تم تو خدا کے بھی نا ہوئے تو کیا امید کرم رکھیں ہم تم سے
مجھے کوئی خوف نہیں ان کا ڈرتے ہو میرے یارو تم جن سے
صرف خدا سے مدد مانگو تم مددتیں مانگتے ہو کن کن سے
جو اپنے بچے پیدا نا کروا سکے کیا تم بچے مانگتے ہو ان سے
شاعر ایم عثمان
Sad poetry Poet Usman Khan
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sad poetry Poet Usman Khan, College & University, Mirpur.
ہمارے جسموں میں طاقت تو ہے مگر دماغ میں شعور نہیں ہے
یہاں سب کے سب فطرت کے بچھو ہیں کوئی مشکور نہیں ہے
سچ و حق بات کہہ دینا میرے خیال میں کوئی فتور نہیں ہے
اپنا گھر خود ہی اجھاڑا تم نے میرا کوئی قسور نہیں ہے
شاعر ایم عثمان
ملک کے حالات ۔شاعرکے خیالات
لہو ہمارا نچوڑ کہ پی رہے ہیں چند درندے مفت شراب کی طرح ۔ہم بھی سب کے سب زندہ داخل شہر خاموشاں ہوئے مردہ جناب کی طرح
یہاں پہ فیصلے ترازو پہ ہوتے ہیں جو پلا بھاری ہو حق اسی کا ہے قانون ہے یہاں کا الماری میں رکھی ہوئی بند کتاب کی طرح
بتاؤ یہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا۔اگر مزید بھی ایسے ہی ظالم رہے تو یہ زلزلے کیا ہیں برسنے ہیں پتھر ہم پر سمود و ہاد کی طرح
ہمارے لہو سے تالاب بنا کہ اپنی کشتیاں چلاتے ہیں یہ مفت آب کی طرح اٹھو زرا ان کو اپنی آغوش میں لیں باغضب سیلاب کی طرح
غلامی کی زہر ہم سب کے خوں میں ملا دی ہے دشمن نے مانتے ہیں سب کے سب ہر حکم مغرب کا خدا کے ارشاد کی طرح
راہبر قرآن تھا ہمارا مقصود خدا پہ ایمان تھا ہمارا با وقار و با مراد تھے ہم ۔ کیا ہمیں رسوا اک احمق و نامراد کی طرح
کیسے نا کہوں کیوں نا کہوں حق بات ۔تم وقت کے فرعون ہو بے حس و بے ضمیر ہو اگر تم عادل ہو بھی تو قارون و شداد کی طرح۔
شاعر ۔ ایم عثمان
آج میں کچھ لکھتا ہوں حقیقت کے نام
کہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کیا ہے پاکستان
ہمارا بوڑا ہے بچہ ہے یا جوان
وہ کیسے بنتا ہے انگریز کا غلام
اور کیسے مانتا ہے مغرب کا ہر فرمان
چاہے وہ ہے عوام یا ملک کا حکمران
کوئی عادل ہے یا سلطان
سب ہیں انگریز کے غلام
گوروں کا حکم کہ بچہ ہو گا ماں پیٹ میں تو اس کو وہیں غلامی کے انجکشن لگوانے ہیں
آنکھ کھولے دنیا میں تو پولیو کے نام پہ کچھ قطرے پلوانے ہیں
دو برس کو پہنچے تو اس کے ہاتھ میں کرکٹ کا گیند اور بلا تمامے ہیں
اس کو اس کی کامیابی کے منزل کے خواب کرکٹ کے نام پہ اس کے ذہن میں بٹھانے ہیں
جب جوانی پہنچے تو اس کو فلمیں دکھا دکھا کے بتانا ہے کہ تیری رگ رگ میں عشق معشوقی کے خزانے ہیں
یونیورسٹوں میں یہ سکھانا ہے کہ تم نے اپنے ہی بھائیوں خون نچوڑ کہ اپنے لیئے کاریں اور بنگلے کیسے بنانے ہیں
فطرت میں یہی بھی میری بھائیوں کی اپنے مسلمانوں خون چوس لے مگر اپنے لیئے محل برطانیہ میں بنانے ہیں
یہاں مخلصوں کی کمی ہے مطلب کا زمانہ ہے
زرہ سوچو یارو ہم نے اس ملک کو کیسے بچانا ہے
کان کھول کہ سنو آج مینے تمہیں کچھ بتانا ہے
ہمیں کونسا علم انگریز سے چاہئے ہمارے پاس تو قرآن ہے علم عالم جہان ہے
آئنسٹائن کیا چیز ہے ہمارا راہبر تو رحمان ہے
