حکومت کی جانب سے معذور افراد کے لیے پالیسی جاری کی گئی ہے، جس کے تحت وہیل چیئر، سماعتی آلہ (ہیئرنگ ایڈ)، بیساکھیاں وغیرہ فراہم کی جاتی ہیں۔
اگر کسی کے پاس معذوری کا سرٹیفکیٹ موجود ہو تو میں اس کے لیے فارم پُر کر دوں گا۔ براہِ کرم رابطہ کریں۔
KK Online Science Academy
Your daily dose of knowledge.
17/12/2025
14/12/2025
کیلا: درخت نہیں، دنیا کی سب سے بڑی گھاس;
تحریر: محمد کامران
اکثر لوگ کیلے کے پودے کو دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مضبوط درخت ہے، کیونکہ اس کی اونچائی، چوڑے پتے اور موٹا تنا اسے درخت جیسی شکل دیتے ہیں۔ لیکن نباتیات کی دنیا میں حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ سائنسی اعتبار سے کیلا درخت نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جڑی بوٹی یعنی گھاس شمار ہوتا ہے، اور یہ بات معتبر ذرائع جیسے وکیپیڈیا اور Guinness World Records میں بھی درج ہے۔
درخت اور گھاس میں بنیادی فرق ان کے تنے کی ساخت میں ہوتا ہے۔ درخت کا تنا لکڑی سے بنا ہوتا ہے، جس میں سالانہ حلقے (growth rings) ہوتے ہیں اور وہ سخت اور مستقل نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کیلے کے پودے کا جو تنا ہمیں نظر آتا ہے، وہ دراصل اصلی تنا نہیں ہوتا بلکہ پتوں کی تہوں سے بنا ہوا ایک جھوٹا تنا (pseudostem) ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیلا کا پودا بظاہر مضبوط نظر آنے کے باوجود لکڑی پیدا نہیں کرتا۔
کیلے کے پودے کا اصل تنا زمین کے اندر موجود ہوتا ہے، جسے rhizome کہا جاتا ہے۔ اسی زیرِ زمین تنے سے پتے اوپر کی طرف نکلتے ہیں اور تہہ در تہہ جڑ کر وہ تنا نما ساخت بنا دیتے ہیں جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ یہی پتے بعد میں خوشہ بننے کا سبب بنتے ہیں، جس میں کیلے پھلتے ہیں۔
ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ کیلے کا پودا پھل دینے کے بعد مر جاتا ہے۔ جب ایک پودا کیلے کا خوشہ پیدا کر لیتا ہے تو اس کا اوپری حصہ آہستہ آہستہ سوکھ جاتا ہے، لیکن زمین کے اندر موجود rhizome سے نئے پودے دوبارہ اگ آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیلے کے باغات مسلسل پیداوار دیتے رہتے ہیں۔
دنیا میں کیلا نہ صرف سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پھلوں میں شامل ہے بلکہ غذائیت کے لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ پوٹاشیم، فائبر اور توانائی سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ بچوں، کھلاڑیوں اور مریضوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی نباتاتی حقیقت جان کر اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت میں چیزیں ہمیشہ ویسی نہیں ہوتیں جیسی ہمیں دکھائی دیتی ہیں۔
کیلا ایک بہترین مثال ہے کہ شکل و صورت سے کسی پودے کی سائنسی حقیقت کا اندازہ لگانا درست نہیں۔ یہی سائنس کی خوبصورتی ہے کہ وہ عام نظر آنے والی چیزوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔
13/12/2025
یہ جھٹکا کیوں لگتا ہے جب ہم کچھ چھوتے ہیں؟
تحریر: محمد کامران
