27/09/2022
ڈائلاسس(Dialysis) کے دوران جسم سے خون سرخ نالی سے باہر نکالا جاتا ہے ، پھر مشین سے اسے گزارنے کے بعد جسم میں دوبارہ نیلی نلی سے داخل کردیا جاتا ہے۔
ایک ڈائلاسیس کا process تقریباً چار گھنٹے چلتا ہے، اور یہ عمل مریض کو ہفتے میں دو سے تین مرتبہ دہرانا پڑتا۔
وہیں جن لوگوں کے گردے (Kidneys)صحت مند ہیں ان کے جسم میں یہی عمل خود بخود دن میں 36 مرتبہ ہوتا ہے، بنا کسی تکلیف کے اور مکمل آرام کے ساتھ ۔
آپ نہیں جانتے کہ ہر دم ، ہر آن رب تعالیٰ کی کس قدر نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں۔ اس لئے ہمیشہ رب کا شکر ادا کرتے رہیں۔
💙 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 💙
23/08/2022
بریکنگ
میرپورخاص. سندھ میں تیز بارشوں کے سبب بدھ سے جمع 24 سے 26 آگست تک ميرپورخاص ضلعي ميں تمام.نجی و سرکاری اسکول بند رہگیں. ڈپٹی کمشنر میرپورخاص نے تعلیمی اداروں کی بندش کا نوٹفکییشن جاری کردیا.
19/08/2022
جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتی
دلیل یہ تھی کہ
تم ایک غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو
جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے
یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے گئی
تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے
اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھئے
ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا
خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے
واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی
خاتون نے لکھا ہے کہ :
میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی
ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے
ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے
روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے
اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا
ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ
برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے
ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا
جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو
سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا
اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا
اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی
ایک بار ایسا ہوا کہ
ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی
اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا
اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ;
ٹرین نہیں چلانی
ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ :
جو حکم چھوٹے صاحب
کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ
اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا
لیکن
بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا
بالآخر
بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا
چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی
ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے
ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا
بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی
قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی
جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا
جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا
وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا
وہ زور زور سے کہہ رہا تھا
یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے
ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے
میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا
میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ :
یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے
یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا
وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ
اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے
آج یہ واضع ہے کہ :
ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے
البتہ غلامی کو دیس سے نہیں نکال سکے
یہاں آج بھی کئی
1- ڈپٹی کمشنرز
2- ایس پیز
3- وزرا مشیران
4- سیاست دان
5- جرنیل
صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں
اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ
ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالا طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئیے
ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئیے کہ ہم آزاد ہیں
19/08/2022
خود کو بڑا دکھانے کے لئے دوسروں کو چھوٹا دکھانے کی مشقت نہ کریں۔ اگلا چھوٹا ہو نہ ہو آپکی انرجی ایک غلط مقصد میں استعمال ہو گی۔ اس کا حساب دینا ہو گا روز آخرت۔
اللہ کی تقسیم پر ناخوش نہ ہوں ، نہ سوال اٹھائیں۔
اپنے لئے برکت والی حلال روزی کی کوشش بھی کریں دعا بھی۔
خود کو بہتر کرنے کی کوشش کرنے میں وقت صرف کریں ۔ اللہ سے دعا بھی کریں ۔ اس سے آپ بڑے نہ بھی ہوئے تو کم از کم آپ کے پاس ذہنی سکون اور اطمینان ضرور ہو گا کہ آپ نے اپنی توانائی کو مثبت مقصد کے لئے استعمال کیا۔
Cp
26/04/2022
وفاقي حڪومت 2 مئي کان 5 مئي تائين عيدالفطر جي موڪلن جو اعلان ڪري ڇڏيو
آچر سميت 5 موڪلون
18/03/2022
