TajMasjid Moro

TajMasjid Moro Taj Masjid Moro islamic Aqaid speeches live programs health tips Rohani Elaj Wazaif Duayen Nawafil and Breaking News

22/08/2026
ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ خاص طور پر اس نسبت سے اہم ہے کہ اسی مہینے میں نبی کریم...
21/08/2026

ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ خاص طور پر اس نسبت سے اہم ہے کہ اسی مہینے میں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ ربیع الاول کا نام آتے ہی دلوں میں محبتِ رسول ﷺ، درود و سلام، سیرتِ طیبہ اور مدینہ منورہ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

یہ مہینہ ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ جس ہستی ﷺ سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اپنی زندگی کو اُن کی سیرت اور سنت کے مطابق ڈھالیں۔

🌹 ولادتِ مصطفیٰ ﷺ

نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسے دور میں انسانیت کو توحید، عدل، رحم، اخلاق، امانت، صداقت اور بھائی چارے کا راستہ دکھایا جب معاشرہ جہالت اور ظلم کی مختلف صورتوں میں مبتلا تھا۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

یعنی: “اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”
(الانبیاء: 107)

💚 ربیع الاول کا اصل پیغام

ربیع الاول کا سب سے خوبصورت پیغام محبتِ رسول ﷺ کو عمل میں تبدیل کرنا ہے۔ صرف زبان سے محبت کا اظہار کافی نہیں، بلکہ سچی محبت یہ ہے کہ انسان:

- نماز کی پابندی کرے۔
- سچ بولے اور امانت ادا کرے۔
- والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
- لوگوں کے حقوق ادا کرے۔
- غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرے۔
- دل سے تکبر، حسد اور بغض کو نکالنے کی کوشش کرے۔
- نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں جگہ دے۔
- کثرت سے درود و سلام پڑھنے کی کوشش کرے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

یعنی: “اے نبی! کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔”
(آل عمران: 31)

🕊️ درود و سلام

ربیع الاول میں نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا محبت اور عقیدت کا خوبصورت اظہار ہے۔ درود پڑھتے وقت دل میں آپ ﷺ کی محبت، عظمت اور ادب کا احساس ہونا چاہیے۔

اللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ

🌿 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے سبق

نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق، کمزوروں کے ساتھ شفقت، یتیموں کے ساتھ محبت، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور امت کے ساتھ بے مثال خیرخواہی کا معاملہ فرمایا۔

اس لیے ربیع الاول ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہماری گفتگو، ہمارا اخلاق، ہماری عبادت، ہمارے معاملات اور ہمارا کردار سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے کتنا قریب ہے؟

اگر ربیع الاول گزر جائے اور ہمارے دل میں درود کی محبت، سنت کی رغبت، اخلاق کی خوبصورتی اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت کا جذبہ پہلے سے زیادہ پیدا نہ ہو تو ہمیں اپنے طرزِ زندگی پر غور کرنا چاہیے۔

🌹 مدینہ کی یاد

ربیع الاول کا ذکر ہو اور مدینہ منورہ یاد نہ آئے، یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ شہر جس کی گلیاں رسول اللہ ﷺ کی یادوں سے وابستہ ہیں، جہاں مسجدِ نبوی ﷺ ہے، جہاں روضۂ اقدس کی نسبت دلوں کو کھینچتی ہے، اور جہاں پہنچنے کی آرزو دنیا بھر کے عاشقانِ رسول ﷺ کے دلوں میں بسی ہوئی ہے۔

مدینہ صرف ایک شہر کا نام نہیں؛ اہلِ محبت کے لیے یہ ایک کیفیت، ایک تڑپ اور ایک روحانی نسبت کا نام ہے۔

✨ اختتام

ربیع الاول ہمیں اپنے دل سے یہ عہد کرنے کا موقع دیتا ہے:

یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں؛ اے اللہ! ہمیں اس محبت کو سچی اتباع، اچھے اخلاق، پاکیزہ کردار اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کی سنت کی پیروی، کثرت سے درود و سلام پڑھنے اور آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔🤲

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ آمین یا رب العالمین۔🤲
#مسجدِنبوی #الحرم

جشن میلاد النبی ﷺ کا قرآن حکیم سے استدلال:- #مولدالنبيقدرت نے مختلف اَشیاء کو ایک دوسرے کے مقابل اِنفرادی طور پر شرف و ف...
21/08/2026

