Meraj official

Meraj official Meraj official

07/08/2026
19/07/2026

(فتح ثمرقند اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے…)

حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمة

ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کے حکمران “عمر بن عبد العزیز” سے ملنا چاہتا تھا۔
اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔

پادری نے لکھا !
“ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں. مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔”
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے سلطنت اسلامیہ کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔

دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔

جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا، “ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔”

قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔

قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔

عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام: ” ایک قاضی کا تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔” مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔

سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا .. کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے ۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔


قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟

پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟

قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔

قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟

قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔

اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔

ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔

ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں ۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔ آج غیر مسلم تو دور کی بات ،مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔
واللہ العالم.....

18/07/2026
تاریخ گواہ ہے کہ دسمبر 1979 میں جب سوویت یونین (روس)نے افغانستان پر حملہ کیا تو یہ جنگ صرف افغانستان تک محدود نہ رہی بلک...
17/07/2026

تاریخ گواہ ہے کہ دسمبر 1979 میں جب سوویت یونین (روس)نے افغانستان پر حملہ کیا تو یہ جنگ صرف افغانستان تک محدود نہ رہی بلکہ سرد جنگ کا سب سے بڑا پراکسی میدان بن گئی۔ امریکہ، پاکستان اور سعودی عرب نے مجاہدین کی مالی، عسکری اور سیاسی حمایت کی، جبکہ دوسری طرف سوویت فوج افغان سرزمین پر برسرِ پیکار رہی۔ اسی دور میں جب بیشتر مذہبی جماعتیں، مولوی حضرات اور بعض سیاسی رہنما اس جنگ کو "جہاد فی سبیل اللہ" قرار دے کر نوجوانوں کو جنگ کے لیے آمادہ کر رہے تھے، خان عبدالولی خان نے نہایت جرات کے ساتھ اسے "جہاد" نہیں بلکہ "فساد" قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ افغان قوم کی آزادی کی حقیقی جنگ نہیں بلکہ دو عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ ہے، جس میں افغان عوام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اس جنگ کا انجام صرف تباہی، خونریزی، مہاجرت اور بدامنی ہوگا۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی بات درست تھی۔ اس جنگ میں لاکھوں افغان جان سے گئے، لاکھوں زخمی اور معذور ہوئے، 60 لاکھ سے زائد افراد مہاجر بن کر پاکستان اور ایران منتقل ہوئے، افغانستان کا تعلیمی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ تباہ ہو گیا، جبکہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی، اسلحے، منشیات اور فرقہ واریت نے جڑ پکڑ لی۔ سب سے افسوسناک حقیقت یہ رہی کہ اس نام نہاد "جہاد" میں قربانیاں زیادہ تر غریب خاندانوں کے نوجوانوں نے دیں، جبکہ بڑے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے اپنے بچے اس جنگ میں نظر نہ آئے۔ آج انہی حلقوں میں سے بہت سے لوگ اس جنگ کے نتائج کو تباہ کن قرار دیتے ہیں، مگر جب خان عبدالولی خان نے یہ بات کئی دہائیاں پہلے کہی تھی تو انہیں غدار، کافر اور مختلف القابات سے پکارا گیا۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جذباتی نعروں کے بجائے حقائق کا مطالعہ کیا جائے۔ اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، مگر تاریخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خان عبدالولی خان نے ہمیشہ امن، قومی خودمختاری، تعلیم اور افغان عوام کے خون کی حرمت کی بات کی، اور یہی مؤقف آج بھی غور و فکر کا متقاضی ہے۔


Rafiq Akbar

02/06/2026

Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Address

Mingora

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meraj official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share