20/05/2026
ایمان کا لازمی جزو حق کو واضح کرنا بھی ہے۔۔۔۔۔
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 42
تفسیر:
توراۃ کے صفحات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کمالات وصفات اور علامات کے ذکر سے مزین تھے۔ علماء بنی اسرائیل ان کو چھپانے کی کوشش میں لگے رہتے۔ تاکہ لوگ ان پر مطلع ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لے آئیں۔ اور اگر کسی کی نظر سے ایسی کوئی آیت گزر جاتی تو وہ اس کی ایسی تاویلیں گھڑ کر اسے بتاتے کہ وہ بےچارہ طرح طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس مذموم حرکت سے منع فرماتے ہیں۔ لبس کے دو معنی ہیں ڈھانپ لینا اور خلط ملط کردینا اس سے ہر طرح کی تحریف لفظی ہو یا معنوی سے باز آنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ حکم صرف بنی اسرائیل کے علما کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ملت اسلامیہ سے نسبت رکھنے والے علما کو بھی شامل ہے۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees
#قرآن
19/05/2026
پوری کائنات کے تمام خزانے حق کے مقابلے میں حقیر ترین ہیں۔۔۔۔۔
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 41
قرآن حکیم تو تمہاری کتاب کی تائید اور تصدیق کرتا ہے۔ تمہارے دین کی حقانیت کا علم بردار ہے۔ تمہارے انبیاء کی شان بلند کرتا ہے تو پھر تم اس سے کیوں بدلتے ہو۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑے داموں فروخت نہ کرو اور اگر منہ مانگے دام ملیں تو بیچ دو ۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ کسی قیمت پر حق کو مت بیچو کیونکہ ساری دنیا کے خزانے بھی اس کے مقابلہ میں حقیر ترین معاوضہ ہیں۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees
#قرآن
18/05/2026
اسرائیل کسے کہتے ہیں۔۔۔۔؟؟
اللہ کا وعدہ کیا ہے۔۔؟؟؟
سورۃ البقرة
آیت نمبر 40
تفسیر:
اسرائیل کے معنی ہیں عبد الله یا بندہ خدا۔ یہ حضرت یعقوب ؑ کا لقب تھا، جو ان کو الله تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ وہ حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے اور حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے تھے۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکین عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے ان لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے تھے۔
یہود کو خصوصی خطاب کرنے میں یہ مصلحت تھی کہ تمام اقوام عالم خصوصاً جزیرہ عرب کے باشندوں میں یہود کو ایک اہم مقام حاصل تھا۔ چار ہزار سال تک سلسلہ نبوت ان میں جاری رہا۔ ہزاروں نبی ان میں پیدا ہوئے۔ جن کے باعث علم و حکمت میں کوئی قوم ان کی برابری کا دعویٰ نہیں کرسکتی تھی۔ ان کے گردونواح میں بسنے والے قبائل ان کی علمی برتری سے بہت مرعوب تھے۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے یہ شرط لگا رکھی تھی کہ اگر یہود نے (جو اہل علم و کتاب ہیں) اسلام قبول کیا تو وہ بھی قبول کرلیں گے۔ اس لیے قرآن حکیم نے یہود کو خاص طور پر اسلام کی طرف بلایا تاکہ ان کے اسلام لانے سے دوسرے لوگوں کے لیے بھی اسلام قبول کرنے کی راہ ہموار ہوجائے۔ اور اگر وہ اسلام کو قبول نہ کریں تو ان کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک ہوجائے اور دنیا کو پتہ چل جائے کہ یہ صرف دنیاوی اقتدار اور دولت و ثروت کے باعث اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس تفصیل کی ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ملت اسلامیہ کو درس عبرت دیا جائے کہ بنی اسرائیل کی داستان عروج وزوال تمہارے سامنے ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو گے تو عزت و حکومت تمہاری خانہ زاد لونڈی ہوگی۔ اور اگر سرکشی اختیار کی تو تمہاری بد عملیاں کسی بخت نصر کا لباس پہن کر نمودار ہوں گی اور تمہیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیں گی۔