کبھی آپ نے محسوس کیا کہ دروازے کا ہینڈل پکڑتے ہی، گاڑی سے اترتے وقت یا کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے اچانک سا بجلی کا جھٹکا لگتا ہے؟ لمحہ بھر کے لیے انسان چونک جاتا ہے اور فوراً ذہن میں سوال آتا ہے کہ آخر یہ ہوا کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی وہم یا جسمانی خرابی نہیں بلکہ ایک سادہ مگر دلچسپ سائنسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جسے سٹیٹک چارج کہا جاتا ہے۔
سٹیٹک چارج دراصل برقی توانائی کی وہ شکل ہے جو کسی چیز پر جمع ہو جاتی ہے لیکن بہتی نہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں جب مختلف چیزیں آپس میں رگڑ کھاتی ہیں تو الیکٹران ایک سطح سے دوسری سطح پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر قالین پر چلنا، مصنوعی کپڑوں کا ایک دوسرے سے رگڑنا، یا ربڑ کے سول والے جوتوں کے ساتھ زمین پر حرکت کرنا۔ ان تمام صورتوں میں انسانی جسم پر اضافی الیکٹران جمع ہو سکتے ہیں۔
انسانی جسم بجلی کو اپنے اندر عارضی طور پر محفوظ کر سکتا ہے۔ جب جسم پر جمع شدہ یہ چارج کسی ایسی چیز سے ٹکراتا ہے جو زمین سے جڑی ہو، جیسے دھات، لوہے کا دروازہ یا گاڑی کا جسم، تو یہ چارج اچانک خارج ہو جاتا ہے۔ اسی تیز اخراج کو ہم بجلی کے جھٹکے کی صورت میں محسوس کرتے ہیں۔ یہ عمل اتنا تیز ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہلکی سی چنگاری بھی دکھائی دیتی ہے۔
خشک موسم میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ ہوا میں نمی کم ہو تو برقی چارج آسانی سے تحلیل نہیں ہو پاتا اور زیادہ دیر تک جسم یا اشیاء پر جمع رہتا ہے۔ اسی وجہ سے سردیوں یا ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں یہ جھٹکے زیادہ محسوس کیے جاتے ہیں، جبکہ مرطوب موسم میں یہی عمل کم ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جھٹکا خطرناک نہیں ہوتا۔ اس میں وولٹیج تو زیادہ ہو سکتا ہے مگر کرنٹ کی مقدار نہایت کم ہوتی ہے، اس لیے یہ جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہی اصول بڑی سطح پر بجلی کی چنگاری، آسمانی بجلی اور بعض صنعتی برقی نظاموں میں بھی کام کرتا ہے۔
یوں ایک معمولی سا جھٹکا ہمیں یہ سمجھا دیتا ہے کہ سائنس صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے ہاتھ، ہمارے قدم اور ہماری روزمرہ زندگی میں خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔
#سائنس #بجلی
12/12/2025
قدرت کی نفیس کاریگری: دو حصّوں میں بٹی ہوئی ال نَصلا چٹان;
تحریر: محمد کامران
سعودی عرب کے تبُوک ریجن کے خاموش اور بے کنار صحرا میں ایک ایسا منظر موجود ہے جو قدرت کی فنکاری کو حیرت انگیز انداز میں سامنے لاتا ہے۔ ال نَصلا چٹان دو بڑے ریت پتھر کے حصّوں پر مشتمل ہے، مگر اس کی اصل شہرت اس درمیانی دراڑ کی وجہ سے ہے جو اتنی سیدھی، باریک اور ہموار ہے کہ پہلی نظر میں یقین ہی نہیں آتا کہ یہ کام انسانی ہاتھوں کے بغیر ممکن ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے لوگ جب اس چٹان کی تصویر دیکھتے ہیں تو فوری طور پر یہی سوال کرتے ہیں کہ آخر قدرت نے اتنی درستگی کیسے پیدا کی؟
