09/12/2025
ناخن چبانا: یہ چھوٹی عادت صحت کے لیے کتنی خطرناک ہے!
تحریر: محمد کامران
ناخن چبانا ایک عام عادت لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ جسم اور ذہن دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر بچے اور نوجوان اس عادت کا شکار ہوتے ہیں، لیکن بعض بڑے بھی اس کا شکار ہیں۔ ابتدا میں یہ عادت محض وقتی سکون دینے کے لیے کی جاتی ہے، مگر طویل مدت میں ناخن کے کنارے ٹوٹتے ہیں، انگلیاں زخمی ہو جاتی ہیں اور صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سائنس کے مطابق ناخن چبانے کی بنیادی وجوہات میں تناؤ، بوریت، اضطراب یا غصہ شامل ہیں۔ امتحان کے دوران، انتظار کے لمحات میں یا موبائل استعمال کرتے ہوئے جب دماغ چھوٹے ریلیکس کے لیے کچھ ڈھونڈتا ہے، ناخن چبانے کی عادت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن یہ عمل وقتی سکون کے باوجود جسم اور ناخنوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خطرات:
ناخن کے کنارے ٹوٹنا، پتلے یا ٹیڑھے ہو جانا
انگلیوں کی جلد پر زخم اور سوجن
منہ اور معدے میں جراثیم کا داخل ہونا (E.coli, Staphylococcus)
مسوڑھوں کی سوزش اور دانتوں کے مسائل
ذہنی دباؤ یا اضطراب میں اضافہ
یہ بری عادت نہ صرف جسمانی نقصان پہنچاتی ہے بلکہ دماغ کو بھی تھوڑا سا دباؤ میں رکھتی ہے۔ بار بار ناخن چبانے سے دماغ کو چھوٹے فوری مزہ کی عادت پڑ جاتی ہے، جس سے لمبی، سنجیدہ اور گہری چیزوں میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔
عادت چھوڑنے کے آسان اور مؤثر طریقے:
ناخن چبانے کے وقت ہاتھ مصروف رکھیں: اسٹریس بال دبائیں یا قلم گھمائیں
ناخن صاف، گول اور تیل لگا ہوا رکھیں
پروٹین، بائیوٹن اور کیلشیم والی غذائیں کھائیں: انڈے، دودھ، بادام، دالیں
ناخنوں پر تلخ یا خاص ٹاپ کوٹ لگائیں تاکہ چبانے کی خواہش کم ہو
بوریت یا دباؤ کے وقت مثبت عادات اپنائیں: گہری سانسیں لیں یا تھوڑی واک کریں
یہ چھوٹے اقدامات وقت کے ساتھ ناخن چبانے کی عادت ختم کر دیتے ہیں۔ جب ناخن مضبوط، صاف اور خوبصورت ہوں، تو ہاتھ خود بخود منہ تک نہیں جاتے۔ صحت مند ناخن نہ صرف خوبصورت دکھتے ہیں بلکہ جراثیم اور انفیکشن سے بھی بچاتے ہیں، اور ذہنی سکون بھی دیتے ہیں۔