جشن میلاد النبی ﷺ کا قرآن حکیم سے استدلال:-
#مولدالنبي

قدرت نے مختلف اَشیاء کو ایک دوسرے کے مقابل اِنفرادی طور پر شرف و فضیلت سے بہرہ ور کیا ہے۔ مختلف جہات و حیثیات سے بعض علاقے دوسرے علاقوں پر اور بعض دن دوسرے دنوں پرجدا جدا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں۔ اسی طرح الله تعالیٰ اپنے بندوں میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت دیتا ہے۔ انبیاء و رُسل میں سے بعض کو بعض پر فضیلت اور امتیاز بخشا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ.

’’یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔‘‘

البقرة، 2 : 253

الله رب العزت نے بعض ایام کو دیگر ایام پر، بعض مہینوں کو دوسرے مہینوں پر اور بعض ساعتوں کو بھی دوسری ساعتوں پر شرف و اِمتیاز عطا کیا ہے۔

ماہ رمضان المبارک کی وجہ فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ.

’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے۔‘‘

البقرة، 2 : 185

اسی ماہِ مبارک کی ایک رات (لیلۃ القدر) کو شبِ نزولِ قرآن ہونے کی بناء پر دیگر راتوں پر فوقیت عطا فرمائی۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِO

’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔‘‘

القدر، 97 : 1

اِسی طرح دوسرے مقدس مقامات کے باوجود صرف شہر مکہ کی قسم کھاتے ہوئے اُسے دوسرے شہروں پر فضیلت دی، کیوں کہ حضور ﷺ کی حیاتِ مقدسہ کا بیشتر حصہ اس شہر میں گزرا۔ ارشاد فرمایا :

لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِO وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِO

’’میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوں۔ (اے حبیبِ مکرم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں۔ ‘‘

البلد، 90 : 1، 2

اِسی طرح ایمان اور اسلام کے بعد انسانی معاشرے میں عزت وتکریم اور ایک دوسرے پر فضیلت و برتری کا معیار تقویٰ کو قرار دیا۔ ارشاد فرمایا :

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ.

’’بے شک الله کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو۔‘‘

الحجرات، 49 : 13

الغرض قرآن حکیم کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات اور اشیاء کے تقدس کا اظہار اور ان کی فضیلت کی مختلف وجوہ بیان فرمائی ہیں۔ جس طرح لیلۃ القدر ہزار راتوں سے افضل ہے اور رمضان المبارک دیگر مہینوں پر فضیلت رکھتا ہے، اُسی طرح ماہِ ربیع الاول کے امتیاز اور شانِ علو کی وجہ صاحبِ قرآن کی تشریف آوری ہے۔ یہ وہ ماہ سعید ہے جس میں رب کریم نے مومنین پر احسان فرمایا اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ لہٰذا حضور نبی اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کے طفیل ربیع الاول سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں نمایاں فضیلت و امتیاز کا حامل بن گیا ہے۔ اسے اگر ماہِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ سے موسوم کیا جائے تو زیادہ موزوں ہوگا۔

1۔ جشنِ نزولِ قرآن سے اِستدلال
قرآن مجید الله تبارک و تعالیٰ کا پاکیزہ کلام اور اس کی صفت ہونے کے اعتبار سے شانِ یکتائی رکھتا ہے۔ اس کا نزول انسانیت کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے ذریعے انسانیت کو ایسا نور عطا ہوا جس سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ گئیں اور اِنسان شرف و تکریم کے اُجالوں میں اپنے اصل مقام کا نظارہ کرنے لگا۔ قرآن ہمیں برگزیدہ اور مکرّم ہستی کے ذریعے عطا ہوا۔ اللہ کی اس کتاب نور کو ایک نور لے کر آیا۔ ارشاد فرمایا :

قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌO

’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد ﷺ ) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)۔ ‘‘

