Jamia Arabia Mazahirul Uloom Mingora Swat

Jamia Arabia  Mazahirul Uloom Mingora Swat

Share

it is situated at Khona Gul Mohalla Green Chowk Mingora Swat

13/10/2020

New Building Iftitah ke bad.
By Maulana Akhtar Husaain sahib.
11-10-2020.

07/10/2020

Cermony of new building.
11 October 2020 Sunday from 9:00 am to 11:00 am.

01/04/2020

صوبہ خیبر پختونخواہ کے مساجد میں باجماعت نماز پر پابندی لگادی گئی۔ مسجد کے امام،موذن اور خادم سمیت صرف 5 افراد باجماعت نماز ادا کرسکیں گے۔ نوٹیفکیشن جاری

30/03/2020

08-03-2020, Dastare Fazilat, Short Clip 07.

30/03/2020

08-03-2020, Dastare Fazilat, Short Clip 6.

30/03/2020

08-03-2020, Dastare Fazilat, Short Clip 5.

30/03/2020

08-03-2020, Dastare Fazilat Short Clip.

29/03/2020

08-03-2020 Dastare Fazilat. Short Clip

29/03/2020
29/03/2020

?__Quarantine #

قاضی_فضل_اللہ_شمالی_امریکہ

دنیا میں بسنے والے اکثر لوگ اس لفظ قرنطینہ (Quarantine) سے پہلی بار واقف ہوئے۔

دراصل یہ لاطینی لفظ (Quaranta Giorna)سے اخذ ہے، جس کا معنی ہے چالیس دن۔
توپہلے لوگ چالیس دن کے لئے تنہائی میں جایاکرتے تھے۔اور یہ عمل ہر معاشرے میں معروف تھا ۔عیسائیت،یہودیت،بدھ مت،جین مت،ہندو مت اور دیگر مذاہب میں بھی چلہ کشی اور مراقبات اپنائے جاتے تھےاور جاتے ہیں۔
اس طرح عرب میں بھی لوگ ‘‘تحنث’’کیا کرتے تھے ۔صحرا یا زیادہ تر غاروں میں جا کر تنہائی میں کچھ دنوں یا ہفتوں کے لئے رہا کرتے تھے اور زیادہ تر یہ مدت چالیس دن کا ہوتا تھا کہ طب کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ چالیس دن تک کسی کھانے کا اثر بدن میں رہتا ہے۔
ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ کوئی بندہ حرام کھائے تو چالیس دن تک اس کا صوم وصلوۃ قبول نہیں ہوتا۔جس کا معنی یہ ہے کہ اس کھانے کا اثر چالیس دن تک رہتا ہے اور صوم وصلوۃ تو شفافیت پیدا کرتا ہے تو اس حرام کا بدن میں ہونے کی وجہ سے وہ شفافیت نہیں حاصل ہوتی اور یہی وہ عدم قبولیت ہے وگرنہ نفس ادائیگی تو اس طرح بھی ہوتی ہے۔
صوفیاء اور اہل سلوک کے ہاں بھی چلہ کاٹنے یا چلہ کشی کی اصطلاح بہت معروف ہے۔
پھر یہ عمل کبھی اس سے کم یا زیادہ دنوں کے لئے بھی کیا جاتا رہا ہے ۔اس طرح سارےمذاہب کے اپنے اپنے اہل صفا چلہ کشی کے دنوں میں کچھ خاص قسم کے غذا کھانے کا بھی التزام کرتے ہیں جو من جملہ اسباب حصولِ صفائی کے لئے ہیں۔ یعنی اس طرح یہ سارے شفافیتِ نفس کی محنت کرتے ہیں کہ دنیوی علائق سے لاتعلق ہو کر شفافیت حاصل کی جاسکتی ہے۔
اب یہ تو مسلّم ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ ذرہ اپنے خالق کے ساتھ نتھی ہے اور ان میں جس ذرے کا جو وظیفہ ہے وہ وہی وظیفہ اس تعلق کے سہارے پورا کرتا رہتا ہے یعنی ایک تسلسل سے اللہ کی طرف سے اسے سگنلز آتے رہتے ہیں جس طرح دفاع سے بدن کے مختلف اعضاء کو تسلسل سے سگنلز آتے رہتے ہیں۔یہ سگنلز جن کو امر یا اوامر یا الہامات کہا جاتا ہے یہ ساری مخلوقات کو آتی رہتی ہیں
‘‘اوحیٰ ربک الی النحل’’
تمہارے رب نے وحی(الہام)کی ہے شہد کی مکھی کو۔
یعنی اس کو الہام آتے رہتے ہیں ۔انہی الہامی سگنلز کے ذریعے وہ اچھے برے کو سمجھ پاتے ہیں ،میلوں دور اسے لے جایا جاتا ہے تو وہ راستہ نہیں بھولتیں بلکہ واپس چھتے پر آپہنچتی ہیں۔