علماء بنی اسرائیل کے اسلام قبول کرنے کے راستہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی تھی کہ وہ اس بات سے خوف زدہ تھے کہ اگر انھوں نے اپنے پرانے دین کو چھوڑ دیا اور اس نئے دین کو اختیار کرلیا تو ان کے عقیدت مندوں کا یہ ہجوم منتشر ہوجائے گا اور مالی منفعت جو اب انھیں اپنے ماننے والوں سے حاصل ہو رہی ہے بند ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں متنبہ فرماتا ہے کہ ایسی باتوں سے ہراساں مت ہو۔ ڈرنا ہے تو اپنے اللہ سے ڈرو جس کے قبضہ قدرت میں رزق کے خزانے ہیں اور جسے چاہتا ہے جتنا چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
16/05/2026
آیت کسے کہتے ہیں اور اسکی کیا اہمیت ہے۔۔۔۔؟؟
سورۃ البقرة
آیت نمبر 39
تفسیر:
آیات کا لفظ آیت کی جمع ہے۔ آیت کے اصل معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔
قرآن مجید میں یہ لفظ ان دلائل اور نشانیوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو آسمان وزمین اور آفاق ونفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور جو خدا کی قدرت وحکمت اس کی توحید اور اس کے قانون جزاوسزا کی گواہی دے رہی ہیں۔
ان معجزات کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو حضرات انبیا ؑ کے ذریعے سے ظاہر ہوئے ہیں یا جن کے لئے کفار مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
قرآن مجید کی ان آیتوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جن سے قرآن کی سورتیں مرکب ہیں۔ قرآن مجید کی آیات کے لئے اس لفظ کا استعمال اس حقیقت پر دلیل ہے کہ ان کی حیثیت بے دلیل احکامات کی نہیں ہے بلکہ ان میں سے ہر آیت ایک دلیل وشہادت اور ایک حجت وبرہان کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی
Daily Quran and Hadees
#قرآنیات #قرآن
15/05/2026
ہدایت کی پیروی ہی دائمی نجات کا ذریعہ ہے۔۔۔۔
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 38
تفسیر:
جنت سے نیچے زمین پر اترنے کا حکم دو بار ہوا۔ پہلے لغزش کے صادر ہونے کے بعد، پھر قبول توبہ کے بعد۔ پہلے حکم سے ناراضگی کا اظہارمقصود تھا۔ اور دوسری بار منصب خلافت سنبھالنے کے لیے۔ دونوں حکموں کی غرض وغایت الگ الگ ہے اس لیے یہاں تکرار نہیں۔
مفسر: پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
14/05/2026
کیا انبیائے کرام سے بھی گناہ سرزد ہوتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 36