المائده، 5 : 15

جب قرآنی علم کے ذریعے انسان کو الله تعالیٰ نے لامتناہی عظمتیں عطا کی ہیں تو اس ہستی کی عظمتوں کا عالم کیا ہوگا جس پر اس کتابِ زندہ کا نزول ہوا اور جس کی تجلیات و تعلیمات سے عالمِ انسانیت کو یہ عظیم ذخیرۂ علم و حکمت اور مصدرِ ہدایت عطا کیا گیا، جس کا قلبِ اطہر وحیء الٰہی کا مہبط بنا اور حسنِ صورت و سیرت قرآنِ ناطق قرار پایا۔ آپ ﷺ کے علوِ مقام کا ادراک کون کر سکتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآنِ مجید حضور ﷺ کے اُسوۂ کامل اور آپ ﷺ کے فضائل و خصائل کے ذکرِ جمیل کا ہی مجموعہ ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں جھانک کر انسان اپنے بگڑے ہوئے خدوخال کو سنوار سکتا ہے۔ بقول اِقبال رحمۃ اللہ علیہ :

زِ قرآن پیش خود آئینہ آویز
دگرگون گشتۂ از خویش بگریز

اِقبال، کلیات (فارسی)، اَرمغانِ حجاز : 816

(اے بندۂ خدا! قرآن کے آئینے میں اپنے کردار کو دیکھ، تیری حالت بگڑ چکی ہے۔ خود کو اپنی اس دگرگوں حالت سے نکال اور اس کردار کی طرف لوٹ جا جس کا نقشہ تجھے آئینۂ قرآن میں نظر آرہا ہے۔)

لہٰذا قرآنِ حکیم جیسی عظیم نعمت پر ہدیۂ تشکر بجالانا قرآن پر ایمان اور اس سے محبت کے اہم ترین تقاضوں میں سے ہے۔ لیکن نعمتِ قرآن پر شکر بجا لانا اس وقت تک ممکن ہے نہ وہ الله جل مجدہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت حاصل کر سکتا ہے جب تک اُس ذاتِ اَقدس کی ولادتِ باسعادت پر اللہ کا شکر ادا نہ کیا جائے جن کی وساطت سے الله تعالیٰ نے اِنسانیت کو قرآن جیسی نعمت سے فیض یاب فرمایا۔ اِس لیے جب ہم نزولِ قرآن کی رات جشنِ نزولِ قرآن کے طور پر بڑے اہتمام سے مناتے اور اس میں قرآن حکیم کے فضائل و تعلیمات کا ذکر کرتے ہیں؛ تو جس ہستی کی بہ دولت یہ عظیم نعمت ہمیں میسر آئی اُس کی ولادت باسعادت کی رات بہ درجۂ اولیٰ زیادہ اِہتمام کے ساتھ منائی جائے گی۔

شبِ میلاد اور شبِ قدر کا تقابل
حضور نبی اکرم ﷺ کے اُسوۂ حسنہ، خلقِ عظیم اور اَوصافِ جمیلہ کاذکر کرنے والی کتاب قرآنِ مجید کے نزول کے سبب ماہِ رمضان المبارک کی صرف ایک رات کو ہزار مہینوں سے بھی افضل قرار دیا گیا۔ جس مبارک رات میں کلامِ الٰہی لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اتارا گیا اللہ تعالیٰ نے اس رات کو قیامت تک کے انسانوں کے لیے ’’لیلۃ القدر‘‘ کی صورت میں بلندئ درجات کا وسیلہ اور تمام راتوں کی پیشانی کا جھومر بنا دیا۔ تو جس رات صاحبِ قرآن یعنی مقصودِ کائنات ﷺ کا ظہور ہوا اور بزمِ عالم کے اس تاجدار ﷺ نے زمین و مکاں کو ابدی رحمتوں اور لازوال سعادتوں سے منوّر فرمایا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس رات کی قدر و منزلت کیا ہوگی! اس کا اندازہ انسانی شعور کے لیے ناممکن ہے۔ لیلۃ القدر کی فضیلت اس لیے ہے کہ وہ نزولِ قرآن اور نزولِ ملائکہ کی رات ہے جب کہ نزولِ قرآن سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے قلبِ اَطہر پر ہوا۔ اگر حضور ﷺ نہ ہوتے تو قرآن نازل ہوتا نہ شبِ قدر ہوتی اور نہ یہ کائنات تخلیق کی جاتی۔ دَر حقیقت یہ ساری فضیلتیں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا صدقہ ہیں۔ پس اگر کہا جائے کہ شبِ میلادِ رسول ﷺ شبِ قدر سے بھی افضل ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ باری تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دے کر اس کی فضیلت کی حد مقرر فرما دی جب کہ شبِ میلادِ رسول ﷺ کی فضیلت حدِ اِدراک سے ماوراء ہے۔ یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ اگرچہ شبِ میلاد کی فضیلت زیادہ ہے تاہم شبِ قدر میں کثرت کے ساتھ عبادات بجا لانی چاہییں کیوں کہ اِس رات بجا لائی جانے والی عبادات پر زیادہ اَجر و ثواب کی نوید ہے اور یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