ماہرین کے مطابق یہ دراڑ انسانی تراش خراش نہیں بلکہ ایک طویل قدرتی عمل کا نتیجہ ہے۔ صحرا میں مسلسل چلنے والی تیز ہوائیں ریت کے ذرّات کو چٹانوں سے ٹکراتی رہتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہی باریک ریت چٹان کی سطح پر مائیکرو لائنز بناتی ہے جو کئی صدیوں میں ایک ہموار دراڑ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ زمین کی اندرونی حرکات، یعنی tectonic forces، چٹانوں میں دباؤ پیدا کرتی ہیں۔ جب یہ دباؤ ایک خاص حد تک پہنچ جاتا ہے تو چٹان قدرتی طور پر ایک صاف اور سیدھی لائن میں ٹوٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ال نَصلا چٹان کے دونوں حصّے نہ صرف بیرونی طور پر یکساں دکھائی دیتے ہیں بلکہ عمودی طور پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ حیرت انگیز توازن میں کھڑے ہیں۔
یہ چٹان صرف قدرتی حسن کا نمونہ نہیں بلکہ تاریخی ورثہ بھی ہے۔ اس کی سطح پر قدیم نقوش موجود ہیں جنہیں petroglyphs کہا جاتا ہے۔ ان نقوش میں جانوروں کی شکلیں، انسانی سرگرمیوں کی تصویری علامتیں اور قدیم دور کے نشانات شامل ہیں۔ یہ آثار بتاتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے یہ علاقہ انسانی گزرگاہ یا رہائش کا حصہ رہا ہوگا۔ یہ نقوش اس جگہ کو مزید پُرکشش بنا دیتے ہیں، کیونکہ وہ صرف چٹان کی ساخت نہیں بلکہ اس کے ماضی کی کہانی بھی بیان کرتے ہیں۔
دنیا بھر سے سیّاح، ماہرینِ ارضیات اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد اس مقام کا رخ کرتے ہیں۔ وہ یہاں آ کر نہ صرف اس دراڑ کی نفاست کا مشاہدہ کرتے ہیں بلکہ اس خاموش صحرا میں کھڑے اس عجوبے سے قدرت کی گہرائی اور طاقت کا احساس بھی حاصل کرتے ہیں۔ ال نَصلا چٹان انسان کو بتاتی ہے کہ قدرت وقت کے ساتھ ایسے شاہکار تخلیق کرتی ہے جنہیں دیکھ کر انسانی ذہن حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔
11/12/2025
انسان اچھی اور بری خوشبو کو کیسے پہچانتا ہے؟
تحریر: محمد کامران
ہم روزانہ بے شمار خوشبوئیں محسوس کرتے ہیں—کچھ ہمیں بھلی لگتی ہیں، کچھ عام سی، اور کچھ سخت ناگوار۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آخر یہ پہچان ہوتی کیسے ہے؟ انسانی دماغ میں ایسا کون سا سسٹم ہے جو ایک لمحے میں فیصلہ کر لیتا ہے کہ یہ خوشبو پسند آئے گی یا نہیں؟
اصل میں ہمارے ناک کے اندر اولفیکٹری ریسیپٹرز نام کے چھوٹے چھوٹے حساس خلیے موجود ہوتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی بو دار مالیکیول اندر داخل ہوتا ہے، یہ ریسیپٹرز فوراً اسے پکڑ لیتے ہیں۔ ہر مالیکیول کی شکل اور ساخت مختلف ہوتی ہے، اور ہر ریسیپٹر مخصوص شکل والے مالیکیول کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں قسم کی خوشبوئیں ہمیں الگ الگ محسوس ہوتی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق انسان کے ناک میں تقریباً چار سو سے زیادہ اقسام کے ریسیپٹرز موجود ہوتے ہیں، جو ایک حیرت انگیز نیٹ ورک کی طرح کام کرتے ہیں۔