اس مقام پر بےساختہ یہ خیال پریشان کرنے لگتا ہے کہ کیا انبیاء سے بھی گناہ سرزد ہوتا ہے ؟ اس لیے اجمال کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سلسلہ کے متعلق کچھ عرض کرنا نہایت ضروری ہے۔ علامہ قرطبی (رح) نے بڑی عمدگی سے اس مشکل کو حل کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔ انہم معصومون من الصغائر کلھا کعصمتہم من الکبائر اجمعہا۔ یعنی مالکی۔ حنفی اور شافعی مسلک کے جمہور فقہاء کا یہ مذہب ہے کہ انبیاء جس طرح کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اسی طرح صغیرہ گناہوں سے بھی پاک ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان کی مطلق اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر ان سے گناہ کا ارتکاب ہو سکے تو ان کے گناہوں کی اطاعت بھی لازم آئے گی۔ جس سے ہدایت کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس پر یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ قرآن حکیم میں جا بجا انبیاء کی طرف ایسی چیزیں منسوب ہیں جو گناہ ہیں اور پھر ان امور پر انبیاء کی شدید ندامت اور استغفار بھی منقول ہے۔ ایسے میں مطلق عصمت کا قول کیونکر ممکن ہے۔ اس شبہ کے ازالہ کے لیے ایک چیز کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ وہ یہ کہ کوئی فعل گناہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی حکم کی نافرمانی کا عزم اور قصد پایا جائے۔ اور اگر عزم اور قصد مفقود ہے بلکہ بےارادہ بھول چوک سے کوئی ایسا فعل سر زد ہوجائے جو بظاہر کسی حکم کے خلاف ہے تو اسے گناہ نہیں کہتے۔ اور ایسے امور کا صدور عصمت انبیاء کے منافی نہیں۔ اب آپ اسی ایک واقعہ پر غور کرین۔ قرآن حکیم کی تعبیر میں اس مسئلہ کی نزاکت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یہاں فرمایا ہے۔ فازلھما۔ اب آپ ” زلۃ “ کی لغوی تحقیق پر غور کیجئے۔ الزلۃ فی الاصل استرسال الرجل من غیر قصد : بلا ارادہ پاؤں کا پھسل جانا۔ دوسرے مقام پر قرآن نے بالکل اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان فرمادیا فنسی ولم نجد لہ عزما۔ یعنی آدم سے یہ حرکت بھول سے ہوئی اس کا عزم و ارادہ ہرگز نہ تھا۔ جب تک عزم و ارادہ مفقود ہو اس فعل کو گناہ نہیں کہا جاسکتا۔::یعنی آدم (علیہ السلام) تو نور قدیم کی آنکھ تھے۔ اور آنکھ میں اگر ایک بال بھی گرجائے تو آنکھ کی نزاکت اس کو برداشت نہیں کرسکتی بلکہ وہ ہلکا سا بال یہاں پہاڑ سے بھی بوجھل محسوس ہونے لگتا ہے۔
اس آیت میں یہ لطیف اشارہ بھی ہے کہ اس دنیا میں تمہارا قیام ہمیشہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ تمہاری عارضی قیام گاہ ہے۔ ان فرصت کے لمحوں میں تمہیں اپنی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
12/05/2026
ظلم کیا ہوتا ہے اور ظالم کسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 35
تفسیر:
سورة الْبَقَرَة 49
ظالم کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔”ظلم“ دراصل حق تلفی کو کہتے ہیں۔ ظالم وہ ہے جو کسی کا حق تلف کرے۔ جو شخص خدا کی نافرمانی کرتا ہے، وہ درحقیقت تین بڑے بنیادی حقوق تلف کرتا ہے۔ اوّلاً خدا کا حق، کیونکہ وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے۔ ثانیاً ان تمام چیزوں کے حقوق جن کو اس نے اس نافرمانی کے ارتکاب میں استعمال کیا۔ اس کے اعضائے جسمانی، اس کے قوائے نفس، اس کے ہم معاشرت انسان، وہ فرشتے جو اس کے ارادے کی تکمیل کا انتظام کرتے ہیں، اور وہ اشیاء جو اس کام میں استعمال ہوتی ہیں، ان سب کا اس پر یہ حق تھا کہ وہ صرف ان کے مالک ہی کی مرضی کے مطابق ان پر اپنے اختیارات استعمال کرے۔ مگر جب اس کی مرضی کے خلاف اس نے ان پر اختیارات استعمال کیے، تو درحقیقت ان پر ظلم کیا۔ ثَا لثًا خود اپنا حق، کیونکہ اس پر اس کی ذات کا یہ حق ہے کہ وہ اسے تباہی سے بچائے، مگر نافرمانی کر کے جب وہ اپنے آپ کو الله کی سزا کا مستحق بناتا ہے، تو دراصل اپنی ذات پر ظلم کرتا ہے۔ انہی وجوہ سے قرآن میں جگہ جگہ گناہ کے لیے ظلم اور گناہ گار کے لیے ظالم کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