ائمہ و محدثین نے راتوں کی فضیلت کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ مثلاً شبِ نصف شعبان، شبِ قدر، شبِ یوم الفطر، شبِ یوم العرفہ وغیرہ۔ ان میں شبِ میلاد النبی ﷺ کا ذکر بھی آیا ہے۔ بہت سے اَئمہ و محدثین اور اہلِ علم و محبت نے شبِ میلاد کو شبِ قدر سے افضل قرار دیا ہے۔

امام قسطلانی (851۔ 923ھ)، شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958۔ 1052ھ)، امام زرقانی (1055۔ 1122ھ) اور امام نبہانی (م1350ھ) نے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سب راتیں فضیلت والی ہیں مگر شبِ میلادِ رسول ﷺ سب سے افضل ہے۔

1۔ امام قسطلانی (851۔ 923ھ) اس حوالہ سے لکھتے ہیں :

إذا قلنا بأنه عليه الصلاة والسلام ولد ليلاً، فأيما أفضل : ليلة القدر أو ليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم ؟ أجيب : بأن ليلة مولده عليه الصلاة والسلام أفضل من ليلة القدر من وجوه ثلاثة :

أحدها : أن ليلة المولد ليلة ظهوره صلي الله عليه وآله وسلم ، وليلة القدر معطاة له، وما شرف بظهور ذات المشرف من أجله أشرف مما شرف بسبب ما أعطيه، ولا نزاع في ذلک، فکانت ليلة المولد. بهذا الاعتبار. أفضل.

الثاني : أن ليلة القدر شرفت بنزول الملائکة فيها، و ليلة المولد شرفت بظهوره صلي الله عليه وآله وسلم فيها. وممن شرفت به ليلة المولد أفضل ممن شرفت به ليلة القدر، علي الأصح المرتضي (أي عند جمهور أهل السنة) فتکون ليلة المولد أفضل.

الثالث : ليلة القدر وقع التفضل فيها علي أمة محمد صلي الله عليه وآله وسلم ، وليلة المولد الشريف وقع التفضل فيها علي سائر الموجودات، فهو الذي بعثه الله تعالٰي رحمة للعالمين، فعمّت به النعمة علي جميع الخلائق، فکانت ليلة المولد أعم نفعاً، فکانت أفضل من ليلة القدر بهذا الاعتبار.

1. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 145
2. عبد الحق، ما ثَبَت مِن السُّنّة في أيّام السَّنَة : 59، 60
3. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 255، 256
4. نبهاني، جواهر البحار في فضائل النبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم ، 3 : 424

’’جب ہم یہ کہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ رات کے وقت پیدا ہوئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شبِ میلادِ رسول ﷺ افضل ہے یا لیلۃ القدر؟ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ ﷺ کی میلاد کی رات تین وجوہ کی بناء پر شبِ قدر سے اَفضل ہے :

(1) آپ ﷺ کا ظہور شبِ میلاد میں ہوا جب کہ لیلۃ القدر آپ ﷺ کو عطا کی گئی، لہٰذا وہ رات جس کو آپ ﷺ کے ظہور کا شرف ملا اُس رات سے زیاد شرف والی ہوگی جسے اِس رات میں تشریف لانے والی ہستی کے سبب سے شرف ملا، اور اِس میں کوئی نزاع نہیں۔ لہٰذا اِس اِعتبار سے شبِ میلاد شبِ قدر سے افضل ہوئی۔

(2) اگر لیلۃ القدر کی عظمت اِس بناء پر ہے کہ اِس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو شبِ ولادت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کائنات میں جلوہ فرما ہوئے۔ جمہور اہلِ سنت کے قول کے مطابق شبِ میلاد کو جس ہستی (یعنی حضور ﷺ ) نے شرف بخشا وہ شبِ قدر کو شرف بخشنے والی ہستیوں (یعنی فرشتوں) سے کہیں زیادہ بلند و برتر اور عظمت والی ہے۔ لہٰذا شبِ ولادت ہی افضل ہے۔