خوشبو کی پہچان صرف ناک تک محدود نہیں۔ اصل فیصلہ دماغ کرتا ہے۔ جیسے ہی سگنل دماغ کے اولفیکٹری بلب تک پہنچتے ہیں، وہاں سے یہ پیغام لمبک سسٹم کی طرف بھیج دیا جاتا ہے—یہی دماغ کا وہ حصہ ہے جہاں جذبات، یادیں اور احساسات محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لیے بعض خوشبوئیں ہمیں ماضی کی کسی یاد میں لے جاتی ہیں، مثلاً بارش کی مٹی کی خوشبو بچپن کا موسمِ گرما یاد دلا دیتی ہے، یا کسی خاص پرفیوم سے کسی اپنے کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کچھ خوشبوئیں ہمیں اچھی کیوں لگتی ہیں؟ اس کی دلچسپ وجہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ اُن خوشبوؤں کو پسند کرتا ہے جو قدرتی، محفوظ، اور فائدہ مند چیزوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جیسے پھول، تازہ مٹی، کھانے کی خوشبو، یا صاف کپڑوں کی مہک۔ دوسری طرف بدبو اکثر خراب، گلی سڑی یا خطرناک چیزوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، اس لیے دماغ فوراً اسے ناگوار سمجھ کر جسم کو خبردار کرتا ہے۔ یہ ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ خوشبو کا احساس ہماری تربیت، ماحول اور تجربات پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو وہ خوشبو پسند آتی ہے جو دوسرے کو ناگوار لگتی ہے۔ مثلاً کسی کو دیسی گھی کی خوشبو اچھی لگتی ہے، اور کسی کے لیے وہی بو ناقابلِ برداشت۔ اس کا تعلق دماغ میں محفوظ تجربات اور جذبات سے ہے۔
یوں ناک صرف خوشبو سونگھتی ہے، مگر فیصلہ دل و دماغ مل کر کرتے ہیں۔
10/12/2025
ادرک کے صحت بخش فوائد;
تحریر: محمد کامران
ادرک ایک عام نظر آنے والی جڑ ہے مگر اس کے اندر موجود قدرتی بایولوجیکل مرکبات جسم کو اندر مضبوط بناتے ہیں۔ جنجرول، شوگیول اور دیگر فعال اجزاء خلیوں، خون کی گردش، ہاضمے اور مدافعتی نظام پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے ادرک درد، نزلہ، متلی اور ہاضمے کے مسائل کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ جدید تحقیق بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ ادرک نہ صرف غذاؤں کا ذائقہ بڑھاتی ہے بلکہ جسم کو بھی کئی سطحوں پر بہتر بناتی ہے۔
1. ادرک میں موجود جنجرول جسم میں بننے والےفری ریڈیکلز کم کرتا ہے، جس سے خلیوں کی حفاظت ہوتی ہے۔
2. یہ سوزش پیدا کرنے والے کیمیکلز کم کرتا ہے، جس سے جوڑوں اور پٹھوں کے درد میں آرام ملتا ہے۔
3. ادرک ہاضمی خامرے بڑھاتا ہے، جس سے پروٹین اور بھاری غذائیں جلد ہضم ہوتی ہیں۔
4. آنتوں کی غیر ضروری گیس اور اپھارہ کم کرنے کے لیے ادرک آنتوں کی حرکت نارمل کرتا ہے۔
5. خون کی نالیوں کو ہلکا سا پھیلا کر خون کی گردش بہتر بناتا ہے، جس سے سردیوں میں جسم گرم محسوس ہوتا ہے۔
6. ادرک انسولین کے ساتھ جسم کی حساسیت بہتر کرتا ہے، جس سے خون میں شکر کا لیول زیادہ متوازن رہتا ہے۔
7. نقصان دہ LDL کولیسٹرول کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
8. ادرک کے فعال مرکبات بیکٹیریا اور وائرس کی سرگرمی کم کرتے ہیں، جس سےکھانسی اور زکام میں سکون ملتا ہے۔
9. متلی اور الٹی روکنے میں مدد کرتا ہے کیونکہ یہ دماغ میں موجود سیروٹونن ریسیپٹرز پر اثر ڈالتا ہے۔
10. خون کو ہلکا رکھ کر خون کے جمنے کے امکانات کم کرتا ہے۔
11. آنتوں میں آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرتا ہے، جس سے ہاضمہ مضبوط رہتا ہے اور پیٹ ہلکا محسوس ہوتا ہے۔
ادرک کی یہ سادہ مگر طاقتور خصوصیات اسے روزمرہ غذا کا بہترین حصہ بناتی ہیں اور اس کا استعمال جسم کو کئی سطحوں پر فائدہ پہنچاتا ہے۔
09/12/2025
ناخن چبانا: یہ چھوٹی عادت صحت کے لیے کتنی خطرناک ہے!