12/05/2026
تخلیق انسان اور اسے جنت میں رکھے جانے کا اصل مقصد۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 35
تفسیر:
سورة الْبَقَرَة 48
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین، یعنی اپنی جائے تقرّر پر خلیفہ کی حیثیت سے بھیجے جانے سے پہلے ان دونوں کو امتحان کی غرض سے جنت میں رکھا گیا تھا تاکہ ان کے رحجانات کی آزمائش ہوجائے۔ اس آزمائش کے لیے ایک درخت کو چُن لیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس کے قریب نہ پھٹکنا، اور اس کا انجام بھی بتادیا گیا کہ ایسا کرو گے تو ہماری نگاہ میں ظالم قرار پاؤ گے۔ یہ بحث غیر ضروری ہے کہ وہ درخت کونسا تھا اور اس میں کیا خاص بات تھی کہ اس سے منع کیا گیا۔ منع کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس درخت کی خاصیّت میں کوئی خرابی تھی اور اس سے آدم و حوّا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ اصل غرض اس بات کی آزمائش تھی کہ یہ شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں کس حد تک حکم کی پیروی پر قائم رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کسی ایک چیز کا منتخب کرلینا کافی تھا۔ اسی لیے الله نے درخت کے نام اور اس کی خاصیت کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔
اس امتحان کے لیے جنت ہی کا مقام سب سے زیادہ موزوں تھا۔ دراصل اسے امتحان گاہ بنانے کا مقصود یہ حقیقت انسان کے ذہن نشین کرنا تھا کہ تمہارے لیے تمہارے مرتبہ انسانیت کے لحاظ سے جنت ہی لائق و مناسب مقام ہے۔ لیکن شیطانی ترغیبات کے مقابلے میں اگر تم الله کی فرمانبرداری کے راستے سے منحرف ہوجاؤ، تو جس طرح ابتدا میں اس سے محروم کیے گئے تھے اسی طرح آخر میں بھی محروم ہی رہو گے۔ اپنے اس مقام لائق، اپنی اس فردو سِ گم گشتہ کی بازیافت تم صرف اسی طرح کرسکتے ہو کہ اپنے اس دشمن کا کامیابی سے مقابلہ کرو جو تمہیں فرماں برداری کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
#قرآنیات #قرآن
11/05/2026
ابلیس سجدے سے انکار میں اکیلا نہ تھا۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 34
تفسیر:
اِن الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غالباً ابلیس سجدے سے انکار کرنے میں اکیلا نہ تھا، بلکہ جِنّوں کی ایک جماعت نافرمانی پر آمادہ ہوگئی تھی اور ابلیس کا نام صرف اس لیے لیا گیا کہ وہ ان کا سردار اور اس بغاوت میں پیش پیش تھا۔ لیکن اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ کافروں میں سے تھا“۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جِنّوں کی ایک جماعت پہلے سے ایسی موجود تھی جو سرکش و نافرمان تھی، اور ابلیس کا تعلق اسی جماعت سے تھا۔ قرآن میں بالعموم ”شیاطین“ کا لفظ انہی جِنّوں اور ان کی ذرّیّت (نسل) کے لیے استعمال ہوا ہے، اور جہاں شیاطین سے مراد انسان مراد لینے کے لیے کوئی قرینہ نہ ہو، وہاں یہی شیاطینِ جن مراد ہوتے ہیں۔
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
#قرآنیات #قرآن
10/05/2026
ابلیس یا شیطان کسے کہتے ہیں۔۔۔؟
سورۃ البقرة
آیت نمبر 34
تفسیر:
اِبْلِیسْ لفظی ترجمہ ”انتہائی مایوس“۔ اصطلاحاً یہ اس جن کا نام ہے جس نے الله کے حکم کی نافرمانی کر کے آدم اور بنی آدم کے لیے مطیع و مُسَخَّر ہونے سے انکار کردیا اور الله سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی کہ اسے نسل انسانی کو بہکانے اور گمراہیوں کی طرف ترغیب دینے کا موقع دیا جائے۔ اسی کو ”الشَیْطَان“ بھی کہا جاتا ہے۔ درحقیقت شیطان اور ابلیس بھی محض کسی مجرّد قوت کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ بھی انسان کی طرح ایک صاحب تشخّص ہستی ہے۔ نیز کسی کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہونی چاہیے کہ یہ فرشتوں میں سے تھا۔ آگے چل کر قرآن نے خود تصریح کردی ہے کہ وہ جِنّوں میں سے تھا، جو فرشتوں سے الگ، مخلوقات کی ایک مستقل صنف ہیں۔
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
10/05/2026
فرشتوں کا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا کیا مطلب تھا۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 34
تفسیر:
“ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور اس سے تعلق رکھنے والے طبقہ کائنات میں جس قدر فرشتے مامور ہیں، ان سب کو انسان کے لیے مطیع و مُسَخَّر ہوجانے کا حکم دیا گیا۔ چونکہ اس علاقے میں الله کے حکم سے انسان خلیفہ بنایا جارہا تھا، اس لیے فرمان جاری ہوا کہ صحیح یا غلط، جس کام میں بھی انسان اپنے ان اختیارات کو، جو ہم اسے عطا کر رہے ہیں، استعمال کرنا چاہے اور ہم اپنی مشیت کے تحت اسے ایسا کرلینے کا موقع دے دیں، تو تمہارا فرض ہے کہ تم میں سے جس جس کے دائرہ عمل سے وہ کام متعلق ہو، وہ اپنے دائرے کی حد تک اس کا ساتھ دے۔ وہ چوری کرنا چاہے یا نماز پڑھنے کا ارادہ کرے، نیکی کرنا چاہے یا بدی کے ارتکاب کے لیے جائے، دونوں صورتوں میں جب تک ہم اسے اس کی پسند کے مطابق عمل کرنے کا اذن دے رہے ہیں، تمہیں اس کے لیے سازگاری کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ ایک فرمانروا جب کسی شخص کو اپنے ملک کے کسی صو بےیا ضلع کا حاکم مقرر کرتا ہے، تو اس علاقے میں حکومت کے جس قدر کارندے ہوتے ہیں، ان سب کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کریں، اور جب تک فرمانروا کا منشا یہ ہے کہ اسے اپنے اختیارات کے استعمال کا موقع دے، اس وقت تک اس کا ساتھ دیتے رہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ صحیح کام میں ان اختیارات کو استعمال کر رہا ہے یا غلط کام میں۔ البتہ جب جس کام کے بارے میں بھی فرمانروا کا اشارہ ہوجائے کہ اسے نہ کرنے دیا جائے، تو وہیں ان حاکم صاحب کا اقتدار ختم ہوجاتا ہے اور انہیں ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ سارے علاقے کے اہل کاروں نے گویا ہڑتال کردی ہے۔ حتّٰی کہ جس وقت فرمانروا کی طرف سے ان حاکم صاحب کو معزولی اور گرفتاری کا حکم ہوتا ہے، تو وہی ماتحت و خُدّام جو کل تک ان کے اشاروں پر حرکت کر رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑ یاں ڈال کر انہیں کشاں کشاں دارالفاسقین کی طرف لے جاتے ہیں۔ فرشتوں کو آدم کے لیے سربسجُود ہوجانے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کی نوعیت کچھ اس قسم کی تھی۔ ممکن ہے کہ صرف مسخّر ہوجانے ہی کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہو۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس انقیاد کی علامت کے طور پر کسی ظاہری فعل کا بھی حکم دیا گیا ہو، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
#قرآن #قرآنیات