(3) شبِ قدر کے باعث اُمتِ محمدیہ ﷺ کو فضیلت بخشی گئی اور شبِ میلاد کے ذریعے جمیع موجودات کو فضیلت سے نوازا گیا۔ پس حضور ﷺ ہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجا، اور اِس طرح نعمتِ رحمت جمیع کائنات کے لیے عام کر دی گئی۔ لہٰذا شبِ ولادت نفع رسانی میں کہیں زیادہ ہے، اور اِس اعتبار سے بھی یہ لیلۃ القدر سے افضل ٹھہری۔‘‘

2۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ (239۔ 321ھ) بعض شوافع سے نقل کرتے ہیں :

أن أفضل الليالي ليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم ، ثم ليلة القدر، ثم ليلة الإسراء والمعراج، ثم ليلة عرفة، ثم ليلة الجمعة، ثم ليلة النصف من شعبان، ثم ليلة العيد.

’’راتوں میں سے افضل ترین شبِ میلادِ رسول ﷺ ہے، پھر شبِ قدر، پھر شبِ اِسراء و معراج، پھر شبِ عرفہ، پھر شبِ جمعہ، پھر شعبان کی پندرہویں شب اور پھر شبِ عید ہے۔‘‘

1. ابن عابدين، رد المحتار علي در المختار علي تنوير الأبصار، 2 : 511
2. شرواني، حاشية علي تحفة المحتاج بشرح المنهاج، 2 : 405
3. نبهاني، جواهر البحار في فضائل النبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم ، 3 : 426

3۔ امام نبہانی (م1350ھ) اپنی مشہور تصنیف ’’الانوار المحمدیۃ من المواہب اللدنیۃ (ص : 28)‘‘ میں لکھتے ہیں :

وليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من ليلة القدر.

’’اور شبِ میلادِ رسول ﷺ شبِ قدر سے افضل ہے۔‘‘

4۔ مولانا محمد عبد الحئ فرنگی محلی لکھنوی (1264۔ 1304ھ) شبِ قدر اور شبِ میلاد میں سے زیادہ فضیلت کی حامل رات کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’تمام راتوں پر شبِ قدر کی بزرگی منصوص اور کئی طرح سے ثابت ہے :

1۔ اِس رات میں اَرواح اور ملائکہ کا نزول زمین پر ہوتا ہے۔

2۔ شام سے صبح تک تجلی باری تعالیٰ آسمانِ اَوّل پر ہوتی ہے۔

3۔ لوحِ محفوظ سے آسمانِ اَوّل پر نزولِ قرآن اِسی رات میں ہوا ہے۔

اور انہی بزرگیوں کی وجہ سے تسکین اور تسلیء اُمتِ محمدیہ کے لیے اس ایک رات کی عبادت ثواب میں ہزار مہینوں کی عبادت سے زائد ہے۔ الله تعالیٰ نے فرمایا ہے :

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍO

’’شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ‘‘

القدر، 97 : 3

اور حدیث میں بھی اِس رات کے جاگنے کی تاکید آئی ہے اور بعض محدثین نے جو شبِ میلاد کو شبِ قدر پر فضیلت دی ہے تو اُن کا یہ منشا نہیں کہ شبِ میلاد کی عبادت ثواب میں شبِ قدر کی عبادت کے برابر ہے کیوں کہ ثواب اور عقاب کی حالت یہ ہے کہ جب تک نصِ قطعی نہ پائی جائے کسی کام کو باعثِ ثواب نہیں قرار دے سکتے۔ مگر شبِ میلاد کو شبِ قدر پر اپنے اِفتخارِ ذاتی سے خدا کے سامنے فضیلت حاصل ہے۔‘‘