غفلت کے نیند چھوڑو خود کو زرہ جھنجھوڑو
ظلم کی زنجیر توڑو کشتی کو منزل کی طرف موڑو
ووٹوں کی ذلت کو چھوڑو
آؤ ملکر اس ملک کو بچاتے ہیں
جو خدا کا ہو اس کو ملکر لیڈر بناتے ہیں
اور انصاف کا قانون بناتے ہیں
مزدور اور حکمران برابر ہو
ملک تمام مصنوعات کا پیداور ہو
غلامی کی زنجیر ٹوٹ جائے
غداروں کی غداری پھوٹ جائے
کمی کونسی ہے اس ملک میں مجھے آج بتاؤ زرہ
خدا راہ ووٹوں کی آپس کی جنگ کو چھوڑو
اس ملک کے ہونے والے ٹکڑوں کے جوڑو
تمام تحریکوں کو راہ سے ہٹاتے ہیں
اور عمر کے قانون کو اپناتے ہیں
راہبر قرآن کو بناتے ہیں
سب ملکر تحریک عمر بناتے ہیں
لیڈر ایک مسلمان کو بناتے ہیں
آؤ سب ملکر اس پاکستان کو بچاتے ہیں
تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہیکہ اس پیج کو فالو کیجئے
ہم انشاء اللہ تحریک عمر فاروق بناتے ہیں
جو لوگ چاہتے ہیں کہ تحریک عمر فاروق بنے وہ اس پوسٹ کو شیئر کریں پیج کو فالو کریں اور کمنٹ میں بتائیں کے ہم نے عمر کے قانون کو اپنا ہے ۔
میری تحریر میں کوئی غلطی ہوئی تو بتائیے
شکریہ
09/02/2023
یہ تیری حسرتیں سدا تمنا ہی رہیں گی
وہ کہنے والیاں تجھے بھی برا کہیں گی
اے لا علم یہ کیا رونا ہے اب تو اشقوں کی قطاریں بہیں گی
جب تجھے ہوش آیا تو میرا حال تجھے میری کتابیں کہیں گی
ایم عثمان
31/01/2023
پیج کو لائک کیجئے فالو کیجئے ۔ شکریہ
29/01/2023
پیج کو فالو کیجئے
28/01/2023
آج من چاہتا ہے سامنے تمہارے رکھوں چند الفاظ اس کے نام
جو کرواتا ہے بحر کفر کی تاریکیوں میں اسلام کی پہچان
بن چراغ تو منزل تک نہیں پہنچ سکتا آندھی و تاریک شب میں صحرہ سے ہے اگر تو انسان
فرمایا رب نے 14 صدیوں پہلے , العلما وراثت الانبیاء ۔ہر حال میں اس آیت کو مان ہے اگر تو مسلمان
ہر لمحہ کھڑا ہے سرحد دین پر تان کہ سینہ ۔مقابل ہے جو آتا ہے اسلام کی طرف آندھی اور طوفان
انگریز پتلون پہن کر اور سیاست کا لبادہ اور غفلت کی چادر اوڑھ کر بن گیا ہے تو دشمن اسلام
یونیورسٹوں میں انگریز تو بن گا مگر نا قرآن پڑھا نا خدیث پڑھی نا سوچا نا سمجھا بس لگا لیا الزام
میری قلم بھی کانپ جاتی ہے میری سمجھ سے بالا تر ہے میں نا سمجھ سکا کہ تو کیسا ہے مسلمان
کفر کی آگ کا صحرہ ہے اور اس آگ کے صحرہ میں اسلام کا پرچم لہراتا ہے اک پہلوان جس نام ہے مولانا فضل الرحمان
وہ کچھ نہیں مانگتا تم سے اگر طلب ہے تم کو جنت کی تو اس کے قدموں میں بیٹھو اور کرو اس کا احترام
یہ علماء نا ہوتے ہندوستان آزاد نا ہوتا انگریز سے اور نا ہی بنتا یہ ہمارا پیارا پاکستان
علماء کے خون کی ندیوں سے ملا ہے تم کو رب کی طرف سے یہ انعام
تاریخ اٹھاؤ پڑھو زرہ اوراک تاریخ کہ بن سمجھے نا بنو یوں ہی نادان
تمہاری انگلیوں اٹھانے سے اور دھمکیوں سے گر نا جائے گا آسمان
گالیاں دیتے ہو دیتے رہو مگر آج یہ کہہ دوں تمہیں۔ اک روز آئے مخشر کا میدان
نا اس کو دولت کی تمنا ہے نا اس کو جان کی پروہ ہے بس چاہتا کسی صورت بچ جائے اسلام
تم جیسا چھور لٹیرا نہیں وہ اس کے سینے میں ہے علم قرآن ہے وہ سوچتا ہے تمہارا بھلا اے عوام