‘‘فاسلکی سبل ربک ذللا’’
کا یہی معنی ہے کہ راستے تمہارے لئے مذلل اور مسخر کیے گئے ہیں ۔
انہی الہامات اور سگنلز سے کبھی تعبیر کی جاتی ہے کہ فطرت یہ ہے کہ یہ اوامر اللہ کی طرف سے سماوات سبعہ(سات آسمانوں)کے ویب Webسےگزرتی رہتی ہیں فرمایا
‘‘واوحی فی کل سماءٍ امرہا’’
اور فرمایا
‘‘والسماء ذات الحبک’’
اور قسم ہے آسمان کی جو ویب والا ہے۔
یعنی ہر سیکنڈ اربوں کھربوں سگنلز اس سے گزرتے ہیں اور ہر سگنل اللہ کی طرف سے آتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہے
‘‘ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین’’
اور یقیناً ہم پیداکرچکے ہیں تمہارے اوپر سات طریقے(راستے)اور نہیں ہیں ہم مخلوق سے غافل(لاتعلق ایک لحظے کے لئے بھی)
آسمانوں کو راستے اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ سگنلز کے راستے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ ہر قطرہ باران کے ساتھ ایک فرشتہ نیچے آتا ہے اس طرح ہر سگنل کے ساتھ بھی آتا ہے ۔اب یہ فرشتے تو وجود ہیں البتہ ان کے متعلق کہا گیا کہ نور ہیں ۔سگنل کو بھی اگر وجود دیا جائے تو نور ہی ہوگا اور نور کی رفتار تو معلوم ہے مخلوق میں سب سے تیزایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ۔اور پھر جب وہ نور فرشتہ ہے تو وہ تو پھر اللہ جانتا ہے کہ ایک لحظے میں کتنی مسافت طے کرے گا۔
بہر تقدیر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ الہام ہر مخلوق کو ہوتا ہے اور یوں ہر انسان کو بھی ہوتا ہے ۔ایک الہام تکوینی ہے جو ہمارے طبعی تقاضے ہیں اور اور ایک وہ ہیں جن کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔یہ سادھو اور صوفی وہی کرتے ہیں ۔شیخ شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ تنہائی میں خیالات کی یکسوئی کے سبب باطن صاف ہوجاتا ہے حتی کہ اگر اس میں الہامی مذہب کی اتباع نہ بھی ہو پھر بھی نفس کی صفائی ہوجاتی ہے ۔تبھی تو ہندو اور بدھ مت یا دیگر مذاہب کے اپنے اپنے صوفی بھی کچھ الہامی باتیں کر جاتے ہیں اور اگر یہ یک سوئی کی اتباع اور مذہب کی پیروی میں ہو تو اس سے روشن ضمیری ،دنیا سے لاتعلقی ،ذکر الٰہی کی حلاوت اور مخلصانہ عبادات کا ظہور ہوتاہے۔انہی مشابہات کی وجہ سے کبھی کبھار لوگوں پر معاملات خلط ملط ہوجاتے ہیں تو پھر ایسے میں بعض مسلمان صوفیاء کے فلسفہ وحدۃ الوجود اور ہندووں کا فلسفہ ان پر مشتبہ ہوجاتا ہے۔
اب چلہ کشی یا قرنطینہ تو مذہبی نکتہ نظر سے ہوا کرتا تھا ۔پھر متعدی بیماریوں کے حوالے سے قرنطینہ کا تصور بھی اپنایا گیا جس کا اولین مقصد یہ تھا کہ جن میں بیماری ہے وہ اوروں کو نہ لگے اور جن میں نہیں ان کو لگے نہ۔اور متعدی بیماری طاعون کے حوالے سے کا فرمان جو امام مسلمؒ نے اسامہ بن زیدؓ سے نقل کیا ہے کہ جہاں پھیلے تو وہاں سے لوگ باہر نہ جائیں اور باہر سے کوئی وہاں داخل نہ ہو ۔
یہ احتیاط ہے اور یہ شریعت ہے تو جس طرح روحانی قرنطینہ سے نفس کی صفائی ہوتی ہے اسی طرح اس طبی قرنطینہ سے بھی صفائی ہوگی صر ف طبی نہیں بلکہ کسی حد تک روح کی بھی اور یوں مدافعتی سسٹم مضبوط بھی ہوجائے گا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Mingora?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Muhalla Khona Gul
Mingora
19130