عبد الحی، مجموعه فتاویٰ، 1 : 86، 87

شبِ قدر کو فضیلت اس لیے ملی کہ اِس میں قرآن حکیم نازل ہوا اور اِس میں فرشتے اترتے ہیں؛ جب کہ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی فضیلت کا یہ عالم ہے آپ پر قرآن نازل ہوا اور روزانہ ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو آپ ﷺ کے مزارِ اَقدس کی زیارت اور طواف کرتے ہیں اور بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں ہدیۂ درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا اور فرشتوں میں سے جو ایک بار روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کا شرف پالیتا ہے دوبارہ قیامت تک اُس کی باری نہیں آئے گی۔ (1) فرشتے تو دربارِ مصطفیٰ ﷺ کے خادم اور جاروب کش ہیں۔ وہ اُتریں تو شبِ قدر ہزار مہینوں سے افضل ہو جاتی ہے اور جس رات ساری کائنات کے سردار تشریف لائیں اس کی فضیلت کا اِحاطہ کرنا انسان کے علم و شعور کے لیے ناممکن ہے۔ آقا ﷺ کی آمد کی رات اور آپ ﷺ کی آمد کے مہینہ پر کروڑوں اربوں مہینوں کی فضیلتیں قربان! خاص بات یہ ہے کہ شبِ قدر کی فضیلت فقط اہلِ ایمان کے لیے ہے۔ باقی انسانیت اس سے محروم رہتی ہے مگر حضور ﷺ کی آمد فقط اہلِ ایمان کے لیے ہی باعثِ فضل و رحمت نہیں بلکہ کل کائنات کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ ساری کائنات میں جملہ مخلوق کے لیے اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اس پر خوشی کا اظہار کرنا باعثِ اَجر و ثواب ہے۔

1. ابن مبارک، الزهد : 558، رقم : 1600
2. دارمي، السنن، 1 : 57، رقم : 94
3. قرطبي، التذکرة في أمور أحوال الموتي وأمور الآخرة : 213، 214، (باب في بعث النبي صلي الله عليه وآله وسلم من قبره)
4. نجار، الرد علي من يقول القرآن مخلوق : 63، رقم : 89
5. ابن حبان، العظمة، 3 : 1018، 1019، رقم : 537
6. أزدي، فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 92، رقم : 101
7. بيهقي، شعب الإيمان، 3 : 492، 493، رقم : 4170
8. أبونعيم، حلية الأولياء و طبقات الأصفياء، 5 : 390
9. ابن جوزي، الوفا بأحوال المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم : 833، رقم : 1578
10. ابن قيم، جلاء الأفهام في الصلاة والسلام علي خير الأنام صلي الله عليه وآله وسلم : 68، رقم : 129
11. سمهودي، وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 559
12. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 4 : 625
13. سيوطي، کفاية الطالب اللبيب في خصائص الحبيب، 2 : 376
14. صالحي، سبل الهديٰ و الرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 12 : 452، 453
15. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 12 : 283، 284

2۔ جشنِ نزولِ خوانِ نعمت سے اِستدلال
پہلی اُمتوں کو بھی الله رب العزت نے اپنی نعمتوں سے نوازا جس پر وہ الله کے حضور شکر بجا لاتے اور حصولِ نعمت کا دن بطورِ عید مناتے تھے۔ جیسے خوانِ نعمت ملنے کا دن جشنِ عید کے طور پر منایا جاتا تھا۔ اِس مثال سے مقصود یہ باور کرانا ہے کہ سابقہ اُمتیں اپنی روایات کے مطابق مخصوص دن مناتی چلی آرہی ہیں اور قرآن نے ان کے اس عمل کا ذکر بھی کیا ہے۔

رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ.

المائدة، 5 : 114

’’اے الله ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اُترنے کا دن) ہمارے لیے عید ہوجائے ہمار ے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو۔‘‘

لہٰذا جب سابقہ اُمتیں معمولی سی نعمت پر شکر بجا لاتی تھیں تو اُمت مسلمہ پر بہ درجۂ اَتم لازم آتا ہے کہ وہ اپنے آقا ﷺ کی آمد کی خوشی منا کر اس عظیم ترین نعمت کا شکر شرحِ صدر کے ساتھ بجا لائے، کیوں کہ ایسا کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے خود دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :

وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا.

