے تو شاید قیمت کچھ زِیادہ ہی ہے۔ مگر میرے اُستاذِ محترم مفتی عبدالرشیدصاحب مدظِلہ سرپرست اِدارہ اِشاعت الخیر ملتان نے محبت کا اِظہار کرتے ہوئے رِعایتی قیمت کے ساتھ دوہزار روپے میں تین جلدیں عنایت کیں۔
کتاب کی اَزحداَہمیت اَور نیٹ پر پی ڈی ایف کی عدم موجودگی کے باعث یہ خیال ہواکہ کتاب کو تھوڑا تھوڑا کرکے فیس بک پر ٹائپ کرکے پیش کیا جائے؛ تاکہ پوری اُمت اِس سے مستفید ہوسکے۔ چنانچہ اِس کیلئے میں نے
تاریخ امت مسلمہ_Tareekh
کے نام سے ایک فیس بک پیج بنایا ہے۔ صارف کانام
ہے، اِس فیس بک پیج پر تھوڑا تھوڑا کرکے اِس کتاب کو بالترتیب ڈالتا رہوں گا۔ اَور اچھی بات یہ ہے کہ کتاب اِنتہائی آسان اَور سادہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ تحریر اِتنی آسان ہے کہ بچہ بھی سمجھ سکے۔ ورنہ تاریخ کی کتابیں ہر ایک کو آسانی سے سمجھ آنے والی نہیں ہیں۔ چونکہ مصنف روزنامہ اِسلام اور دیگر اَخبارات میں کالم لکھتے رہتے ہیں؛ چنانچہ اُن کا اَندازِ تحریر وہی ہے‘ جو ہم روزانہ اَخبارات کے کالموں میں پڑھتے ہیں؛ چنانچہ کتاب اِنتہائی سادہ اَور آسان تحریر پر مبنی ہے۔ اَور دوسری اچھی بات یہ ہے کہ کتاب کو چھوٹے چھوٹے عنوان دے کر لکھا گیا ہے۔ ایک ایک دو دو صفحے کے عنوان دے کر کتاب لکھی گئی ہے۔ جس سے یہ سہولت ہوگئی ہے کہ ایک عنوان ایک مستقل مضمون کی شکل اِختیار کرگیا ہے۔ جس کا اگلی پچھلی عبارت سے ربط تو ہے‘ لیکن اگر صرف اُسی کو پڑھا جائے‘ تو وہ ایک مستقل مضمون ہوگا۔ ورنہ تاریخ کی کتاب اول سے آخر تک جب تک نہ پڑھی جائے‘ ربط قائم نہیں ہوتا۔ البتہ محققین کیلئے کتاب کے نیچے حاشیہ لکھا ہے‘ جس میں اُصولِ تاریخ کے اِعتبار سے تحقیقی بحث کہیں اُردو اَور کہیں عربی میں پیش کی گئی ہے۔ اَور بعض جگہ کتاب کے متن کی عبارت کم اَور حاشیہ کی عبارت زِیادہ ہے۔ لیکن چونکہ ہر آدمی اُصولِ تاریخ سے آشنا نہیں ہے؛ اِس لئے کتاب کے متن کو اِنتہائی آسان اَور سادہ رکھا گیا ہے؛ تاکہ ہر ایک پڑھ اَور سمجھ سکے۔ اَور تاریخ کی موجود کتابوں سے ہٹ کر عبارت خشک طرزِ تحریر کی بجائے دِلچسپ پیرائے پر مبنی ہے۔ البتہ اُصولِ تاریخ کی مفصل بحث حاشیہ میں مذکورہے۔ چنانچہ لگ بھگ متن جتنا حاشیہ ہے‘ جس کے فونٹ کا سائز چھوٹا کرکے اُسے کالم کے نیچے پورا کیا گیا ہے۔ چونکہ کتاب چھوٹے چھوٹے عنوانات پر مشتمل ہے؛ اِس لئے اِس سہولت کی وجہ سے گاہے بگاہے ایک ایک عنوان پر مبنی مضمون اِس فیس بک پیج پر لکھتا رہوں گا۔ تاکہ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کی سیرابی ہوسکے۔ میں چونکہ فیس بک لیپ ٹاپ پر یوز کرتا ہوں، اَور لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ میں دس اُنگلیاں اِستعمال ہوتی ہیں۔ جبکہ موبائل پر ایک اُنگلی سے ٹائپ کیا جاتا ہے؛ چنانچہ لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ اسپیڈ ویسے ہی دس گنا بڑھ جاتی ہے، پھر میری ٹائپنگ اسپیڈ بھی کافی تیز ہے۔ چناچہ ایک دو صفحہ زِیادہ سے زِیادہ پانچ سے دس منٹ میں ٹائپ ہوجاتا ہے۔ جس کو اگر موبائل سے ٹائپ کیا جائے‘ تو شاید دو تین گھنٹے لگ جائیں۔
فیس بک پیج کا لنک آخر میں مذکور ہوگا، جو پڑھنا چاہے‘ وہ پیج کو لائک اَور فالو کرسکتا ہوں۔ چونکہ مجھے اِس پیج سے کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچنے والا؛ اِس لئے مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے یہ کہنے کی کہ ہر ایک لائک اَور فالو کرے۔ صرف وہی لائک اَور فالو کریں‘ جو تاریخ کی صحیح ترین کتاب پڑھنا چاہتے ہیں۔
دِل تو یہ تھا کہ اَپنی تحریر کے ساتھ ہی مفتی تقی صاحب کی تحریر بھی شیئر کردوں‘ مگر چونکہ میری تحریر پہلے ہی کافی مطول (لمبی) ہوچکی ہے؛ اِس لئے مفتی صاحب کی تعریفی تحریر الگ سے پوسٹ کروں گا۔
29/10/2020
ُمتِ_مسلمہ
مشاجراتِ صحابہ (صحابہ کرام کی آپسی جنگوں) پر تاریخ کی غلط روایات کی چھانٹی کے بعد تاریخی اُصولوں پر پوری اُترتی پہلی صحیح اِسلامی تاریخ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
تاریخ
Multan