تحریر: محمد کامران
ناخن چبانا ایک عام عادت لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ جسم اور ذہن دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر بچے اور نوجوان اس عادت کا شکار ہوتے ہیں، لیکن بعض بڑے بھی اس کا شکار ہیں۔ ابتدا میں یہ عادت محض وقتی سکون دینے کے لیے کی جاتی ہے، مگر طویل مدت میں ناخن کے کنارے ٹوٹتے ہیں، انگلیاں زخمی ہو جاتی ہیں اور صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سائنس کے مطابق ناخن چبانے کی بنیادی وجوہات میں تناؤ، بوریت، اضطراب یا غصہ شامل ہیں۔ امتحان کے دوران، انتظار کے لمحات میں یا موبائل استعمال کرتے ہوئے جب دماغ چھوٹے ریلیکس کے لیے کچھ ڈھونڈتا ہے، ناخن چبانے کی عادت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن یہ عمل وقتی سکون کے باوجود جسم اور ناخنوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خطرات:
ناخن کے کنارے ٹوٹنا، پتلے یا ٹیڑھے ہو جانا
انگلیوں کی جلد پر زخم اور سوجن
منہ اور معدے میں جراثیم کا داخل ہونا (E.coli, Staphylococcus)
مسوڑھوں کی سوزش اور دانتوں کے مسائل
ذہنی دباؤ یا اضطراب میں اضافہ
یہ بری عادت نہ صرف جسمانی نقصان پہنچاتی ہے بلکہ دماغ کو بھی تھوڑا سا دباؤ میں رکھتی ہے۔ بار بار ناخن چبانے سے دماغ کو چھوٹے فوری مزہ کی عادت پڑ جاتی ہے، جس سے لمبی، سنجیدہ اور گہری چیزوں میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔
عادت چھوڑنے کے آسان اور مؤثر طریقے:
ناخن چبانے کے وقت ہاتھ مصروف رکھیں: اسٹریس بال دبائیں یا قلم گھمائیں
ناخن صاف، گول اور تیل لگا ہوا رکھیں
پروٹین، بائیوٹن اور کیلشیم والی غذائیں کھائیں: انڈے، دودھ، بادام، دالیں
ناخنوں پر تلخ یا خاص ٹاپ کوٹ لگائیں تاکہ چبانے کی خواہش کم ہو
بوریت یا دباؤ کے وقت مثبت عادات اپنائیں: گہری سانسیں لیں یا تھوڑی واک کریں
یہ چھوٹے اقدامات وقت کے ساتھ ناخن چبانے کی عادت ختم کر دیتے ہیں۔ جب ناخن مضبوط، صاف اور خوبصورت ہوں، تو ہاتھ خود بخود منہ تک نہیں جاتے۔ صحت مند ناخن نہ صرف خوبصورت دکھتے ہیں بلکہ جراثیم اور انفیکشن سے بھی بچاتے ہیں، اور ذہنی سکون بھی دیتے ہیں۔
08/12/2025
ناخن کی جڑ کی سفیدی کیا ہے؟
تحریر: محمد کامران
انسانی جسم کی حیرت انگیز بناوٹ میں سے ایک دلچسپ چیز ہمارے ناخنوں کی جڑ میں موجود وہ ہلکی سی سفید سفیدی ہے جو عام طور پر چاند کی شکل جیسی لگتی ہے۔ اکثر لوگ اس کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ کیوں بنتی ہے، اس کا کام کیا ہے اور کچھ لوگوں میں یہ زیادہ واضح کیوں ہوتی ہے؟ سائنس نے اس بارے میں کافی دلچسپ وضاحت پیش کی ہے۔
اس سفید حصے کو Lunula کہتے ہیں، جو دراصل ناخن بنانے کا فیکٹری نما حصہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نئے خلیے بنتے ہیں اور آگے بڑھ کر پورے ناخن کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ حصہ جلد کے اندر تھوڑا سا چھپا ہوا ہوتا ہے، اس لیے یہ سفید نظر آتا ہے، جب کہ باقی ناخن شفاف ہوتے ہیں اور خون کی رگیں دکھائی دیتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر شخص میں lunula کا سائز مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں میں یہ بہت نمایاں ہوتا ہے، جبکہ کچھ میں بہت کم۔ سائنسی طور پر یہ فرق جسمانی ساخت، جینیاتی خصوصیات اور خون کی روانی پر منحصر ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن میں metabolism تیز ہوتا ہے یا جسم میں خلیات تیزی سے بنتے ہیں، ان کے ناخنوں میں یہ سفید حصہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح نوجوانوں اور کھلاڑیوں میں بھی یہ نسبتاً بڑا ہوتا ہے۔