’’اور اپنے اوپر (کی گئی) الله کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی پس تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔‘‘

آل عمران، 3 : 103

بلاشبہ یہ الله تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اس نے اپنے حبیب ﷺ کے ذریعے بندوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا۔ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ان کو ایک دوسرے کا غم خوار بنا دیا۔ ان کی نفرتوں اور عداوتوں کو محبتوں اور مروّتوں سے بدل دیا۔ حقیقتاً یہ نعمت حضور ﷺ کی بعثت کے تصدق سے عالمِ انسانیت کو نصیب ہوئی، اس نعمت کا مبداء و مرجع بھی حضور ﷺ کی ذات اَقدس ہے۔ آپ ﷺ کا اس دنیا میں تشریف لانا اور لوگوں کا آپ ﷺ پر ایمان لاکر حلقہ بگوش ہونا اور خون کے پیاسوں کا باہم شیر و شکر ہونا اس اَمر کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم رحمتِ دوعالم ﷺ کے میلاد کے موقع پر بارگاہِ خداوندی میں سراپا تشکر بن جائیں۔

3۔ جشنِ آزادی منانے سے اِستدلال
الله تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرکے ان پر شکر بجا لانا صرف اُمتِ محمدی ﷺ ہی پر واجب نہیں بلکہ سابقہ اُمتوں کو بھی یہی حکم تھا۔ بنی اسرائیل سے فرمایا گیا :

يَا بَنِي إِسْرَآئِيلَ اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَO

’’اے اولادِ یعقوب! میرے وہ اِنعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور یہ کہ میں نے تمہیں (اُس زمانے میں) سب لوگوں پر فضیلت دی۔ ‘‘

البقرة، 2 : 47

اسی طرح دیگر آیات میں الله تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے اِحسانات گنوائے ہیں۔ ایک مقام پر فرمایا :

وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ.

’’اور (اے آلِ یعقوب! اپنی قومی تاریخ کا وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے رہائی دی جو تمہیں انتہائی سخت عذاب دیتے تھے۔‘‘

البقرة، 2 : 49

قرآن حکیم کی محولہ بالا آیاتِ مبارکہ سے یہ نکتہ مستنبط ہوتا ہے کہ قومی آزادی بھی ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ فرعون کی غلامی سے آزادی حاصل ہونے پر الله تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ۔ قومی آزادی بلا شبہ ایک نعمتِ خداوندی ہے اور اس کے حصول پر شکر بجا لانا حکمِ ایزدی کی تعمیل ہے۔ ہمارے وطن پاکستان کا برطانوی اِستعمار کے تسلط سے آزاد ہونا اور ایک نئی اسلامی ریاست کے طور پر معرضِ وجود میں آنا الله تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ جب ہم ہر سال 14 اگست کو نعمتِ آزادی کے حصول پر خوشی مناتے ہیں تو یہ قرآن حکیم کے حکمِ تشکر کے حوالے سے بھی ہم پر لازم آتا ہے۔

اِسی طرح نصِ قرآنی سے یہ اَمر بھی واضح ہوگیا کہ قومی آزادی کے موقع پر ہر سال اس کی یاد منانا اور مختلف طریقوں سے شکر بجا لانا محض دنیوی اور سیاسی نہیں بلکہ دینی اور شرعی فعل ہے اور اِسے نہ ماننا حکمِ الٰہی سے انحراف کے مترادف ہے۔ ہر زمانے، ہر صدی اور ہر دور کا ایک عالمی کلچر ہوتا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اور ہر قبیلہ اپنے اپنے تاریخی حوالوں سے ایامِ تشکر یا ایامِ مسرت مناتا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک یا خطہ ایسا نہیں جہاں کے رہنے والے لوگ مذہبی تہوار یا کوئی نہ کوئی قومی تہوار نہ مناتے ہوں۔ یہودی، عیسائی، بدھ، ہندو حتیٰ کہ ملحد قومیں بھی اپنے اپنے ثقافتی پس منظر اور روایات سے ہم آہنگی قائم رکھتے ہوئے خوشی کے دن مناتی ہیں۔ مسلمانوں کو اللہ رب العزت نے ایام اللہ عنایت فرمائے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہماری زندگی کے لیے ہدایت و شریعت اور تہذیب و ثقافت کا سرچشمہ ہے۔ آج کے عالمی کلچر کے پیشِ نظر حضور ﷺ کا جشنِ میلاد اِسلامی ثقافت کے اِبلاغ کے لیے مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔
#میلاد

Address

Shahi Bazar
Moro
67130

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TajMasjid Moro posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to TajMasjid Moro:

Shortcuts

Share