جب انگلیاں اٹھتی ہیں دشمانان دین کی نبی و صحابہ و اسلام پر تو سب سے پہلے یہی نظر آتا ہے برسرے میدان
آندھیاں آتی ہیں گرانے کو تحت مگر انہیں آندھیوں پہ اڑھ جاتا ہے اس کا تحت جیسے کہ تحت سلیمان
آؤ آج سب ملکر نعرہ لگائیں ہم سب ہیں مسلمان اور قائد ہے ہمارا فضل الرحمان
آج کا بس یہی تھا میرا آپ لوگوں کو پیغام
بس زندگی رہی تو اور باتیں پھر کبھی کہوں گا وسلام
شاعر عثمان
28/01/2023
آج لکھتا ہوں اپنی بیٹی کے نام اک پیغام
اے بیٹی تو نے صرف چند دن کی زندگی میرے ساتھ گزاری پھر عمر بھر کیلئے جدائی کی تقدیر بن گئی ہو تم
وہ منکر جہالت کی انا مجھ سے جدا ہوئے اور بے وجہ دیکھنا نا چاہتے تھے مجھے مگر سامنے ان کے سدا میری تصویر بن گئی ہو تم
جب سے تو گئی ہے تیرے جانے کے غم سے میری آنکھوں نے اشقوں کے دریا اگلے ہیں اس آب کے ثمر سے آج کے تحریر بن گئی ہو تم
ہمدرد تھا اس کا میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مگر اس منکر نے میرے دل پہ وار کیا اس وار کی شمشیر بن گئی ہو تم
دیکھنے والے کیا جانیں بظاہر تو میں آزاد ہوں مگر حقیقت میں میرے گلے زنجیر بن گئی ہو تم
کوئی جنگ نا تھی کوئی اخلاف نا تھا بس میں خاموش تھا کوئی بات نا تھی مگر آج مسلہ کشمیر بن گئی ہو تم
چلتا پھرتا بن سوئے خوابیں دیکھتا ہوں اور ان جھوٹی خوابوں کی تعبیر بن گئی ہو تم
اے بیٹی تیری راہوں پہ نگاہیں رکھ کہ منتظر ہوں تا وفات سچ بتاؤں تو ہاتھوں کی لکیر بن گئی ہو تم
دو ٹوک چند الفظ کہنے تھے آج مگر پوری تقریر بن گئی ہو تم
میری شرافت کی انتہا تھی مگر آج مجھ پہ تنقید بن گئی ہو تم
عثمان
23/01/2023
یہ مت سوچو کہ چاہتا ہو گا کہ جکے میرے سامنے
نا ایسا ہوں نا دل ہے ایسا مگر کون پہچانے
مجرم ہوتا تب کے کوئی آیا ہوتا منانے
خیراں ہوں کیا جرم تھا میرا ناجانے
رہنا نہیں تھا تو کیوں آئے تھے میری زندگی کو ستانے
کرو یاد آج زرا میرے ساتھ گزرے ہوئے سمے اور زمانے
مخفی کیوں رکھتے ہو حقیقت دل میں ۔کیوں دلواتے ہو مجھ کو طعنے
تجاوز نا کرو اس سے کہ جو انسانیت کے ہیں پیمانے
آج جو کہتے ہیں تجھے کرو یہ بہانے
یہ نا آئیں محشر میں تجھے بخشوانے
جدائی منتحب کرتے ہو ۔ عثمان نا آئے گا میت بھی اٹھانے
کر کوئی حق کی بات کیسے ممکن ہے کہ عثمان نا مانے
کبھی آئے ہو تم اس بیچارے کا پتہ لگانے
آتے ہیں محسن تیرے ۔سامنے میرے ۔ تجھے طلاق دلوانے
اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں نہیں چاہتے تیرے مستقبل کو بچانے
کیا فیصلہ کر لیا ہے تم نے کہ تیر میرے جگر پر ہی ہیں چلانے
کیوں اتر گئے ہو دشمنی پر میرا خون بہانے
چاہتے ہو تم کیا مجھے زہر کا گونٹ پلانے
تم آئے عدالت میں مجھے عدالت میں نچانے
مینے کردار کیا حالات رکھے سب تیرے سامنے
تیرے ہی قاضی نے کہا تجھے سب تیرے ہاتھ میں ہے
اگر تو چاہے اپنے مستقبل کو بچانے
قاضی نے سمجھایا بہت مگر کون آتا تجھے سمجھانے
یہاں تک اس نے کہا جنت میں جانا ہے یا جہنم میں
جہنم میں جانا ہےتو نے یہ فرمایا
یہ سن کہ قاضی بھی شرمایا
شاعر عثمان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mirpur