اگر lunula چھوٹا ہو یا نہ ہونے کے برابر نظر آئے تو یہ بھی بالکل نارمل بات ہے۔ بہت سے لوگ فطری طور پر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ناخن کا چاند نظر نہیں آتا مگر ان کے ناخن صحت مند ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں میں صرف انگوٹھے پر یہ حصہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور باقی انگلیوں پر کم دکھائی دیتا ہے، اور یہ بھی قدرتی فرق ہے۔
یہ سفید حصہ دراصل ہمارے جسم میں جاری ایک مسلسل عمل کی جھلک ہے – نئے خلیات کا بننا، ناخن کا بڑھنا اور جسم کی قدرتی تجدید۔ جب تک یہ عمل جاری ہے، ہمارے ناخن بڑھتے رہتے ہیں اور یہ چھوٹا چاند اس خاموش عمل کا گواہ ہوتا ہے۔
آخر میں، ناخن کی جڑ کی یہ سفیدی ہمارا چھوٹا سا حیاتیاتی سگنل ہے کہ جسم اپنا کام کر رہا ہے اور خلیے مسلسل بن رہے ہیں۔ یہ انسان کے جسم کی خوبصورتی اور پیچیدگی کا ایک نہایت سادہ مگر حیران کن نمونہ ہے۔
07/12/2025
مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد: چھوٹا دانہ، بڑی طاقت;
تحریر: محمد کامران
سردیوں کی شام ہو اور مونگ پھلیاں سامنے نہ ہوں تو محفل ادھوری سی لگتی ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ چھوٹی سی غذاء صرف سردی کا مزہ نہیں بڑھاتی بلکہ دماغ کو بھی حیرت انگیز طور پر مضبوط بناتی ہے۔ حالیہ تحقیق میں پہلی بار یہ ثابت کیا گیا ہے کہ روزانہ صرف 60 مونگ پھلیاں کھانے سے دماغ کے وہ حصے جنہیں فرنٹل لوب اور ٹمپورل لوب کہا جاتا ہے، ان میں خون کی روانی تیز ہو جاتی ہے۔ یہی حصے فیصلہ سازی، یادداشت اور توجہ کے بنیادی مراکز ہیں۔
یہ تحقیق 60 سے 75 سال تک کے 31 صحت مند بوڑھے افراد پر کی گئی، جنہیں مونگ پھلی کے علاوہ کوئی دوسرا نٹ کھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چند ہفتوں بعد حیرت انگیز نتائج سامنے آئے:
▪ دماغ میں خون کے بہاؤ میں 3.6 فیصد اضافہ
▪ یادداشت کی کارکردگی میں 5.8 فیصد بہتری
▪ بلڈ پریشر میں نمایاں کمی
▪ MRI اسکین میں دماغ کے اندر بہتری کے صاف نشانات
یہ نتائج اس لیے اہم ہیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ انسان کے دماغ میں خون کی باریک نالیوں کی کارکردگی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈیمینشیا اور الزائیمر جیسے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن روزانہ معمولی سی مقدار میں مونگ پھلی کھانا اس خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مونگ پھلی کے اندر موجود L-Arginine نامی امینو ایسڈ دماغ میں نائٹرک آکسائیڈ بننے میں مدد دیتا ہے، جس سے خون کی نالیوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور دماغ تک خون تیزی سے پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مونگ پھلی میں پائے جانے والے unsaturated fatty acids، فائبرز، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس دماغی خلیوں کو مضبوط بناتے ہیں اور جسم میں آنے والی سوزش کو کم کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ محققین نے دیکھا کہ صرف خوراک میں ایک چھوٹی سی تبدیلی—روزانہ 60 مونگ پھلیاں—نے چند ہفتوں میں اتنے مثبت اثرات پیدا کیے کہ بوڑھے افراد کی سوچنے کی رفتار اور یاد رکھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر ہو گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام غذائیں بھی اگر درست مقدار میں استعمال کی جائیں تو دماغ کے لیے بڑی دوا بن سکتی ہیں۔
قدرت نے مونگ پھلی میں چھوٹا سا خ*ل تو رکھا ہے مگر اس کے اندر دماغ کے لیے ایک طاقت ور خزانہ چھپا دیا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Address
Swat
Mingora