پندرہ شعبان المعظم کو شب برائت کی چھٹی ہے
اللّہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام ضرورت مندوں کی ضروریات پوری ہوں۔۔ اللّہ تعالیٰ سب کو اچھے کام انجام دینے اور برے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
17/03/2022
سنڌ حڪومت طرفان ھولي جي تھوار جي سلسي ۾ 18 ۽ 19 مارچ تي موڪل جو اعلان ڪري ڇڏيو۔
ڏيھ توڙي پرڏيھ ۾ رھندڙ، ۽ مھنجي سنڌ جي اصلي وارثن ھنڌو ڪميونٽي جي سڀني ڀينرن ۽ ڀائرن کي ھولي جي تھوار جون کوڙ ساريون مبارڪون۔
خدا اوھان جي رنگن سان سنڌ کي ھميشه رنگين رکي آمين❤🤲
25/01/2022
پوری دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی زندگی کو بدل سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں۔
PIMS school MPK
22/01/2022
*استاد کے 12 حقوق امام زین العابدین علی عليہ السلام کی نظر میں*
🌹 *امام زین العابدینؑ علیہ السلام سے رسالة الحقوق میں روایت ہے فرمایا"*
*وَ حَقُ سَائِسِكَ بِالْعِلْمِ* ''
*جس نے بھی علم و معرفت کی جانب تمہاری رہنمائی کی اس کا حق یہ ہے کہ*
*1۔ " التَّعْظِيمُ لَهُ "*
*اس کا حترام کرو۔*
*2۔ " وَ التَّوْقِيرُ لِمَجْلِسِهِ*
*"اس کی بارگاہ کو محترم جانو۔*
*3۔" وَ حُسْنُ الِاسْتِمَاعِ إِلَيْهِ* *"اس کی گفتگو غور سے سنو۔*
*4۔" وَ الْإِقْبَالُ عَلَيْهِ*
*"اس کی جانب اپنا رخ رکھو یعنی پشت مت کرو۔*
*5۔" وَ أَنْ لَا تَرْفَعَ عَلَيْهِ صَوْتَكَ* *"اپنی آواز کو اس کی آواز سے بلند نہ کرو۔*
*6۔" وَ لَا تُجِيبَ أَحَداً يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُجِيبُ*
*"اگر کوئی کسی چیز کے بارے اس سے سوال کرے تم جواب نہ دو بلکہ اسے دینے دو۔*
*7۔" وَ لَا تُحَدِّثَ فِي مَجْلِسِهِ أَحَداً*
*"اس کی مجلس میں بیٹھ کر کوئی کسی سے کلام نہ کرے۔*
*8۔" وَ لَا تَغْتَابَ عِنْدَهُ أَحَداً* *"اس کے پاس بیٹھ کر کسی کی غیبت نہ کرو۔*
*9۔" وَ أَنْ تَدْفَعَ عَنْهُ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَكَ بِسُوءٍ "*
*اور جب تمہارے سامنے اس کی کوئی برائی بیان کی جائے تو اس کا دفاع کرو۔*
*10۔" وَ أَنْ تَسْتُرَ عُيُوبَهُ وَ تُظْهِرَ مَنَاقِبَهُ*
*"اسکے عیوب و نقائص پر پردہ ڈالو اوراس کےفضائل ومناقب کو ظاہر کرو۔*
*11* ۔" *وَ لَا تُجَالِسَ لَهُ عَدُوّاً* *"اس کے دشمن کی ہم نشینی نہ کرو۔*
*12* ۔" *وَ لَا تُعَادِيَ لَهُ وَلِيّاً* *"اور اس کے دوستوں سے دشمنی نہ کرو۔*
*ان بارہ حقوق کو ذکر کرنے کے بعد امامؑ نے اس کا صلہ و اجر بیان فرمایا*
*" فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ شَهِدَتْ لَكَ مَلَائِكَةُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ بِأَنَّكَ قَصَدْتَهُ وَ تَعَلَّمْتَ عِلْمَهُ لِلَّهِ جَلَّ وَ عَزَّ اسْمُهُ لَا لِلنَّاس* "
*پس اگر تم اس پے عمل کر لو گے تو اللہ تعالی کے فرشتے تمہارے حق میں گواہی دیں گے کہ تم نے اس کا حق ادا کر دیا اور اس سے خدا کے لیے تعلیم حاصل کی نہ کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے۔*
________________________
📚2۔ *میزان الحکمت جلد6 صفحہ740*
21/01/2022
*امیر آدمی*
کسی محلے میں ایک امیر آدمی نے نیا مکان بنایا اور وہاں آکر رہنے لگا یہ امیر آدمی کبھی کسی کی مدد نہیں کرتا تھا.
اسی محلے میں کچھ دکاندار ایسے تھے جو خود امیر نہیں تھے لیکن لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے🤫
ایک قصائی تھا جو اکثر غریبوں کو مفت گوشت دے دیا کرتا تھا🥩
ایک راشن والا تھا جو ہر مہینہ کچھ گھرانوں کو ان کے گھر تک مفت راشن پہنچا دیتا تھا🍱🍣🥙🍞🥚
ایک دودھ والا تھا جو بچوں والے گھروں میں مفت دودھ پہنچاتا🥛🥡
لوگ مالدار شخص کو خوب برا کہتے کہ دیکھو اتنا مال ہونے کے باوجود کسی کی مدد نہیں کرتا ہے اور یہ دکاندار بے چارے خود سارا دن محنت کرتے ہیں لیکن غریبوں کا خیال بھی رکھتے ہیں🤝🤝🏻
کچھ عرصہ اسی طرح گذر گیا اور سب نے مالدار آدمی سے ناطہ توڑ لیا اور جب اس مالدار کا انتقال ہوا تو محلہ سے کوئی بھی اس کے جنازے میں شریک نہ ہوا.
مالدار کی موت کے اگلے روز ایک ًغریب نے گوشت والے سے مفت گوشت مانگا تو اس نے دینے سے صاف انکار کردیا....😕
دودھ والے نے مفت دودھ سے صاف انکار کردیا.😕
راشن والے نے مفت راشن دینے سے صاف انکار کردیا..😕
پتہ ہے کیوں? 🧐
ان سب کا ایک ہی جواب تھا... اب تمہیں یہاں سے کچھ بھی مفت نہیں مل سکتا کیونکہ وہ جو تمہارے پیسے ادا کیا کرتا تھا کل دنیا سے چلا گیا ہے😓😓
📍 *نتیجہ*
کسی کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کریں اور بد گمانی سے بچیں
کیونکہ ہم نہیں جانتے کس کا باطن کتنا پاکیزہ ہے
17/01/2022
فلسطین کے ایک سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبرات حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا۔
استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائیں اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائی وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیوں کہ وہ پٹھے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آگئی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔
جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔
میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملا سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔ ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوات اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