𝐒𝐏𝐒𝐂 𝐏𝐑𝐄𝐏𝐀𝐑𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍 𝟐𝟎𝟐𝟒

𝐒𝐏𝐒𝐂 𝐏𝐑𝐄𝐏𝐀𝐑𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍 𝟐𝟎𝟐𝟒

Share

You only fail when you stop trying

13/12/2024

Photos from 𝐒𝐏𝐒𝐂 𝐏𝐑𝐄𝐏𝐀𝐑𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍 𝟐𝟎𝟐𝟒's post 21/10/2024

اسسٽنٽ BPS-16 جي تياري لاء ڪجھ اھم Idioms.

20/10/2024

آنلائن طريقي سان چالان پئي ڪرڻ تمام سولو آھي ڪنھن دوست کي سمجھ نٿو اچي تي مونسان رابطو ڪري سگھي ٿو،،

20/10/2024

Assistant Bps-16,
Syllabus
251 پوسٽون آھن ھينئر کان ئي محنت شروع ڪيو انشاءالله ڪامياب ضرور ٿيندا،،
وڌيڪ تياريءَ جي لاءِ ھن پيج کي فالو ڪيو،،

20/02/2024

سنڌ پبلڪ سروس ڪميشن پاران سيڪنڊري اسڪول ٽيچرس جي لاء لکت امتحان لاء ورتل سمورا پيپر ۽ رٿيل سمورا ٽيسٽ رد ، ڪميشن پاران پيپر آئوٽ ڪندڙن خلاف ڪيس داخل ڪرائڻ جو اعلان ڪيو آهي.
جڏهن ته ڪميشن پاران اھو پڻ پڌرو ڪيو ويو آهي ته ايس ايس ٽي جي لکت ٽيسٽ ٻيهر اپريل مهيني ۾ ورتي ويندي.
ٻئي طرف
ڪميشن اهو پڻ پڌرو ڪيو آهي ته هيڊ ماسترن ۽ ليڪچرارن ڪي آسامين لاء رٿيل ٽيسٽ شيڊيول موجب ٿيندي.

Photos from 𝐒𝐏𝐒𝐂 𝐏𝐑𝐄𝐏𝐀𝐑𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍 𝟐𝟎𝟐𝟒's post 15/02/2024

سيڪنڊري اسڪول ٽيچر SST جنرل ڪيٽگري جو اڄوڪو ٽيسٽ پيپر.. 15/02/2024

Photos from 𝐒𝐏𝐒𝐂 𝐏𝐑𝐄𝐏𝐀𝐑𝐀𝐓𝐈𝐎𝐍 𝟐𝟎𝟐𝟒's post 13/02/2024


Schedule of pre interview written test of SST, School Education Department Government of Sindh.

31/01/2024

ايس ايس ٽي جون سلپون ويب سائيٽ تي اپلوڊ ٿي چڪيون آھن ڊائونلوڊ ڪري سگھو ٿا
https://spsc.gos.pk/

18/01/2024

سيڪنڊري اسڪول ٽيچر SST گريڊ 16 جي ٽيسٽ 17 فيبروري کان 28 فيبروري تائين وٺڻ جون تياريون.

27/11/2023

😭 سی ایس ایس سے موت تک کا سفر 😭😭
بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔

بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔

بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس پاس کرنے کو صرف ایلیٹ کلاس سے منسوب کرتے تھے۔ سلسلہ چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان سی ایس ایس کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر گامزن ہونے لگے۔

لیکن عرفان خان نے کیا زبردست جملہ بولا تھا کہ "جب ہم جیسوں کےدن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے"۔ بلال پاشا کی زندگی کی شروعات ہوئی تھی اور موت نے آن دبوچ لیا۔ بلال کی موت کی وجہ بس ایک ہی تھی۔۔ سول سروس میں ملنے والا ڈپریشن۔ وہ جس سے بھی بات کرتا یہی کہتا کہ وہ یا تو نوکری چھوڑ دے گا یا خودکشی کرلے گا۔

بلال کی موت سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک، ڈپریشن جان لیوا بیماری ہے۔ یہ ارب پتی باپ طارق جمیل کے ارب پتی بیٹے کو بھی دبوچ لیتی ہے اور یہ ایک مزدور باپ کے افسر بیٹے بلال پاشا کو بھی نہیں چھوڑتی۔ دوسرا۔۔ ہمیں اپنے خوابوں کے پیچھے اتنا بھی نہیں بھاگنا چاہیے کہ وہ ہمارے لئے Pyrrhic Victory ثابت ہو ( فرانس کا نپولین بوناپارٹ روس کو شکست دینے کے لئے اپنی چھ لاکھ فوجوں کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ وہ جنگ تو جیت گیا لیکن سرد موسم کی وجہ سے صرف دس ہزار فوجیوں کو بچا کر واپس آیا اور تب تک پیرس کا بھی محاصرہ ہوچکا تھا) ۔ بلال سترہویں سکیل کی عام نوکری پہ رہتا تو شاید کبھی اس Pyrrhic Victory کا شکار نہ ہوتا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے " جس کی طلب میں تڑپ رہے ہو، وہ مل بھی بھی گیا تو کیا کرو گے"۔ یا پھر چارلس بکوسکی سے نے کہا تھا " ڈھونڈو اسے جس سے تم محبت کرتے ہو تاکہ وہ تمہیں مارسکے"۔ بلال کو بھی سی ایس ایس کرنے نے مار دیا۔ لہذا سی ایس ایس ایسی چیز نہیں ہے جس کی خاطر جان سے بھی ہاتھ دھویا جائے۔ ہر سال 17 فیصد بیوروکریٹ اپنی نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے استعفے دے دیتے ہیں۔ بلال بھی یہی کہتا تھا " یہ لوگ بتی اور سبز نمبر پلیٹ دیکھتے ہیں لیکن میرے اندر نہیں دیکھتے"۔ اب قیامت گزر چکی ہے۔

آج کی رات بلال کے باریش والد کے لئے بہت بھاری ہے۔ آج وہ اپنے ناتواں ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کے سونے جیسے جسم کو سپرد خاک کرے گا۔ آج کی رات بہت طویل ہے۔۔ بہت کٹھن۔۔ ہر طرف چیخ و پکار ہوگی۔۔ بلال کی میت کو روکا جائے گا۔۔ لیکن جانے والے کو کوئی روک پایا ہے؟ آج رات تو ہوگی لیکن اس کی سحر نہیں ہوگی۔ جب صبح کا سورج طلوع ہوگا تو اس کا باریش باپ گلیوں گلیوں صدائیں لگاتا ہوا اسی مسجد کے صحن میں جا پہنچے گا جہاں سے بلال نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار وہ میسر نہیں ہوگا۔ اب کی بار مسجد کے درودیوار سے بس آہ و بکا سنائی دے گی۔۔ وحشت نظر آئے گی۔۔ لیکن بلال کہیں نظر نہیں آئے گا۔۔۔ وہ اس نیلی بتی۔۔۔ سبز نمبر پلیٹ ۔۔۔ اور اس سماج کے خودساختہ معیار سے بہت دور جاچکا ہوگا۔ اب کی بار وہ لوٹ کے نہیں آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔اللہ حافظ بلال۔۔۔۔۔
(خیال پارے ❤
محمــــد
27 نومبر 2023ء

Want your school to be the top-listed School/college in Mithi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Mithi